• 5 اکتوبر, 2022

’’میں تو تین دن تک اس مادی دنیا سے بالکل منقطع تھا (مسٹر تورے علی)‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
پھر آئیوری کوسٹ سے ایک مہمان تورے علی (Toure Ali) صاحب تھے۔ یہ سپریم کورٹ کے جج ہیں اور پہلے وزارتِ ثقافت میں کیبنٹ ڈائریکٹر کے طور پر لمبا عرصہ کام کرتے رہے ہیں۔ مذہب میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ مذہبی کتب کے مطالعہ کا شوق ہے۔ روزانہ قرآنِ کریم کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جلسہ کے دنوں میں جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں روزانہ باقاعدہ فجر کی نماز اور نوافل کی ادائیگی کا اہتمام کرتے اور جلسہ گاہ میں بھی پوچھتے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے کہ نہیں؟ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ یہاں باجماعت نماز ہوتی ہے اور میں اس سے محروم رہوں۔ جلسہ کی افتتاحی تقریب میں جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام پڑھا گیا تو فرطِ جذبات سے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بعد میں کہنے لگے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کلام سیدھا دل میں اتر رہا تھا۔ میں نے تقویٰ کا یہ دل گداز مضمون پہلی دفعہ سنا تو اپنے آپ کو محض لا شیٔ پایا جس کی وجہ سے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ آخری دن اختتام پر کہنے لگے کہ مَیں تو تین دن تک اس مادّی دنیا سے بالکل منقطع تھا، کسی اور ہی روحانی ماحول میں پہنچا ہوا تھا جہاں سرور ہی سرور تھا۔ دنیا کے کاموں سے کلیۃً آزاد تھا۔ اب جلسہ ختم ہوا ہے تو اس دنیا میں واپس آیا ہوں اور اپنے عزیز و اقارب کو فون کرنے لگا ہوں۔ غیروں کا بھی یہ حال ہے، روحانی ماحول کا اثر ہوتا ہے۔ کہتے ہیں ہمارا بہت اچھا خیال رکھا گیا۔ شکریہ کے الفاظ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ کونگو سے تعلق رکھنے والے ایک دوست جوسابق صدر مملکت کے مشیر اور اس وقت سی آر اے سی (CRAC) جو اُن کی پارٹی ہے اُس کے پریذیڈنٹ ہیں اور آئندہ ہونے والے ملکی انتخابات میں صدارتی امیدوار ہیں۔ جلسہ کے دوسرے روز ایک دن کے لئے آئے تھے اور شام کو جو تبشیر کا ڈنر ہوتا ہے اُس میں بھی شامل ہوئے تھے۔ اور اُس وقت تھوڑی دیر کے لئے مجھے ملے بھی تھے۔ یہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک مجھے جماعت احمدیہ کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے جلسہ میں اپنی آنکھوں سے بعض نظاروں کو دیکھا اور پھر میری جو تقریریں تھیں اُن کو بھی سنا، اس پر وہ کہنے لگے کہ یہاں آنے سے پہلے آپ کے مخالفوں کو دیکھا اور پڑھا بھی ہے اور آج میں صاف طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ باتیں جو میں نے یہاں دیکھیں اور سنی ہیں اور آپ کے خلیفہ کو دیکھا ہے تویہ بات مجھ پر صاف کھل گئی ہے کہ آج کے مخالفوں میں کوئی بھی حقیقت نہیں اور اُس کے مقابل پر جو راہیں اور جو اصول آپ کے خلیفہ بیان کر رہے ہیں، اب دنیا کے لیڈرز کے پاس اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ آپ کے خلیفہ کے بازوؤں میں آجائیں۔ جب انسان حدیقۃالمہدی میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت ایک عجیب نظارہ یہ ہوتا ہے کہ سارا شہر ہی جنگل میں آباد ہوتا ہے۔ تو جس وقت وہ داخل ہوئے توکہتے ہیں کہ آپ نے سارا انگلینڈ خریدا ہوا ہے؟ پھر کہنے لگے کم از کم تین چار ہزار آدمی تو یہاں کام کر رہے ہوں گے اور جب اُن کو بتایا گیا کہ سب رضاکارانہ طور پر خدمت کر رہے ہیں تو کہنے لگے بڑی حیرانگی کی بات ہے اور میری سوچ سے بھی بالا ہے۔

پھر کہنے لگے کہ اتنے بڑے مجمع میں کوئی پولیس والا بھی نظر نہیں آ رہا۔ جلسہ کے دوران انہوں نے بعض کارکنان سے بھی بات کی اور جب اُنہیں پتہ چلا کہ ان میں سے بعض بڑے عہدوں پر ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام کر رہے ہیں اور زمین پر سوتے ہیں تو کہنے لگے کہ اس طرح ڈسپلن اور اطاعت کا معیار میں نے پہلے کبھی اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ آپ کی جماعت سے کوئی بھی نہیں جیت سکتا۔ پھر دوسرے روز کے میرے خطاب کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ جو آپ کا خطاب تھا، مَیں نے اس میں جو بات سب سے زیادہ محسوس کی ہے اس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مَیں دنیا کے بڑے بڑے سیاست دانوں سے ملا ہوں، بڑے بڑے جلسوں میں شرکت کی ہے۔ کاش ہم سیاسی لیڈر ہر سال اپنی عوام کے سامنے جو کچھ ہم نے کیا ہے ایمانداری کے ساتھ پیش کریں تو حکومت اور عوام میں بڑی تبدیلی آ جائے۔ لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ دو گھنٹے اس طرح کھڑے رہنا، پُرسکون اور اطمینان کے ساتھ ہر بات واقعات کے ساتھ کھول کر، اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرنا، یہ بہت بڑا کام ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ آج تیس ہزار سے زائد افراد کی موجودگی میں جب آپ کے خلیفہ کو سنا ہے تو مجال ہے کہ اس دوران کسی بھی شخص نے کسی قسم کی کوئی بات کی ہو۔ کہنے لگے کہ عجیب بات ہے جو میں نے دیکھی کہ تقریر کے دوران جب آپ کے خلیفہ چند لمحات کے لئے ٹھہر جاتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ پوری مارکی میں کوئی انسان بھی نہیں بیٹھا ہوا۔ بڑی خاموشی طاری ہوتی۔ کہتے ہیں مَیں نے بعض دفعہ سر اُٹھا کر اوپر دیکھنے کی کوشش بھی کی کہ شاید کوئی تو بول رہا ہو گا لیکن مجھے کوئی شخص بولتا ہوا نظر نہ آیا۔ سب کی آنکھیں بس صرف ڈائس کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ پھر کہا کہ یہ نظارہ مَیں ساری عمر نہ بھولوں گا۔ ایسا ڈسپلن اور اطاعت کا معیار میں نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ سنا۔

(خطبہ جمعہ 6؍ستمبر 2013ء)

پچھلا پڑھیں

صحابہ رسولؐ اور ان کے بچپن نیز ان کی فدائیت کے واقعات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اگست 2022