• 1 اکتوبر, 2020

صفات خدائی کے مظہر اتم

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں ’’ہمارے سید و مولیٰ جناب مقدس الانبیاءﷺ کی نسبت صرف مسیح نے ہی بیان نہیں کیا کہ آنجناب ﷺ کا دنیا میں تشریف لانا درحقیقت خدائے تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہے بلکہ اس طرز کا کلام دوسرے نبیوں نے بھی آنحضرت ﷺ کے حق میں اپنی اپنی پیشگوئیاں میں بیان کیا ہے اور استعارہ کے طور پر آنجنابﷺ کے ظہور کو خداتعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے بلکہ بوجہ خدائی کے مظہر اتم ہونے کے آنجنابﷺ کو خدا کر کے پکارا ہے۔چنانچہ حضرت داؤد ؑ کے زبو ر میں لکھا ہے۔ ’’تو حسن میں بنی آدم سے کہیں بہتر ہے۔ تیرے لبوں میں نعمت بنائی گئی اس لئے خدانے تجھ کو ابد تک مبارک کیا (یعنی تو خاتم الانبیاء ٹھہرا) اے پہلوان تو جاہ و جلال سے اپنی تلوار حمائل کر کے اپنی ران پر لٹکا۔ امانت اور حلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہوکر تیرا داہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا۔ بادشاہ کے دشمنوں کے دلوں میں تیرے تیرتیزی کرتے ہیں۔ لوگ تیرے سامنے گر جاتے ہیں ۔اے خدا تیرا تخت ابد الٓاباد ہے ۔ تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے۔ تونے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی ہے اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیاہے۔‘‘

(توضیح مرام۔روحانی خزائن جلد3 ص17تا19)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

سکول جانے والے بچوں کے لئے Coronavirus کی دوائیں