• 5 اگست, 2020

حضرت منشی عبدالعزیز صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت منشی عبدالعزیز صاحب رضی اللہ عنہ دہلی کے رہنے والے تھے۔ دہلی میں آپ کا پتہ گلی قاسم جان لکھا ہے۔ آپ جماعت احمدیہ کے دوسرے جلسہ سالانہ 1892ء میں شامل تھے۔فہرست شرکاء جلسہ 1892ء (مندرجہ آئینہ کمالات اسلام) میں آپ کا نام 220نمبر پر ’’منشی عبدالعزیز صاحب۔ دہلی قاسم جان کی گلی۔ ملازم دفتر نہر انبالہ‘‘ درج ہے۔ اس موقع پر چندہ دینے والوں کی فہرست میں بھی آپ کا نام درج ہے۔ پھر حضرت اقدسؑ نے اپنے 313صحابہ کی فہرست میں بھی آپ کا نام 54نمبر پر ’’میاں عبدالعزیز صاحب دہلی‘‘ شامل فرمایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک گروپ فوٹو میں آپ بھی موجود ہیں۔

آپؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت رکھنے والے اور سلسلہ احمدیہ سے سچا اخلاص رکھنے والے تھے۔ آپؓ علمی شخصیت تھے اور اس لحاظ سے بھی خدمت سلسلہ کی توفیق پائی۔ دہلی کے ایک صاحب مرزا حیرت دہلوی نے حضرت اقدس علیہ السلام کے مقابل پر آنے کی کوشش کی اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا تو آپ نے ‘‘حیرت کی حیرانی’’کتاب لکھ کر اُس کا تسلی بخش جواب دیا۔ اخبار الحکم 24فروری 1906ء صفحہ 8پر آپ کے دو علمی و تبلیغی مکتوب شائع شدہ ہیں۔ اخبار بدر 14؍فروری 1907ء میں آپؓ کا ایک اور علمی مضمون ’’سعد اللہ لدھیانوی‘‘ شائع ہواجس کے متعلق اخبار بدر ہی لکھتا ہے: ’’گذشتہ پرچہ میں بھائی جان عبدالعزیز دہلوی کا جو مضمون سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق نکلا تھا اس کو حضرت مولوی نور الدین صاحب نے بہت پسند فرمایاہے اور حکم دیا ہے کہ مضمون نویس کا ان کی طرف سے شکریہ ادا کیا جاوے۔ ‘‘

(بدر 21 فروری 1907ء صفحہ 6 کالم 3)

ایک مرتبہ آپ نے رسالہ ریویو آف ریلیجنز کی اشاعت کے لیے دو مہینے وقف کر کے دور دراز کا سفر اختیار کیا۔اخبار میں اس کے متعلق رپورٹ یوں درج ہے:
’’جناب منشی عبدالعزیز صاحب دہلوی مصنف حیرؔت کی حیرانی دہلی سے آگے کلکتہ کی طرف سفر کریں گے اور اس سفر میں ایک کام کو انہوں نے ابتغاءً لِوجہ اللہ اختیار کیا ہے یعنی یہ کہ میگزین کے متعلق جا بجا اشاعت اور اعانت کی تحریک کرنا…. وہ ایک کافی تعداد اشتہارات کی ساتھ لے گئے ہیں جن کو وہ جا بجا تقسیم کریں گے اور اس کے علاوہ اپنے دوستوں سے اعانت میگزین کا چندہ بھی وصول کریں گے۔‘‘

(الحکم 10جولائی 1906ء صفحہ 1)

سفر سے واپس آنے پر جناب مولوی محمد علی صاحب ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز نے لکھا:
’’میرے مکرم بھائی منشی عبدالعزیز دہلوی حال کلرک گوجرانوالہ نے حال میں ہی قریبًا دو مہینے خالصًا خدمت میگزین کے لیے وقف کر کے ایک قابل تقلید نمونہ قائم کیا ہے۔ صاحب موصوف نے نہ صرف اپنے آرام اور آسائش کو ہی ایک خوبی خدمت کے لیے قربان کیا بلکہ اس دورے میں جو انھوں نے کلکتہ وغیرہ کی طرف کیا جس میں ہزارہا اشتہار انگریزی اور اردو رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے تقسیم کیے اور کئی خریدار اور معاون رسالہ کے پیدا کیے۔ اس لمبے سفر میں جس قدر خرچ منشی صاحب موصوف کا ہوا اُس میں سے ایک پیسہ خرچ بھی انہوں نے میگزین پر نہیں ڈالا بلکہ یہ سب خرچ بھی اپنی گرہ سے ہی کیا۔ کسی انسان کے لیے اس قدر تکلیف اور اخراجات کا گوارا کرنا مشکل ہے جب تک خالص جوش خدمت اسلام کا اُس کے دل میں نہ ہو۔ منشی صاحب موصوف جیسا کہ پہلے اطلاع دی جا چکی ہے اس دورے سے واپس آ چکے ہیں اور انہوں نے یہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ آئندہ بھی وہ وقتًا فوقتًا اس قسم کی خدمت میگزین کی کرتے رہا کریں گے….‘‘

(بدر 25اکتوبر 1906ء صفحہ 5کالم 1)

دسمبر 1903ء میں آپؓ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُس کا نام عبدالحکیم رکھا۔ (بدر 8دسمبر 1903ء صفحہ 366) آپ کے ایک بیٹے مکرم قریشی بشیر احمد دہلوی صاحب واہ کینٹ (وصیت نمبر 15432۔ وفات: 19؍فروری 1992ء بعمر 78 سال مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) کا نکاح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے محترمہ امۃ البشیر بیگم صاحبہ بنت حضرت بابو اللہ بخش صاحب رضی اللہ عنہ ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر مری (امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی) کے ساتھ پڑھایا۔

(الفضل 11؍اپریل 1950ء صفحہ 5)

(غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 9 جولائی 2020ء