• 20 جولائی, 2024

ایڈیٹر کے نام خط

مکرم ابن ایف آر بسمل لکھتے ہیں:
مؤرخہ 28؍ اکتوبرکے الفضل آن لائن کے صفحہ 11 پر آپ نے چوہدری خالد سیف اللہ خان پر ان کے ایک بھانجے کا مضمون دیا ہے جسے پڑھ کر ان سے وابستہ بعض باتیں یاد آئیں جو آپ کے مؤقر جریدہ الفضل کے ذریعے قارئین سے شیئر کرنی ہیں۔

چوہدری سیف اللہ خان صاحب پروفیشن کے لحاظ سے انجینئر تھے۔ تاریخ احمدیت میں لکھا ہے کہ گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ ایند ٹیکنالوجی لاہور (جو بعد میں اپ گریڈ ہو کر ویسٹ پاکستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور بنی) میں پچاس کی دہائی میں احمدی طلباء کا ایک ایسا گروپ تھا جنہوں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو درخواست کر کے انجینئرنگ کالج کے طلباء کے لئے ایک لیکچر کا بندوبست کروایا تھا، جو ہوا تو تعلیم الاسلام کالج لاہور میں لیکن اس میں انجینئرنگ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ایس ڈی مظفر اور کئی پروفیسر بھی شامل ہوئے تھے۔ ان نامور احمدی طلباء میں خالد سیف اللہ صاحب بھی شامل تھے جنہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کا یہ لیکچر کروایا تھا۔

جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے انجینئرز اور آرکیٹکٹس کی عالمی ایسوسی ایشن قائم فرمائی تو حضور نے انہیں پہلی نامزد عاملہ میں نائب صدر دوم مقرر فرمایا۔ (خدا کے فضل سے خاکسار پہلی عاملہ میں فنانشل سیکریٹری نامزد ہوا تھا) اس طرح ان سے بالمشافہ ملاقاتیں ہونے لگیں۔

ان کے آسٹریلیا منتقل ہونے کے بعد بھی جلسہ سالانہ یو کے پر چند بار ملاقات ہوئی۔ خاکسار نے ایک بار حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کے لیکچر کے بارے میں ان سے دریافت کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حضور نے فرمایا تھا کہ ہر علم اللہ تعالیٰ کی کسی صفت سے نکلا ہے چنانچہ ’’انجینئرنگ اور آرکیٹکچر‘‘ کا علم اللہ تعالیٰ کی صفت ’’ مصور ‘‘ سے نکلا ہے۔ خاکسار کی درخواست پر انہوں نے اپنی یاداشت پر زور دے کر ٹیکنیکل میگزین کے لئے وہ مضمون لکھ کر دیا جو حضور نے بیان فرمایا تھا جس کا عنوان ہے OUR GOD IS MUSAWIR یہ مضمون ٹیکنیکل میگزین 2000-2001 کے صفحہ 3 تا 5 کی زینت بنا۔ دعا میں یاد رکھنے کی درخواست ہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 11)