• 1 اکتوبر, 2020

معاشرتی لغویات اور فضولیات

حضور انور نے احمدی خواتین کو معاشرتی لغویات اور فضولیات سے اپنے گھروں کو متأثر نہ ہونے دینے کے بارہ میں یوں نصیحت فرمائی:
’’…اسی طرح لغویات میں گندی اور ننگی فلمیں ہیں۔ گندی اور ننگی کتابیں ہیں۔ رسالے ہیں یہ سب اس بہانے سے ما رکیٹ میں پھیلائی جاتی ہیں کہ اس زمانہ میں جنسی تعلقات کا پتہ لگنا چاہیے تاکہ اُن بُرائیوں سے بچا جا سکے۔ بچتے تو پتہ نہیں یہ ہیں کہ نہیں، لیکن سڑک پر ہر گلی کے نکڑپر ایسے جو اشتہارات ہیں اخلاق سوز قسم کےوہ بُرائیوں میں ضرور معا شرے کو گرفتار کر دیتے ہیں۔ جو چیز فطری ہے اس کاجب وقت آئے گا تو خود بخود پتہ چل جائے گا۔ جب اس کا پتہ لگنے کی ضرورت ہے۔ علم کے نام پراس ذہنی عیاشی سے اپنےآپ کوبچانا چاہئے۔ اس لئے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایاہے کہ اپنے تمام اعضاء کو زنا سے بچاؤ۔ پس ہر عورت کو ایک فکرکے ساتھ اپنے بچوں کو سمجھانا چاہئے اور ہر بچی کو، جو بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہے، جس کا دماغ میچور(mature) ہو چکا ہےیہ احساس ہونا چاہئےکہ یہ برُائیاں ہیں جو مزیدگندگیوں میں دھکیلتی چلی جائیں گی۔ اس لئے ان سے بچنا ہے۔ ہر ایسی چیز جس کاناجائز استعمال شرو ع ہوجائےوہ بھی لغویات میں ہے مثلًا انٹرنیٹ کے بارے میں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں۔ یہ اس زمانے کی ایجاد ہے اور یہ ایجادات اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کے زمانے میں مقدر کی ہوئی تھیں۔ قرآن کریم میں مختلف ایجادات کا اعلان بھی فرمادیا۔ انٹرنیٹ بھی ان میں سے ایک ہےاور ٹیلی فون کا نظام جو ہےوہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ ٹیلی وژن کا نظام ہےیہ بھی ان میں سےایک ہےجنہوں نے اشاعت کے لئے کام آنا تھا۔

لیکن اگر ان ایجادات کا غلط استعمال کریں گی تو یہ لغویات میں شمارہوں گی اور ایسی لغویات سے اللہ تعالیٰ نےمنع فرمایا ہے اور ان سے بچنے کا بھی حکم ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے مومن کی تعریف یہ ہے کہ عَنِ الَّلغْوِ مُعْرِضُوْنَ جو لغو سے اعراض کرنے والے ہوں۔ لغویات سے بچنے والے ہوں۔ جب انٹرنیٹ پر دوستوں سے چَیٹ (chat) کرنے اور اس میں دوسرو ں کا مذاق اڑانے اور پھکڑ توڑنے، ایک دوسرے کے خلاف کام میں لائیں گی یا لوگوں کے رشتوں میں دراڑیں پیدا کرنے کےکام میں لائیں گی، کسی دوسری عورت کی زندگی اس کے خاوند سےانٹرنیٹ پر گفتگو کر کے بربادکریں گی۔ ایک دوسرے کی چغلیاں ہو رہی ہو نگی تو یہی کارآمدچیز جو ہےیہ لغویات میں بھی شمار ہوگی اور گناہ بھی بن رہی ہوں گی۔ پھر آجکل موبائل فون پرٹیکسٹ میں پیغامات د ئیے جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک سلسلہ شروع ہواہے نیا، آجکل بڑا سستا طریقہ ہے گپیں مار کروقت ضائع کرنے کا اور نا محرموں سے بات کرنے کا۔ بڑے آرام سے کہہ دیا جاتا ہےکہ ٹیکسٹ میسج (text message) ہی تھا کونسی بات کرلی ہے۔ ایک دوسرے سے رابطے بڑھتےہیں کہ سہیلی نے اپنے دوستوں میں سے کسی کا فون دے دیا اپنے دوستوں کو اپنی سہیلی کا فون دے دیا۔ موبائل نمبر دے دیا کسی بھی ذریعہ سےایک دوسرے کے نمبر ہاتھ آگئے تو ٹیکسٹ میسج کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے پھر ٹیلی فون پر 12، 13، 14 سال کے بچیاں بچےلے کر پھر رہے ہوتے ہیں۔ پیغامات دے رہے ہوتے ہیں۔ اور یہی عمر ہے جو خراب ہونے کی عمر ہے اور پھر انجام ایسی حد تک چلا جاتا ہےآخر کارجہاں وہ لغو جوہے وہ گناہ بن جاتا ہے۔ اس لیے احمدی بچیاں اپنی عصمت کی خاطراپنی عزت کی خاطر اپنے خاندان کے وقار کی خاطر اپنی جماعت کے تقدّس کو مدّ نظر رکھتے ہوئے جس کی طرف سے وہ منسوب ہو رہی ہیں جس سے وہ منسلک ہیں ان چیزوں سے بچیں اور اسی طرح احمدی مرد بھی سن رہے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو بچائیں۔‘‘

(خطاب برموقع سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ جرمنی 11؍جون 2006ء)

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 19 ؍جون 2015ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

سکول جانے والے بچوں کے لئے Coronavirus کی دوائیں