• 31 مئی, 2020

نماز تہجد کو مت چھوڑو

نماز تہجد کو مت چھوڑو
جاگ اے شرمسار آدھی رات

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں درج ذیل دو مقامات پر نماز تہجد کی طرف توجہ دلائی ہے۔

وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا

ترجمہ: اور رات کے ایک حصہ میں کبھی اس (قرآن) کے ساتھ تہجد پڑھا کر۔ یہ تیرے لئے نفل کے طور پر ہو گا۔ قریب ہے کہ تیرارب تجھے مقام محمود پر فائز کر دے۔

(بنی اسرائیل:80)

یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۲﴾ قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿۳﴾ نِّصۡفَہٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡہُ قَلِیۡلًا ۙ﴿۴﴾ اَوۡ زِدۡ عَلَیۡہِ وَ رَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِیۡلًا﴿۵﴾ اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ قَوۡلًا ثَقِیۡلًا ﴿۶﴾ اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیۡلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّ اَقۡوَمُ قِیۡلًا ؕ﴿۷﴾

ترجمہ:اے اچھی طرح چادر میں لپٹنے والے رات کو قیام کیا کر مگر تھوڑا۔ اس کا نصف یا اس میں سے کچھ تھوڑا سا کم کر دے۔ یا اس پر کچھ زیادہ کر دے اور قرآن کو خوب نکھار کر پڑھا کر۔ یقیناً ہم تجھ پر ایک بھاری فرمان اُتاریں گے۔ رات کا اٹھنا یقیناً نفس کو پاؤں تلے کچلنے کے لئے زیادہ شدید اور قول کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے۔

(المزمل:2 تا 7)

نیز دو جگہوں سے زائد اللہ تبارک و تعالیٰ نے متقیوں اور مومنوں کی علامات کے تحت فرمایا ہے کہ
تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ کہ ان کے پہلو بستر گاہوں پر جدارہے ہیں۔

(السجدہ:17)

وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا کہ وہ اپنے رب کے حضور راتیں، سجدہ اور قیام کی حالت میں گزار دیتے ہیں۔

(الفرقان:65)

  • ان مومنوں اور متقیوں کے امام سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ جو راتوں کو عبادات کر کے ہمارے لئے مشعل راہ بنے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ؐنے اپنی راتوں کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ پہلا حصہ عوام الناس، دوسرا حصہ اہل خانہ اور تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔ آپؐ کے قیام و سجود اتنے لمبے اور پُر سوز ہوتے کہ پاؤں متورم ہو جاتے اور رونے سے ہنڈیا میں پانی ابلنے کی طرح آوازیں آیا کرتی تھیں۔
  • اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓبیان فرماتی ہیں کہ نماز تہجد کو مت چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کبھی نہ چھوڑتے تھے۔ اگر کبھی بیمار ہوتے یا کسل ہو تا تو بیٹھ کر نماز پڑھتے۔

(سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰة)

  • سیدنا حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ فرماتے ہیں کہ تم پر لازم ہے کہ تم رات عبادت کے لئے اٹھنے کی عادت ڈالو کیونکہ یہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کا طریق ہے۔اس سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور گناہوں سے دوری پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ بُرائیوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور بیماریوں کو جسم سے دور کر تا ہے۔

(الترمذی کتاب الدعوات)

  • نماز تہجد کی برکات اور اس کے ثواب و انعام کا ذکر کرتے ہوئے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے عطا کرتا ہوں۔ اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ کا طالب ہوتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔

(صحیح بخاری کتاب الرقاق)

ہم اپنی آسان زبان میں اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ بعض سرکاری و نجی دفاتر و کمپنیوں میں over time لگانے کا رواج ہوتا ہے تا کام pending نہ رہے اور اس over time کی اجرت دوگنی دی جاتی ہے۔ ہم جب اللہ کے حضور فرائض کے علاوہ نوافل یعنی نماز تہجد میں جھکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی اس over time کا زائد صلہ دیتا ہے۔

نوافل انسان کی فرض عبادتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ یہ دراصل باڑ کا کام دیتے ہیں جن سے گھروں کی دوہری حفاظت ہوتی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں ۔ جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے، کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائے گا۔ اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے، کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہے۔ جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو۔ اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے؟ پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک درد دل پیدا کر دیتا ہے۔

جس سے دعا میں رات اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں، لیکن اگر اٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں بلکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے۔ لیکن جب کہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند سے بھی بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے۔

(ملفوظات جلد دوم ص 182)

  • نوافل، فرائض کی کمی کو پورا کرنے کے کام آتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حضورنے فرمایا کہ نوافل ہمیشہ نیک اعمال کے مُتَمِّم و مکمل ہوتے ہیں اور یہی ترقیات کا موجب ہوتا ہے۔

(ملفوظات جلد سوم ص 343)

اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔

’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر کوئی شخص فرائض کو پوری طرح ادا کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعامات کا مستحق ہو جاتا ہے مگر یہ امر بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ فرائض کی کامل ادائیگی نوافل کے بغیر ناممکن ہے۔ ایک شخص فرض نمازوں کے علاوہ تہجد اور دوسرے نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے تو قیامت کے دن جب اس کے فرائض میں کمی واقع ہوگی اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ اس بندے کا کچھ اور بھی حساب ہمارے ذمہ ہے لاؤ۔ یہ کمی وہاں سے پوری کر دیں فرض روزوں میں کسی قسم کی کوتاہی رہ گئی ہو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہمارا یہ بندہ فرض روزے ہی نہیں رکھتا رہا بلکہ نفلی روزے بھی رکھتا رہا ہے یہ کمی وہاں سے پوری کر دو غرض اگر یہ نوافل کا شوقین ہو گا تو اس کا حساب بجائے کم ہونے کے کچھ بڑھ ہی جائے گا اور اس زیادتی کی وجہ سے نہ صرف وہ اپنے حساب کو پورا کر دے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زائد انعامات کا بھی مستحق ہو جائے گا۔ پھر ہم کو یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ رسول کریمؐ فرماتے ہیں بندہ نوافل کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے تو یہ حدیث بھی بتاتی ہے کہ نوافل انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جانے والی چیزیں ہیں اور در حقیقت اعلیٰ روحانی کمالات انہی سے حاصل ہوتے ہیں۔‘‘

(خطبات محمود جلد20 صفحہ 517)

ایک دفعہ کسی صحابی نے حضرت ابن عمرؓ کی خوبیوں کا ذکر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا کہ کاش نماز تہجد بھی پڑھے۔ ایک روایت میں میاں بیوی کو نماز تہجد کی خاطر ایک دوسرے کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔

مامور زمانہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام بھی تہجد اور دیگر نوافل کی ادائیگی میں پیش پیش رہے۔ آپؑ ایک موقع پر نماز تہجد میں ایک دعا اور اس کے پڑھنے کے طریق کو یوں بیان فرماتے ہیں۔

’’رات کے آخری پہر میں تو اور وضو کرو اور چند دوگانہ اخلاص سے بجالاؤ اور درد مندی اور عاجزی سے یہ دعا کر دو۔‘‘

’’اے میرے محسن اور اے میرے خدا! میں ایک تیر اناکارہ بندہ پُر معصیت اور پُر غفلت ہوں۔ تونے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا اور گناہ پر گناه دیکھا اور احسان پر احسان کیا۔ تونے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔ سو اب بھی مجھ نالائق اور پُر گناه پر رحم کر اور میری بے باکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس عمل سے نجات بخش کہ بجز تیرے اور کوئی چارہ گر نہیں۔ آمین ثم آمین۔‘‘

(مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 11، 10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کے ممبران کے متعلق اپنی خواہش کااظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’میں تو بہت دعا کر تا ہوں کہ میری سب جماعت ان لوگوں میں ہو جائے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نماز پر قائم رہتے ہیں اور رات کو اُٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو ضائع نہیں کرتے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ 77)

موجودہ حالات کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہمارے پیارے امام حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو یوں نصیحت فرمائی۔

’’ہر احمدی کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر اپنے آپ کو مومنین کی جماعت میں شامل سمجھتا ہے، ان دو امور کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے ۔ پہلی چیز نماز کا اہتمام با قاعدگی سے ادائیگی ہے۔ حتی الوسع باجماعت نماز ادا کرنے کی کو شش کرنی چاہئے۔ پھر ان نمازوں کو نوافل کے ساتھ سجایا بھی جائے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 13۔اپریل 2007ء)

نیز فرمایا۔

’’ہر احمد ی کم از کم دو نفل روزانہ صرف ان لوگوں کے لئے ادا کرے جو احمدیت کی وجہ سے کسی بھی قسم کی تکلیف میں مبتلا ہیں اسی طرح جماعتی ترقی کے لئے بھی خاص طور پر دعائیں کریں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 3 دسمبر 2010ء)

ہمارے گھروں کو اگر معمولی سی مشکل گھیرے میں لے لے تو ہم تمام دعاؤں میں جھٹ (لگ) جاتے ہیں۔ خود بھی رو رو کر دعائیں کر رہے ہوتے ہیں۔ اپنے عزیز و اقارب اور جاننے والوں کو بھی دعا کے لئے کہتے ہیں تا مشکلات دور ہوں۔ جماعت احمدیہ بھی ایک روحانی گھر انہ کی مانند ہے ۔ اس میں اگر کوئی احمدی انفرادی طور پر یا جماعت کسی جگہ مشکلات میں ہے تو ہم میں سے ہر ایک اپنے اوپر راتوں کی نیندیں حرام کرتے ہوئے اللہ کے حضور جھکے اور دعاؤں کے تیروں سے اس حملے کا دفاع کرےاور ہم اوپر بیان فرموده حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا کا حقیقی روپ دھارتے ہوئے عباد الرحمٰن میں شامل ہوں جائیں۔ ہم راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور زمین پر گرنے والے ہوں اور اوپر بیان فرموده حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث ہوں۔ آمین

نمازِ تہجد اور اس میں دعاؤں کی طرف اس اداریہ میں اس لئے بھی توجہ دلانی مقصود ہے کہ

i۔ تمام دنیا ایک مہلک وائرس میں مبتلا ہے۔انسانیت کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو جس کو
خدا نے اپنا کنبہ قرار دیا ہے اس متعدی بیماری سے بچانے کیلئے ہر احمدی نے راتوں کواُٹھ کر دعائیں کرنی ہیں۔

ii۔ رمضان کی بھی آمد آمد ہے۔ رمضان اور نمازِ تہجد کابہت گہرا تعلق ہے۔ اس لئے اگر ابھی سے ہم نمازِ تہجد کی عادت ڈالیں گے تو رمضان میں ہم بآسانی نمازِ تہجد ادا کرسکیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

شعراء نے بھی اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔ چوہدری محمد علی مضطر کہتے ہیں ؎

جاگ اے شرمسار آدھی رات
اپنی بگڑی سنوار آدھی رات

پچھلا پڑھیں

شب برأت

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اپریل 2020