• 31 مئی, 2020

اک امتحان ہے

بےجان سی ہر جان ہے، اک امتحان ہے
ہر ہر نگر ویران ہے، اک امتحان ہے

کوئی کہیں نہ جا سکے، تالے لگے ہر موڑ پر
گھر گھر بنا زندان ہے، اک امتحان ہے

مندر، کلیسے، مسجدیں حیرانیوں میں غرق ہیں
اتنا بڑا بحران ہے، اک امتحان ہے

سب کو بچانے کے لئے ان عالمی آفات سے
ایشر، خدا، بھگوان ہے، اک امتحان ہے

اب مشرق و مغرب تلک ہر ملک ہی بد حال ہے
وہ جاں بلب، ہلکان ہے، اک امتحان ہے

اک تو وبائیں جا بجا، یا آگ ہے، بارود ہے
خطرات میں انسان ہے، اک امتحان ہے

تم آسماں کو چھوڑ کر کیونکر زمیں کے ہو گئے
قرآں کا یہ فرمان ہے، اک امتحان ہے

رحمت کا در اب بھی کھلا، سجدے پڑو! توبہ کرو !
یہ آخری اعلان ہے، اک امتحان ہے

اب تو بچائے گا فقط اسلام کا زندہ خدا
میرا یقیں، ایمان ہے، اک امتحان ہے

جس کو فراز.! اب تلک کچھ بھی سجھائی نہ دیا
وہ کس قدر نادان ہے، اک امتحان ہے

(اطہر حفیظ فراز)

پچھلا پڑھیں

شب برأت

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 اپریل 2020