• 5 اگست, 2020

مالی نظام (ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

بچوں کو بھی چندے دینے کی عادت ڈالیں

پھر آپؑ (حضرت مسیح موعودؑ) نے فرمایا کہ ’’قوم کو چاہیے کہ ہر طرح سے اس سلسلہ کی خدمت بجا لاوے۔ مالی طرح پر بھی خدمت کی بجا آوری میں کوتاہی نہیں چاہیے۔ دیکھو دنیا میں کوئی سلسلہ بغیر چندہ کے نہیں چلتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت موسیٰ ؑاور حضرت عیسیٰ ؑسب رسولوں کے وقت چندے جمع کئے گئے ۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے۔ اگر یہ لو گ التزام سے ایک ایک پیسہ بھی سال بھر میں دیویں تو بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے ۔ ہاں اگر کوئی ایک پیسہ بھی نہیں دیتا تو اسے جماعت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے‘‘۔

پھر فرمایا: ’’انسان اگر بازار جاتا ہے تو بچے کی کھیلنے والی چیزوں پر ہی کئی کئی پیسے خرچ کر دیتا ہے۔ تو پھر یہاں اگر ایک ایک پیسہ دے دیوے تو کیا حرج ہے؟ خوراک کے لیے خرچ ہوتا ہے، لباس کے لیے خرچ ہوتا ہے، اَور ضرورتوں پر خرچ ہوتا ہے، تو کیادین کے لیے ہی مال خرچ کرنا گراں گزرتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ان چند دنوںمیں صدہا آدمیوں نے بیعت کی ہے مگر افسوس ہے کہ کسی نے ان کو کہا بھی نہیں کہ یہاں چندوں کی ضرورت ہے۔ خدمت کرنی بہت مفید ہوتی ہے۔ جس قدر کوئی خدمت کرتاہے اسی قدر وہ راسخ الایمان ہو جاتا ہےاورجو کبھی خدمت نہیں کرتے ہمیں تو ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے ۔ چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک متنفس عہد کرے کہ مَیں اتنا چندہ دیا کروں گا کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے عہد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں برکت دیتا ہے‘‘۔

پھر آپؑ نے فرمایا: ’’بہت لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ چندہ بھی جمع ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ اگر تم سچا تعلق رکھتے ہو تو خداتعالیٰ سے پکا عہد کر لو کہ اس قدر چندہ ضرور دیا کروں گا اور ناواقف لوگوں کو یہ بھی سمجھایا جاوے کہ وہ پوری تابعداری کریں۔ اگر وہ اتنا عہد بھی نہیں کر سکتے تو پھر جماعت میں شامل ہونے کا کیا فائدہ۔ نہایت درجہ کا بخیل (کنجوس) اگر ایک کوڑی بھی روزانہ اپنے مال میں سے چندے کے لیے الگ کرے تو وہ بھی بہت کچھ دے سکتا ہے۔ ایک ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے۔ اگر کوئی چارروٹی کھاتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک روٹی کی مقدار اس میں سے سلسلہ کے لیے بھی الگ کر رکھے اور نفس کو عادت ڈالے کہ ایسے کاموں کے لیے اسی طرح سے نکالا کرے۔ چندے کی ابتدا اس سلسلہ سے ہی نہیں ہے بلکہ مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانوں میں بھی چندے جمع کئے گئے تھے‘‘۔

(ملفوظات جلد 3 صفحہ 361-358 جدید ایڈیشن)

پس جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ بچوں، کھلونوں وغیرہ پر خرچ کر دیتے ہیں تو دین کے لیے کیوں نہیں کئے جاتے۔ تو اس وقت بھی جب بچوں پہ خرچ کر رہے ہوتے ہیں اگر بچوں کو سمجھایا جاوے اور کہا جائے کہ تمہیں بھی مالی قربانی کرنی چاہیے اور اس لیے کہ جماعت میں بچوں کے لیے بھی، جو نہیں کماتے ان کے لیے بھی ایک نظام ہے۔ تحریک جدید ہے، وقف جدید ہے۔ تو اس لحاظ سے بچوں کو بھی مالی قربانی کی عادت ڈالنے کے لیے ان تحریکوں میں حصہ لینا چاہیے۔ اس کےلیے کہنا چاہیے، اس کی تلقین کرنی چاہیے۔ جب بھی بچوں کو کھانے پینے کے لیے یا کھیلنے کے لیے رقم دیں تو ساتھ یہ بھی کہیں کہ تم احمدی بچے ہو اور احمدی بچے کو اللہ تعالیٰ کی خاطر بھی اپنے جیب خرچ میں سے کچھ بچا کر اللہ کی خاطر، اللہ کی راہ میں دینا چاہیے۔

اب عید آ رہی ہے۔ بچوں کو عیدی بھی ملتی ہے تحفے بھی ملتے ہیں۔ نقدی کی صورت میں بھی۔ اس میں سے بھی بچوں کو کہیں کہ اپنا چندہ دیں۔ اس سے پھر چندہ ادا کرنے کی اہمیت کا بھی احساس ہوتا ہے اور ذمہ داری کا بھی احساس ہوتا ہے۔ بچہ پھر یہ سوچتا ہے اور بڑے ہو کر یہ سوچ پکّی ہو جاتی ہے کہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر خرچ کروں، قربانیاں دوں۔

نومبائعین کو ابتدا سے چندہ کی عادت ڈالیں

پھرنومبائعین کے بارے میں فرمایا کہ بیعت کرتے ہیں اور وہ چندہ نہیں دیتے۔ ان کو بھی اگر شروع میں یہ عادت ڈال دی جائے کہ چندہ دینا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس کے دین کی خاطر قربانی کی جائے تو اس سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے تو ان کو بھی عادت پڑ جاتی ہے۔ بہت سے نومبائعین کو بتایا ہی نہیں جاتا کہ انہوں نے کو ئی مالی قربانی کرنی بھی ہے کہ نہیں۔ تو یہ بات بتانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کا پھر ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے جو مالی قربانیاں نہیں کرتے۔ اب اگر ہندوستان میں،انڈیا میں اور افریقن ممالک میں یہ عادت ڈالی جاتی تو چندے بھی کہیں کے کہیں پہنچ جاتے اور تعداد بھی کئی گنا زیادہ ہو سکتی تھی۔ …

(خطبہ جمعہ فرمودہ 5نومبر2004ء، مشعل راہ جلد پنجم حصہ دوم، ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس (ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز )ص 125تا127)

مالی قربانی اصلاح نفس اور قرب الٰہی کا ذریعہ

…مالی قربانی اصلاح نفس اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، مختلف پیرایوں میں اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ پس جماعت احمدیہ میں جو مختلف مالی قربانی کی تحریکات ہوتی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے اور دلوں کو پاک کرنے کی کڑیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ

{وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ}

(الحديد 11)

اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ پس اپنی زندگیوں کو سنوارنے کے لئے مالی قربانیوں میں حصہ لینا انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ بھی تنبیہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ جیسے کہ فرماتا ہے {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} (البقرة 196)۔ اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ پس جیسا کہ میں نے کہا یہ مالی تحریکات جو جماعت میں ہوتی ہیں، یا لازمی چندوں کی طرف جو توجہ دلائی جاتی ہے یہ سب خداتعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہیں۔ پس ہر احمدی کو اگر وہ اپنے آپ کو حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی جماعت کی طرف منسوب کرتا ہے اور کرنا چاہتا ہے، اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلصین کی ایک بہت بڑی جماعت اس قربانی میں حصہ لیتی ہے لیکن ابھی بھی ہر جگہ بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی حکم فرمایا ہے کہ اگر آخرت کے عذاب سے بچنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں کے وارث بننا ہے تو مال و جان کی قربانی کرو۔اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آ کرتلوار کا جہاد ختم کر دیا تویہ مالی قربانیوں کا جہاد ہی ہے جس کو کرنے سے تم اپنے نفس کا بھی اور اپنی جانوں کا بھی جہاد کر رہے ہوتے ہو۔ یہ زمانہ جو مادیت سے پُرزمانہ ہے ہر قدم پر روپے پیسے کا لالچ کھڑا ہے۔ ہر کوئی اس فکر میں ہے کس طرح روپیہ پیسہ کمائے چاہے غلط طریقے بھی استعمال کرنے پڑیں کئے جائیں۔…

نومبائعین کو مالی نظام کا حصہ بنائیں

… یہ جو مَیں بار بار زور دیتا ہوں کہ نومبائعین کوبھی مالی نظام کا حصہ بنائیں یہ اگلی نسلوں کو سنبھالنے کے لئے بڑا ضروری ہے کہ جب اس طرح بڑی تعداد میں نومبائعین آئیں گے تو موجودہ قربانیاں کرنے والے کہیں اس تعداد میں گم ہی نہ ہو جائیں اور بجائے ان کی تربیت کرنے کے ان کے زیر اثر نہ آ جائیں۔ اس لئے نومبائعین کو بہرحال قربانیوں کی عادت ڈالنی پڑے گی اور نومبائع صرف تین سال کے لئے ہے۔ تین سال کے بعد بہرحال اسے جماعت کا ایک حصہ بننا چاہئے۔ خاص طور پر نئی آنے والی عورتوں کی تربیت کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔

بخل قوموں کو ہلاک کردیتا ہے

…پھر ایک روایت میں ہے عبداللہؓ بن عمروبن العاص سے روایت ہے کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا الشُّح یعنی بخل سے بچو۔ یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا تھا۔

(مسنداحمد بن حنبل جلد 2صفحہ159مطبوعہ بیروت)

پس اللہ تعالیٰ کی راہ میں بخل کابالکل سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بڑا ہی انذار ہے اس میں۔ پہلی قوموں کی ہلاکت اس لئے ہوئی تھی کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تھے۔ جیساکہ مَیں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پرانے احمدیوں کی بہت بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیوں کی اہمیت کو سمجھتی ہے لیکن اگر نئے آنے والوں کو اس کی عادت نہ ڈالی اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے لیت و لعل سے کام لیتے رہے تو پھر جیساکہ ہم دیکھ چکے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوفناک انذار فرمایا ہے۔ پس اس انعام کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی جو توفیق دی ہے اس کا شکر بجا لائیں اور آپؑ کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی کرنے سے کبھی دریغ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس کا پیغام تو پھیلنا ہی ہے یہ تقدیر الٰہی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔ لیکن اگر تم نے کنجوسی کی تو اپنی کنجوسی کی وجہ سے تم لوگ ختم ہو جاؤ گے جس طرح کہ حدیث میں ذکر بھی ہے اور لوگ آ جائیں گے۔ جیسا کہ فرمایا ہے {وَمَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہ} (محمد:39) اورجوکوئی بخل سے کام لے وہ اپنی جان کے متعلق بخل سے کام لیتا ہے۔ پھر فرمایا {وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ۔ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْا اَمْثَالَکُمْ} (محمد:39) کہ اگر تم پھر جاؤ تووہ تمہاری جگہ ایک اور قوم کو بدل کر لے کر آئے گا پھر وہ تمہاری طرح سستی کرنے والی نہیں ہو گی۔

پس یہ مالی قربانیاں کوئی معمولی چیز نہیںہیں ان کی بڑی اہمیت ہے۔ ایمان مضبوط کرنے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہونے کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے۔ صحابہ کی قربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح پھل لگائے جس کا روایات میں کثرت سے ذکر آتا ہے۔ شروع میں یہی صحابہ جو تھے بڑے غریب اور کمزور لوگ تھے، مزدوریاں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی مالی تحریک ہوتی تھی تو مزدوریاں کرکے اس میں چندہ ادا کیا کرتے تھے۔ حسب توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کیا کرتے تھے تاکہ اللہ اور اس کے رسول کا قرب پانے والے بنیں۔ان برکات سے فیضیاب ہونے والے ہوں جو مالی قربانیاں کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہیں، جن کے وعدے کئے ہیں۔…

(خطبہ جمعہ فرمودہ 06جنوری 2006ء، مشعل راہ جلد پنجم حصہ سوم، ارشادات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس(ایدہ اللہ تعالیٰ)ص 169تا 171)

٭…٭…(باقی آئندہ)…٭…٭

(سلطان نصیر احمد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 9 جولائی 2020ء