• 4 اکتوبر, 2022

مجلس اطفال الاحمدیہ کا قیام اور اس کے مقاصد

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ان بچوں کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے بلکہ وَجَعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان: 75) کا لحاظ ہو کہ یہ اولاد دین کی خادم ہو لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں کہ اولاد دین کی پہلوان ہو۔ بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں۔ اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لیے یہ کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے اور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں۔ صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائیداد کا مالک نہ بن جائے۔ مگر یاد رکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے۔ غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ دین کی خادم ہو۔ اسی طرح بیوی کرے تا کہ کثرت سے اولاد پیدا ہو اور وہ اولاد دین کی سچی خدمت گزار ہو اور نیز جذبات نفس سے محفوظ رہے اس کے علاوہ جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں۔ رحم اور تقوی مد نظر ہو تو بعض باتیں جائز ہو جاتی ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد3 صفحہ599-600)

اطفال الاحمدیہ سات سال سے پندرہ سال کے لڑکوں کی تنظیم ہے۔ اس نئی تنظیم کے قائم کرنے کا ارشاد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اولا مسجد اقصیٰ قادیان میں خطبہ جمعہ کے دوران ان الفاظ میں کیا۔
’’اصل چیز یہ ہے کہ اچھی عادت بھی ہو اور علم بھی ہو مگر یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب عادت کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے اور علم کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے۔ عادت کا زمانہ بچپن کا ہوتا ہے اور علم کا زمانہ جوانی کا زمانہ ہوتا ہے پس خدام الاحمدیہ کی ایک شاخ ایسی بھی کھولی جائے جس میں پانچ چھ سال کے بچوں سے لے کر پندرہ سولہ سال تک کی عمر کے بچے شامل ہو سکیں یا اگر کوئی اور حد بندی تجویز ہو تو اس کے تحت بچوں کو شامل کیا جائے۔ بہرحال بچوں کی ایک الگ شاخ ہونی چاہیے اور ان کے الگ نگران مقرر ہونے چاہییں۔ مگر یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے کہ ان بچوں کے نگران نوجوان نہ ہوں بلکہ بڑی عمر کے لوگ ہوں….ایسے لوگ جن کی عمریں گو زیادہ ہوں مگر ان کے دل نوجوان ہوں اور وہ خدمت دین کے لیے بشاشت اور خوشی سے کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ایسے لوگوں کے سپرد بچوں کی نگرانی کی جائے اور ان کے فرائض میں یہ امر داخل کیا جائے کہ وہ بچوں کو پنجوقتہ نمازوں میں باقاعدہ لائیں، سوال و جواب کے طور پر دینی اور مذہبی مسائل سمجھائیں، پریڈ کرائیں اور اسی طرح کے اور کام ان سے لیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1938)

26 جولائی 1940ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجلس خدام الاحمدیہ کو یہ ارشاد فرمایا کہ
’’ایک مہینہ کے اندر اندر خدام الاحمدیہ آٹھ سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کو منظم کریں۔ اور اطفال الاحمدیہ کے نام سے ان کی ایک جماعت بنائی جائے اور میرے ساتھ مشورہ کر کے ان کے لیے مناسب پروگرام تجویز کیا جائے۔‘‘

(الفضل یکم اگست 1940ء)

خدام الاحمدیہ کی ہر مقامی تنظیم مقامی طور پر ایک خادم کو بطور ناظم اطفال مقرر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بڑی عمر کے کسی شخص کو مربی اطفال کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے۔ ملکی سطح پر اطفال الاحمدیہ کا سربراہ مہتمم اطفال جبکہ مقامی سطح پر ناظم اطفال کہلاتا ہے۔ کام میں مزید آسانی کے لیے اطفال الاحمدیہ میں شامل لڑکوں کو دو معیار میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اول معیار صغیر: 7 سے 12 سال

دوم معیار کبیر: 13 سے 15سال

’’مجلس نے اطفال الاحمدیہ کی تنظیم کے لیے قادیان کے 804 بچوں کے 75 گروپ۔ ان پر مانیٹر مقرر کیے اور انہیں مربیوں کے سپرد کیا۔ مجلس نے اطفال الاحمدیہ کے متعلق ذیلی قواعد کا تفصیلی ڈھانچہ بھی تیار کیا اور بچوں کے لیے تربیتی نصاب بھی۔ نیز خدام کی طرح اطفال الاحمدیہ کا بیج یعنی امتیازی نشان بھی تیار کر لیا۔ جس پر نقوش تو وہی تھے جو خدام الاحمدیہ کے بیج کے تھے مگر یہ ذرا چھوٹا اور بیضوی شکل کا بنایا گیا تھا اور اس پر ’’امیدوار رکن مجلس خدام الاحمدیہ‘‘ کے الفاظ کندہ تھے۔ پہلے سال قادیان سے باہر مندرجہ ذیل مقامات پر بھی مجالس اطفال قائم ہو گئیں۔بھیرہ، سیالکوٹ چھاؤنی و شہر، جہلم، سید والا، لائل پور(حال فیصل آباد)، ملتان، لودھراں، کریام، کاٹھ گڑھ، شملہ، کیرنگ، یاد گیر دکن، محمود آباد ضلع جہلم، کنری سندھ، لاہور، شکار ماچھیا، دھلی، مونگھیر، برہمن بڑیہ، شاہ پور، امر گڑھ، ننگل، امرتسر، گوجرانولہ اور نیروبی (مشرقی افریقہ)‘‘

(تاریخ احمدیت جلد7 صفحہ579)

اطفال الاحمدیہ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
میں نے انصار اللہ، خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ تین الگ الگ جماعتیں قائم کی ہیں تا کہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی نقل کا مادہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ پیدا ہو۔ بچے بچوں کی نقل کریں، نوجوان نوجوان کی نقل کریں اور بوڑھے بوڑھوں کی نقل کریں۔ جب بچے اور نوجوان اور بوڑھے سب اپنی اپنی جگہ یہ دیکھیں گے کہ ہمارے ہم عمر دین کے متعلق رغبت رکھتے ہیں وہ اسلام کی اشاعت کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اسلامی مسائل کو سیکھنے اور ان کو دنیا میں پھیلانے میں مشغول ہیں۔ وہ نیک کاموں کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں تو ان کے دلوں میں بھی یہ شوق پیدا ہو گا کہ ہم بھی ان میں کاموں میں حصہ لیں اور اپنے ہم عمروں سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔ دوسرے وہ جو رقابت کی وجہ سے عام طور پر دلوں میں غصہ پیدا ہوتا ہے وہ بھی پیدا نہیں ہوگا جب بوڑھا وہ بوڑھے کو نصیحت کرے گا، نوجوان نوجوان کو نصیحت کرے گا اور بچہ بچے کو نصیحت کرے گا تو کسی کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوگا کہ مجھے کوئی ایسا شخص نصیحت کر رہا ہے جو عمر میں مجھ سے چھوٹا یا عمر میں مجھ سے بڑا ہے۔ وہ سمجھے گا کہ میرا ایک ہم عمر جو میرے جیسے خیالات اور میرے جیسے جذبات اپنے اندر رکھتا ہے مجھے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور خاص طور پر ہو جائے گا مگر یہ تغیر اسی صورت میں پیدا ہوسکتا ہے جب جماعت میں یہ نظام پورے طور پر رائج ہو جائے۔۔۔۔ ہماری جماعت کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔ تمام دنیا کو اللہ تعالیٰ کے آستانے پر جھکانا ہے۔ تمام دنیا کو اسلام اور احمدیت میں داخل کرنا ہے۔ تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم کرنا ہے مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک سر انجام نہیں دیا جا سکتا، جب تک ہماری جماعت کے تمام افراد خواہ بچے ہوں یا نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں، اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے اور اس لائحہ عمل کے مطابق دن اور رات عمل نہیں کرتے جو ان کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ جب ہم جماعت کے تمام افراد کو ایک نظام میں منسلک کر لیں گے تو اس کے بعد ہم بیرونی دنیا کی اصلاح کے کام کی طرف مکمل طور پر توجہ کر سکیں گے اس اندرونی اصلاح اور تنظیمِ کو مکمل کرنے کے لیے میں نے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور اطفال الاحمدیہ اس اصل کو اپنے مد نظر رکھیں جو حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے فرض کو سمجھے اور پھر دن اور رات اس فرض کی ادائیگی میں اس طرح مصروف ہو جائے جس طرح ایک پاگل اور مجنون تمام اطراف سے اپنی توجہ ہٹا کر صرف ایک بات کے لیے اپنے تمام اوقات کو صرف کر دیتا ہے جب تک رات اور دن انصار اللہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے جب تک رات اور دن خدام الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے جب تک رات اور دن اطفال الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے تمام اوقات کو صرف نہیں کر دیتے اس وقت تک ہم اپنی اندرونی تنظیم مکمل نہیں کر سکتے اور جب تک ہم اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے اس وقت تک ہم بیرونی دنیا کی اصلاح اور اس کی خرابیوں کے ازالہ کی طرف بھی پوری طرح توجہ نہیں کر سکتے۔‘‘

(الفضل 11 اکتوبر 1944ء)

اطفال الاحمدیہ میں تین عادتوں کا ہونا ضروری ہے

’’اگر یہ تین عادتیں ان میں پیدا کردی جائیں تویقینا جوانی میں ایسے بچے بہت کارآمد اور مفیدثابت ہوسکتے ہیں پس بچوں میں محنت کی عادت پیدا کی جائے،سچ بولنے کی عادت پیدا کی جائےاورنمازوں کی باقاعدگی کی عادت پیدا کی جائے۔ نماز کے بغیر دین کوئی چیز نہیں اگر کوئی قوم چاہتی ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں میں اسلامی روح قائم رکھے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوم کے ہر بچہ کو نماز کی عادت ڈالے اسی طرح سچ کے بغیر اخلاق درست نہیں ہو سکتے۔ جس قوم میں سچ نہیں اس قوم میں اخلاق فاضلہ بھی نہیں۔ اور محنت کی عادت کے بغیر سیاست اور تمدن بھی نہیں۔ گویا یہ تین معیار ہیں، جن کے بغیر قومی ترقی نہیں ہوتی….. اگر یہ تین عادتیں ان میں پیدا کر دی جائیں تو یقیناً جوانی میں ایسے بچے بہت کارآمد اور مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ پس بچوں میں محنت کی عادت پیدا کی جائے۔ سچ بولنے کی عادت پیدا کی جائے اور نمازوں کی باقاعدگی کی عادت پیدا کی جائے۔ نماز کے بغیر اسلام کوئی چیز نہیں۔ اگر کوئی قوم چاہتی ہے کہ وہ آئندہ نسلوں میں اسلامی روح قائم رکھے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی قوم کے ہر بچہ کو نماز کی عادت ڈالے۔‘‘

(مشعل راہ جلد چہارم صفحہ61)

حضرت مصلح موعودؓ اس تنظیم کے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جب وہ اپنی اپنی جماعتوں میں جائیں تو ہر جگہ انصار اللہ، خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کی جماعتیں قائم کریں۔ اطفال کے لیے میں نے ضروری امر قرار دیا ہے کہ انہیں موٹے موٹے دینی مسائل سکھائے جائیں اور وہ باتیں بتائی جائیں جو مذہب کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اس طرح میرا مقصد اطفال الاحمدیہ کے قیام سے یہ ہے کہ کھیل کود میں بچوں کی نگرانی کی جائے۔‘‘

(مشعل راہ جلد چہارم صفحہ199)

حضرت مصلح موعودؓ اطفال الاحمدیہ کو جماعتی عمارت کی ایک دیوار قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’میری غرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم سے یہ ہے کہ عمارت کی چاروں دیواروں کو مکمل کر دوں۔ ایک دیوار انصار اللہ ہیں، دوسری دیوار خدام الاحمدیہ اور تیسری اطفال الاحمدیہ اور چوتھی لجنات اماء اللہ ہیں۔ اگر یہ دیواریں ایک دوسرے سے علیحدہ علیحدہ ہو جائیں تو یہ لازمی بات ہے کہ کوئی عمارت کھڑی نہیں رہ سکے گی….

(الفضل 30جولائی 1945ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے جماعت خصوصا اطفال کو پانچ بنیادی اخلاق اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا۔

پانچ بنیادی اخلاق

1: سچائی
2: نرم اور پاک زبان کا استعمال
3: وسعت حوصلہ
4: دوسروں کی تکلیف کا احساس اور اسے دور کرنا
5: مضبوط عزم و ہمت

’’آج کی جماعت احمدیہ اگر ان پانچ اخلاق پر قائم ہو جائے اور مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے اور ان کی اولادوں کے متعلق بھی یہ یقین ہو جائے کہ یہ بھی آئندہ انہیں اخلاق کی نگران اور محافظ بنی رہیں گی اور ان اخلاق کی روشنی دوسروں تک پھیلاتی رہیں گی تو پھر میں یقین رکھتا ہو۔ کہ ہم امن کی حالت میں اپنی جان دے سکتے ہیں۔ سکون کے ساتھ اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر سکتے ہیں۔ اور یقین رکھ سکتے ہیں کہ جو عظیم الشان کام ہمارے سپرد کیے تھے، ہم نے جہاں تک ہمیں توفیق ملی ان کو سر انجام دیا۔‘‘

(خطبہ جمعہ مورخہ 24 نومبر 1989)


حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ مورخہ 5 دسمبر 2003ء میں فرماتے ہیں: ’’جماعت احمدیہ کا نظام ایک ایسا نظام ہے جو بچپن سے لے کر مرنے تک ہر احمدی کو ایک پیار اور محبت کی لڑی میں پرو کر رکھتا ہے۔ بچہ جب سات سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے ایک نظام کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے اور وہ مجلس اطفال الاحمدیہ کا ممبر بن جاتا ہے…. جہاں انہیں ایک ٹیم ورک کے تحت کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ پھر انہی میں سے ان کے سائق بنا کر اپنے عہدیدار کی اطاعت کا تصور پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر پندرہ سال کی عمر کو جب پہنچ جائیں تو بچے خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں… شامل ہو جاتے ہیں اور ایک انتظامی ڈھانچے کے تحت بچپن سے تربیت حاصل کر کے آنے والے بچی اور بچیاں جب نوجوانی کی عمر میں قدم رکھتے ہیں تو ان تنظیموں میں شامل ہونے سے جماعتی نظام اور طریقوں سے ان کو مزید واقفیت پیدا ہوتی ہے۔‘‘

اطفال الاحمدیہ کا عہد بھی اس کے فرائض
اور ذمہ داریوں کی عکاسی کرتا ہے

اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

میں وعدہ کرتا ہوں کہ دین حق اور احمدیت،قوم اور وطن کی خدمت کیلئے ہر دم تیار رہوں گا ہمیشہ سچ بولوں گا کسی کو گالی نہیں دوں گا اور حضرت خلیفۃ المسیح کی تمام نصیحتوں پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

(ادیبہ کفیل)

پچھلا پڑھیں

صحابہ رسولؐ اور ان کے بچپن نیز ان کی فدائیت کے واقعات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اگست 2022