• 2 جون, 2020

جنگ بدر اسلامی استحکام

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’بدر کی جنگ نے جس طرح مدینے کے یہودیوں کی دلی عداوت کو ظاہر کردیا تھا اور وہ مخالفت میں بڑھ گئے تھے۔ اپنی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں میں ترقی کرتے گئے… جب بدر کے موقع پر مسلمانوں کوایک غیر معمولی فتح نصیب ہوئی اور رؤسائے قریش اکثر مارے گئے تواس نے سمجھ لیا کہ اب یہ نیا دین یونہی مٹتا نظر نہیں آتا۔ پہلے تو خیال تھا یہ نیا دین ہے ختم ہو جائے گا۔ خود ہی اپنی موت مر جائے گا لیکن جب اسلام کی ترقی دیکھی، بدر کے جنگ کے نتائج دیکھے تو پھر اس کو خیال پیدا ہوا کہ یہ اس طرح نہیں مٹے گا۔ چنانچہ بدر کے بعد اس نے اپنی پوری کوشش اسلام کے مٹانے اور تباہ وبرباد کرنے میں صرف کردینے کا تہیہ کر لیا… جب کعب کو یہ یقین ہوگیا کہ واقعی بدر کی فتح نے اسلام کووہ استحکام دے دیا ہے جس کا اسے وہم وگمان بھی نہ تھا تووہ غیض وغضب سے بھر گیا اور فوراً سفر کی تیاری کرکے اس نے مکے کی راہ لی اور وہاں جاکر اپنی چرب زبانی اور شعر گوئی کے زور سے قریش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ کو اَور شعلہ بارکر دیا، بھڑکا دیا اور ان کے دل میں مسلمانوں کے خون کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کردی اور ان کے سینے جذباتِ انتقام وعداوت سے بھر دیے اور جب کعب کی اشتعال انگیزی سے ان کے احساسات میں ایک اتنہائی درجے کی بجلی پیدا ہوگئی تواس نے ان کو خانہ کعبہ کے صحن میں لے جا کر اور کعبہ کے پردے ان کے ہاتھوں میں دے دے کر ان سے قسمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانیٔ اسلام کو صفحہ دنیا سے ملیا میٹ نہ کردیں گے اس وقت تک چین نہیں لیں گے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 7فروری 2020ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 09۔مئی2020ء