• 4 اکتوبر, 2022

روحانی آل

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت امام حسینؓ کی تعریف میں فرماتے ہیں:
’’خدا کے پیاروں اور مقبولوں کے لئے روحانی آل کا لقب نہایت موزوں ہے۔ اور وہ روحانی آل اپنے روحانی نانا سے وہ روحانی وراثت پاتے ہیں جس کو کسی غاصب کا ہاتھ غصب نہیں کر سکتا اور وہ اُن باغوں کے وارث ٹھہرتے ہیں جن پر کوئی دوسرا قبضہ ناجائز کر ہی نہیں سکتا…حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما خدا کے برگزیدہ اور صاحبِ کمال اور صاحبِ عفّت اور عصمت اور ائمۃ الہدیٰ تھے۔ اور وہ بلاشبہ دونوں معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آل تھے… سو اہلِ معرفت اور حقیقت کا یہ مذہب ہے کہ اگر حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفلی رشتہ کے لحاظ سے آل بھی نہ ہوتے تب بھی بوجہ اِس کے کہ وہ روحانی رشتہ کے لحاظ سے آسمان پر آل ٹھہر گئے تھے وہ بلا شبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی مال کے وارث ہوتے۔ جبکہ فانی جسم کا ایک رشتہ ہوتا ہے تو کیا روح کا کوئی بھی رشتہ نہیں؟ بلکہ حدیث صحیح سے اور خود قرآنِ شریف سے بھی ثابت ہے کہ روحوں میں بھی رشتے ہوتے ہیں اور ازل سے دوستی اور دشمنی بھی ہوتی ہے۔ اب ایک عقلمند انسان سوچ سکتا ہے کہ کیا لازوال اور ابدی طور پر آلِ رسول ہونا جائے فخر ہے یا جسمانی طور پر آلِ رسول ہونا جو بغیر تقویٰ اور طہارت اور ایمان کے کچھ بھی چیز نہیں۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اہلِ بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرِ شان کرتے ہیں۔ بلکہ اس تحریر سے ہمارا مُدّعا یہ ہے کہ امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی شان کے لائق صرف جسمانی طور پر آلِ رسول ہونانہیں کیونکہ وہ بغیر روحانی تعلق کے ہیچ ہے۔‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ364 تا 366 حاشیہ)

پچھلا پڑھیں

صحابہ رسولؐ اور ان کے بچپن نیز ان کی فدائیت کے واقعات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اگست 2022