• 21 مئی, 2022

کتاب تعلیم کی تیاری (قسط 41)

کتاب تعلیم کی تیاری
قسط 41

اس عنوان کے تحت درج ذیل تین عناوین پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات ا کٹھے کئے جا رہے ہیں۔

  1. اللہ تعالیٰ کے حضور ہمارے کیا فرائض ہیں؟
  2. نفس کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟
  3. بنی نوع کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں؟

اللہ تعالیٰ کے حقوق

نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دُعا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔ نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدائے تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کی غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دُعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو۔ بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔

مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادت اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔ اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبّت سرد ہو رہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہیئے۔ وہ مزا نہیں آتا۔ دُنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذّت اور ایک خاص حظّ اللہ تعالیٰ نے رکھا نہ ہو۔ جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزا نہیں اُٹھا سکتا اور وہ اسے بالکل تلخ یا پھیکا سمجھتا ہے اسی طرح سے وہ لوگ جو عبادت الٰہی میں حظ اور لذّت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فِکر کرنا چاہیئے۔ کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دُنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذّت نہ رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اس کے لئے ایک لذّت اور سُرور نہ ہو؟ لذّت اور سُرور تو ہے مگر اس سے حظ اُٹھانے والا بھی تو ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ (الذاریات: 57)۔ اب انسان جب عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے، ضروری ہے کہ عبادت میں لذّت اور سُرور بھی درجہ غایت کا رکھتا ہو۔ اس بات کو ہم اپنے روز مرہ کے مشاہدہ اور تجربہ سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا کی ہیں تو کیا اُن سے وہ ایک لذّت اور حظ نہیں پاتا ہے؟ کیا اُس ذائقہ اور مزے کے احساس کے لئے اس کے منہ میں زبان موجود نہیں؟ کیا وہ خوبصورت اشیاء کو دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات، حیوانات ہوں یا انسان حظ نہیں پاتا؟ کیا دل خوش کن اور سُریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اَور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلُوب ہے کہ عبادت میں لذّت نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو رغبت دی ہے۔ اب اس میں زبردستی نہیں کی بلکہ ایک لذّت بھی رکھ دی ہے۔ اگر محض توالد و تناسل ہی مقصود بالذات ہوتا تو مطلب پُورا نہ ہو سکتا۔ عورت اور مرد کی برہنگی کی حالت میں اُن کی غیرت قبول نہ کرتی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق پیدا کریں۔ مگر اس میں ان کے لئے ایک حظ ہے اور ایک لذّت ہے۔ یہ حظ اور لذّت اس درجہ تک پہنچی ہے کہ بعض کوتاہ اندیش انسان اولاد کی بھی پروا اور خیال نہیں کرتے بلکہ اُن کو صرف حظ ہی سے کام اور غرض ہے۔ خدا تعالیٰ کی علّت غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس سبب کے لئے ایک تعلق عورت اور مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظ رکھ دیا جو اکثر نادانوں کے لئے مقصود بالذات ہو گیا ہے۔

اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں اس میں بھی ایک لذّت اور سرُور ہے۔ اور یہ لذّت اور سرُور دُنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالاتر اور بالا تر ہے۔ جیسے عورت اور مرد کے باہم تعلقات میں ایک لذّت ہے اور اس سے وہی بہرہ مند ہو سکتا ہے جو مرد ہے اور اپنے قویٰ صحیحہ رکھتا ہے۔ ایک نامرد اور مخنّث وہ حظ نہیں پاسکتا اور جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذّت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کم بخت انسان ہے جو عبادت الہٰی سے لذّت نہیں پا سکتا۔

عورت اور مرد کا جوڑا تو باطل اور عارضی جوڑا ہے۔ میں کہتا ہوں حقیقی ابدی اور لذت مجسم کا جو جوڑا ہے وہ انسان اور خدائے تعالیٰ کا ہے۔ مجھے سخت اضطراب ہوتا ہے اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مزا نہ آئے، طبیب کے پاس جاتا اور کیسی کیسی منتیں اور خوشامدیں کرتا اور روپیہ خرچ کرتا اور دُکھ اُٹھاتا ہے کہ وہ مزا حاصل ہو۔ وہ نامرد جو اپنی بیوی سے لذّت حاصل نہیں کر سکتا بعض اوقات گھبرا گھبرا کر خود کشی کے ارادے تک پہنچ جاتا ہے۔ اور اکثر موتیں اس قسم کی ہو جاتی ہیں۔ مگر آہ! وہ مریض دل وہ نامرد کیوں کوشش نہیں کرتا جس کو عبادت میں لذّت نہیں آتی۔ اس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہو جاتی؟ دُنیا اور اس کی خوشیوں کے لئے تو کیا کچھ کرتا ہے مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وہ پیاس اور تڑپ نہیں پاتا کس قدر بے نصیب ہے۔ کیسا ہی محرُوم ہے! عارضی اور فانی لذّتوں کے علاج تلاش کرتا ہے اور پا لیتا ہے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ مستقل اور ابدی لذّت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضروری ہیں۔ مگر تلاش حق میں مستقل اور پویا قدم درکار ہیں۔ قرآن کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوں سے دی ہے۔ اس میں بھی سِرّ اور بھید ہے۔ ایمان لانے والے کو آسیہ اور مریم سے مثال دی ہے۔ یعنی خدایتعالیٰ مُشرکین میں سے مومنوں کو پیدا کرتا ہے۔ بہر حال عورتوں سے مثال دینے میں در اصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے۔ یعنی جس طرح عورت اور مرد کا باہم تعلق ہوتا ہے اسی طرح پر عبُودیّت اور ربُوبیّت کا رشتہ ہے۔ اگر عورت اور مرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فریفتہ ہو تو وہ جوڑا ایک مبارک اور مفید ہوتا ہے ورنہ نظام خانگی بگڑ جاتا ہے اور مقصود بالذات حاصل نہیں ہوتا ہے۔ مرد اور جگہ خراب ہو کر صدہا قسم کی بیماریاں لے آتے ہیں۔ آتشک سے مجذوم ہو کر دُنیا میں ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اولاد ہو بھی جائے تو کئی پُشت تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے اور اُدھر عورت بے حیائی کرتی پھرتی ہے اور عزّت و آبرُو کو ڈبو کر بھی سچّی راحت حاصل نہیں کر سکتی۔ غرض اس جوڑے سے الگ ہو کر کِس قدر بد نتائج اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح پر انسان رُوحانی جوڑے سے الگ ہو کر مجذوم اور مخذول ہو جاتا ہے دُنیاوی جوڑے سے زیادہ رنج و مصائب کا نشانہ بنتا ہے جیسا کہ عورت اور مرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقاء کے لئے حظ ہے اسی طرح پر عبُودیّت اور ربُوبیّت کے جوڑے میں ایک ابدی خدا کے لئے حظ موجود ہے۔ صُوفی کہتے ہیں کہ یہ حظ جس کو نصیب ہو جائے۔ وہ دُنیا اور ما فیہا کے تمام حظوظ سے بڑھ کر ترجیح رکھتا ہے۔ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اُس کو معلوم ہو جائے تو وہ اس میں ہی فنا ہو جائے لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دُنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور ان کی نمازیں نری ٹکریں ہیں اور اوپرے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشست و برخاست کے طور پر ہوتی ہے۔

مجھے اَور بھی افسوس ہوتا ہے کہ جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لئے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دُنیا میں معتبر اور قابلِ عزّت سمجھے جائیں اور پھر اس نماز سے یہ بات اُن کو حاصل بھی ہو جاتی ہے یعنی وہ نمازی اور پرہیزگار کہلاتے ہیں پھر کیوں ان کو یہ کھا جانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور بے دلی کی نماز سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہو سکتا ہے، (تو کیا مخلص) بننے سے اُن کو عزّت نہ ملے گی اور کیسی عزت ملے گی۔

غرض میں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سُست اسی لئے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذّت اور سُرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ کسل کی یہی ہے۔ پھر شہروں اور گاؤں میں تو اَور بھی سُستی اور غفلت ہوتی ہے۔ سو پچاسواں حصّہ بھی تو پُوری مستعدی اور سچی محبت سےاپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جُھکاتے۔ پھر سوال یہی ہوتا ہے کہ کیوں اُن کو اس لذّت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی اس مزے کو انہوں نے چکھا۔ اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سُننا بھی نہیں چاہتے۔ گویا اُن کے دل دُکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں۔ بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دوکانیں دیکھو تو مسجد کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔

پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دُعا مانگنی چاہیے کہ جس طرح اور پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذّتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزہ چکھا دے۔ کھایا ہوا یاد رہتا ہے۔ دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سُرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اُسے خوب یاد رہتا ہے اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت اس کے بالمقابل مجسّم ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یاد نہیں رہتا۔ اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کر کے خواب راحت چھوڑ کر اور کئی قسم کی آسائشوں کوچھوڑ کر پڑھنی پڑتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اُسے بیزاری ہے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس لذّت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے۔ پھر نماز میں لذّت کیونکر حاصل ہو۔

میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سرور نہیں آتا تو وہ پے درپے پیتا جاتا ہے یہانتک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آ جاتا ہے۔ دانشمند اور زیرک انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہانتک کہ اس کو سُرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذّت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسی سرور کو حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کر وہ لذّت حاصل ہو تو میں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذّت حاصل ہو جائے گی۔ پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اُس سے ہوتے ہیں اور احسان پیش نظر رہے۔ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِ (ھود: 115)۔ نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔ پس ان حسنات کو اور لذّات کو دل میں رکھ کر دُعا کرے کہ وہ نماز جو صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔

(ملفوظات جلد نہم صفحہ3 تا 8، ایڈیشن 1984ء)

نفس کے حقوق
جماعت کو اصلاح اخلاق کی ضرورت ہے

اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔ تقویٰ کا نُور اس کے اندر اور باہر ہو۔ اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو۔ اور بیجا غصّہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصّہ کا نقص اب تک موجود ہے تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بُغض پیدا ہو جاتا ہے۔ اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ اور مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقّت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چُپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ ہر ایک جماعت کی اصلاح اوّل اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔ چاہیئے کہ ابتدا میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بد گوئی کرے تو اس کے لئے دردِ دل سے دُعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے۔ اور دل میں کینہ کو ہر گز نہ بڑھاوے۔ جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔ پس جب تک تبدیلی نہ ہوگی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔ خدا تعالیٰ ہر گز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔ اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کروگے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤگے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ جماعت کا ایک حصّہ ابھی تک ان اخلاق میں کمزور ہے۔ ان باتوں سے صرف شماتت اعداء ہی نہیں ہے بلکہ ایسے لوگ خود بھی قرب کے مقام سے گرائے جاتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ سب انسان ایک مزاج کے نہیں ہوتے۔ اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے۔ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ (بنی اسرائیل: 85)۔ بعض آدمی ایک قسم کے اخلاق میں اگر عمدہ ہیں تو دوسری قسم میں کمزور۔ اگر ایک خُلق کا رنگ اچھا ہے تو دوسرے کا بُرا۔ لیکن تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصلاح ناممکن ہے۔

خَلق اور خُلق کے معنے

خُلق سے ہماری مراد شیریں کلامی ہی نہیں بلکہ خَلق اور خُلق دو الفاظ ہیں۔ آنکھ، کان، ناک وغیرہ جس قدر اعضاء ظاہری ہیں جن سے انسان کو حسین وغیرہ کہا جاتا ہے۔ یہ سب خَلق کہلاتے ہیں اور اس کے مقابل پر باطنی قویٰ کا نام خُلق ہے۔ مثلاً عقل، فہم، شجاعت، عفت، صبر وغیرہ اس قسم کے جس قدر قویٰ سرشت میں ہوتے ہیں وہ سب اسی میں داخل ہیں اور خُلق کو خَلق پر اس لئے ترجیح ہے کہ خَلق یعنی ظاہری جسمانی اعضاء میں اگر کسی قسم کا نقص ہو تو وہ نا قابل علاج ہوتا ہے۔ مثلاً ہاتھ اگر چھوٹا پیدا ہوا ہے تو اس کو بڑا نہیں کر سکتا۔ لیکن خُلق میں اگر کوئی کمی بیشی ہو تو اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔

ذکر کرتے ہیں کہ افلاطون کو علم فراست میں بہت دخل تھا اور اس کے دروازہ پر ایک دربان مقرر کیا ہوا تھا۔ جسے حکم تھا کہ جب کوئی شخص ملاقات کو آوے تو اوّل اس کا حُلیہ بیان کرو۔ اس حلیہ کے ذریعہ وہ اس کے اخلاق کا حال معلوم کر کے پھر اگر قابلِ ملاقات سمجھتا تو ملاقات کرتا ورنہ ردّ کر دیتا۔ ایک دفعہ ایک شخص اس کی ملاقات کو آیا۔ دربان نے اطلاع دی۔ اس کے نقوش کا حال سُنکر افلا طون نے ملاقات سے انکار کر دیا۔ اس پر اس شخص نے کہلا بھیجا کہ افلاطون سے کہدو کہ جو کچھ تم نے سمجھا ہے بالکل درست ہے۔ مگر میں نے قوت مجاہدہ سے اپنے اخلاق کی اصلاح کر لی ہے۔ اس پر افلاطون نے ملاقات کی اجازت دے دی۔ پس خُلق ایسی شئے ہے جس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اگر تبدیلی نہ ہو سکتی تو یہ ظلم تھا۔ لیکن دعا اور عمل سے کام لو گے۔ تب اس تبدیلی پر قادر ہو سکو گے۔ عمل اس طرح سے کہ اگر کوئی شخص مُمسک ہے تو وہ قدرے قدرے خرچ کرنے کی عادت ڈالے اور نفس پر جبر کرے۔ آخر کچھ عرصہ کے بعد نفس میں ایک تغیر عظیم دیکھ لے گااور اس کی عادت امساک کی دُور ہو جاوے گی۔ اخلاق کی کمزوری بھی ایک دیوار ہے جو خدا اور بندے کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔

(ملفوظات جلد ہفتم صفحہ127-129 ایڈیشن 1984ء)

بنی نوع کے حقوق
اپنی جماعت کے لئے ایک بہت ضروری نصیحت

آج کل زمانہ بہت خراب ہو رہا ہے۔ قسم قسم کا شرک بدعت اور کئی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ بیعت کے وقت جو اقرار کیا جاتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھوں گا۔ یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے۔ اب چاہیئے کہ اس پر موت تک خوب قائم رہے ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی اور اگر قائم ہو گے تو اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں برکت دے گا۔ اپنے اللہ کے منشا کے مطابق پُورا تقویٰ اختیار کرو۔ زمانہ نازک ہے۔ قہرِ الٰہی نمودار ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق اپنے آپ کو بنالیگا۔ وہ اپنی جان اور اپنی آل و اولاد پر رحم کرے گا۔

دیکھو انسان روٹی کھاتا ہے۔ جب تک سیری کے موافق پوری مقدار نہ کھا لے تو اُس کی بھوک نہیں جاتی۔ اگر وہ ایک بھورہ روٹی کا کھا لیوے تو کیا وہ بھوک سے نجات پائے گا؟ ہر گز نہیں۔ اور اگر وہ ایک قطرہ پانی کا اپنے حلق میں ڈالے تو وہ قطرہ اُسے ہر گز نہ بچا سکے گا بلکہ باوجود اس قطرہ کے وہ مرے گا۔ حفظ جان کے واسطے وہ قدر محتاط جس سے زندہ رہ سکتا ہے جبتک نہ کھا لے اور نہ پیوے نہیں بچ سکتا۔ یہی حال انسان کی دینداری کا ہے۔ جبتک اس کی دینداری اس حد تک نہ ہو کہ سیری ہو بچ نہیں سکتا۔ دینداری، تقویٰ، خدا کے احکام کی اطاعت کو اس حد تک کرنا چاہیئے جیسے روٹی اور پانی کو اس حد تک کھاتے اور پیتے ہیں جس سے بھوک اور پیاس چلی جاتی ہے۔

خوب یاد رکھنا چاہیئے۔ کہ خدا تعالیٰ کی بعض باتوں کو نہ ماننا اس کی سب باتوں کو ہی چھوڑنا ہوتا ہے۔ اگر ایک حصّہ شیطان کا ہے اور ایک اللہ کا تو اللہ تعالیٰ حصہ داری کو پسند نہیں کرتا۔ یہ سلسلہ اس کا اسی لئے ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف آوے۔ اگرچہ خدا کی طرف آنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ایک قسم کی موت ہے مگر آخرزندگی بھی اسی میں ہے۔ جو اپنے اندر سے شیطانی حصہ نکال کر پھینک دیتا ہے۔ وہ مبارک انسان ہوتا ہےاور اس کے گھر اور نفس اور شہر سب جگہ اس کی برکت پہنچتی ہے لیکن اگر اس کے حصہ میں ہی تھوڑا آیا ہے تو وہ برکت نہ ہوگی جب تک بیعت کا اقرار عملی طور پر نہ ہو۔ بیعت کچھ چیز نہیں ہے۔ جس طرح سے ایک انسان کے آگے تم بہت سی باتیں زبان سے کرو مگر عملی طور پر کچھ بھی نہ کرو تو وہ خوش نہ ہو گا۔ اسی طرح خدا کا معاملہ ہے وہ سب غیرت مندوں سے زیادہ غیرت مند ہے کیا ہو سکتا ہے کہ ایک تو تم اس کی اطاعت کرو پھر ادھر اس کے دشمنوں کی بھی اطاعت کرو اس کا نام تو نفاق ہے۔ انسان کو چاہیئے کہ اس مرحلہ میں زیدوبکر کی پروا نہ کرے۔ مرتے دم تک اس پر قائم رہو۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ75-76 ایڈیشن1984ء)

(ترتیب و کمپوزنگ: فضلِ عمر شاہدو خاقان احمد صائم، لٹویا)

پچھلا پڑھیں

جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا کی سالانہ کھیلیں 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 مئی 2022