• 25 ستمبر, 2020

وہ بادشاہ آیا۔ عالمی ایوانوں میں خلیفۃ المسیح کے خطابات کی گونج

آج خلافت خامسہ کے بابرکت دور سے گزرتے ہوئے جب ہم اس مبارک عہد پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ’’وہ بادشاہ آیا‘‘ ایک نئے رنگ میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ذات اقدس کے ذریعہ پورا ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کو لئے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر بڑے فورم پر دنیا کی راہنمائی کے لئے خطابات فرما رہے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بڑی بڑی پارلیمنٹس میں تشریف لے جاتے ہیں اور ان کی راہنمائی کے سامان کرتے ہیں۔ اس وقت خلیفۃ المسیح ساری دنیا میں ‘‘امن کے سفیر’’ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ دنیا میں امن کی ضرورت اور عالم انسانیت پر منڈلاتے تیسری جنگِ عظیم کے مہیب سائے سے حضور انور بار بار اقوام عالم کو خبردار فرما رہے ہیں۔اسی تناظر میں 16 سالہ دور خلافت میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز متعدد سربراہان مملکت کو مل چکے ہیں۔ کئی پارلمینٹس میں خطاب فرما چکے ہیں۔ عالمی طاقتوں کے راہنماوں کو خطوط لکھ چکےہیں۔ سینکڑوں ممبران پارلیمنٹ اور سینٹرز کو شرف ملاقات بخش چکےہیں۔ درجنوں ممالک کے سفارتکاروں کی رہبری فرما چکےہیں۔ دنیا بھر میں پھیلے بے شمار معززین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی نصائح کو سنتے اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ دنیا کے کئی طاقتور ملکوں کے ایوانوں میں حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطاب فرما چکے ہیں۔ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جن ممالک کی پارلیمنٹ میں خطاب فرما چکے ہیں ان کی کسی قدر تفصیل درج ذیل ہے۔

22۔ اکتوبر 2008ء کو امام جماعت احمدیہ عالمگیر سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد نے برطانوی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف کامنز میں خطاب فرمایا۔ یہ استقبالیہ جماعت احمدیہ کے ہیڈکوارٹرز واقع مسجد فضل، پٹنی کی M.P جسٹن گریننگ (Justine Greening) کی طرف سے خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی کے موقعہ پر دیا گیا۔ جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران، پریس کے معزز ممبران، سیاستدان اور مختلف شعبہ جات کے ماہرین شامل تھے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس خطاب کا عنوان ’’عالمی بحران پر اسلامی نقطۂ نظر‘‘ تھا۔

30 مئی 2012ء کو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ملٹری ہیڈکوارٹرز کوبلز جرمنی میں خطاب فرمایا۔ اس خطاب کا عنوان ’’وطن سے محبت کے متعلق اسلامی تعلیمات‘‘ تھا۔

27 جون 2012ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے امریکہ میں کیپیٹل ہل واشنگٹن ڈی سی میں تاریخی خطاب فرمایا۔ اس خطاب میں اہم اراکین کانگریس وسینٹ، سفیروں، وائٹ ہاؤس اور سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سٹاف، غیر سرکاری تنظیموں کے راہنماؤں، مذہبی قائدین، اساتذہ کرام، مشیروں، سفارتی نمائندوں، تھنک ٹینکس اور پینٹاگان کے نمائندوں اور میڈیا کے افراد سے خطاب فرمایا۔ اس خطاب کا موضوع ’’عالمی بحران اور امن کی راہ‘‘ تھا۔

4 دسمبر 2012ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یورپین پارلیمنٹ سے خطاب فرمایا۔ اس خطاب کے دوران 30 ممالک کے 350 نمائندگان شامل ہوئے۔ ہال یورپی نمائندوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ’’امن کی کنجی۔ بین الاقوامی اتحاد‘‘ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔

11 جون 2013ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایک بار پھر برطانوی پارلیمنٹ تشریف لے گئے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے برطانوی پارلیمنٹ ہاؤس لندن میں خطاب فرمایا۔ اس تقریب میں اڑسٹھ 68 نمایاں شخصیات نے شمولیت کی جن میں تیس (30) ممبران پارلیمنٹ بارہ (12) ممبران ہاؤس آف لارڈز بشمول چھ وزراء، شامل تھے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ’’اسلام۔ امن اور محبت کا مذہب‘‘ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔

4 نومبر 2013ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ولنگٹن میں نیوزی لینڈ کی نیشنل پارلیمنٹ سے خطاب فرمایا۔ اس اجلاس میں ممبر آف پارلیمنٹ کے علاوہ مختلف ممالک کے سفارت کار، محققین اور دیگر معزز مہمان شامل ہوئے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ’’امن عالم۔ وقت کی ضرورت‘‘ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔

6۔ اکتوبر 2015ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہالینڈ میں ڈچ نیشنل پارلیمنٹ میں ان کی امور خارجہ کی سڈینڈنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب فرمایا۔ اس خطاب کو 100 سے زائد معزز مہمانوں نے سنا، جن میں مختلف ممالک کے سفیر، اور نمائدگان بھی شامل تھے۔ اس تقریب میں حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ‘‘حالات حاضرہ اور اسلام کی پُر امن تعلیم’’ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔

17۔ اکتوبر 2016ءکو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کینیڈا کی پارلیمنٹ میں خطاب کے لئے تشریف لے گئے۔ اس خطاب میں 225 سے زائد افراد نے شمولیت کی جس میں 6 وزراء، 57 ممبران نیشنل پارلیمنٹ 11 ممالک کے سفراء، مختلف NGOs کے سربراہان، مذہبی راہنماوں، میڈیا کے افراد اور دیگر معزز ممبران شامل تھے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر ’’دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے اسلامی تعلیم‘‘ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔

8۔ اکتوبر 2019ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز یونیسکو بلڈنگ پیرس تشریف لے گئے جہاں حضور انور نے ’’دنیا کی سائنسی اور علمی ترقی‘‘ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔

خاکسار نے ان چند خطابات کا ذکر کیا ہے۔ ورنہ ان خطابات کے علاوہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ درجنوں ایسے پروگرامز میں شرکت فرما چکےہیں جن میں مختلف ممالک کے سربراہان، سفارتکار، سیاستدان، پریس و میڈیا کے نمائندے ودیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ شامل ہوتے رہے ہیں۔ ان پروگراموں میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ دنیا میں امن کے قیام اور اسلام امن کا مذہب ہے کے موضوع پر کئی بار خطاب فرما چکے ہیں۔ 2004ء سے جماعت احمدیہ ہر سال باقاعدگی سے امن کانفرنس (Peace Symposium) منعقد کر رہی ہے جس میں دنیا بھر سے مختلف نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ ہر سال حالات حاضرہ کے پیش نظر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ دنیا کو امن کے قیام کے طریق بتاتے ہیں۔ ساری دنیا میں خلیفۃ المسیح کا تعارف ’’امن کے سفیر‘‘ کے طور پر ہونا اور دنیا کی بڑی بڑی پارلیمنٹس میں خلیفۃ المسیح کو خطاب کی دعوت دینا در اصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ اور ’’وہ بادشاہ آیا‘‘ کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس وقت جماعت احمدیہ مسلمہ دنیا میں قیام امن کی سب سے بڑی داعی اور حامی ہے اور یہ بات بین الاقوامی میڈیا حضور انور کے دوروں کے دوران خاص طور رپورٹ کر رہا ہے۔اس طرح اسلام کا حقیقی اور خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے واضح ہو رہا ہے۔

(محمد فاتح ملک)

پچھلا پڑھیں

نیکی کی جزا

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ