• 20 جولائی, 2024

بنیادی مسائل کے جوابات (قسط 31)

بنیادی مسائل کے جوابات
قسط 31

سوال:۔ ایک خاتون نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ ایک مربی صاحب نے Eyebrow Pluck کرنے کو ناجائز اور زنا کے برابر قرار دیا ہے۔ اس بارہ میں نیز Body Wax کرنے کے بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 16 جنوری 2021ء میں اس بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں:۔

جواب:۔ احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کے حصول کی خاطر جسموں کو گودنے والیوں، گدھوانے والیوں، چہرے کے بال نوچنے والیوں، سامنے کے دانتوں میں خلا پیدا کرنے والیوں اور بالوں میں پیوند لگانے اور لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے جو خدا کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔

(صحیح بخاری کتاب اللباس)

اسلام کا ہر حکم اپنے اندر کوئی نہ کوئی حکمت رکھتا ہے۔اسی طرح بعض اسلامی احکامات کا ایک خاص پس منظر ہوتا ہے، اگر اس پس منظر سے ہٹ کر ان احکامات کو دیکھا جائے تو حکم کی شکل بدل جاتی ہے۔ آنحضور ﷺ کی جب بعثت ہوئی تو دنیا میں اور خاص طور پر جزیرۂ عرب میں جہاں مختلف قسم کے شرک کا زہر ہر طرف پھیلا ہوا تھا وہاں مختلف قسم کی بے راہ رویوں نے بھی انسانیت کو اپنے پنجہ میں جکڑا ہوا تھا اور عورتیں اور مرد مختلف قسم کی مشرکانہ رسوم اور معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھے۔

مذکورہ بالا امور کی ممانعت پر مبنی احادیث میں دو چیزوں کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔ ایک یہ کہ ان کاموں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی مقصود ہو اور دوسرا صرف حسن کا حصول پیش نظر ہو۔

ان دو نوں باتوں پر جب ہم غور کرتے ہیں تو پہلی بات یعنی خدا تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی جہاں معاشرتی برائیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے وہاں مشرکانہ افعال کی بھی عکاسی کرتی ہےچنانچہ بالوں میں لمبی گوتیں لگا کر سر پر بالوں کی پگڑی بنا کر اسے بزرگی کی علامت سمجھنا، کسی پیر اور گرو کی نذر کے طور پر بالوں کی لٹیں بنا نا یا بودی رکھ لینا، چار حصوں میں بال کر کے درمیان سے استرے سے منڈوا دینا اور اسے بچوں کیلئے باعث برکت سمجھنا۔ اسی طرح برکت کیلئے جسم، چہرہ اور بازو وغیرہ پر کسی دیوی، بت یا جانور کی شکل گندھوانا۔ یہ سب مشرکانہ طریق تھے اور ان کے پیچھے زمانہ جاہلیت میں مذہبی توہمات کا رفرما تھے۔

دوسری بات یعنی حسن کےحصول کی خاطر ایسا کرنا، بعض اعتبار سے معاشرتی بے راہ روی اور فحاشی کو ظاہر کرتی ہے۔ جائز حدود میں رہتے ہوئے انسان کا اپنی خوبصورتی کیلئے کوئی جائز طریق اختیار کرنا منع نہیں۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے اچھا لگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرے کپڑے اچھے ہوں، میری جوتی اچھی ہو، تو کیا یہ تکبر میں شامل ہے؟ اس کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا یہ تکبر نہیں، تکبر تو حق کا انکار کرنے اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ) اسی طرح یہ امر بھی ثابت ہے کہ اُس زمانہ میں بھی بچیوں کی جب شادی ہوتی تھی تو انہیں بھی اس زمانہ کے طریق کے مطابق بناؤ سنگھار کر کے تیار کیا جاتا اور خوبصورت بنایا جاتا تھا۔

پس جس حسن کے حصول پر حضورﷺ نے لعنت کا انذار فرمایاہے، اس کا یقیناً کچھ اور مطلب ہے۔ چنانچہ جب ہم اس حوالہ سے ان احادیث پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بھی نظر آتی ہے کہ ان باتوں کی ممانعت کے ساتھ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے اس قسم کے کام شروع کئے۔ (صحیح بخاری کتاب اللباس) اور پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حضور ﷺ کی بعثت کے وقت یہود میں فحاشی عام تھی اور اس وقت مدینہ میں خصوصاً یہود کے علاقہ میں فحاشی کے کئی اڈے موجود تھے، جن میں ملوث خواتین، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی خاطر بناؤ سنگھار کیلئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی تھیں، اس لئے رسول خدا ﷺ نے ان کاموں کی شناعت بیان فرما کر مومن عورتوں کو اس وقت اس سے منع فرما دیا۔

پس ان چیزوں کی ممانعت میں بظاہر یہ حکمت نظر آتی ہے کہ ان کے نتیجہ میں اگر انسان کی جسمانی وضع قطع میں اس طرح کی مصنوعی تبدیلی واقع ہو جائے کہ مرد و عورت کی تمیز جو خدا تعالیٰ نے انسانوں میں پیدا کی ہے وہ ختم ہو جائے، یا اس قسم کے فعل سے شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے اس کی طرف میلان پیدا ہونے کا اندیشہ ہو یا ان امور کو اس لئے بجا لایا جائے کہ اپنی مخالف جنس کا ناجائز طور پر اپنی طرف میلان پیدا کیا جائے تو یہ سب افعال ناجائز اور قابل مواخذہ قرار پائیں گے۔

حضورﷺ نےان برائیوں کے اس پس منظر میں جہاں اُس وقت مومن عورتوں کو ان کاموں سے منع فرمایا وہاں تکلیف یا بیماری کی بناء پر جائز حد تک اس کا استثناء بھی فرمایا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّامِصَةِ وَالْوَاشِرَةِ وَالْوَاصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ إِلَّا مِنْ دَاءٍ۔ (مسند احمد بن حنبل) یعنی میں نے حضور ﷺ کو عورتوں کو موچنے سے بال نوچنے، دانتوں کو باریک کرنے، مصنوعی بال لگوانے اور جسم کو گودنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ ہاں کوئی بیماری ہو تو اس کی اجازت ہے۔

اسلام نے اعمال کا دار مدارنیتوں پر رکھا ہے۔ لہٰذا اس زمانہ میں پردہ کے اسلامی حکم کی پابندی کے ساتھ اگر کوئی عورت جائز طریق پر اور جائز مقصد کی خاطر ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر ان افعال کے نتیجہ میں کسی برائی کی طرف میلان پیدا ہویا کسی مشرکانہ رسم کا اظہار ہو یا اسلام کے کسی واضح حکم کی نافرمانی ہو، مثلاً اس زمانہ میں بھی خواتین اپنی صفائی یا ویکسنگ وغیرہ کرواتے وقت اگر پردہ کا التزام نہ کریں اوردوسری خواتین کے سامنے ان کے ستر کی بے پردگی ہوتی ہو تو پھر یہ کام حضور ﷺ کے اسی انذار کے تحت ہی شمار ہو گا۔ اور اس کی اجازت نہیں ہے۔

پھر اس ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ نے فتنہ اور فساد کو قتل سے بھی بڑا گناہ قرار دیکر فساد کو روکنے کا حکم دیا ہے۔بعض ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ رشتے اس لئے ختم کر دیئے گئے یا شادی کے بعد طلاقیں ہوئیں کہ مرد کو بعد میں پتہ چلا کہ عورت کے چہرے پر بال ہیں۔ اگرچند بالوں کو صاف نہ کیا جائے یا کھنچوایا نہ جائے تو اس سے مزید گھروں کی بربادی ہو گی۔ ناپسندیدگیوں کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اور آنحضور ﷺ کا اس حکم سے یہ مقصود بہرحال نہیں ہو سکتا کہ معاشرے میں ایسی صورتحال پیدا ہو کہ جس کے نتیجہ میں گھروں میں فساد پھیلے۔ ایسے سخت الفاظ کہنے میں جو حکمت نظر آتی ہے وہ یہی ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ باتیں چونکہ دیوی، دیوتاؤں وغیرہ کی خاطر اختیار کی جاتی تھیں یا ان کے نتیجہ میں فحاشی کو عام کیا جاتا تھا، اس لئے آپ نے سخت ترین الفاظ میں اس سے کراہت کا اظہار فرمایا ہے اور اس طرح مشرکانہ رسوم و عادات اور فحاشی کی بیخ کنی فرمائی ہے۔

سوال:۔ ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ اس کے خاوند نے جماعت سے اخراج کے بعد اسے طلاق دئیے بغیر دوسرا نکاح کر لیا ہے، جبکہ قانوناً وہ دوسری شادی کا حق نہیں رکھتے اس لئے زنا کر رہے ہیں۔ اسلام کی رو سے مجھے اس نکاح کی کوئی اہمیت سمجھ نہیں آئی۔ اس لئے اس نکاح کو منسوخ کیا جائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 16 جنوری 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا:۔

جواب:۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ اکثر مغربی ممالک میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے قانونی اعتبار سے دوسری شادی منع ہے لیکن اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ جا کر جہاں دوسری شادی کی ممانعت نہیں باقاعدہ نکاح کے ذریعہ دوسری شادی کر بھی لیتا ہے تو ان مغربی ممالک میں اس کی اس دوسری بیوی کو کسی قسم کے قانونی حقوق نہیں ملتے لیکن شرعاً وہ اس کی بیوی ہی مانی جائے گی اور اس کے ساتھ اس کے جسمانی تعلقات زنا شمار نہیں ہوتے۔

آپ کے خاوند اگر اس عورت سے بغیر نکاح کے تعلقات رکھتے، جو کہ شرعاً حرام ہے لیکن ان مغربی ممالک کے قوانین میں اس کی گنجائش نکل آتی ہے تو کیا یہ بات آپ کو خوش کرتی؟

اسلام نے جس طرح مرد کیلئے اس کی ضرورت کے مطابق حقوق بیان کئے ہیں اسی طرح عورت کیلئے بھی اس نے مختلف حقوق قائم فرمائے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلامی تعلیم کا یہ پہلو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے۔مگر جبر کسی پر نہیں اورہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تویہ ان عورتوں کا حق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرالیں کہ ان کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بیشک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جُرم نقض عہد کا مرتکب ہوگا۔ لیکن اگر کوئی عورت ایسی شرط نہ لکھاوے اور حکم شرع پر راضی ہووے تواس حالت میں دوسرے کا دخل دینا بیجا ہوگا اور اس جگہ یہ مثل صادق آئے گی کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے تعدّد ازدواج فرض واجب نہیں کیا ہے۔ خدا کے حکم کی رو سے صرف جائز ہے۔ پس اگر کوئی مرد اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس جائز حکم سے فائدہ اُٹھانا چاہے جو خدا کے جاری کردہ قانون کی رُو سے ہے اور اس کی پہلی بیوی اس پر راضی نہ ہو تواس بیوی کے لئے یہ راہ کشادہ ہے کہ وہ طلاق لے لے اور اس غم سے نجات پاوے اور اگر دوسری عورت جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہے اس نکاح پر راضی نہ ہو اس کیلئے بھی یہ سہل طریق ہے کہ ایسی درخواست کرنے والے کو انکاری جواب دیدے۔ کسی پر جبر تو نہیں لیکن اگر وہ دونوں عورتیں اس نکاح پر راضی ہو جاویں تو اس صورت میں کسی آریہ کو خواہ نخواہ دخل دینے اور اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟

(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد23 صفحہ246)

سوال:۔ ایک سکول کی بچی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ اسلام میں عورت کو اپنے آپ کو ڈھانپنے کا حکم ہے لیکن ہم سکارف وغیرہ لے کر سر پر پردہ کیوں کرتے ہیں؟ لڑکیاں سکول میں لڑکوں سے دوستی کیوں نہیں کر سکتیں؟ اور کیا میں Halloween میں پری بن سکتی ہوں؟حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 جنوری 2021ء میں اس سوال کےجواب میں درج ذیل ارشاد فرمایا:۔

جواب:۔ اسلام نے پردہ کے بارہ میں عورت اور مرد دونوں کو نہایت حکیمانہ تعلیم سے نوازا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ مومن مرد اور عورتیں دونوں اپنی نظریں نیچی رکھیں یعنی اپنی آنکھوں کو نامحرموں کو دیکھنے سے بچائیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں۔ اس کے بعد مومن عورتوں کو مزید تاکید فرمائی کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں اور اپنے پاؤں بھی اس طرح زمین پر نہ مارا کریں کہ جس سے ان کی زینت ظاہر ہو۔

اس مختصر لیکن نہایت جامع تعلیم میں پردہ کے بارہ میں ہر قسم کی تفصیل بیان فرما دی گئی ہے کہ ایک مومن عورت اپنی آنکھ، کان اور ستر کی جگہوں کی حفاظت کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھے کہ اس کا لباس نہ اتنا تنگ ہو کہ اس سے اس کے جسم کے اعضاء کی نمائش ہو اور نہ ہی اتنا ڈھیلا اور کھلا ہو کہ سینہ اور دوسری ستر کی جگہوں کی بے پردگی ہو رہی ہو۔

پاؤں زمین پر نہ مارنے کے حکم میں یہ بات سمجھا دی کہ ایک مومن عورت اس طرح کی اچھل کود سے بھی اجتناب کرے جس سے اس کی جسمانی ساخت کے اتار چڑھاؤ کا اظہار ہو۔ یا یہ کہ اگر پاؤں میں کوئی زیور (پازیب وغیرہ) پہنا ہوا ہے تو اس کی چھنکار سے لوگوں کی توجہ اس کی طرف ہو اور غیروں کی نظریں اس پر اٹھیں۔ یا اگر پاؤں پر مہندی یا نیل پالش وغیرہ لگا کر ان کاسنگھار کیا گیا ہے تو اس کی وجہ سے غیرمردوں کی نظریں اس پر اٹھیں۔ یہ سب باتیں پردہ کے احکامات کے منافی ہیں۔

پس اسلام نے عورت کیلئے صرف سر پر سکارف لینا ہی کافی قرار نہیں دیا بلکہ یہ امور بیان کر کے پردہ سے متعلقہ تمام لوازمات کو بھی خوب کھول کر بیان کر دیا کہ عورت نے کس طرح اپنے پردہ کا خیال رکھنا ہے اور کس طرح خود کو ڈھانپنا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پردہ سے متعلقہ ان آیات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’ایمانداروں کو جو مرد ہیں کہہ دے کہ آنکھوں کو نامحرم عورتوں کے دیکھنے سے بچائے رکھیں اور ایسی عورتوں کو کھلے طور پر نہ دیکھیں جو شہوت کا محل ہو سکتی ہوں اور ایسے موقع پر خوابیدہ نگاہ کی عادت پکڑیں اور اپنے ستر کی جگہ کو جس طرح ممکن ہو بچاویں۔ ایسا ہی کانوں کو نامحرموں سے بچاویں یعنی بیگانہ عورتوں کے گانے بجانے اور خوش الحانی کی آوازیں نہ سنیں۔ ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔ یہ طریق پاک نظر اور پاک دل رہنے کیلئے عمدہ طریق ہے۔ ایسا ہی ایماندار عورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نامحرم مردوں کے دیکھنے سے بچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نامحرموں سے بچائیں یعنی ان کی پُرشہوت آوازیں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں اور اپنی زینت کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے۔ یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ341-342)

حضور علیہ السلام مزید فرماتے ہیں:۔
’’قرآن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غض بصر کریں۔ جب ایک دوسرے کو دیکھیں ہی گے نہیں تو محفوظ رہیں گے۔۔۔اسلامی پردہ سے یہ ہر گز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بند رکھی جاوے۔ قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔ وہ غیر مرد کو نہ دیکھیں۔ جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کیلئے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے، وہ بیشک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ405 مطبوعہ 2016ء)

جہاں تک لڑکیوں اور لڑکوں کی دوستی کی بات ہے تو اس میں بھی بنیادی حکمت عورت کی عفت کی حفاظت ہی ہے۔ انسان کے اپنی مخالف جنس کے ساتھ میل جول سے کئی قسم کی برائیاں پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اس لئے اسلام نے اس پہلو سے بھی محرم اور غیر محرم رشتوں کا امتیاز قائم کر کے مرد و عورت کے تعلقات کی حدود بیان فرما دیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس بارہ میں اپنے متبعین کو بڑی واضح تعلیم سے نوازا۔ چنانچہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی نامحرم عورت سے تنہائی میں نہ ملے کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔

(سنن ترمذی کتاب الفتن)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضور ﷺ کے اس ارشاد کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’بسا اوقات سننے دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد عورت کو ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتے۔ یہ گویا تہذیب ہے۔ ان ہی بد نتائج کو روکنے کیلئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے ہی کی اجازت نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ ایسے موقع میں یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح دو غیر محرم مرد و عورت جمع ہوں تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ ان ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔ بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جار ی ہے۔ یہ انہی تعلیموں کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگی۔ اسلامی تعلیم کیا پاک تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی۔‘‘

(رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ48)

Halloween کی رسم جسے اب ایک Fun خیال کیا جاتا ہے، اس کی بنیاد شیطانی نظریات اور مشرکانہ عقائد پر ہے اور ایک چھپی ہوئی برائی ہے۔ ایک سچے مسلمان اور خصوصاً ایک احمدی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر وہ کام جس کی بنیاد شرک پر ہو اگرچہ وہ Fun کے طور پر ہی ہو اسے اس سے بچنا چاہئیے، کیونکہ اس قسم کی رسومات انسان کو مذہب سے دور لے جاتی ہیں۔ پھر اس تہوار کے موقعہ پر تفریح کے نام پر بچے لوگوں کے گھروں میں فقیروں کی طرح جو مانگتے پھرتے ہیں وہ بھی ایک احمدی بچہ کے وقار کے خلاف ہے۔ ایک احمدی کا اپنا ایک وقار ہوتا ہے اور اس وقار کو ہمیں بچپن سے ہی بچوں کے ذہنوں میں قائم کرنا چاہئیے۔ ان باتوں کے علاوہ بھی اس رسم کے اور بہت سے معاشرتی بد اثرات نئی نسل پر ہو رہے ہیں۔

پس Halloween کی رسم میں کسی احمدی کو شامل ہونے کی اجازت نہیں چاہے بھوت، چڑیل بننا ہو یا پری بننا ہو، کیونکہ یہ رسم ایک غلط اور مشرکانہ عقیدہ پر مبنی ہے۔

(ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

پچھلا پڑھیں

خلیفہ کے ہم ہیں خلیفہ ہمارا (قسط دوم)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 ستمبر 2022