• 21 مئی, 2022

اسلام میں غض بصر کی تعلیم

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مومن کو نہیں چاہئے کہ دریدہ دہن بنے یا بے محابا اپنی آنکھ کو ہر طرف اٹھائے پھرے۔ بلکہ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ (النور: 31) پر عمل کر کے نظر کو نیچی رکھنا چاہئے اور بد نظری کے اسباب سے بچنا چاہئے۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ533 ایڈیشن 1988ء)

’’سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی۔ اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔ اگر ہم ایک بھوکے کتے کے آگے نرم نرم روٹیاں رکھ دیں اور پھر امید رکھیں کہ اس کتے کے دل میں خیال تک ان روٹیوں کا نہ آوے تو ہم اپنے اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آوے جس سے بدخطرات جنبش کر سکیں۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ343-344)

پچھلا پڑھیں

جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا کی سالانہ کھیلیں 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 مئی 2022