• 3 اگست, 2020

تائیوان میں منعقد ہونے والی سوشل ویلیوز کانفرنس میں جماعت احمدیہ کی نمائندگی

حکومتِ وقت کی خیرخواہی اور حب الوطنی کے موضوع پرحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی تصنیف ’’عالمی بحران اور امن کی راہ‘‘ کے اقتباسات کانفرنس کے سیشن میں پیش کئےگئے

مورخہ 5,4 دسمبر 2019ء کو تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں سوشل ویلیوز انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد ہوا ۔اس کانفرنس میں 30 ممالک کے نمائندگان کے علاوہ 50 کے قریب مقامی تائیوانی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصدہر ملک و قوم کی مقامی روایات اور ثقافت کا احترام نیز اس کی اہمیت اُجاگر کرنا تھا۔ خاکسار ان ایام میں تائیوان میں تبلیغی دورہ پر موجود تھا۔ کانفرنس کے تائیوانی میزبان سے رابطے اورملاقات کی درخواست کے بعد اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے معجزانہ رنگ میں نہ صرف یہ کہ کانفرنس میں شرکت کی اجازت مل گئی بلکہ اس کے ایک سیشن میں اسلام احمدیت کا تعارف کروانے ‘‘حب الوطنی’’ کے بارہ میں اسلامی تعلیم پیش کرنے اور حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی تصنیف ‘‘عالمی بحران اور امن کی راہ’’ کا تعارف کروانے کا بھی موقع پیدا ہو گیا ۔

کانفرنس کے میزبان پروفیسر Chien-Wen Mark Shen سے ملاقات میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تصنیف ‘‘عالمی بحران اور امن کی راہ’’ کا چینی ترجمہ پیش کیا گیا۔ کانفرنس میں شرکت کی اجازت ملنے کے بعد خاکسار نے درخواست کی کہ میرے پاس اس کتاب کی دس کاپیاں موجود ہیں، اگر اجازت ہو تو یہ حاضرین میں تقسیم کر دی جائیں۔ پروفیسر صاحب کہنے لگے کہ یہ بہت ہی مفید کتاب ہے لیکن شاید ہماری کانفرنس کے Themeسے تعلق نہیں رکھتی۔ خاکسار نے ان کو اس کتاب میں موجود حضور انور کے جرمنی کے شہر کوبلنز کے ملٹری ہیڈ کوارٹرز میں فرمودہ خطاب کی طرف متوجہ کیا کہ یہ خطاب بالکل اس کانفرنس کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دنیا بھر میں بسنے والے احمدی مسلمانوں کو خصوصا اور ہر مسلمان کو عموما اسلامی تعلیم کے مطابق حکومت وقت کی خیر، وطن سے محبت اور مقامی روایات اور آداب کا خیال رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ موصوف نے وہیں بیٹھے ہوئے اس خطاب کے بعض حصے پڑھے اور خاکسار کو اجازت دےدی کہ کانفرنس کے ایک سیشن میں نہ صرف یہ کہ اس کتاب کا تعارف کروا سکتا ہوں بلکہ ‘‘وطن سے محبت’’ کے بارہ میں خطاب کے کچھ حصے بھی پیش کردوں ۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب میں سے جو چنیدہ اقتباس خاکسار نے پیش کئے انہیں پڑھیں اور غور کریں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کےہر ملک اور ہر خطہ میں موجود اضطراب اور بےچینی کا حل اس پاکیزہ تعلیم میں موجود ہے۔اہل سیاست، حکمرانوں، عوام حتی کہ اپوزیشن تک کے لئے راہنما اصول بیان کر دئیے گئےہیں۔

حب الوطنی کا جذبہ ایک خوبصورت فطری تعلیم

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’’حضرت محمد رسول اللہﷺنے خودیہ تعلیم دی ہے کہ’’وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ لہٰذا اسلام اپنے پیرو کار سے مخلصانہ حب الوطنی کا تقاضا کرتا ہے۔ خدا اور اسلام سے سچی محبت کرنے کے لئے کسی بھی شخص کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنے وطن سے محبت کرے ۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ کسی شخص کی خدا سے محبت اور وطن سے محبت کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہوسکتا ۔چونکہ وطن سے محبت کو اسلام کا ایک رُکن بنا دیا گیا ہے اس لئے یہ واضح ہے کہ ایک مسلمان کو اپنے وطن سے وفاداری کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔کیونکہ یہ خدا سے ملنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔اس لئے یہ ناممکن ہے کہ ایک حقیقی مسلمان کی خدا سے محبت ، اس کی وطن سے سچی محبت اور وفاداری کی راہ میں کبھی رکاوٹ کا با عث بنے۔‘‘

(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ 27)

حکومتِ وقت سے اختلاف کی صورت میں راہنما اصول

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’دورِ جدید میں اکثر حکومتیں جمہوری طرز پر ہیں اس لئے اگر کوئی فرد واحد یا گروہ حکومت کو بدلنا چاہے تو انہیں یہ کام مناسب جمہوری طریق کے مطا بق ہی کرنا چاہئے اور اپنی آواز پہنچانے کے لئے حق رائے دہی کا سہارا لینا چاہئے۔‘‘

( عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ30)

ہر ملک کے شہری ووٹ ڈالتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’ووٹ ذاتی ترجیحات یا ذاتی مفادات کی وجہ سے نہیں ڈالنے چاہئیں بلکہ اس بارہ میں اسلامی تعلیم یہ ہے کہ کسی کو اپنے ووٹ کے استعمال کا حق وطن سے وفاداری اور محبت کی روح اور قومی بھلائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے استعمال کرنا چاہئے۔ چنانچہ حق رائے دہی استعمال کرتے وقت ذاتی ترجیحات ،امیدوار اور پارٹی کو نہیں بلکہ انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔‘‘

( عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ30)

ہڑتال، احتجاج اور دھرنہ کے بارہ میں رہنمائی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’دنیا میں کئی جگہ عوام حکومتی پالیسیوں کے خلاف ہڑتال اور احتجاج میں حصہ لیتے ہیں۔ نیز تیسری دنیا کے بعض ممالک میں احتجاج کرنے والے سرکاری یا شہریوں کی املاک اور جائیدادیں لوٹتے اورانہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ حالانکہ ان کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ وطن کی محبت کی وجہ سے کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے افعال کا وطن سے وفاداری اور محبت سے کوئی تعلق نہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ غیر مجرمانہ اور پُر امن احتجاج یا ہڑتال بھی معاشرہ پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ پُر امن احتجاج بھی اکثر قومی معیشت کو لاکھوں کا نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘

(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ 30)

وطن سے غداری اور بے وفائی سے اجتناب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’اسلامی تعلیم کے مطابق خدا تعالیٰ نے ہر قسم کی دھوکہ دہی، بغاوت اور غداری سے سختی کے ساتھ منع فرمادیا ہے۔ خواہ وہ اپنے وطن کے ساتھ ہو یا حکومت کے ساتھ ۔ کیونکہ بغاوت یا حکومت کے خلاف کام کرنا ملکی امن وامان کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔‘‘

(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ30)

حکومت کی ہر حال میں اطاعت قرآنی حکم ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’ایک سنہرا اصول جو بانی جماعت احمدیہ مسلمہ نے دیا ہے یہ ہے کہ ہر طرح کے حالات میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ، انبیاء اور حکام وقت کا مطیع ہو کر رہنا چاہئے ۔ یہ بعینٖہ وہ تعلیم ہے جو قرآن کریم نے دی ہے۔‘‘

(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ30)

گلوبل ولیج میں ہر ملک و قوم او و مذہب کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’آج دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ انسانوں کے ایک دوسرے سے روابط بہت گہرے ہوگئے ہیں۔ ہرقوم، مذہب اور معاشرہ کے لوگ دنیا کے ہر ملک میں سکونت پذیر ہیں اس لئے ہر قوم کے لیڈر تمام لوگوں کے جذبات اور احساسات کو سمجھیں اور ان کا احترام کریں۔ راہنماؤں اور ان کی حکومتوں کو ایسے قوانین بنانے چاہیئں جن سے سچائی اور انصاف کی روح اور ماحول پروان چڑھے نہ کہ ایسے قوانین بنائے جائیں جو لوگوں میں مایوسی اور بے چینی پیدا کریں۔ ناانصافیاں اور زیادتیاں ختم ہونی چاہیئں اور اس کے بدلہ میں حقیقی انصاف کے لئے کوشش کرنی چاہئے جس کے حصول کا بہترین طریق یہ ہے کہ دنیا اپنے خالق کو پہچانے۔ پس ہر طرح کی وفاداری خدا سے وفاداری کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ اگر ایسا ہوجائے تو بہت جلد تمام ممالک کے عوام میں وفاداری کے بہترین معیار قائم ہو جائیں گے اور ساری دنیا میں امن و امان کی نئی راہیں کھل جائیں گی۔‘‘

(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ32)

(انیس احمد ندیم۔جاپان)

پچھلا پڑھیں

نیکی کی جزا

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ