• 11 اگست, 2020

اے میرے درخت وجود کی سر سبزشاخو!

ہر نبی اور رسول اپنی آمد پر اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے ایک روحانی باغ لگاتا ہے۔اس کے بعد جس میں نبی کی قوت قدسیہ سے سر سبز ،لہلہاتے، خوشبودارپھول اور پھل دار پودے لگتے ہیں۔ نبی ان درختوں کی آبیاری اور دیکھ بھال کرتا ہے۔ اور ان پودوں سے آگے بچے پیدا ہوتےجاتے ہیں اور وہ باغ صرف گھنا ہی نہیں ہوتا بلکہ ان ننھے منے درختوں اور پودوں سے آگے نئی سے نئی نرسریاں اور باغیچے بنائے جاتے ہیں۔ اسلام کا باغ جو آنحضورﷺ نے لگایا ۔ آج ساری دنیا کی فضاء اس کی مہک اور خوشبوسے نہ صرف معطر ہو رہی ہے بلکہ اس کے پھلوں سے مستفیض بھی ہورہی ہے۔

باغ اسلام کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے ساتھ لگایا اور آج ان کے پانچویں خلیفہ اِسے روحانی پانی سے سینچ رہے ہیں۔ اورآج کروڑوں لوگ اس درخت کےسایہ تلے آرام حاصل کر رہے ہیں۔ سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ اسی درخت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احباب جماعت کو مخاطب ہو کر فرمایا تھا

اے میرے درخت وجود کی سر سبز شاخو!
اس میں احباب کو مخاطب ہو کر حضورؑ نے جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں ان میں دو الفاظ قابل غور اور قابل توجہ ہیں۔ اور وہ ہیں ‘‘درخت وجود’’ اور ‘‘سر سبز شاخیں۔’’ حضور علیہ السلام نے اپنے وجود کو ‘‘درخت’’ اور ماننے والوں کو ‘‘سر سبز شاخیں’’ کہا ہے۔ اس میں بنیادی سبق یہ ہے کہ درخت اگر زندہ ہو تو شاخیں بھی سر سبز رہتی ہیں اور سر سبز شاخیں ہوں تو درخت بھی اپنی زندگی کا خود ثبوت دیتاہے۔ یہ درخت وہی ہے جس کا ذکر اللہ نے سورۃ ابراہیم آیت اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ۔تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا میں فرمایا ہے۔ جس کی جڑیں زمین میں پیوست ہیں۔ شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور وہ لذیذ و شیریں پھل سارا سال مہیاکرتا رہتا ہے۔

ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں لگایا گیا درخت الموسوم جماعت احمدیہ 130 سال کے قلیل ترین عرصہ میں جو قوموں کی زندگی میں آنکھ جھپکنے کے برا بر بھی نہیں ہوتا ایک تناور درخت بن گیا ہے۔ جڑیں زمین پر اس قدر مضبوط ہو چکی ہیں کہ دشمن اور معاندین کی سر توڑ کوششوں اور مخالفتوں کے باوجود یہ درخت نہیں ہلایا جا سکا۔اس کی شاخیں جہاں 200 سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہیں وہاں اس کے پھل کبھی 70 سے زائد زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کی صورت میں نظر آتا ہے۔ کبھی ایم ٹی اے کے ذریعہ دنیا بھر میں تبلیغ اسلام کی صورت میں ملتا ہے اور کبھی 75 سے زائد ممالک میں جلسہ ہائے سالانہ میں نعرہ ہائے تکبیر بلند ہونے کی صورت میں ملتا نظر آتا ہے۔ کبھی ہر گاؤں میں مسجد تعمیر کرنےکے عزم لئے فدائیان احمدیت کے دلوں میں قربانیوں کے جذبہ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ کبھی مبلغین سلسلہ کی قربانیوں کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ الغرض اس درخت وجود کی سرسبزشاخیں پھیلتی پھولتی، نئی نئی کونپلیں نکالتی، پھل پھول دیتی اور اپنی خوشبو اور مہک سے ساری دنیا کو معطر کرتی نظر آتی ہیں۔ اورنہ یہ رکنے والا سلسلہ بڑی تیزی سے اپنے سفر کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ سر سبزشاخو میں بہت حکمت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ ٹہنی کے الفاظ استعمال نہیں فرمائے کیونکہ ٹہنی خشک ہوسکتی ہے۔ اس کے اندر زندگی نہیں ہوتی۔ نہ وہ درخت سے غذا لے سکتی ہے اور نہ آگے دوسروں کوغذا دے سکتی ہے۔ ذرا اُسے موڑنے لگے تو ٹوٹ جاتی ہے جبکہ شاخ کی خصوصیات یہ ہیں۔

1۔ شاخ اپنے درخت سے غذا لیتی ہے۔ اسی طرح ایک احمدی خلافت کے پلیٹ فارم سے زندہ تعلق رکھ کر اس سے روحانی غذا لیتا رہتا ہے۔

2۔ شاخ Flexible ہوتی ہے۔ جب چاہیں اس کو مولڈ (Mold) کرلیں۔ موڑلیں۔ اس کے اندر اکڑاؤ نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک احمدی مومن اپنے آپ کو ہمیشہ دربار خلافت سے آنے والی آوازپر لبیک کہتے ہوئے موڑ لیتا ہے۔ اس کی طبیعت بھی Flexible ہوتی ہے۔

3۔ شاخ پر پھل یا پھول لگتے ہیں جو ماحول میں بسنے والے لوگوں کے لئے خوشی کے مواقع فراہم کرتی ہے اور لوگ اس پھل سے استفادہ کرتے ہیں۔ بعینہٖ ایک مومن کو پھل لگتے رہتے ہیں اور اس پھل سے ماحول اور معاشرہ میں بسنے والے دوسرے مومن محفوظ ہوتے ہیں۔

4۔ شاخ پر جب پھل لگتا ہے تو وہ شاخ جھک جاتی ہے۔ اسی طرح مومن جب پھلدار یعنی اخلاق حسنہ سے متصف ہوتا ہے تو اسے جھک جانا چاہئے یہی شکر خداوندی کا ایک درست انداز ہے۔

5۔ شاخ میں بڑھنے کی خاصیت ہے اس کی ترقی ایک جگہ رکی نہیں رہتی۔ اس طرح ایک مومن کا قدم نیکی اور تقویٰ میں آگے بڑھتا رہتا ہے۔

6۔ شاخ جب ہری بھری اور پھلدار ہوتی ہے تو وہ خوبصورت نظر آتی ہے اور دوسروں کو بھی بھلی لگتی ہے۔ بعینہٖ ایک مومن جب پھلدار ہوتا ہے تو وہ خود بھی خوبصورت نظر آتا ہے اور دوسروں کو بھی اپنے اعمال حسنہ سے خوشی کا پیغام دے رہا ہوتا ہے۔

پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک مومن اپنے آپ کو خلافت کے درخت کی سرسبزشاخ سمجھے اور اس حوالے جو سبق اُوپر بیان کئےگئے ہیں ان کو Follow کرے۔ بالخصوص نئے سال کے آغاز پر اس حوالے سے عہدو پیمان باندھنے کی ضرورت ہے۔

پچھلا پڑھیں

نیکی کی جزا

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ