• 31 مئی, 2020

سچ بولنے کی تاکید

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’…آج کی دنیا کی حالت بہت نازک ہوگئی ہے۔ جس پہلو اور رنگ سے دیکھو جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں، جھوٹے مقدمہ کرنا تو بات ہی کچھ نہیں، جھوٹے اسناد بنا لئے جاتے ہیں۔ (یعنی کاغذات بھی جھوٹے بنا لئے جاتے ہیں،مقدمے بھی جھوٹے بنا لئے جاتے ہیں، پیشیاں بھی جھوٹی گواہیاں بھی جھوٹی ، ہر چیز جھوٹی)۔ کوئی امر بیان کریں گے توسچ کا پہلو بچا کر بولیں گے۔ اب کوئی ان لوگوں سے جو اس سلسلہ کی ضرورت نہیں سمجھتے پوچھے کہ کیا یہی وہ دین تھا۔ (وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ احمدیت کی کوئی ضرورت نہیں، ان سے اگر کوئی پوچھے) کہ کیا یہ وہی دین تھا جو آنحضرت ﷺ لے کر آئے تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تو جھوٹ کو نجاست کہا تھا کہ اس سے پرہیز کرو۔ (فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَ اجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ) بُت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے۔ جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لئے جھوٹ کو بت بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی جیسے ایک بُت پرست بُت سے نجات چاہتا ہے۔ (یعنی وہ سمجھتا ہے کہ بُت اسے نجات دے گا اس کے مسائل سے) اسی طرح جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بُت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بُت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔ کیسی خرابی آ پڑی ہے ۔ اگر کہا جاوے کہ کیوں بُت پرست ہوتے ہو، اس نجاست کو چھوڑ دو۔ توکہتے ہیں کیونکر چھوڑ دیں، اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ جھوٹ پر اپنا مدار سمجھتے ہیں مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے، بھلائی اورفتح اسی کی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلدہشتم صفحہ349)

(خطبات مسرورجلداوّل صفحہ553)

پچھلا پڑھیں

شب برأت

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اپریل 2020