• 30 ستمبر, 2020

خلافت علیٰ منہاج النبوۃ سے کیا مراد ہے؟

لفظ ’’منہاج‘‘ کی وضاحت

مادہ:ن ہ ج ہے۔ اس کے معنی واضح راستہ اور طریق کے ہیں۔ ایسا صاف اور واضح راستہ یا شاہراہ جس میں کوئی اُلجھاؤ نہ ہو۔

منہاج النبوۃ کے معانی اور مفہوم

منہاج نبوت ہے کیا اور یہ کون سا منہاج اور راستہ ہے جس کی بات کی جارہی ہے؟

نبوت کے تصوّر سے انسان قدیم سے مانوس اور متعارف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پا کر منصبِ نبوت پر مقرر کردہ انسان، گروہ انبیاء ہر قوم اور ملت میں معروف و مشہور ہیں۔ انبیاء کرام دراصل زمین پر خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ خلفاء ہی ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں سورۃ البقرہ:130 اور سورۃ صٓ:26 وغیرہ سے ظاہر ہے۔ اسی طرح انبیاء کے مشن کی تکمیل کرنے والے اور آگے بڑھانے والے اور اشاعتِ دین کو جاری رکھنے والے، انبیاء کے کامل جانشینوں کو بھی اپنے صدق اور ایمانی حالت کی سچائی کی وجہ سے خلفاء کہا گیا اور اُن کی خلافت نبوت کے ظلّی تسلسل کے طور پر جاری ہوتی ہے۔ تاکہ برکاتِ نبوت تا دیر دُنیا میں قائم رہیں۔ وہ منصب نبوت پر تو فائز نہیں ہوتے لیکن ایک گونہ مشابہت اور ظلّ کے طور پر کارِنبوت اور فرائض نبوت بجالاتے ہیں۔ یہی دراصل خلافت علیٰ منہاج نبوت ہے۔ اور یہی خلافتِ راشدہ اور خلافتِ حقّہ اسلامیہ ہے۔ کارِ نبوت اور منصبِ نبوت سے مشابہت اور مناسبت ہی کی وجہ سے اس ’’خلافت‘‘ (جانشینی) کو ’’خلافت علیٰ منہاجِ النبوۃ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی ایسے خلفاء جو اُسی شاہراہ پر آتے ہیں جو شاہراہِ نبوت اور رسالت ہے ۔

کون سی خصوصیات اس ’’منہاج النبوۃ‘‘ کو ممتاز کرتی ہیں

1۔ آیت استخلاف میں بیان فرمودہ لفظ ’’كَمَا‘‘ (مانند، جیسے کہ) کی پیشگوئی کا ظہور۔

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۵۵﴾

(النور:56)

ترجمہ:تم میں سے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالیٰ وعده فرما چکا ہے کہ اُنہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا۔ جیسے کہ اُن لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور یقیناً اُن کے لئے اُن کے اُس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے اُن کے لئے وه پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف وخطر کو وه امن وامان سے بدل دے گا، وه میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وه یقیناً فاسق ہیں۔

لفظ ’’كَمَا‘‘ کی پیشگوئی

ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کے بعد آنے والے خلفاء انبیاء تھے (یعنی اکثر و بیشتر) لیکن اُمّت محمدیہ میں خلفاء سے مُراد وہ وجود ہیں جو آنحضور ﷺ کے نقشِ قدم کی کامل پیروی کرنے والے اور منہاج نبوت پر فائز ہوں گے۔ یاد رہے کہ یہ بلند مرتبہ آنحضور ؐ کے عظیم مرتبے کی وجہ سے ہی اُمّت کے بعض جلیل القدر وجودوں کو حاصل ہوا ہے اور آنحضور ؐسے منسوب صحیح حدیث ہے کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِيْ إِسْرَائِيْل یعنی میری اُمّت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کی مانند ہیں۔ اس سے آیت استخلاف (النور:56) کی مشابہت کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔

2۔ یہ منہاج نبوت پر قائم خلافت ایک روحانی مقام اور منصب ہوگا نہ کہ دنیوی اور ظاہری بادشاہت۔ یہ خلافت نبوت کے فیوض اپنے اندر سموئے ہوئے ہوگی اور برکاتِ رسالت دُنیا تک پہنچانے کے لئے جاری ہوگی یہ کوئی دُنیوی یا سیاسی چیز نہیں ہوگی ۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ نبوت اور رسالت کوئی سیاسی یا دُنیاوی عہدہ نہیں نہ کوئی دُنیاوی نمبرداری یا حکومت کا نام ہے تو پھر نبوت کی خلافت (یعنی جانشینی) کیسے کسی دُنیاوی عہدے اور حکومت کا تصوّر بن گیا؟ ایک صاحب نے احمدیت کی دُشمنی میں کہا کہ دُنیاوی حکومت اور سیاست کے بغیر کوئی خلافت نہیں۔ دیکھو خلافتِ احمدیہ نے عرصہ سو سال میں بغیر کسی حکومت کے دینِ اسلام کی اشاعت کی وہ خدمات سرانجام دی ہیں جو پچاس مسلمان حکمرانوں نے مل کر بھی نہیں دیں ۔

3۔ خلیفہ خود اللہ تعالیٰ چنتا ہے۔ نبی کا انتخاب اللہ تعالیٰ براہ راست اپنے ہاتھوں سے کرتا ہے اور کوئی ہستی یہ اختیار اور قدرت نہیں رکھتی کہ اللہ تعالیٰ کے اس عمل میں دخل انداز ہو سکے اور ان انبیاء کی بعثت اس وقت ہوتی ہے جب ہر طرف تاریکی چھائی ہوتی ہے۔ ایسے میں خدا تعالیٰ کے مامور نبی تن ِ تنہا خدا تعالیٰ کی توحید کا پیغام بلند کرتے ہیں ۔

لیکن نبی کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ اُن کے ماننے والے متّقی اور خُدا ترس لوگوں کو یہ اعزاز دیتا ہے کہ وہ اُس کے ماننے والوں میں سے ایک جانشین کا انتخاب کریں ۔

یہ خُدا کی وہ قدرت اور منشاء ہے جسے وہ اپنے نبی کے مخلص متّبعین کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے ۔ یہ بات سمجھنی بہت ضروری ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے۔ مستقبل کے نئے خلیفہ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ اپنے سینکڑوں بندوں پر رؤیا اور کشوف کے ذریعہ سے اس حقیقت کو عیاں کر دیتا ہے اور ایک زمانے کو اس کا گواہ بنا دیتا ہے۔ اس سے یہ بات بہت آسانی سے سمجھ آنے لگتی ہے کہ اس خلیفہ کا انتخاب دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا اور منشاء ہے کہ جس بات کی وہ پہلے سے ہی اپنے بندوں کو خبر دے دیتا ہے وہ امر قدیم سے تقدیرات الہٰی میں ہوتا ہے اور یہی خدا تعالیٰ کے انتخاب کا ثبوت ہے ۔

(ڈاکٹر محمد علی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 10 جون 2020ء