• 5 اگست, 2020

مومن اور تلاوتِ قرآن کریم

تبرکات: حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ

حدیث۔ بخاری اور مسلم دونوں میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:۔

مثل المومن الذی یقراء القرآن مثل الا ترجہ ریحھا طیب و طعمھا طیب و مثل المومن الذی لا یقرأ القرآن مثل التمرۃ لا ریح لھا و طمعھا حلوّ و مثل المنافق الذی یقراء القرآن مثل الریحانۃ ریحھا طیبٌ و طمعھا مرّ و مثل المنافق الذی لا یقراء القرآن کمثل الحنظلۃ لیس لھا ریح و طمعھا مرٌّ۔

ترجمہ۔ اس ایماندار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے۔ ترنج یعنی میٹھے لیمو کی ہے کہ اس کی بُو بھی اچھی اور اس کا مزا بھی اچھا ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھا کرتا۔ چھوہارے کی ہے کہ اس میں بو نہیں مگر اس کا مزا میٹھا ہے۔ پھر اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اس خوشبودار پھول کی ہے جو کہ خوشبودار تو ہو لیکن مزا اس کا کڑوا ہو اور اس منافق کی مثال جو کہ قرآن پڑھتا ہی نہیں اندرائن کے پھل کی سی ہے کہ نہ اس میں بُو ہے اور نہ مزا میٹھا ہے۔

اس حدیث سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے۔ مومن قرآن خوان میں دو صفتیں ہوتی ہیں۔ ایک باطنی یعنی اعتقاد۔ اس کو میٹھا مزہ فرمایا اور دوسری ظاہری جس کا اثر لوگوں کو پہنچتا ہے۔ اس کو خوشبو کے ساتھ مثال دی۔ یعنی مومن قرآن خوان کا ظاہر و باطن دونوں بہتر ہیں۔ مگر وہ مومن جو قرآن خوان نہیں۔ اس کا باطن بسبب ایمان اچھا ہے۔ لیکن وہ قرآن شریف کی تلاوت نہیں کرتا اور لوگوں کو اس سے ظاہری اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کی خوشبو نہیں پھیلتی۔ پھر جو منافق قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے۔ وہ صرف ایک خوشبودار پھول کی مانند ہے۔ لیکن اس کا اثر کچھ نہیں۔ ظاہراً اچھا۔ باطناً برا۔ کیونکہ اس کے دلی اعتقاد درست نہیں۔ لیکن جو منافق قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا وہ اندرائن کے پھل کے مشابہ ہے۔ یعنی ظاہراً بھی بُرا اور باطناً بھی بُرا۔

ہمیں خالص مومن بن کر تلاوتِ قرآن مجید بلاناغہ کرنی چاہئے۔ تاکہ ہمارا ظاہر بھی اچھا ہو اور باطن بھی اور ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مثال کے مصداق ہو سکیں۔

(روزنامہ الفضل قادیان 23 اگست 1943ء صفحہ3)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 9 جولائی 2020ء