• 20 ستمبر, 2020

تعارف سورۃ فرقان (پچیسویں سورۃ)

تعارف سورۃ فرقان (پچیسویں سورۃ)
(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 78 آیات ہیں)
ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003

وقت نزول اور سیاق و سباق

علماء کی ایک بھاری اکثریت اس سورۃ کو مکی قرار دیتی ہے اور آخری مکی دور میں اس کے نزول کا تعین کیا گیا ہے۔ چند مغربی مفسرین نے اس سورۃ کو نبوت کے ابتدائی سالوں میں قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اندازہ یوں لگایا ہے کہ اس سورۃ میں قریش کے مظالم کا کوئی ذکر نہیں ہے جو ان کے نزدیک کچھ عرصہ بعد میں شروع ہوئے۔ یہ اس قدر کمزور دلیل ہے کہ اس خیال کو سنجیدگی سے لینا محال ہے۔ یہ کہنا ایسا ہی ہے کہ کہا جائے کہ چند مدنی سورتوں میں کیونکہ کفار کا بالکل بھی ذکر نہیں ہے اس لئے مدنی دور میں مسلمانوں اور کفار کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔

سورۃنور کے اختتام پر اسلامی تنظیم کی اہمیت اور افادیت پر زور دیا گیاتھا۔ اس میں یہ بھی ذکر تھا کہ بعض مسلمان اسلامی تنظیم کی افادیت سے بے خبر ہیں اور کفار کی تنظیم سے ڈرتے ہیں جس کو جڑ سے اکھیڑ دیا گیا ہے۔ اس سورۃ (فرقان)میں وہ وجوہات بیان کی گئی ہیں کہ کیوں کمزور ایمان والے لوگوں کا ڈر، ایک دھوکہ اور خام خیال ہے اور مخبوط الحواس سوچ کا نتیجہ ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورۃ کا آغاز اس واضح بیان سے ہوا ہے کہ قرآنی تعلیم تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے۔ اس میں مزید بتایا گیاہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات جس نے قرآن کو نازل کیا ہے زمین و آسمان کا واحد اور مسلمہ خالق و مالک ہے اور کائنات کے ہر ذرہ کا خالق ہے۔ اس کے الفاظ کا قانون قدرت سے مطابقت رکھنا لازمی ہے، لہٰذا اس (تعلیم)کا قبول کرنا یا انکار کرنا محض اس کا قبول کرنا یا انکار کرنا نہیں بلکہ خود قانون قدرت کاانکار ہے۔

پھر یہ بتایا گیاہےکہ کفار قرآنی تعلیمات کی شان و شوکت اور برتری کا انکار تو نہیں کر سکتے تو وہ عمداً اس دھوکہ سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ (قرآن)ایک فرد واحد کا کلام نہیں ہو سکتا بلکہ بہت سے لوگوں کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ پھر وہ یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ اس کی تعلیمات صحف سابقہ سے سرقہ ہیں۔ مگر ان عذروں کی کوئی وقعت نہیں ہے کیونکہ یہ قرآنی تعلیمات انسانی کوششوں کا نتیجہ ہوتیں تو یہ ایسی تعلیمات نہ بیان کرتا جو انسانی بساط سے باہر ہیں۔ اور اگر یہ محض صحف سابقہ کی نقل ہوتا، تو ان صحف میں بھی وہ شان و شوکت اور خوبصورتی پائی جاتی جو اس (کلام) میں پائی جاتی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔

پھر یہ سورۃ کفار کے بعض بوسیدہ اور فرسودہ حال الزمات کا جواب دیتی ہےکہ کیوں آنحضرت ﷺ ایک فانی وجود ہیں اور جسمانی حاجات سے مبرہ نہیں ہیں۔ پھر اقوام کی ترقی اور تنزل کے قانون کے حوالہ سے مختصر بیان کیا گیاہے اور کفار کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ان کے تنزل کا وقت آن پہنچا ہے اور مسلمانوں کی ترقی اور کامیابی کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ مزید براں کفار کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کروائی گئی ہے کہ خدا نے دو طرح کا پانی بنایا ہے ایک کڑوا اور دوسرا میٹھا جبکہ دونوں ساتھ ساتھ بہہ رہے ہیں اور باہم ملتے نہیں ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کی تعلیمات اور صحف سابقہ ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے تاکہ لوگ ان دونوں کا موازنہ کرکے حق و باطل میں فرق کر سکیں اور میٹھے اور کڑوے کو جان سکیں۔

اپنےاختتام پر یہ سورۃ عباد الرحمان کے چند اوصاف بیان کرتی ہے جو قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرکے بلند ترین روحانی مقام پر فائز ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور اس عظیم الشان حقیقت پر ختم ہوتی ہے کہ خد انے انسان کو بہت عمدہ اور اعلیٰ مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جو کوئی بھی اس مقصد کو پانے میں ناکام ہوگیا تو وہ خد اکے رحم اور فضل سے محروم رہے گا۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

سکول جانے والے بچوں کے لئے Coronavirus کی دوائیں