• 29 ستمبر, 2020

جسم کا ایندھن

ہر مشین کورواں رہنے اور بھرپور پیداوار (Production) مہیا کرنے کے لئے مناسب ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اوراگر کسی مشین کو ایندھن کی مناسب مقدار نہ ملے تو وہ مشین پوری مقدار میں پیداوار نہیں دیتی۔

انسانی جسم بھی ایک مشین کی طرح ہے۔ جسے ایندھن کی ضرورت رہتی ہے۔ انسانی جسم کو دوقسم کے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے روحانی اور مادی ایندھن ۔روحانی ایندھن پر پھر کسی وقت بات ہوگی۔ آج مادی ایندھن پر بات کرنی ہے۔

زندگی کو فعال اور زندہ رکھنے کے لئے انسان غذا پر انحصار کرتا ہے۔ پھل، دودھ اوردیگر پروٹین سے بھرپور اشیاء کااستعمال کرتا ہے۔ اگر جسم میں پروٹین کی کمی ہو تو ڈاکٹرز مختلف طاقت کی ادویات تجویز کرتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب مختلف الانواع کی اشیاء انسان کو میسر نہ تھیں یا انسان کی حد بسط اور استطاعت سے باہر تھیں تو انسان دو یا تین وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھاتا تھا اور اس کے اوقات مقرر تھے۔ ان تین یا دو کھانوں میں سے ناشتے کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ اسی لئے مثل مشہور ہے کہ صبح کا ناشتہ بادشاہوں کی طرح،دوپہر کا کھانا شہزادوں کی طرح اور رات کا کھانا غریبوں کی طرح کھاؤ۔

مکرم مرزا فرید احمد نے مجھے ایک دن اپنے ابا (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ) کا طریق کار اور قول یوں بیان کیا کہ ابا ناشتہ تگڑا کیا کرتے تھے۔ دوپہر معمولی کھانا تناول فرماتے اور رات کو بہت کم کھانا کھاتے اور فرمایا کرتے کہ اگر آنحضورﷺ کا یہ فرمان نہ ہوتا کہ رات کو بھوکا نہ سوئیں۔ تھوڑا بہت کھانا لیں تو میں کچھ نہ کھاتا۔

دراصل صبح کا ناشتہ ایک ایسا مقوی ذریعہ ہے جو دن بھر میں پیش آنے والے بےشمار چیلنجزاور مسائل سے نپٹنے کے لئے طاقت اور توانائی فراہم کرتاہے۔ انسان رات کو جب سوتا ہے تو کوئی چیز نہیں کھاتا۔ معدہ تمام غذا کو ہضم کرکے نئی غذا کی ڈیمانڈ کررہا ہوتا ہے اور جسم مضمحل بھی ہورہا ہوتا ہے اور سارا دن انسان نے مختلف کام کاج میں مصروف رہنا ہوتا ہے جو Heavy Breakfast کا متقاضی ہے۔ Breakfast کے معنی بھی اس مضمون پر دلالت کرتے ہیں کہ روزہ توڑنا اسی لئے اسےایندھن کہتے ہیں جس کی انسان کو چاق چوبند اور چست رہنے کے لئے ضرورت ہوتی ہے تاجسمانی اور اعصابی نظام میں سستی واقع نہ ہو۔

آج کل اس اہم امر کی طرف اس لئے بھی توجہ دلانی مقصود ہے کہ نئی نسل ناشتے سے دور بھاگتی ہے یا اگر ناشتے کا رواج بھی ہو تو Bread کے ایک دو توس یا بیکری کی بیک شدہ اشیاء میں سے کسی پر اکتفاء کرلیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری نو آموز نسل کمزور ہوتی جارہی ہے، بے شمار بیماریوں کی آماجگاہ بنتی جارہی ہے ان میں ایک مٹاپا پن اور پھوکے جسم ہیں۔

چند دن قبل میرے ایک دوست اور جامعہ احمدیہ کے کلاس فیلو نے ایک Clip مجھے بھجوایا جس کے مطابق ناشتے کا Ideal Time سات سے آٹھ بجے کا ہے اور لکھتا ہے کہ ناشتے میں 10 بجے سے تاخیر نہ کریں اور صبح اُٹھ کر آدھ گھنٹہ کے اندر اندر کچھ نہ کچھ لے لینا چاہیئے۔

یورپ میں بسنے والے بچوں کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ یہاں کی ماؤں نے اپنے بچوں کے کھانے کے اوقات بہت Disturb کررکھے ہیں۔ رخصت والے دن ناشتہ بھی دن کے 11 بجے، 12 بجے کرواتی ہیں جو بچوں کی صحت پر منفی طور پر اثرانداز ہوتا ہے۔ School going بچوں اور بچیوں یا College going طلبہ/ طالبات کو بھی مائیں صبح بھرپور بلکہ تگڑا ناشتہ کرواکے بھجوایا کریں تا بچوں میں کھیل کود کے لئے پوری انرجی پیدا ہو۔

پس اگر ہم خود اوراپنے بچوں کو توانا و صحت مند رکھنا اور دیکھنا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ ہم غذا کے حوالہ سے ان کا پورا پورا خیال رکھیں اور وقت پر تگڑا ناشتہ کروانا ہوگا۔ کیونکہ صحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حقوق کماحقہ ادا ہوسکیں گے۔ یہ مضمون ہمیں قرآن کریم سے بھی ملتا ہے احادیث سے بھی اور ہمارے خلفاء نے بھی اس طرف متعدد بار توجہ دلائی ہے۔ حضرت طالوت کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہت ہی ان کے مکمل تندرست اور صحت مند ہونے کی وجہ سے دی تھی (البقرہ: 148) اور الْعَقْلُ السَّلِیْمُ فِی جِسْمُ الصَّحِیْحِ کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ اس لئے اللہ کے اور اسلام کے حقوق کی ادائیگی کےلئے کامل صحت کا ہونا ضروری ہے۔ جس کی طرف ہر وقت متوجہ رہنے کی ضرورت ہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

سکول جانے والے بچوں کے لئے Coronavirus کی دوائیں