• 4 دسمبر, 2023

زندگی کے آغاز کے بارے میں دہریہ حضرات کے نظریات کا تجزیہ (قسط 3)

زندگی کے آغاز کے بارے میں دہریہ حضرات کے نظریات کا تجزیہ
قسط 3

خاکسار نے گزشتہ مضمون میں مشہور دہریہ فلاسفر ڈاکنس صاحب کے اس مفروضے کا جائزہ لیا تھا کہ کائنات میں اربوں سیارے موجود ہیں، یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے کہ کسی ایک سیارے پر زندگی کی تخلیق کا آغاز ہو گیا کیونکہ کائنات میں زندگی کا آغاز تو ایک ہی مرتبہ ہونا تھا۔ اور یہ ذکر بھی کیا تھا کہ اسی کتاب میں وہ اپنے مفروضے کو خود رد کر کے یہ لکھ رہے ہیں کہ میرے نزدیک اس کائنات میں کئی مقامات پر زندگی موجود ہے۔ا پنی کتاب The God Delusionمیں ڈاکنس صاحب بہت سادگی سے یہ مفروضہ پیش کر رہے ہیں کہ اگر ہم یہ بھی تسلیم کر لیں کہ کسی سیارے پر خود بخود زندگی کے آغاز کا امکان ارب میں صرف ایک ہے تو بھی دنیا میں اربوں سیارے موجود ہیں۔ اور ان میں سے کئی پر زندگی کی ابتدائی شکل خود بخود بغیر کسی خالق وجود کے شروع ہو سکتی ہے۔

گویا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کرنا خواہ ہمیں سائنسی حقائق کا کتنا ہی خون کرنا پڑے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کیوں انہوں نے یہ فرضی مثال پیش کی ہے کہ زندگی صرف ابتدائی صورت کے خود بخود محض اتفاق سے وجود میں آنے کا امکان ارب میں ایک کے برابر ہے۔حقیقت یہ ہے بہت سے سائنسدانوں نے ریاضی کے فارمولوں سے یہ تخمینہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ یہ امکان کتنا ہے۔اور ان کے نزدیک یہ امکان اس فرضی امکان کے قریب تو چھوڑ دور دور تک بھی نہیں ہے جسے پروفیسر ڈاکنس پیش کر رہے ہیں۔یہ محض ان کا ایک مفروضہ ہے جس کی انہوں نے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔سائنسدانوں کا یہ نظریہ ہے کہ جس کائنات کو ہم دیکھ سکتے ہیں یا جسے ہم اب تک کل کائنات سمجھتے ہیں وہ اپنی تمام تر عظیم وسعتوں کے باوجود اتنی بڑی نہیں کہ اس میں کہیں کسی ایک مقام پر محض اتفاق کے طور پر زندگی خود بخود محض اتفاقی حادثہ کے شروع ہو گئی ہو۔

کیا زندگی خود بخود شروع ہو سکتی ہے؟

اس سلسلہ میں ایک تحقیق سے معین الفاظ پیش کئے جاتے ہیں۔اس کا حوالہ نیچے درج ہے۔یہ محققین لکھتے ہیں:

But we need to ask ourselves, is this a credible way to view the evolution of life on Earth? Abiogenesis on Earth, or anywhere in the known observable Universe is highly improbable (the odds against are less than 1 successful event expected in 105120 events.)

مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا زمین پر ارتقا کو پرکھنے کا یہی درست طریق ہے۔بے جان اشیا سے زمین پر یا کائنات میں کہیں بھی زندگی کے خود بخود پیدا ہوجانے کا خیال انتہائی نا ممکن نظر آتا ہے۔ایسے ایک کامیاب واقعہ کے اتفاقی طور پر وقوع پذیر ہونے کا امکان اتنا ہی جیسے ایک کے آگے 5120صفر لگا دو اور کہو اتنے واقعات ہوں تو اتفاقی طور پر ایک میں ایسا ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد اسی تحریر میں یہ محققین جن کا تعلق دنیا کی بہت سی یونیورسٹیوں سے ہے لکھتے ہیں:


We have argued pragmatically that the origins from non-living chemistry of cell-based life in the current known universe are so statistically improbable that our scientific approach should not be directed so much toward studying abiogenesis events in the laboratory, but into quantitating the distribution and numbers of living systems in the observable Universe

ترجمہ : ہم دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ اس معلوم کائنات میں بے جان اشیا سے زندہ خلیوں کا خود بخود پیدا ہوجانا شماریات کی رو سےاتنا ناممکن ہے کہ ہماری سائنسی کوششیں اس سمت میں صرف نہیں ہونی چاہیں کہ ہم لیبارٹری میں اس کا تجزیہ کریں کہ بے جان اشیا سے زندگی کس طرح پیدا ہو گئی بلکہ ہمیں اس بات کا حساب لگانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جس کائنات کو ہم دیکھ سکتے ہیں اس میں زندگی کا نظام کہاں کہا ں اور کتنے مقامات پر موجود ہے؟

(Advances in Genetics Volume 106, 2020, Pages 21-43)

یہ بات نا قابل فہم ہے کہ پروفیسر ڈاکنس صاحب نے کس سائنسی تحقیق کی بنا پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایک ارب سیاروں میں سے ایک میں زندگی کا آغاز خود بخود محض اتفاق کے طور پر ہو سکتا ہے۔وہ کسی سائنسی تحقیق کا حوالہ نہیں دیتے حالانکہ اس موضوع پر کئی تحقیقات موجود ہیں۔ جب بھی ریاضی دانوں اور سائنسدانوں نے اس بارے میں باقاعدہ سائنسی بنیادوں پر اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے وہ بالکل مختلف نتیجہ پر پہنچے ہیں۔

ایک اور تحقیق کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ سائنسی رپورٹ 2020ء میں شائع ہوئی۔ اس کے مطابق جو کائنات اس وقت سائنسدانوں کے سامنے ہے اس میں 1022ستارے موجود ہیں یعنی اگر ایک کے ہندسے کی دائیں طرف 22صفر لگا دو تو ان ستاروں کی تعداد اتنی ہو گی۔ یہ ہماری کائنات کی وسعت ہے۔محققین کے نزدیک اتنی وسیع کائنات میں بھی کسی ایک مقام پر اس بات کا امکان موجود نہیں ہے کہ حادثہ کے طور پر محض قدرت کی دھکم پیل سے زندگی جیسے پیچیدہ نظام کا آغاز ہو سکے۔یہ آغاز اتنا غیر متوقع ہے کہ اب بعض دہریہ سائنسدان تنگ آکراس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہم نے کائنات کو سمجھنے میں ہی غلطی کی ہے۔ اور اصل عالم اس کائنات سے بہت بڑا ہوگا یعنی کھرب کو کئی کھرب سے ضرب دے دو۔ اور یہ سمجھو کہ ہماری کائنات جیسی کھربوں کائناتیں اور موجود ہیں۔ اور پھر یہ تصور کرو کہ اس کل عالم میں 10100ستارے موجود ہیں یعنی ایک کے ہندسے کے ساتھ 100صفر اور لگا دو تو اس عالم کے ستاروں کی تعداد بنے گی۔ اس نظریہ کو Multiverse کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہوتو یہ سوچا جا سکتا ہے کہ شاید زندگی کی بالکل ابتدائی شکل RNAکی صورت میں کسی مقام پر حادثہ کے طور پر وجود میں آ جائے۔بہر حال اس نظریہ کے کوئی معین سائنسی ثبوت اب تک دریافت نہیں ہو سکے۔

(Totani, T. Emergence of life in an inflationary universe. Sci Rep 10, 1671 (2020).)

اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ زمین کے علاوہ بھی دوسرے مقامات پر زندگی موجود ہے تو یہ تمام لمبے چوڑے مفروضے تسلیم کرنے کے بعد بھی سائنسی طور پر یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ زندگی کا آغاز محض ایک حادثہ تھا۔

زندگی نے ترقی کس طرح کی ؟

اب تک ہم جس مرحلہ کا ذکر کر رہے ہیں، اس مرحلہ تک ابھی کسی زندہ وجود کا خوردبین سے نظر آنے والا ایک خلیہ تک نہیں بنا تھا۔کجا یہ کہ کسی صورت میں ترقی یافتہ زندگی کا کوئی وجود ہو۔ اور سائنسدانوں کی تحقیقات برملا یہ نتیجہ نکال رہی ہیں کہ یہ بظاہر ناممکن نظر آ رہا ہے کہ یہ ابتدا کسی اتفاق کا نتیجہ ہو۔لیکن اس کے بعد کے بے شمار مراحل کے متعلق کیا خیال ہے؟کیا یہ محض اتفاق تھا کہ زندگی اتنی حیران کن چھلانگیں لگاتی چلی گئی۔ کیا یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے؟ اپنی طبیعت اور نظریات کے بر خلاف اس بارے میں رچرڈ ڈاکنس لکھتے ہیں:

Nevertheless, it may be that the origin of life is not the only major gap in the evolutionary story that is bridged by sheer luck, anthropically justified. For example, my colleague Mark Ridley in Mendel’s Demon …. Has suggested that the origin of the eucaryotic cell (our kind of cell, with a nucleus (and various other complicated features such as mitochondria, which are not present in bacteria was an even more momentous, difficult and statistically improbable step than the origin of life. The origin of consciousness might be another major gap whose bridging was of the same order of improbability. One-off events like this might be explained by the anthropic principle, along the following lines. There are billions of planets that have developed life at the level of bacteria, but only a fraction of these life forms ever made it across the gap to something like the eucaryotic cell. And of these, a yet smaller fraction managed to cross the later Rubicon to consciousness.

(The God Delusion, by Richard Dawkins, Published by Penguin Random House 2016, p 168)

ترجمہ: اس کے باوجود شاید ارتقا کی کہانی میں زندگی کا آغاز وہ واحد بڑا خلا نہیں جس کے متعلق ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ایسا محض اتفاق سے ہوگیا تھا۔۔۔۔۔مثال کے طور پر میرے رفیق کار مارک ریڈلے نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ایسے خلیوں کی پیدائش جن کے اندر ایک مرکز یا نیوکلیس موجود ہو یا خلیوں میں mitochondria جیسی پیچیدہ اشیاء کی پیدائش زندگی کے آغاز سے بھی زیادہ اہم مراحل ہیں اور بظاہر یہ زیادہ ناممکن نظر آتا ہے کہ یہ مراحل خود بخود اتفاق کے طور پر طے ہو گئے ہوں۔اسی طرح زندگی میں شعور کا شروع ہونا ایک اور مرحلہ ہے جو کہ بظاہر صرف ایک مرتبہ ہوا ہے۔لیکن اس کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ دنیا میں ارب ہا ارب ایسے سیارے ہیں جن میں زندگی نے بیکٹیریا کی سطح تک کا سفر طے کیا ہے۔ اور ان میں سے کچھ سیاروں میں زندگی ترقی کر کے ایسے خلیوں کے مرحلے تک پہنچی جس میں مرکز یا نیوکلیس موجود تھا اور پھر ان میں سےکچھ سیاروں میں باشعور زندگی پیدا ہو گئی۔

اس مرحلہ پر آکر پروفیسر ڈاکنس نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے تمام دلائل کی عمارت کو منہدم کر دیا۔ اس مضمون کے آغاز میں ان کا حوالہ درج کیا گیا ہے کہ گو زندگی کا خود بخود شروع ہونا ممکن نہیں لگتا لیکن یہ واقعہ تو کائنات میں ایک مرتبہ ہی ہونا تھا اور کائنات میں ارب ہا ارب سیارے موجود ہیں اس لئے محض اتفاق سے یہ آغاز زمین پر ہوگیا ہوگا۔حالانکہ ہم حوالے درج کر چکے ہیں کہ سائنسی طور پر یہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن یہ تو ایک طویل سفر کا پہلا قدم تھا۔ وہ جانتے ہیں اور کئی سائنسدان اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ زندگی کے آغاز کے بعد بھی زندگی کی ترقی کے سفر میں کئی ایسے پیچیدہ مراحل آتے ہیں جن کے متعلق یہ گمان کرنا اور بھی زیادہ مشکل ہے کہ یہ پیچیدہ اشیاء خود بخود پیدا ہوگئیں اور ان کی تخلیق کسی خالق کی مرہون منت نہیں۔ اس مرحلہ پر پروفیسر ڈاکنس ایک اور جست لگاتے ہیں اور اپنی گذشتہ دلیل کو خود ہی رد کر کے یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ اصل میں تو زندگی کا آغاز اربوں سیاروں پر ہوا ہو گا اور اس میں سے کچھ پر محض اتفاق سے تمام نا ممکنات کو عبور کرتے ہوئے زندگی اتنی ترقی کر گئی کہ انسانی زندگی یا با شعور زندگی کا روپ دھار لیا۔ سوال یہ ہے کہ سائنسدان تو یہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ خود بخود محض اتفاق سے کسی ایک سیارے پر زندگی کی صرف ابتدائی شکل کے آغاز کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کا جواب دینے کی بجائے ڈاکنس صاحب ایک طویل جست لگا کر یہ نظریہ پیش کر رہے کائنات میں اربوں مقامات پر زندگی کا آغاز خود بخود بغیر کسی خالق کی مداخلت کے ہوگیا ہوگا۔ اس دعوے کی کوئی سائنسی دلیل نہیں دی گئی۔ سائنسدانوں، ریاضی دانوں اور شماریات کے ماہرین کی تحقیقات ان کے اس دعوے کو مکمل طور پر رد کر رہی ہیں۔

یہ خبر پوشیدہ رکھو اور یہ راز اب کوئی راز نہیں ہے کہ 1950ءکی دہائی میں جو امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید سائنس جلد اس بات کا کھوج لگا لے کہ زمین پر زندگی کس طرح خود بخود شروع ہو گئی، وہ امید اب دم توڑ رہی ہے۔ مشہور سائنسی جریدے سائینٹیفک امریکن (Scientific American) میں 28؍ فروری 2011ءکو ایک بلاگ اس دلچسپ عنوان کے ساتھ شائع ہوا:

Pssst! Don’t tell the creationists, but scientists don’t have a clue how life began

شش! ان لوگوں کو جو اس بات کے قائل ہیں کہ زندگی کسی خالق نے تخلیق کی تھی یہ نہ پتا چلے کہ ہمیں اس بات کا کوئی سراغ نہیں مل سکا کہ زندگی کس طرح شروع ہوئی تھی؟

جہاں تک زمین پر زندگی کے آغاز کے کے بارے میں قرآنی تصورات کا تعلق ہے تو اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی عظیم الشان تحقیق Revelation Rationality Knowledge and Truthضرور پڑھنی چاہیے۔ حضور نے یہ تحقیق اس کتاب کے صفحہ339سے صفحہ 564پر کتاب کے چوتھے حصہ میں بیان فرمائی ہے۔

اس مضمون کے آخر میں اسی کتاب میں مندرج ایک عظیم قرآنی پیشگوئی کا ذکر کرنا ضروری ہے۔یہ عظیم پیشگوئی اس آیت کریمہ میں بیان ہوئی ہے

وَمِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَثَّ فِیۡہِمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ ؕ وَہُوَ عَلٰی جَمۡعِہِمۡ اِذَا یَشَآءُ قَدِیۡرٌ ﴿۳۰﴾

(الشوریٰ:30)

ترجمہ:اور اسکے نشانات میں سےآسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور جو اس نے ان دونوں میں چلنے پھرنے والے جاندار پھیلا دیئے اور وہ انہیں اکٹھا کرنے پر خوب قادر ہے جب وہ چاہے گا۔

اسی کتاب کے صفحہ 330پر اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا ہے کہ دابۃ کا لفظ زمین پر چلنے والے جاندار کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور اس آیت کریمہ میں صرف ایک امکان نہیں بیان کیا گیا کہ زمین باہر زندگی موجود ہو سکتی ہے بلکہ صراحت سے بیان کیا گیا ہے کہ زمین باہر بھی زندگی موجود ہے۔اور اس آیت کے آخری حصہ میں یہ پیشگوئی بھی موجود ہے کہ ایک روز اللہ تعالیٰ انسان اور زمین سے باہر کی مخلوق کو جمع کرے گا۔ اس آیت میں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ ایسا کب ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ کسی مقام پر دونوں مخلوق جمع ہوں اور ہو سکتا ہے کہ یہ اجتماع محض ایک رابطہ کی صورت میں ہو لیکن یہ واضح ہےکہ ان شاء اللّٰہ ایک روز اللہ کی یہ دونوں مخلوق ایک دوسرے سے ملیں گی۔

(ابونائل)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

احمدیت کا فضائی دور (ایم ٹی اے- تقدیر الٰہی کا زندہ و تابندہ نشان) (قسط 3)