• 12 اگست, 2020

تعارف سورۃ الحجر (پندرھویں سورہ)

(مکی سورہ، تسمیہ سمیت اس سورہ کی 100 آیات ہیں)
اردو ترجمہ ازترجمہ قرآن انگریزی (حضرت ملک غلام فرید صاحبؓ) ایڈیشن 2003ء
(مترجم: وقار احمد بھٹی)

وقت ِنزول اورسیاق و سباق

جمہور علماء کی رائے کے مطابق یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ سابقہ سورۃ میں یہ بتایا گیا تھاکہ اگرچہ انبیاءِ سابقہ کوئی ظاہری ساز و سامان نہ رکھتے تھےپھر بھی ان کا مشن کامیاب ہوا کیونکہ ان کے شامل حال خدا کا کلام اور اس کی تائید و نصرت تھی۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ بھی اپنے مشن میں کامیاب و کامران ہوں گے۔ اس سورۃ میں نہایت زور دے کر بتایا گیاہے کہ کلام الٰہی ایک عظیم قوت ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ خدا پر بہتان باندھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور جھوٹے مدعیان نبوت اور خدا پر بہتان باندھنے والے جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچتے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم خدا کا کلام اور وحی متلو ہے اور ہستی باری تعالیٰ کے نا قابلِ تردید دلائل مہیا کرتا ہے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورۃ کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ کوئی آسمانی صحیفہ زبان دانی، فصاحت و بلاغت اور اعلیٰ مضامین میں قرآن کریم کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ یہ ایک پُر شوکت الہامی صحیفہ ہے۔ یہ اپنی ذات میں کوئی ثانی نہیں رکھتا اور بے مثال ہے۔ اس کی خوبصورتی اور صفات ایسی اعلیٰ اور بکثرت ہیں کہ کئی مرتبہ کفار بھی اس بات کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ان کے پاس اس (قرآن کریم) جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور اس خواہش کا اظہار کیاہے کہ کاش ان کے پاس بھی ایسا ہی کوئی صحیفہ ہوتا۔ اس بات کے تسلیم کرلینے کے باوجود وہ اسے قبول کرنے پر رضامند نہیں ہوتے اور اس بات کا ادراک نہیں رکھتے کہ قرآن کریم کے انکار سے وہ سچائی سے دور جا پڑیں گے اور اپنے تئیں خدا کی ناراضگی اور سزا مول لینے والے ہوں گے۔ قرآن کریم کا پیغام بہر حال کامیاب ہونا ہے اوراس کے راستے میں کوئی حائل نہیں ہو سکتا۔ وہ جو ہچکچاتے ہیں یا اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں وہی تکلیف میں پڑنے والے ہیں۔

یہ سورۃ مزید بتاتی ہےکہ اگر قرآنی وحی کا استہزاء کیا جاتا ہے اور اسے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو اس پرحیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے نبیوں کی طرف کی جانے والی وحی کو بھی ہنسی ٹھٹھہ کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مگر استہزاء کرنے والے اس حقیقت سے منہ موڑتے ہیں کہ خدا پر بہتان باندھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا یقینی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ وہ قادر خدا خودذمہ دارہے کہ اس پر بہتان نہ باندھا جائے۔بہتان میں اور اس خدا کی وحی کے الفاظ میں آسانی سے فرق کیا جا سکتا ہے۔ وہ (خدا) اس کلام کو ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے اور اس کو قبول کرنے کے لئے عالی مرتبہ، عقلمند اور دانشمند لوگوں کے ذریعہ موزوں ماحول بناتا ہے۔ وہ جو اسے قبول کرتے ہیں انہیں نچلے درجہ سے ترقی دے کر نہایت اعلیٰ اخلاقی اقدار پر فائز کردیتا ہے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 9 جولائی 2020ء