• 19 جون, 2024

احمدیت کا فضائی دور (ایم ٹی اے- تقدیر الٰہی کا زندہ و تابندہ نشان) (قسط 4)

احمدیت کا فضائی دور
ایم ٹی اے- تقدیر الٰہی کا زندہ و تابندہ نشان
قسط 4

حصہ سوم
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی خدا تعالیٰ نے بعینہ انہی الفاظ میں آسمانی ندا کی بشارت دی جن الفاظ میں آنحضرت ﷺ اور بزرگان امت نے خبردی تھی۔

الہامات

آپ کو 12؍ دسمبر 1902ء کو الہام ہوا۔ ینادی منادمن السماء۔ ایک منادی آسمان سے پکارے گا۔

(بدر 19؍ دسمبر1902ء۔ تذکرہ صفحہ 446 الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ 1969ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے 1897ء کے الہامات میں یہ عظیم الشان الہام بھی شامل ہے۔ الارض والسماء معک کماھو معی

(سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ 83)

زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس الہام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ایسے ترجمے کے ساتھ پیش کیا ہے جو خود اپنی ذات میں ایک تشریح اور تفسیرکے معنی رکھتا ہے۔ فرماتے ہیں یعنی آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمانی طاقتیں اور خدائی نوشتے تیری تائید کریں گے۔ اس زمین پر تو اپنی کوشش کر لیکن آسمان سے ایسی ہوائیں چلائی جائیں گی جو تیری مددگار ثابت ہوں گی۔ اس زمانہ میں آسمان کس طرح ساتھ تھا یہ فرشتوں کا نزول ہورہا تھا۔ قادیان میں طر ح طرح کے آسمانی نشان دکھائے جارہے تھے۔ خود اس سال میں یعنی 1997ء یعنی 97کے لحاظ سے دہرایا جارہا ہے۔ عظیم الشان نشانات اس سال دکھائے گئے تھے۔ ان کا ذکر بعد میں کروں گا لیکن یہاں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہی الہام ایک نیا رنگ اختیار کر جاتا ہے جب اس کو 1997ء میں پڑھتے ہیں۔ آسمان کا ساتھ ہونا ایم ٹی اے کی طرف بھی اشارہ کررہا ہے اور یہ امر واقعہ ہے کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ کل عالم میں آسمان نے جو گواہیاں دی ہیں وہ حیرت انگیز ہیں۔ اس کثرت کےساتھ وحدت ہوئی ہے کہ جب ہم اس الہام کو 1897ء کی بجائے 1997ء میں پڑھتے ہیں تو پھر اس کے معنی ہیں آسمان اورزمین تیرے ساتھ ہیں۔ یعنی خدا تعالیٰ کی وہ آسمانی طاقتیں جو ابھی ظہور میں نہیں آئیں وہ بھی تیرے ساتھ ہوں گی جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے جس خدا کو پیش کیا وہ جیسا کہ آسمان پر تھا ویسا ہی زمین پر ظاہر ہوا۔ مراد یہ نہیں ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو باقی انبیاء پر فوقیت عطا ہوئی ہے۔ ہر نبی کے ساتھ آسمان کا خدا اترتا رہا ہے اور اس کے زمین پر اترنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زمینی طاقتیں آسمانی طاقتوں کے سائے تلے اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

پس اس پہلو سے ہم جب اس سال اس الہام کو پڑھتے ہیں تو آسمان ہمارے ساتھ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ آسمان کی متحرک طاقتیں وہ ریڈیائی وجود جس کا پہلے علم نہیں تھا اب کلیۃً جماعت احمدیہ کی تائید میں ظاہر ہوچکا ہے اور رونما ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ان شاء اللّٰہ تعالیٰ دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوگا اور پہلے سے بڑھ کر ہوگا۔‘‘

(ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل لندن12؍ ستمبر 1997ء خطبہ جمعہ 25؍ جولائی 1997ء)

؎ہو گیا غلبہ ہواؤں پر نصیب
آج اپنا بادباں ہے ایم ٹی اے
تیرتے ہیں ہم ہوا کے دوش پر
برکتوں کا سائباں ہے ایم ٹی اے
ہوا میں تیرنے کا لطیف کشف

حضرت مسیح موعودؑ کےمندرجہ الہام سے 4 دن پہلے ایک کشف میں ہوا میں تیرنے کا ذکر ہے۔ جس سے حضرت مصلح موعودؓ نے لطیف استنباط فرمایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا 8؍دسمبر 1902ء کا کشف ہے۔

’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ہوا میں تیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرہ کے گول اور اس قدر بڑا جیسے یہاں سے نواب صاحب کا گھر(مسجد مبارک سے نواب محمد علی خان صاحب کا گھر)اور میں اس پرادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر تیر رہا ہوں۔ سید محمد احسن صاحب کنارے پر تھے میں نے ان سے کہا کہ دیکھ لیجئے کہ عیسیٰ تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں۔حامد علی میرے ساتھ ہے اور اس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے نہ ہاتھ نہ پاؤں ہلانے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے ادھر ادھر تیر رہے ہیں۔‘‘

(البدر 12؍ دسمبر 1902ء تذکرہ صفحہ 445 الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ 1969ء)

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ اس کشف کی تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ حضرت مسیحؑ کے متعلق انجیل میں ذکر آتا ہے کہ وہ پانی پر چلے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ واقعہ میں حضرت مسیح علیہ السلام پانی پر اپنے پاؤں سے چلتے تھے۔ حالانکہ یہ ان کا ایک کشف تھا جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کی قوم کی بحری طاقت زیادہ ہوگی مگر اس عقدہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کشف نے ہی حل کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ میں ہوا میں تیر رہا ہوں۔ اس کشف میں جہاں یہ اشارہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے جب کہا کہ میں پانی پر چل رہا ہوں تو درحقیقت آپ نے اپنا ایک کشف ہی بیان فرمایا تھا جسے لوگوں نے بعد میں بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنادیا اور اس کشف کا مطلب یہ تھا کہ میری قوم کسی زمانے میں بہت بڑی بحری طاقت حاصل کرے گی۔ وہاں اس کشف میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ آئندہ ہوائی جہازوں کا زور زیادہ ہو جائے گااور بحری جہاز صرف سیر و سیاحت کے لئے رہ جائیں گے۔ زیادہ تر کام ہوائی جہازوں سے ہی لیا جائےگا اور بحری جہازوں کے مقابلہ میں ان کی اہمیت بہت بڑھ جائے گی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔‘‘

(روزنامہ الفضل قادیان 3؍جون 1944ء)

؎لے گیا ہم کو فضائی دور میں
مثلِ طائر پر فشاں ہے ایم ٹی اے
دور اونٹوں، گاڑیوں کا لد چکا
راکٹوں کا ترجماں ہے ایم ٹی اے

اس زمانہ میں ہوا میں تیرنے کے یہ معنی بھی ظاہرہوتے ہیں کہ مسیح موعود علیہ السلام کو ہواؤں پر غلبہ دیا جائے گااور ان فضائی ذرائع سے وہ مسیح کی قوم پر غالب آئیں گے۔

اس رؤیا میں گول گڑھے سے ڈش مراد لینا بعید از قیاس نہیں ہے۔ جس پر تیرنے کے لئے ہاتھ پاؤں ہلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ حامد علیؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادم تھے۔ اس رؤیا میں حامد علی سے مراد علیؓ کا مثیل چوتھا خلیفہ بھی ہوسکتا ہے۔ جو ہمہ وقت مسیح موعود کی خدمت میں کمربستہ ہے اور اس کو حامد کہہ کر اس لئے پکارا ہے کہ وہ کثرت سے حمد کرنے والا ہے اور مسیح موعود کے ساتھ ہوا میں تیر رہا ہے۔ہواؤں میں اڑنے اور تیرنے کے اس مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے حمد اور شکر کے ساتھ باندھ کر یوں بیان فرمایا ہے:
اسلام کی ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے رہیں۔ آپ جو کل چل رہے تھے، آج دوڑ رہے ہیں۔ آپ جو آج دوڑ رہے ہیں ان کو فضا میں اڑنا بھی نصیب ہوا ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اب یہ فیصلہ ہے کہ مسیح محمدی کے لئے آسمان کی فضائیں مسخر کی جائیں گی اور ان تمام مراتب میں جو آسمانی سفروں سے تعلق رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلاموں کو سب دنیا کی دوسری قوموں اور انسانوں پر ایک برتری عطا ہوگی۔

پس یہ آسمانی سفر کا آغاز ہوا ہے۔ یہ ایم ٹی اے کی لہریں جو تمام دنیا میں آسمان سے اترتی ہیں یہ اس سفر کا آغاز ہے۔ ابھی بہت کچھ ہے جو آگے آنے والا ہے اگلی صدیاں جو کچھ دیکھیں گی آپ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود تصور بھی نہیں کرسکتے کہ کتنی بڑی عظمتوں کی بناڈالی جاچکی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا شکر ادا کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔

(ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل 4؍ جولائی 1997ء)

؎بلند سے بلند تر عظیم سے عظیم تر
قریب سے قریب تر خدائے مہربان ہے
ہے گونج شش جہات میں صدائے حق شناس کی
اب احمدی جیالوں کی زد میں آسمان ہے
نزول بجلی کی مانند

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے روحانی غلبہ کی کیفیات اور ذرائع کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:
ینزل الامرمن الفوق من غیر تدبیر المدبرین کان المسیح ینزل کا لمطرمن السماء واضعًا یدیہ علی اجنحۃ الملائکۃ لَا علی اجنحۃ حیل الدینا والتدابیر الانسانیۃ وتبلغ دعوتہ وحجتہ الی اقطار الارض باسرع اوقات کبرق یبدو من جھۃ فاذا ھی مشرقۃ فی جھات فکذلک یکون فی ھذا الزمان… فیجتمع فرق الشرق والغرب والشمال والجنوب۔

(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد 16 صفحہ284-285)

یعنی مدبروں کی تدبیر کے بغیر تمام چیزیں اوپر سے نیچے آئیں گی گویامسیح بارش کی طرح فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر آسمان سے اترے گا۔ انسانی تدبیروں اور دنیاوی حیلوں کے بازوؤں پر اس کا ہاتھ نہیں ہوگا اور اس کی دعوت اور حجت زمین میں چاروں طرف بہت جلد پھیل جائے گی۔ اس بجلی کی طرح جو ایک سمت میں ظاہر ہوکر ایک دم میں سب طرف چمک جاتی ہے۔ یہی حال اس زمانہ میں واقعہ ہوگا اس وقت مشرق اور مغرب شمال اور جنوب کے فرقے خدا کے حکم سے جمع ہو جائیں گے۔

اس پیشگوئی میں آسمان سے نازل ہونے والی بارش، فرشتوں،بجلی اور چاروں سمتوں کا ذکر قابل توجہ ہیں۔ کیونکہ یہ سب باتیں اس پیشگوئی میں مشترک ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی آمد ثانی کے لئے کی ہے۔ دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔

ایک مقدس خواہش

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ میری بڑی آرزو ہے کہ ایسا مکان ہوکہ چاروں طرف ہمارے احباب کے گھر ہوں اور درمیان میں میرا گھر ہو اور ہر ایک گھر میں میری ایک کھڑکی ہو کہ ہر ایک سے ہر ایک وقت واسطہ و رابطہ رہے۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹیؓ صفحہ 24 سٹیم پریس قادیان طبع سوم 1935ء)

دنیا کے کسی بھی قانون اور طریق سے اس خواہش کے پورا ہونے کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ ایک مکان کے گرد کروڑوں بلکہ اربوں احمدیوں کے مکانات ہوں اور ہر ایک گھر میں اس کی کھڑکی کھلے ناممکن ہے۔ مگر اس خدا نے جس نے خودایک پاک دل میں یہ خواہش پیدا کی تھی اسے ممکن کر دکھایا ہے اور آج ایم ٹی اے کی شکل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک ایسا عالمی مکان میسر آگیا ہے جس کے چاروں طرف احمدی بستے ہیں اور ہر گھر سے ہر وقت رابطہ ہے۔

مسیح موعود کا جانشین اور اس کا مقرر کردہ نظام ہمہ وقت تمام احمدیوں کی رہنمائی پر مستعد ہے۔ صرف ٹیلی ویژن کی کھڑکی کھولنے کی دیر ہے اور روحانی مائدہ سے سیرابی شروع ہو جاتی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کو حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے جنوری 1900ء میں تحریر فرمایا اور جیسا کہ اگلے باب اور ایم ٹی اے کے سفر میں ذکر آئے گا۔ 1901ء سے خدا تعالیٰ نے اس خواہش کی تکمیل کے سامان شروع فرما دیئے جو اس زمانہ میں اپنے کمال کو پہنچ گئے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کے ذریعہ ٹیلی ویژن کی یہ کھڑکی اور زیادہ مؤثر ہوتی جا رہی ہے۔؎

جس مکاں کی آرزو مہدی کو تھی
ہو بہو ویسا مکاں ہے ایم ٹی اے
سب گھروں میں احمدی احباب کے
کُھلنے والی کھڑکیاں ہے ایم ٹی اے

حصہ چہارم
خلفائے سلسلہ کی پیشگوئیاں
حضرت مصلح موعودؓ کی بشارت

حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مثیل حضرت مصلح موعودؓ نے بھی مختلف رنگوں میں اس عالمی مواصلاتی نظام کی خبر دی۔ کہیں واضح بشارات اور کہیں ایسی پاک خواہش کے طور پر جسے خدا نے پیشگوئی میں تبدیل کرکے پورا فرمایا۔

1936ء میں جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر پہلی دفعہ لاؤڈ سپیکر استعمال کیا گیا۔سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے اس ایجاد کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان قرار دیتے ہوئے فرمایا:
’’میں سمجھتا ہوں یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی تھی کہ مسیح موعود اشاعت کے ذریعہ اسلام کو کامیاب کرے گااور قرآن کریم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نشان کی صداقت کے لئے پریس جاری کر دیئے اور پھر آواز پہنچانے کے لئے لاؤڈ سپیکر اور وائر لیس وغیرہ ایجاد کرائے اور اب تو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسا دن بھی آسکتا ہےکہ ہر مسجد میں وائرلیس کا سیٹ لگا ہوا ہو اور قادیان میں جمعہ کے روز جو خطبہ پڑھا جارہا ہو وہی تمام دنیا کے لوگ سن کر بعد میں نماز پڑھ لیاکریں۔‘‘

(ا لفضل قادیان مورخہ 29؍دسمبر 1936ء)

عالمی درس قرآن

مسجد اقصیٰ قادیان میں پہلی دفعہ 7؍ جنوری 1938ء کو لاؤڈ سپیکر لگا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس دن خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’اب وہ دن دور نہیں کہ ایک شخص اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا ساری دنیا میں درس و تدریس پر قادر ہوگا۔ ابھی ہمارے حالات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے، ابھی ہمارے پاس کافی سرمایہ نہیں اور ابھی علمی دقتیں بھی ہمارے راستے میں حائل ہیں۔لیکن اگر یہ تمام دقتیں دور ہوجائیں اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ ہمیں ترقی دے رہا ہے اور جس سرعت سے ترقی دے رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قریب زمانے میں ہی یہ تمام دقتیں دور ہو جائیں گی تو بالکل ممکن ہے کہ قادیان میں قرآن اور حدیث کا درس دیا جارہا ہو اور جاوا کے لوگ اور امریکہ کے لوگ اور انگلستان کے لوگ اور فرانس کے لوگ اور جرمن کے لوگ اور آسٹریلیا کے لوگ اور ہنگری کے لوگ اور عرب کے لوگ اور مصر کے لوگ اور ایران کے لوگ اور اسی طرح تمام ممالک کے لوگ اپنی اپنی جگہ وائرلیس سیٹ لئے ہوئے وہ درس سن رہے ہوں۔یہ نظارہ کیا ہی شاندار نظارہ ہوگا اور کتنے ہی عالیشان انقلاب کی یہ تمہید ہوگی کہ جس کا تصور کرکے بھی آج ہمارے دل مسرت و انبساط سے لبریز ہو جاتے ہیں۔‘‘

(روزنامہ الفضل قادیان 13؍جنوری 1938ء)

1995ء کے عالمی درس قرآن کے ایام میں الفضل کے مطالعہ کے دوران حضرت مصلح موعودؓ کا یہ ارشاد خاکسار کے علم میں آیا تو اسے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں بھجوانے کی توفیق ملی۔ حضور نے 19؍ فروری 1995ء کو عالمی درس قرآن میں خلافت احمدیہ کی آسمانی نصرت اور تائید کے ضمن میں یہ پیشگوئی بیان کرتے ہوئے فرمایا:
‘‘اب میں آپ کو بتاتا ہوں دیکھیں! حضرت مصلح موعودؓ کی پیشگوئی یہ اس موقعے کے لئے استعمال ہوسکتی تھی۔ بہت عمدہ بات تھی مجھے تو خیال نہیں گیا مگر عبدالسمیع خان صاحب ربوہ نے اس عالمی درس سے متاثر ہو کر ایک پیشگوئی بھجوائی ہے جو اس بات کی مؤید ہے بڑی کھلی کھلی مؤید ہے جو میں بیان کررہا ہوں کہ اگر آپ نے ایک خلیفہ کی بیعت کی ہے تو درست کی ہے اس خلیفہ کو خدا نے مقرر فرمایا ہے وہ کمزور ہو، ناکارہ ہو خدا اپنے تقرر کی غیرت رکھتا ہے اور حفاظت فرماتا ہے اور اس کے مخالفین کو ضرور نامراد کیا کرتا ہے۔ پس ہر وہ اختلاف جو مخالفت سے اگا ہے وہ اس پودے کی طرح ہے اجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ(ابراہیم:27) اسے تو ضرور اکھاڑا جائے گا وہ شجرہ خبیثہ ہے اس کو قرار نہیں ملے گا۔ یہ میں بتا دیتا ہوں Warning کے طور پر۔ لیکن سچے پاک اختلاف جو کثرت سے مجھے ملتے ہیں ان کے خلاف کوئی ردعمل نہیں ہے ہرگز نعوذباللّٰہ من ذالک۔ نہ کسی ایک معین شخص کے متعلق میں اعلان کررہا ہوں کہ وہ منافق ہے ہرگز نہیں۔ وہ اپنا حال مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ اصول میں نے بتادیا ہے۔ سمجھا دیا کہ کس طرح پہچانتے ہیں پھر ان کا معاملہ اور خدا کا معاملہ ہے پھر میں بیچ میں سے ایک طرف ہٹ جاؤں گا۔

یہ سنئےمسجد اقصیٰ قادیان میں پہلی دفعہ 7؍جنوری 1938ء کو لاؤڈ سپیکر لگا۔ 1938ء کو سات جنوری کو لاؤڈ سپیکر لگتا ہے اور یہ اتنا بڑا واقعہ ہے اس زمانے کے لحاظ سے کہ حضرت مصلح موعودؓ اس پہ خطبہ دیتے ہیں اور اس وقت میں دس سال کا تھا۔ 1928ء میں پیدا ہوا ہوں آخر پر۔ تو اس وقت وہ خطبے میں فرمارہے ہیں۔ اب وہ دن دور نہیں کہ ایک شخص اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا ساری دنیا میں درس و تدریس پر قادر ہوسکے گا۔اب بتائیں کہ میرے جیسے جاہل نادان بچے کا وہاں موجود ہونا کوئی تصور بھی کرسکتا تھا کہ یہ وہ لڑکا ہوگا جو اٹھے گا اور اس پیشگوئی کا مصداق بنے گا۔ فرماتے ہیں:
’’ابھی ہمارے حالات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔ ابھی ہمارے پاس کافی سرمایہ نہیں اور ابھی علمی دقتیں بھی ہمارے راستے میں حائل ہیں لیکن اگر یہ تمام دقتیں دور ہو جائیں اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ ہمیں ترقی دے رہا ہے اور جس سرعت سے ترقی دے رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قریب زمانہ میں ہی یہ تمام دقتیں دور ہو جائیں گی تو بالکل ممکن ہے کہ قادیان میں قرآن اور حدیث کا درس دیا جارہا ہو اور جاوا کے لوگ اور امریکہ کے لوگ اور انگلستان کے لوگ اور فرانس کے لوگ اور جرمنی کے لوگ اور آسٹریلیا کے لوگ اور ہنگری کے لوگ اور عرب کے لوگ اور مصر کے لوگ اور ایران کے لوگ اور اسی طرح تمام ممالک کے لوگ اپنی اپنی جگہ وائرلیس کے سیٹ لئے ہوئے وہ درس سن رہے ہوں۔‘‘
اس طرح خدا اپنے نشان ظاہر کرتا ہے پھر کیوں شکوک اور وہموں میں مبتلا ہو کر تم اپنی عاقبت کے درپے ہوتے ہو لیکن اگر خالص ہو اپنے عہد بیعت میں اور خدا کی تائیدیں تمہیں یقین دلارہی ہیں کہ یہ درست فیصلہ تھا بیعت کا تو پھر اپنے طرز عمل میں وہ ادب اختیار کرو جو لازم ہے۔ میرے جیسے کمزور انسان کے لئے نہیں بلکہ نفخ روح کے تقاضے کی وجہ سے کیونکہ جس خلیفہ کو خدا بناتا ہے جو اس کی مسند پر بیٹھتا ہے وہ اسی نفخ روح سے برکت پاتا ہے۔ نئی نفخ روح اس پر نہیں ہے لیکن اسی نفخ روح سے برکت پاتا ہے۔ اس لئے اس مقام کو کبھی نظر سے نہیں ہٹانا اور ذاتی طور پر جو میں اپنے آپ کو سمجھتا ہوں مجھے بہتر پتہ ہے، میں نہایت ناکارہ انسان ہوں، علمی لحاظ سے کمزور، بسااوقات اتنی غلطیاں کرتا ہوں کہ سارے خلفاء نے مل کر جو ظاہری علم کی غلطیاں ہیں۔ میں پھر بتارہا ہوں ظاہری علوم کی وہ اتنی ان کی نہیں ہوں گی جتنی میں اکیلا ہی کرچکا ہوں اب تک پھر بھی اللہ برداشت فرمارہا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ غلطیاں بشری کمزوریاں ہیں، بچپن کی غلط Schooling کے نتیجے میں۔ میری تربیت اللہ اور طرح فرمارہا تھا سکول کے وہ پڑھنے والے مولوی بن رہے تھے۔ وہ اور طرح بن رہے تھے۔ ظاہری علوم پہ جو انہیں دسترس ہوئی وہ مجھے نصیب نہیں ہوئی میں جانتا ہوں مگر اگر وہ ہوتی تو یہ نہ ہوتا جو اب نصیب ہے اس لئے جن تقاضوں کے پیش نظر اللہ مجھے تیار کررہا تھا ان میں ان غلطیوں کا شامل ہونا ایک لازمی حصہ ہے اس لئے ان سے کوئی غلط نتیجے نہ نکالیں مگر خدا کی تائید بہرحال میرے ساتھ ہی رہے گی اور ہر خلیفہ کے ساتھ ہے جب تک مسیح موعود کے اعلیٰ مقاصد پورے نہیں ہوتے اسی طرح جاری رہے گی اور جو شخص اس سے تعلق کاٹ لے گا اس کا خدا سے تعلق کاٹا جائے گا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے۔ اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اپنے وفا کے تقاضوں کو کماحقہ ادا کریں۔

ایک اور لطیف بات جو عبدالسمیع خان صاحب نے اس میں بیان کی ہے کہ عجیب اللہ کی شان ہے کہ 7؍ جنوری 1938ء کو حضرت مصلح موعودؓ یہ پیشگوئی کررہے ہیں اور ماریشس سے اس عالمی پروگرام کے آغاز کا آپ نے اعلان کیا ہے۔ 7؍ جنوری کے متعلق بتایا تھا کہ 7؍ جنوری سے یہ عالمی پروگرام جو ٹیلی ویژن کے ذریعے تمام عالم کو مربوط کرنے کا انتظام ہے یہ شروع ہو جائے گا۔ تو عین اسی دن یہ پیشگوئی پوری ہوتی ہے اور اللہ کی شان دیکھیں۔ میں تو نکما سا، کھلنڈرا سا لڑکا تھا وہاں بیٹھا ہوتا تھا اپنے کپڑوں کا بھی ہوش نہیں تھا … تو لوگ مجھے دیکھ کر ہنسا کرتے تھے یہ کس قسم کے بیہودہ لباس میں پھرتا ہے لیکن اللہ کی شان ہے جس کو چاہے جو بنادے اور اس کی تائید پھر ایسی کرتا ہے کہ اس کو پھر کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی وہ آسمان پر چمکتی ہے … اپنی ذات کو مرکزی نقطہ بنانے کے طور پر پیش نہیں کررہا محض بعض لوگوں کے شکوک دور کرنے کی خاطر بتا رہا ہوں کہ اس الٰہی منصوبے میں جو اول اور آخر طور پر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی خاطر بنایا گیا تھا اور مسیح موعودؑ کے زمانے میں اس کا ظہور مقدر تھا اس عاجز کو اس کا ایک معمولی ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس لئے یہ سعادت بھی کوئی کم سعادت نہیں ہے۔

(الفضل 7؍ جنوری 1999ء)

زمیں سے دیکھ لو جاتی ہے یہ کیسے ستاروں تک
امامِ وقت کی آواز دنیا کے کناروں تک
ادھر بولے اُدھر پہنچے کروڑوں جاں نثاروں تک
حصاروں سے نکل کے مرغزاروں، ریگزاروں تک
برستی آسماں سے ہے مئے عرفان ایم ٹی اے

اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ 7؍ جنوری کو حضرت مصلح موعودؓ نے یہ اعلان فرمایا اور 7؍ جنوری کو ہی ایم ٹی اے کی باقاعدہ نشریات شروع ہوئیں۔

(جاری ہے)

(عبد السمیع خان۔ استاد جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا)

پچھلا پڑھیں

نائب صدرگیمبیا کی وفات پر جماعت کی طرف سے تعزیتی وفد و پیغام

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 مارچ 2023