• 31 مئی, 2020

حدیث نبوی ﷺ اور متعدی بیماری

آجکل جبکہ کرونا وائرس کی وبا عالمگیر سطح پر پھیل رہی ہے اور تمام حکومتوں کی طرف سے عوام کو بار بار یہ اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور تمام احتیاطی تدابیر کو اختیار کریں۔ ان حالات میں بعض مولویوں نے اپنی کم فہمی کی وجہ سے ایک حدیث سے غلط استنباط کرتے ہوئے یہ جاہلانہ بیان دیا ہے کہ کوئی متعدی بیماری نہیں ہوتی ۔ اول تو ہر سلیم العقل انسان اس بیان پر توجہ نہ دے گا کیونکہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ بعض بیماریاں متعدی ہوتی ہیں جو ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہیں اس لئے کیسے ممکن ہے کہ نبی کریم ﷺ جو علم و حکمت کے بادشاہ تھے ایسی بات کریں جو مشاہدات کے مخالف ہو ۔ بہرحال وہ حدیث اور اس کی مختصر تشریح پیش ہے۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ المَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ

(صحیح بخاری کتاب الطب باب الجذام)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی متعدی بیماری نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بدشگونی ہوتی ہے۔

اور نہ ہی ھامہ ہے اور نہ ہی صفر ۔ ہامہ عربی میں اُلّوکو کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں لوگ سمجھتے تھے کہ جب قتیل کا بدلہ نہ لیا جائے تو اس کی روح اُلّو میں چلی جاتی ہے اور وہ رات کو روتی ہے کہ میرا بدلہ لو مجھے قاتل کا خون پلاؤ۔ اور صفر ایک مہینہ کا نام ہے زمانہ جاہلیت میں لوگ اس کو منحوس سمجھتے تھے ان دونوں وہموں کا نبی کریم ﷺ نے رد فرمایا ہے کہ ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

مولوی حضرات لاَ عَدْوَى یعنی کوئی متعدی بیماری نہیں کا فقرہ تو بتاتے ہیں لیکن اس روایت کا آخری فقرہ وَفِرَّ مِنَ المَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ نہیں بتاتے جس کا مطلب یہ ہے کہ مجذوم سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہو۔ یعنی مجذوم سے الگ رہو اور اس سے میل ملاپ نہ رکھو تاکہ تمہیں بھی جذام کا مرض نہ ہو جائے۔ اب بظاہر ان دونوں باتوں میں تضاد ہے جسکی محدثین کرام نے تطبیق کی ہے۔ اور اس تضاد کو دور کیا ہے۔

صحیح بخاری کے مشہور شارح علامہ ابن حجر عسقلانی اسکی شرح میں لکھتے ہیں كَانُوا يَعْتَقِدُونَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ إِضَافَةِ الْفِعْلِ إِلَى غَيْرِ اللّٰهِ تَعَالٰى کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ متعدی بیماری کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے (یعنی ان کے بت ایسا کرتے ہیں) اس وہم کو نبی کریم ﷺ نے دور فرمایا ہے کہ بیماری کی تاثیر کسی غیر اللہ نے پیدا نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے ۔ اس سے متعدی بیماری کی نفی نہیں ہوتی اسی لئے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ یعنی کسی بیمار جانور کو تندرست جانور کے ساتھ نہ رکھو ورنہ تندرست بھی بیمار پڑ سکتا ہے۔ نیز آپ ﷺ نے طاعون زدہ علاقہ میں جانے سے بھی منع فرمایا ۔

اسی طرح بعض مولوی ایک روایت کو پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مجذوم کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا ۔ حضرت امام ابن حجر اس روایت کے ساتھ ایک دوسری روایت بھی لاتے ہیں کہ جب قبیلہ ثقیف کا وفد آیا جس میں ایک مجذوم بھی تھا تو نبی کریم ﷺ نے اسے کہلوا بھیجا کہ أَنَا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِعْ یعنی میں نے تیری بیعت لے لی ہے تو واپس لوٹ جا۔ آپ ﷺ نے اسکے ہاتھ کو تھام کر بیعت نہیں لی۔ ایک روایت میں ہے کہ مجذوم سے دو نیزے دو ر ہو کر بات کرو۔ ابن حجر فرماتے ہیں کہ مجذوم کے بارے میں اس طرح کی دونوں روایات ملتی ہیں جن کی علماء نے تطبیق کی ہے کہ جہاں مجذوم سے الگ رہنے کا کہا ہے تو یہ احتیاط کے لئے ہے تاکہ جذام کا مرض نہ لگ جائے۔ اور جہاں مجذوم کے ساتھ کھانا کھانے کا ذکر ہے تو وہ اس لئے ہے کہ وَالْأَكْلُ مَعَهُ عَلَى بَيَانِ الْجَوَازِ (فتح الباری لابن الحجر) تاکہ مجذوم کے ساتھ کھانا کھانے کا جواز نکل سکے ۔ اورمجذوم سے نفرت نہ ہو اوراحتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس سے ملنے اور اسکی خبر گیری کا جواز نکل سکے ۔

قرآن کریم نے اس سلسلہ میں واضح حکم دیا ہے کہ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرہ :196) کہ اپنے ہاتھوں (اپنے تئیں) ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اس قرآنی ارشاد کے مطابق احادیث کے مضمون کو سمجھنا ہو گا یہی اصول حکم و عدل نے دیا ہے کہ احادیث کو قرآن کے تابع رکھ کر سمجھا جائے۔ پس آجکل جو وبا پھیلی ہوئی ہے اس سے بچنے کے لئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے اور اگر خدانخواستہ کو ئی اس وبا سے متاثر ہو تو اس کو بےیار و مددگار نہیں چھوڑ دینا بلکہ احتیاط کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس کی تیمار داری کرنا اور جس حد تک ممکن ہو اس کی خدمت کرنی ضروری ہے یہی شریعت کا حکم ہے ۔

(ایم اے سلیمان)

پچھلا پڑھیں

شب برأت

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اپریل 2020