• 3 مارچ, 2024

احمدیت کا فضائی دور (ایم ٹی اے- تقدیر الٰہی کا زندہ و تابندہ نشان) (قسط 3)

احمدیت کا فضائی دور
ایم ٹی اے- تقدیر الٰہی کا زندہ و تابندہ نشان
قسط 3

حضرت یوحنا کا مکاشفہ

حضرت یوحنا کے مکاشفہ میں فرشتوں کے ذریعہ اور آسمانی صدا کے ذریعہ اس ابدی انجیل یعنی قرآن کریم کی عالمگیر تبلیغ کا ذکر ہے۔ حضرت یوحنا اپنے کشف کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ اور میں نے ایک فرشتے کو ابدی انجیل لئے ہوئے دیکھا جو آسمان کے بیچوں بیچ اُڑرہا تھا تاکہ زمین کے باشندوں او ر ہر قوم اور قبیلے اور زبان اور اُمت کو خوشخبری سنائے اور اس نے بڑی آواز سے کہا کہ خدا سے ڈرو اور اس کی تمجید کرو کیونکہ اس کی عدالت کی گھڑی آپہنچی ہے اور اسی کو سجدہ کرو جس نے آسمان و زمین کو اور سمندر اور پانی کے چشموں کو پیدا کیا ہے۔‘‘

(مکاشفہ یوحنا باب 14 آیت 6-7)

آسمان کے بیچ اڑنا اور ہر قوم، ہر قبیلے اور زبان تک اس پیغام کو پہنچانا انہی موجودہ ذرائع مواصلات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔

حواریوں کا کشفی نظارہ

حضرت مسیحؑ کے حواریوں کو اس آنے والے زمانے کا کشفی نظارہ بھی کرایا گیا جب غیر معمولی طور پر روح القدس کی برکت سے متعدد زبانوں کے بولنے والوں نے خدمت دین کےلئے اکٹھا ہو جانا تھا اور دنیا میں ایک عجیب منظر پیش ہونا تھا۔یہ واقعہ دراصل ایم ٹی اے کے ذریعہ عالمی بیعت کی جھلک تھی جسے غلطی سے ظاہری واقعہ سمجھ لیا گیا۔ اس کی تفصیل ملاحظہ ہو۔حواریوں کے متعلق لکھا ہے:
’’جب عید خمسین کا دن آیا تو وہ سب مل کر ایک ہی جگہ میں جمع تھے اور یکبارگی آسمان سے ایسی آواز آئی جیسے تند ہوا کا سناٹا ہوتا ہے اور اس سے سارا گھر جہاں وہ بیٹھے تھے گونج اٹھااور آگ کے شعلے کی سی زبانیں انہیں دکھائی دیں اور جدا جدا ہوکر ہرایک پر ٹھہریں اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور دوسری زبانیں بولنے لگے جس طرح روح نے انہیں بولنا عطا کیا اور ہر قوم میں سے جو آسمان کے تلے ہے خدا ترس یہودی یروشلم میں رہتے تھے جب آواز سنائی دی تو ہجوم لگ گیا اور لوگ متعجب ہوئے کیونکہ ہر ایک کو یہ سنائی دیتا تھا کہ یہ میری ہی بولی بول رہا ہے اور تعجب کرکے آپس میں کہنے لگے دیکھو یہ جو بولتے ہیں کیا سب جلیلی نہیں۔ پس کیونکر ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے وطن کی بولی سنتا ہے۔‘‘

(رسولوں کے اعمال باب 2آیات 1-8)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے 1993ء میں پہلی عالمی بیعت کے موقع پر اس کے کشفی ہونے کی دلیل دیتے ہوئے فرمایا:
’’ مسیح کے حواریوں پرروح القدس نازل ہوئی اور وہ مختلف بولیاں بولنے لگے جو اس سے پہلے ان کو نہ آتی تھیں اور وہ بولیاں لوگ سننے اور سمجھنے لگے اور تعجب کرنے لگے۔جہاں تک میں نے تاریخ پر نظر ڈالی ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ ایسا واقعہ ہوا ہے۔ غالب گمان ہے کہ کوئی کشفی واقعہ ہے اور مسیح اوّل کے نہیں بلکہ مسیح ثانی کے دور میں یہ واقعہ رونما ہونا تھا۔تاریخی شہادت پیش کرنا تو عیسائیوں کا کام ہے لیکن یہ واقعاتی شہادت جو ہم پیش کررہے ہیں یہ تمام دنیا کے سامنے کھل کر ظاہر ہو رہی ہے۔ کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ اگر یہ پیشگوئی تھی یا کشف تھا تو آج یہ بڑی شان کے ساتھ دنیا کے سامنے حقیقت بن کر رونما ہو رہا ہے اور آج یہ عالمی بیعت مختلف زبانوں میں ہورہی ہے۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل لندن 29؍جولائی 1994ء)

اس واقعہ کے کشفی ہونے اور آئندہ زمانے کے متعلق پیشگوئی ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد پطرس نے خطاب کیا اور کہاکہ یہ وہ بات ہے جو یوئیل نبی کی معرفت کہی گئی ہے کہ:
’’آخری دنوں میں ایسا ہوگا کہ میں اپنی روح ہر بشر پر انڈیلوں گا اور تمہارے بیٹے اور تمہاری بیٹیاں نبوت کریں گی اور تمہارے نوجوان روایتیں دیکھیں گے اور تمہارے بوڑھوں کو خواب آئیں گے بلکہ ان دنوں میں اپنے بندوں اور بندیوں پر اپنی روح سے انڈیلوں گا اور وہ نبوت کریں گے۔ میں اوپر آسمان میں عجائبات اور نیچے زمین پر کرشمہ دکھاؤں گا۔‘‘

(رسولوں کے اعمال باب 2 آیات 16-19)

اس بیان میں پطرس نے بھی اس واقعہ کو آخری زمانہ کی طرف منسوب کیا ہے جب امام مہدی اور مسیح موعود کی برکت سے کثرت سے روحانی وجود پیدا ہونے مقدر تھے اور نبوت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں غیب کی خبریں دی جائیں گی اور یہی وہ زمانہ ہے جس میں سائنسی ترقیات کے ذریعہ آسمان پر عجائبات اور زمین پر کرشمے دکھائے جارہے ہیں۔

مختلف لہجے زبانیں مختلف
سب کو کرتا ہم زباں ہے ایم ٹی اے
برکتِ روح القُدس سے ہے بھرا
بولتا سب بولیاں ہے ایم ٹی اے

حصہ دوم

رسول اللہؐ اور بزرگان امت کی پیشگوئیاں

عن حذیفہ قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول اذا کان عند خروج القائم ینادی مناد من السماء۔ایھا الناس قطع عنکم مدۃ الجبارین وولی الامرخیر امۃ محمد فالحقوابمکۃ فیخرج النجباء من مصر والابدال من الشام وعصائب العراق رھبان باللیل لیوث بالنھار

(بحار الانوار جلد 52 صفحہ 304 از شیخ محمدباقر مجلسی داراحیاء التراث العربی:بیروت)

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔

’’امام مہدی کے ظہور کے وقت ایک منادی آسمان سے آواز بلند کرے گا کہ اے لوگو! جابروں کا دور تم سے ختم کردیا گیا ہے اور امت محمدیہ کا بہترین فرد اب تمہارا نگران ہے۔ اس لئے مکہ پہنچو۔ یہ سن کر مصر کی سعید روحیں اور شام کے ابدال اور عراق کے بزرگ اس کی طرف نکل پڑیں گے۔ یہ لوگ راتوں کے راہب اور دنوں کے شیر ہوں گے۔‘‘

یہ حدیث کئی ایمان افروز امور کا مجموعہ ہے

اس کا جملہ ینادی مناد من السماء آیت یوم یناد المناد کے مضمون کا حامل ہے اور انہی الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت نے اسے سچا ثابت کر دکھایا ہے۔

مدۃالجبارین سے وہ زمانہ مراد ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث خلافت میں ملکا عاضا اور ملکا جبریۃکے طورپر بیان فرمایا ہے۔ یعنی جبری اور ظالمانہ حکومتیں۔ یعنی ان کے بعد دین کی نشاۃ ثانیہ کا دور شروع ہوگا۔

اس حدیث میں ابدال شام کا ذکر ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاماً اس کی خبر دی گئی ہےیدعون لک ابدال الشام عباد اللّٰہ من العرب

(تذکرہ صفحہ 126 الشرکة الاسلامیہ ربوہ 1969ء)

تیرے لئے شام کے ابدال اور عرب کے بندگان خدا دعائیں کرتے ہیں اوریہ واقعاتی لحاظ سے پورا ہو رہا ہے جیسا کہ آگے تفصیلی ذکر آئے گا۔

اما م مہدی کی فتوحات دعاؤں کے ذریعہ ہونی ہیں اس لئے اس کے ساتھیوں کو رھبان باللیل کہنا پوری طرح ان کا نقشہ بیان کرتا ہے اور دجال کے سامنے شیروں کی طرح ڈٹ جانے کو لیوث بالنہار کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ روایت قرآن و احادیث صحیحہ کی کسوٹی پر اور عمل کے میدان میں اپنی سچائی ثابت کرتی ہے۔

جنگ اس کی مستقل ابلیس سے
حق کی تھامے برچھیاں ہے ایم ٹی اے
رات کا راہب ہے دن کا شیر ہے
اک توانا نوجواں ہے ایم ٹی اے

حضرت علیؓ کی پیشگوئیاں

عن علی رضی اللّٰہ عنہ قال اذا قام قائم آل محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم جمع اللّٰہ لہ اھل المشرق والمغرب

(ینابیع المودہ جلد3 صفحہ90 از شیخ سلیمان بن ابراہیم طبع دوم مکتبہ عرفان بیروت)

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب قائم آل محمد یعنی امام مہدی آئے گا تو اللہ تعالیٰ اس کےلئے اہل مشرق و مغرب کو جمع کردے گا۔دوسری روایت میں ہے۔

عن علی قال نادی مناد من السماء ان الحق فی آل محمد

(الحاوی للفتاوی جلد نمبر 2 صفحہ 140، جلال الدین سیوطی تحقیق محمد محی الدین عبد الحمید)آسمان سے ایک منادی آواز دے گا کہ حق آل محمد کے پاس ہے۔

یہ بھی خاص الٰہی تقدیر معلوم ہوتی ہے کہ ا جتماع اقوام کی یہ موجودہ عالمی شکل دور آخرین میں جماعت احمدیہ کے چوتھے امام کے زمانہ میں ظاہر ہونا شروع ہوئی جس کی پیشگوئی اولین دور کے چوتھے خلیفہ نے کی تھی۔

حضرت امام باقر (وفات 114ھ ) کی پیشگوئیاں

حضرت امام باقر سے متعدد روایات مروی ہیں۔ آپ نے فرمایا:

ان قائمنا اذا قام مد اللّٰہ لشیعتنا فی اسماعہم وابصارھم حتی یکون بینھم و بین القائم برید یکلمھم فیسمعون وینظرون الیہ وھو فی مکانہ

(بحار الانوار جلد 52 صفحہ 336 از شیخ محمد باقر مجلسی داراحیاء التراث العربی بیروت)

ہمارے امام قائم جب مبعوث ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے گروہ کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی کو بڑھادے گا یہاں تک کہ یوں محسوس ہوگا کہ امام قائم اور ان کے درمیان فاصلہ ایک برید یعنی ایک اسٹیشن کے برابر رہ گیا ہے۔ چنانچہ جب وہ امام ان سے بات کریں گے تو وہ انہیں سنیں گے اور ساتھ دیکھیں گے جب کہ امام اپنی جگہ پر ہی ٹھہرا رہے گا۔

ہے نقیبِ نشاةِ ثانیِ دیں
حقِ تعالیٰ کی زباں ہے ایم ٹی اے
بڑھ گئی شنوائی بھی بینائی بھی
جب سے اپنے درمیاں ہے ایم ٹی اے

پھر فرمایا: ینادی مناد من السماء باسم القائم فیسمع من بالمشرق ومن بالمغرب لا یبقی راقد الا استیقظ ولا قائم الا قعد ولا قاعد الا قام علی رجلیہ فزعا من ذالک الصوت فرحم اللّٰہ من اعتبر بذالک الصوت فاجاب

(بحار الانوار جلد 52 صفحہ 230)

یعنی آسمان سے ایک منادی امام مہدی کے نام پر منادی کرے گا جسے مشرق و مغرب کے سب لوگ سنیں گے۔ ہر سونے والا اسے سن کر جاگ اٹھے گا اور کھڑے ہونے والا بیٹھ جائے گا اور بیٹھنے والا اس آواز کے جلال سے کھڑا ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ رحم کرے اس پر جو اس آواز کو درخور اعتنا سمجھے اور لبیک کہے۔

حضرت امام جعفر صادقؒ (وفات 148ھ)
کی پیشگوئیاں

حضرت امام جعفر صادقؒ نے اپنی پیشگوئیوں میں کئی تفاصیل بیان فرمائی ہیں:عن زرارہ عن ابی عبد اللّٰہ قال ینادی مناد باسم القائم قلت خاص اوعام۔قال: عام یسمع کل قوم بلسانھم قلت: فمن یخالف القائم علیہ السلام وقد نودی باسمہ۔قال: لا یدعھم ابلیس حتی ینادی فی آخراللیل فیشکک الناس

(بحار الانوار جلد 52 صفحہ 205)

زرارہ کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفرؒ نے فرمایا ایک منادی امام قائم کے نام سے منادی کرے گا۔میں نے پوچھا:یہ منادی خاص ہوگی یا عام۔فرمایا:عام ہوگی اور ہر قوم اپنی اپنی زبان میں اسے سنے گی۔ میں نے کہا:جب امام مہدی کے نام کی ندا کردی جائے گی تو اس کی مخالفت کون کرے گا۔انہوں نے فرمایا:ابلیس ان کا پیچھا کرے گا اور رات کے آخری پہر اپنی منادی کرے گا اور لوگوں کو شک میں ڈالے گا۔پھر فرمایا:

ینادی مناد من السماء اول النہار یسمعہ کل قوم بالسنتھم

(بحار الانوار جلد 52 صفحہ 289)

دن کے اول حصہ میں ایک منادی پکارے گا جسے ہر قوم اپنی اپنی زبان میں سنے گی۔مزید فرماتے ہیں۔

ان المومن فی زمان القائم وھو بالمشرق لیری اخاہ الذی فی المغرب وکذاالذی فی المغرب یری اخاہ الذی فی المشرق

(بحار الانوار جلد 53 صفحہ 391)

مومن جو امام قائم کے زمانہ میں مشرق میں ہوگا اپنے اس بھائی کو دیکھ لےگا جو مغرب میں ہوگا اور اسی طرح جو مغرب میں ہوگا وہ اپنے اس بھائی کو دیکھ لے گا جو مشرق میں ہوگا۔

اسی پیشگوئی کو فارسی الفاظ میں نجم الثاقب صفحہ 86پر درج کیا گیا ہے۔ (از:مرزا حسین نوری طبری- مشہد)

شش جہت میں گونجتی ہے یہ نوا
دیکھتا اب اک جہاں ہے ایم ٹی اے
مشرق و مغرب کو یکجا کر دیا
ربط کا سیلِ رواں ہے ایم ٹی اے
ہر گھڑی دیں کی اشاعت کام ہے
مثلِ سلطان البیاں ہے ایم ٹی اے

حضرت امام علی رضا(وفات 203ھ)
کی پیشگوئیاں

حضرت امام علی رضا (وفات 203ھ) کے متعلق روایت ہے:
قیل لہ یا ابن رسول اللّٰہ ومن القائم منکم اھل البیت قال الرابع من ولدی ابن سیدۃ الاماء یطھر اللّٰہ بہ الارض من کل جورو یقد سھامن کل ظلم… وھوالذی تطوی لہ الارض وھوالذی ینادی مناد من السماء یسمعہ اللّٰہ جمیع اھل الارض

(فرائد السمطین:جلد 2 صفحہ 337 ابراہیم بن محمد الجوینی الخراسانی تحقیق شیخ محمد باقر المحمودی نیز بحار الانوار جلد 52 صفحہ 321)

امام رضا علی بن موسیٰ سے پوچھا گیا کہ تم میں سے امام قائم کون ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میرا چوتھا بیٹا۔ لونڈیوں کی سردار کا بیٹا جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ زمین کو ہر جور سے مطہر کردے گا اور ہر ظلم سے پاک کردے گا۔یہ وہی ہے جس کے لئے زمین سمیٹ دی جائےگی او ر یہی وہ ہے جو آسمان سے بطور ایک منادی صدا دے گا جس کو اللہ تعالیٰ تمام اہل ارض کو سنادے گا۔

اس پیشگوئی میں بڑی لطافت کے ساتھ اس وجود کی خبردی گئی ہے جس نے منادی بننا ہے۔چوتھےبیٹے سے مراد امام مہدی کا چوتھا جانشین ہے۔ وہ لونڈیوں کی سردار کا بیٹا ہوگا یعنی اس کی والدہ کی خواتین کے لئے غیر معمولی خدمات ہوں گی۔آج کی اصطلاح میں صدر لجنہ اماء اللہ۔یطھر اللّٰہ بہ۔ اس کے نام کی طرف بھی لطیف اشارہ ہے۔طاہر جو روحانی انفاس سے دنیا کی پاکیزگی کے لئے کوشاں ہے اور جس کی آواز کل عالم سن رہا ہے۔

بجھ گئی ترسی ہوئی روحوں کی پیاس
چشمہِ آبِ رواں ہے ایم ٹی اے
اک مقدس نام کا مظہر ہے یہ
اپنے بانی کا نشاں ہے ایم ٹی اے

پھر فرماتے ہیں۔نودوانداءیسمع من بعد کما یسمع من قرب۔

(بحار الانوار جلد 52 صفحہ 322)

لوگوں کو آواز دی جائے گی جو قریب اور دور سے یکساں سنی جائے گی۔

انوار نعمانیہ کے مصنف لکھتے ہیں:ینور اللّٰہ سبحانہ اسماعھم وابصارھم حتی انھم اذا کانوا فی بلاد والمھدی فی بلاد اخری یکون لھم من السمع والبصرمایرونہ ویشاھدونہ وانوارہ ویسمعون کلامہ ومخاطبتہ ویتکلون معہ۔(انوار نعمانیہ صفحہ 160 بحوالہ تحذیر المسلمین صفحہ 70 اللہ یار خان چکوال مرتبہ عبد الرزاق ایم اے)اللہ تعالیٰ شیعوں کی قوت سامعہ اور باصرہ اتنی تیز کردے گا کہ اگر شیعہ ایک ملک میں ہوں اور امام مہدی دوسرے ملک میں تو وہ امام مہدی کو دیکھ سکیں گے، سن سکیں گے اور اس کے انوار مشاہدہ کرسکیں گے اور اس سے آزادی سے بات چیت کرسکیں گے۔

یہ پیشگوئیاں امت محمدیہ میں نسلاً بعد نسل منتقل ہوتی رہیں۔ کتابوں میں درج ہوتی رہیں اور امام مہدی کے زمانہ کی علامات میں ان کا شمار کیا جاتا رہا۔ چنانچہ حضرت رفیع الدین نے تحریر فرمایا:

وقت بیعت آوازی از آسمان شود بایں عبارت ہذا خلیفہ اللّٰہ المھدی فاسمعوالہ واطیعوا۔ایں آواز خاص و عام آنمکان ہمہ بشنوند۔

(قیامت نامہ صفحہ 4 شاہ رفیع الدین مطیع مجتبائی دہلی)

یعنی بیعت کے وقت آسمان سے ان الفاظ میں آواز آئے گی۔ یہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے اس کی آواز سنو اور اس کی اطاعت کرو اور یہ آواز اس جگہ کے تمام خاص و عام سنیں گے۔

نواب نور الحسن خان صاحب

امام مہدی کی علامات، کسوف خسوف، ستارہ ذوالسنین اور دمدار ستارے کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’ ایک عام ندا ہوگی جو ساری زمین والوں کو پہنچے گی، ہر زبان والا اپنی اپنی زبان میں اس کوسنے گا…آسمان سے ایک منادی بنام مہدی نداء کرے گا۔ مشرق و مغرب والے اس کو سنیں گےکوئی سوتا نہ رہے گا مگر جاگ اُٹھے گا۔ کوئی کھڑا نہ ہوگا مگر بیٹھ جائے گا۔ کوئی بیٹھا نہ ہوگا مگر دونوں پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا۔یہ ندا اس کے سوا ہے جو بعد ظہور مہدی کے ہوگی۔‘‘

(اقتراب الساعہ صفحہ 67 از نور الحسن خان۔ مطبع مفید عام 1301ھ)

پیشگوئیوں پریکجائی نظر

ان تمام پیشگوئیوں پر یکجائی نظر ڈالنے سے مندرجہ ذیل امور سامنے آتے ہیں:

  1. امام مہدی کی بعثت کے بعد آسمان سے منادی کی جائے گی۔
  2. یہ منادی خود امام مہدی نہیں بلکہ اس کی طرف سے نمائندہ اور جانشین کرے گا۔
  3. اس ندا کے ذریعے قرآن اور دین محمدؐ کی سچائی کا اعلان کیا جائے گا۔
  4. یہ آواز مشرق و مغرب میں ہر جگہ پہنچے گی۔
  5. اس آواز کے ساتھ ہی منادی کی تصویر بھی دکھائی دے گی اور تمام دنیا میں اسے دیکھا اور سنا جائے گا جبکہ وہ منادی اپنی جگہ پر ہی ہوگا۔
  6. دور اور نزدیک کے لوگ یکساں طریق سے اس منادی کو سنیں گے اور دیکھنے میں بھی بہت قریب معلوم ہوگا۔ خاص طور پر اس کے متبعین اس سے فائدہ اُٹھائیں گے۔
  7. یہ آواز عام ہوگی ہر ایک اسے سن سکے گا۔ کسی طبقے یا قوم کے لئے خاص نہیں ہوگی۔
  8. تمام لوگ اس آواز کو یا پیغام میں اپنی اپنی زبان میں سنیں گے۔
  9. مشرق و مغرب کے لوگ اس پیغام کو سن کر ایک ہاتھ پر اکٹھا ہونے لگیں گے۔
  10. اس منادی کی برکت سے امام مہدیؑ کے ماننے والے مشرق ومغرب میں ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے۔
  11. یہ پیغام دنیا میں ایک انقلاب برپا کردے گا ایک ہلچل پیدا ہو جائے گی اور لوگ بیدار ہونا شروع ہو جائیں گے۔
  12. عرب ملکوں میں بھی اس آواز پر خاص توجہ دی جائے گی اور شام اور عراق اور مصر کی سعید روحیں بھی اسے قبول کریں گی۔
  13. اس نظام کی مخالفت بھی کی جائے گی اور ابلیسی طاقتیں اس کی راہ میں روڑے اٹکائیں گی اور اس سے توجہ پھیرنے کے لئے مسلسل مصروف عمل رہیں گی۔

اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ یہ تمام امور یکجائی صور ت میں احمدیہ ٹیلی ویژن میں جلوہ گر ہیں۔ ان پیشگوئیوں سے عالمی ٹیلی ویژن کا نظام مراد لینا کوئی انوکھی بات نہیں۔ ہر صاحب بصیرت ادنیٰ تدبرّ سے بھی اسی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔ایک غیر احمدی عالم سردار محمد شفیع صاحب انہی احادیث کا حوالہ دے کر تحریر فرماتے ہیں:
’’امام کے ظہور کے وقت حدیثوں میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ اللہ کا خلیفہ ہے اور مغرب و مشرق یعنی دنیا کا ہر کونہ آواز سنےگا۔‘‘

یہ جو چودہ سوسال پہلے کی فرمائی ہوئی بات ہے اب سے صرف ایک سو سال پہلے تک براڈ کاسٹ اور ریڈیو کا تخیل بھی نہ تھا اب ہر آدمی ان حدیثوں کو سمجھ سکتا ہے کہ آسمان سے آواز آنے سےکیا مراد ہے؟امام کی تقریروں اور امن عالم کا پیغام مغرب اور مشرق تک سنائی دے گا۔چودہ سوسال پہلے تو بہت دور کی بات ہے صرف ایک سو سال پہلے بھی یہ بات سمجھ نہ آسکتی تھی جو حضور سرورِ کائناتﷺ نے بڑے حکیمانہ انداز میں بیان فرما دی تھی۔

ینادی من السماء باسم المھدی فیسمع من بالمشرق ومن بالغرب

(دور مستقبل صفحہ 18 سردار محمد شفیع مکتبہ اتحاد عالم سکھر)

سردار محمد شفیع صاحب بالکل درست نتیجہ پر پہنچے ہیں مگر کاش انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کا نتیجہ خدا نے سچ کردکھایا ہے اور یہ احمدیہ ٹیلی ویژن کا نظام ہے جس پر تمام علامات پوری طرح اطلاق پا رہی ہیں۔

تھی خبر اس کی نوشتوں میں لکھی
اک نویدِ صادقاں ہے ایم ٹی اے
یہ وہ سورج ہے جو مغرب سے چڑھا
دیکھ لو روشن نشاں ہے ایم ٹی اے
آسماں سے اک منادی کی پکار
پیش گوئیوں کا جہاں ہے ایم ٹی اے

(عبد السمیع خان۔ استاد جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا)

پچھلا پڑھیں

نائب صدرگیمبیا کی وفات پر جماعت کی طرف سے تعزیتی وفد و پیغام

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 مارچ 2023