• 19 جون, 2024

ربط ہے جان محمدؐ سے مری جاں کو مدام (قسط 25)

ربط ہے جان محمدؐ سے مری جاں کو مدام
توکل علی اللہ تعالیٰ
قسط 25

اللہ تعالیٰ انبیائے کرام علیھم السلام کے سپرد ایسا مشکل کام کرتا ہے جو اس ذات بابر کات پر کامل بھروسے اور توکل کے بغیر شروع ہی نہیں ہوسکتا۔ خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت پر ان کو ایسا اعلیٰ درجے کا یقین ہوتا ہے کہ وہ پورے وثوق سے دعوت الی اللہ کرتے ہیں اور مخالفین کو پوری تحدی سے اپنی کامیابی کے دعوے سناتے ہیں اللہ پاک اپنے وعدوں اور عمل سے یہ حوصلہ بڑھاتا رہتا ہے

یٰقَوۡمِ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکُمۡ مَّقَامِیۡ وَتَذۡکِیۡرِیۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡتُ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَکُمۡ وَشُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ لَا یَکُنۡ اَمۡرُکُمۡ عَلَیۡکُمۡ غُمَّۃً ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَیَّ وَلَا تُنۡظِرُوۡنِ

(یونس: 72)

اے میری قوم! اگر تم پر میرا مؤقف اور اللہ کے نشانات کے ذریعہ نصیحت کرنا شاق گزرتا ہے تو میں تو اللہ ہی پر توکل کرتا ہوں۔ پس تم اپنی تمام طاقت اکٹھی کر لو اور اپنے شرکاء کو بھی۔ پھر اپنی طاقت پر تمہیں کوئی اشتباہ نہ رہے پھر کر گزرو جو مجھ سے کرنا ہے اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَ قَدۡ ہَدٰٮنَا سُبُلَنَاؕ وَ لَنَصۡبِرَنَّ عَلٰی مَاۤ اٰذَیۡتُمُوۡنَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ

(ابرا ہیم: 13)

اور ہم کیوں نہ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔ حالانکہ اس نے ہمیں ہمارے (مناسب حال) راستے ہمیں دکھائے ہیں اور جو تم نے ہمیں تکلیفیں دی ہیں ہم ضرور ان پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔

وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا

اور اللہ پر توکل کر اور اللہ ہی کارساز کے طور پر کافی ہے۔

(الاحزاب: 4)

أَلَیْسَ اللّٰهُ بِکَافٍ عَبْدَهٗ

(الزمر: 37)

کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟

اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَیَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ

(المؤمن: 52)

یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور اُن کی جو ایمان لائے اِس دنیا کی زندگی میں بھی مدد کریں گے اور اُس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔

وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ

(الطلاق: 4)

اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو وہ (اس کی مدد اور حفاظت) کے لیے کافی ہے۔

قُلۡ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَاِلَیۡہِ مَتَابِ

(الرعد: 31)

تو کہہ دے وہ میرا ربّ ہے کوئی معبود اس کے سوا نہیں، اسی پرمَیں توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف میرا عاجزانہ جھکنا ہے۔

پس یہ آپؐ کے توکّل کی قرآنی گواہی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ اعلان کرنے کے لئے کہہ رہا ہے کہ مَیں جو تیرے دل کا بھی حال جانتا ہوں، مَیں یہ کہتا ہوں کہ اعلان کر دے کہ تو نے ہمیشہ مجھ پر توکّل کیا ہے۔

(بخاری کتاب البیوع باب کراھیۃ السخب فی السوق)

اللہ تعالیٰ نے آپؐ کا ایک نام متوکل رکھا۔ حضرت محمد عربی ﷺ اللہ تعالیٰ کی منشا کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے اور سب سے زیادہ عمل کرنے والے تھے آپؐ کی ساری زندگی توکل علی اللہ کے بے نظیر نمونوں سے بھری پڑی ہے۔ سارا بھروسہ، یقین اور توکل قادرو توانا اللہ تعالیٰ کی ذات پر تھا۔ زندگی میں کئی صبر آزما مقامات آئے مگر آپؐ نے توکل علی اللہ کے بہترین نمونے دکھائے آپؐ اپنی طرف سے صدقِ دل سے کوشش کرتے تھے اور پھر کام کے انجام کو خالقِ حقیقی کے سپرد کردیتے اور کامیابی کیلئے دعا میں لگ جاتے۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ آنحضور ﷺ کے توکل کے بارے میں فرماتے ہیں:
خدا تعالیٰ پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑدے بلکہ یہ معنے ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خداتعالیٰ پر چھوڑے اس کا نام توکل ہے۔ اگر وہ تدبیر نہیں کرتا اور صرف توکل کرتا ہے تو اس کا توکل پھوکا ہوگا اور اگر نری تدبیر کر کے اس پر بھروسہ کرتا ہے۔ اور خداتعالیٰ پر توکل نہیں ہے۔ تو وہ تدبیر بھی پھوکی ہوگی۔ ایک شخص اونٹ پر سوار تھا۔ آنحضرت ﷺکو اس نے دیکھا۔ تعظیم کے لئے نیچے اترا اور ارادہ کیا کہ توکل کرے اور تدبیر نہ کرے۔ چنانچہ اس نے اونٹ کا گھٹنا نہ باندھا۔ جب رسول اللہ ﷺ سے مل کر آیا تو دیکھا کہ اونٹ نہیں ہے۔ واپس آکر آنحضرت ﷺ سے شکایت کی کہ میں نے توکل کیا تھا لیکن میرا اونٹ جاتا رہا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تو نے غلطی کی۔ پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھتا، پھر توکل کرتا تو ٹھیک ہوتا۔

(ملفوظات جلد3 صفحہ566 ایڈیشن1988ء)

حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے اپنا سر اٹھا کر نظر کی تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دیکھے اس پر میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر کوئی نظر نیچی کرے گا۔ تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا:اے ابو بکرڈرومت۔ ہم دو ہیں ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے۔

(بخاری کتاب المناقب باب ہجرۃ النبیؐ)

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
’’اللہ اللہ کیا توکل ہے۔ دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنا نزدیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپؐ کو خدا تعالیٰ پر ایسایقین ہے کہ باوجود سب اسباب مخالف کے جمع ہوجانے کے آپ یہی فرماتے ہیں کہ یہ کیوں کر ہوسکتا ہے خدا تو ہمارے ساتھ ہے پھر وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں؟‘‘

(سیرۃ النبیؐ صفحہ94)

اللہ، اللہ، اللہ

ایک غزوہ سے واپسی کے موقع پر آرام کی غرض سے آپؐ ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔باقی صحابہ بھی الگ الگ آرام کر رہے تھے۔ایک دشمن آپؐ کی گھات میں تھا۔ اس نے آپؐ کی تلوار جو درخت سے لٹک رہی تھی۔ سونت لی اور آپؐ کو بیدار کر کے یوں للکارا کہ بتاؤ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ آپؐ لیٹے ہوئے تھے، کوئی ساتھی اور محافظ پاس نہ تھا، تلوار آپؐ کے سر پر لہرا رہی تھی۔ اس حالت میں تو بڑے بڑے بہادروں کا پِتاپانی ہو جاتا ہے۔ لیکن جرأت واستقامت اور توکل علی اللہ کی شان دیکھیے کہ آپؐ نے نہایت پرُ سکون اور پر اعتماد انداز میں فرمایا: ’’اللہ، اللہ،اللہ‘‘ یہ پرشوکت لفظ سن کر دشمن پر کپکپی طاری ہو گئی۔ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ آپؐ اٹھے، تلوار اپنے ہاتھ میں لی اور حملہ آور سے کہا کہ اب تم بتاؤ کہ تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ بےچارہ اس قدر مبہوت ہوا کہ آپؐ کے قدموں میں گر گیا۔ آپؐ نے اسے جانے دیا۔ ایسا توکل، ایسی جرأت اور ایسا عفو تو اس انسان نے کبھی ساری زندگی نہ دیکھا ہو گا۔اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ واپس اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا کہ میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو دنیا کا بہترین انسان ہے!کیاہی سچی بات ہے جو اس دیہاتی کی زبان سے جاری ہوئی۔

(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات الرقاع)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو توکل کا درس دیا۔ فرماتے ہیں:

جو شخص گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ

’’… میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلتا ہوں اور اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، اور نہ کسی بھی کام کی قدرت میسر آسکتی ہے نہ قوت، مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے… تو اس کو کہہ دیا جاتا ہے کہ تو نے ہدایت پائی، تیری کفالت کردی گئی، تجھے ہر شر سے بچادیا گیا اور شیطان اس سے دور ہٹ جاتاہے۔‘‘

(ابوداؤد، ترمذی)

’’اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسے اس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گاجیسے پرندوں کو عطا فرماتا ہے کہ وہ صبح کے ‏وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اورشام کو سیر ہوکر لوٹتے ہیں۔‘‘

(ترمذی، ابواب الزھد، باب فی التوکل علی اﷲ حدیث2351)

پھر ایک دعا کا اس طرح ذکرآتا ہے کہ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ جب آپؐ رکوع میں جاتے تو یہ دعا کرتے تھے کہ:

اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ اَسْلَمْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ أَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ سَمْعِیْ صَرِیْ وَدَمِیْ وَلَحْمِیْ وَعَظْمِیْ وَعَصْبِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

کہ اے اللہ! مَیں نے تیرے لئے رکوع کیامیں تجھ پر ایمان لایا، تیرے لئے مسلمان ہوا، اور تجھ پر توکل کیا۔ تو ہی میرا رب ہے۔ میری سماعت اور بصارت، خون اور گوشت اور ہڈیاں اور اعصاب اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہیں۔ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

(النسائی کتاب التطبیق باب نوع آخر)

حضرت اقدس مسیحِ موعودؑ فرماتے ہیں:
’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل متبتل تھے ویسے ہی کامل متوکّل بھی تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم وقبائل کے سرداروں کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متأثر نہ ہوئے۔ آپؐ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا۔ اسی لئے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپؐ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔ یہ بڑا نمونہ ہے توکل کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ اس لئے کہ اس میں خدا کو پسند کرکے دنیا کو مخالف بنا لیا جاتا ہے۔ مگر یہ حالت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کو نہ دیکھ لے، جب تک یہ امیدنہ ہو کہ اس کے بعد دوسرا دروازہ ضرور کھلنے والا ہے۔ جب یہ امید اور یقین ہو جاتا ہے تو وہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنا لیتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اور دوست بنا دے گا۔ جائیداد کھو دیتا ہے کہ اس سے بہتر ملنے کا یقین ہوتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدا ہی کی رضا کو مقدم کرنا توتبتّل ہے اور پھر تبتّل اور توکل توام ہیں۔ یعنی تبتّل کا راز توکّل ہے اور توکّل کی شرط ہے تبتّل۔ یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔‘‘

(الحکم جلد5 نمبر37، 10؍اکتوبر 1901ءصفحہ3)

آنحضورؐ کے ظل اور عکس
حضرت مسیح موعود ؑکا توکل علی اللہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے اصلاحِ خلق پر مامور فرمایا تو ساتھ ہی ان کی جمعیت خاطر اور تقویت قلب کے لئے اپنی تائیدونصرت پر ایمان کے لئے کثرت سے الہام فرمائے۔ آپؑ کو الہام ہوا:

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ

یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لیے کافی نہیں

آپؑ نے تحریر فرمایا:
’’اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں دھنس گیا پس مجھے اس خدا ئے عزّ و جل ّ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کرکے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔ میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفل نہیں ہوگا۔‘‘

(تذکرہ صفحہ20)

اللہ تعالیٰ نے آپؑ کا نام بھی متوکل رکھا۔

(حمامة البشریٰ، روحانی خزائن جلد2 صفحہ183)

لَا تَخَفۡ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰی۔ لَا تَخَفۡ ۟ اِنِّیۡ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الۡمُرۡسَلُوۡن۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفَئُوْا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَلَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ

کچھ خوف مت کر تو ہی غالب ہوگا۔ کچھ خوف مت کر کہ میرے رسول میرے قرب میں کسی سے نہیں ڈرتے دشمن ارادہ کریں گے کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے خدا کے نور کو بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کرے گا اگرچہ کافر کراہت ہی کریں۔

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ92)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا:

اِنَّ اللّٰہَ مَعَکَ اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْمُ اَیْنَمَا قُمْتَ

یعنی خدا تیرے ساتھ ہے خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو

(ضمیمہ انجام آتھم، روحانی خزائن جلد11 صفحہ301 حاشیہ)

ایسے لا تعداد الہام ہیں جب یہ یقین ہو کہ خدا ساتھ کھڑا ہے اور طفل شیر خوار کی طرح گود میں رکھتا ہے تو تائید الٰہی پر بھروسے کا عالم آپؑ کی ساری زندگی میں نظر آتا ہے۔ جس طرح ہندو سکھ عیسائی اور مسلم سب مل کر مخالفت پر اتر آئے تھے جہاد کرتے چلے جانا دل گردے کا کام ہے۔ پیشگوئیوں پر اعتراضات سن کر کبھی بھی گھبرائے نہیں بلکہ پورے یقین سے کمال جرأت و حوصلہ سے فرماتے ہیں:
’’میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا۔‘‘

(اشتہار تکمیل تبلیغ مورخہ 12؍جنوری 1889ء مجموعہ شتہارات جلد1 صفحہ208 حاشیہ)

مضمون بالا رہا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسۂ اعظم مذاہبِ عالم لاہور میں پیش کرنے کے لئے مضمون ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ مکمل کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً یہ خوشخبری دی کہ:
’’مضمون بالا رہا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ291)

آپؑ نے عام جلسے سے پانچ چھ روز قبل ایک اشتہار دیا اور اس میں فرمایاکہ یہ مضمون انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے۔آپؑ نے فرمایا کہ خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئےگا۔پس دوست اپنا اپنا حرج بھی کرکے اس مضمون کو سننے کے لیے ضرور تاریخ جلسہ پر آویں۔

آپ ؑ کا یہ اشتہار جو ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل تھا ملک کے دور دراز مقامات تک پھیلایا گیا، لاہور کے درو دیوار پر بھی چسپاں کیا گیا اور لوگوں میں کثرت سے تقسیم بھی کیاگیا۔ آپؑ کا فرمانا کہ یہ مضمون خاص اللہ کی تائید کا نشان ہے، آپؑ نے تحدی سے لکھا کہ یہ مضمون تمام دیگر تقاریر پر غالب رہے گا، اور آپ کا پورے اعتماد سے لوگوں کو دعوت دینا کہ اپنا حرج کرکے بھی اس مضمون کو سننے کے لیے آئیں اور پھر آپؑ کا قبل از وقت اس الہام کوکثرت سے شائع کرکے لوگوں میں تقسیم کردینا یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ آپؑ کو اللہ تعالیٰ کے کلام پر اور اس کی نصرت پر کامل یقین تھا۔

ایسا دعویٰ ہر گز انسان کے بس کی بات نہیں کیونکہ کوئی کتنا ہی قادر الکلام کیوں نہ ہوایسا دعویٰ نہیں کرسکتا لیکن حضرت اقدس علیہ السلام کو خدا کی تائید ونصرت پر کامل یقین تھا۔ اور آپؑ کو پورا اعتماد تھا کہ جس خدا نے مجھے غلبے کا وعدہ دیا ہے وہی لوگوں کے دلوں کوبھی میرے مضمون کی طرف پھیرے گا۔

آپؑ کے مضمون کو ناقابل تردید حقیقت کی طرح پذیرائی حاصل ہوئی۔ ہزاروں لوگ جن میں مخالف بڑی تعداد میں تھے مضمون سننے آئے۔ حاضرینِ جلسہ کے اصرار پر نہ صرف اُس روز کی کارروائی کے وقت میں اضافہ کیا گیا بلکہ جلسےکا ایک دن صرف اس مضمون کو مکمل کرنے کے لیے مزید بڑھایا گیا۔

اگر میں سچا ہوں تو مسجد مل کے رہے گی

جب جماعت احمدیہ کپورتھلہ کی مسجد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی اور بالآخر یہ معاملہ عدالت میں پہنچا تو جس جج کے پاس یہ مقدمہ گیا وہ جماعت کا سخت مخالف تھا۔ اس کی وجہ سے کپورتھلہ کی جماعت کو بڑی فکر ہوئی اور وہ اسی فکرمندی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لیے عرض کرتے۔ ایک دن حضرت اقدسؑ نے غیرت اور جلال سے فرمایا:
’’گھبراؤ نہیں۔ اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد تمہیں ضرور مل کر رہے گی۔‘‘

اس جج نے کپورتھلہ کے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھ دیا۔جس دن اس نے فیصلہ سنانا تھا اس روز وہ صبح دفتر آنے کے لئے تیار ہو رہا تھا کہ اچانک اس کو دل کا حملہ ہوا اور وہ ختم ہوگیا۔ فیصلہ سنانے کی نوبت نہ آئی۔ دوسرے جج نے احمدیوں کے حق میں فیصلہ دیا۔

(خلاصہ از سیرت المہدی مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمدؓ ایم اے روایت79)

جب میرا کیسہ خالی ہو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی کفالت پر کس قدر بھروسہ تھا۔ آپؑ فرماتے ہیں:
’’میں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں جیسے سخت حبس ہوتا ہے اور گرمی کمال شدت کو پہنچ جاتی ہے، لوگ وثوق سے امید کرتے ہیں کہ اب بارش ہوگی۔ایسا ہی جب اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پریقین واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘

(ملفوظات، جلد1 صفحہ297)

پھر آپؑ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر فرماتے ہیں:
’’جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے جو ذوق و سرور خدا تعالیٰ پر توکل کا اُس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے میں اُس کی کیفیت بیان نہیں کرسکتا اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کیسہ بھرا ہوا ہو۔‘‘

(ملفوظات جلد1 صفحہ297)

کہ یہ جاں آگ میں پڑ کرسلامت آنے والی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ میں ایسے فنا تھے اور خدا بھی آپ سے ایسی محبت کرتا تھا کہ آپ کو اپنے رب کی غیر معمولی تائید ونصرت اور حفاظت پر ناز تھا۔ ایک دفعہ جب ایک ہندو نے اسلام پر یہ اعتراض کیا کہ قرآن نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ بات قانون قدرت کے خلاف بیان کی ہے کہ دشمنوں نے ان کو آگ میں ڈالا اور خدا کے حکم سے آگ ان پرٹھندی ہوگئی تو حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ حقیقی آگ مراد نہیں بلکہ جنگ اور مخالفت کی آگ مراد ہے۔ جب حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ جواب سنا تو آپؑ نے بڑےجلال کے ساتھ فرمایا:
’’اس تاویل کی ضرورت نہیں۔حضرت ابراہیم کا زمانہ تو گزر چکا۔اب ہم خدا کی طرف سے اس زمانہ میں موجود ہیں ہمیں کوئی دشمن آگ میں ڈال کر دیکھ لے کہ خدا ا ُس آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے کہ نہیں۔آج اگر کوئی دشمن ہمیں آگ میں ڈالے گا تو خدا کے فضل سے ہم پر بھی آگ ٹھنڈی ہوگی۔‘‘

(سیرت المہدی، مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمدؓ ایم اے، روایت147)

اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود ؑسے حفاظت کا بار بار وعدہ فرمایا:
’’خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے وہ وعدہ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ کا ہے۔ پس اسے کوئی مخالف آزمالے اور آگ جلاکر ہمیں اس میں ڈال دے آگ ہرگز ہم پر کام نہ کرے گی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے مطابق بچالے گا لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں یہ طریق انبیاء کا نہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ

(البقرہ: 196)

’’پس ہم خود آگ میں دیدہ دانستہ نہیں پڑتے بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلانا چاہیں تو ہم ہرگز نہیں جلیں گے۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم صفحہ480)

ترے مکروں سے اے جاہل مرا نقصاں نہیں ہر گز
کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے

خدا تعالیٰ نے تو حضرت اقدس علیہ السلام کو الہاماً یہ بھی فرمایا کہ تو لوگوں سے کہہ دے:
’’آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔‘‘

(البدر جلد1 نمبر5 6 28؍نومبر 5؍دسمبر 1902ء صفحہ34)

ہے سرِ رہ پر مرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم
پس نہ بیٹھو میری رہ میں اے شریرانِ دیار

اللہ تعالیٰ کے لیے لوہے کے کنگن

’’ایک بار جب سپرنٹنڈنٹ پولیس لیکھرام کے قتل کے شبہ میں اچانک قادیان آیااور حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کواِس کی اطلاع ہوئی تووہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے پاس گئے۔غلبہ رقت کی وجہ سے بڑی مشکل سے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ وارنٹ گرفتاری کے ساتھ ہتھکڑیاں لیے ہوئے آرہا ہے۔ حضرت اقدس علیہ السلام اس وقت اپنی کتاب ’’نورالقرآن‘‘ تصنیف فرما رہے تھے۔ سر اٹھا کر اطمینان سے مسکراتے ہوئے فرمایا:
’’میر صاحب! لوگ خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہناہی کرتے ہیں ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لیے۔ مگر ایسانہ ہوگا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے خلفائے مامورین کی ایسی رسوائی پسند نہیں کرتا۔‘‘

(ملفوظات جلد1 صفحہ279)

طاعون کے زمانے میں آپؑ کا یقین اور توکل

جس زمانے میں طاعون زوروں پر تھا اور پورے ہندوستان میں شہروں کے شہر خالی ہورہے تھے انگریز حکومت نے ٹیکےکا انتظام کیا تاکہ لوگوں کی جان بچائی جاسکے۔ طاعون کے پھوٹنے سے بہت پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اس ملک میں نشان کے طور پر طاعون پھیلے گا اور اُس وقت چونکہ طاعون کا نام و نشان نہ تھا لوگوں نے آپؑ کا خوب استہزا کیا۔ آپ نے یہ پیشگوئی بھی شائع فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ:

’’اِنِّی اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ‘‘

یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہےمیں اس کو بچاؤں گا۔

(الحکم جلد6 نمبر16 مورخہ 30؍اپریل 1902ء صفحہ7)

طاعون کی وجہ سے چاروں طرف موتا موتی کا عالم تھا۔ لیکن ذرا دیکھیے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو خدا کی نصرت پر کیسا اعلیٰ درجےکا یقین تھا۔ آپؑ نے فرمایا کہ چونکہ طاعون میری تائید میں ایک نشان ہے اس لیے اگر ٹیکہ لگواکے ہم اس وبا سے محفوظ رہے تو اِس نشان کی عظمت کو کم کرنے والے ہوں گے۔لہٰذا میں ٹیکہ نہیں لگواؤں گا اور اس کے باوجود طاعون سے بچایا جاؤں گا بلکہ وہ سب بھی بچائے جائیں گے جو میری چار دیواری کے اندر رہتے ہیں۔اور آپؑ نے فرمایا کہ میرے منجانب اللہ ہونے کایہ نشان ہوگا کہ میری جماعت بھی نسبتاً و مقابلۃً طاعون کے حملے سے بچی رہے گی۔پس نہ صرف آپؑ خود محفوظ رہے بلکہ آپؑ کے سچے پیروکار بھی اس مہلک بیماری سے ٹیکا لگوائے بغیر اللہ کی حفاظت میں رہے۔

اسی زمانے میں مولوی محمد علی صاحب جو ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں مقام پذیر تھے ان کو بخار ہوگیا۔ مولوی صاحب نے گھبراہٹ کے عالم میں حضورؑ سے ذکر کیا اور یہ فکر ظاہر کی کہ انہیں طاعون ہوگیا ہےتو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انتہائی اعتماد اور یقین سے فرمایا:
’’مولوی صاحب اگر آپ کو طاعون ہوگئی ہے تو پھر میں جھوٹا ہوں اور میرا دعویٰ الہام غلط ہے۔‘‘

(خلاصہ از حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ265)

اور پھر چند ہی لمحات میں بخار بھی اتر گیا
اور آپ بالکل صحت یاب ہوگئے

جس زمانے میں حضرت اقدس علیہ السلام کے خلاف کرم دین کی طرف سے ایک لمبا مقدمہ چل رہا تھا آریوں نے اس کیس کے ہندو مجسٹریٹ کو جس کا نام چندو لال تھا خوب اکسایا اور حضرت اقدسؑ کا نام لے کر اسے کہا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کا قاتل ہے۔ اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظرآپ کی طرف ہے۔ اگر آپ نے اس شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوں گے۔ اس پر مجسٹریٹ نےاپنا یہ ارادہ ظاہر کیا کہ اگلی پیشی میں وہ کچھ ایسا کرے گا کہ بغیر ضمانت قبول کیے نعوذ باللہ حضور کو گرفتار کروا کے حوالات میں دے دے گا۔

حضرت اقدس علیہ السلام کے جاں نثار صحابہ کو اس کی خبر قبل از وقت مل گئی تھی اور سب بے حد پریشان تھے۔جب یہ سارا ماجرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا گیا اور شکار کا لفظ آیا تو حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے۔ آپؑ یکلخت اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپؑ کی آنکھیں چمک اُٹھیں اور چہرہ سُرخ ہوگیا اور آپؑ نے فرمایا:
’’میں اُس کا شکار ہوں! میں شکار نہیں ہوں۔ میں شیرہوں، اور شیر بھی خدا کا شیر۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتاہے؟ ایسا کر کے تو دیکھے۔‘‘

یہ الفاظ کہتے ہوئے آپؑ کی آواز اتنی بلند ہوگئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اُٹھے۔ حضور نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دوہرائے اور اُس وقت آپؑ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔پھر آپؑ نے فرمایا:
’’میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کرونگا۔‘‘

(سیرت المہدی مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے روایت 107)

جس پیشی میں اس مجسٹریٹ کا ارادہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حوالات میں دے دے گا وہ پیشی ملتوی ہوگئی۔ مجسٹریٹ کا گورداسپور سے تبادلہ ہوگیا۔ اور پھر اس کا تنزل بھی ہو گیا۔ پس جو کہتا تھا کہ مسیح دوراں اس کا شکار ہے وہ خود ذلت کا شکار ہوا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام اور خدا کا کلام:

اِنِّی مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ

کہ جو تیری ذلت کا ارادہ کرے گا میں اسے ذلیل کردوں گا ایک قہری تجلی کے ساتھ پورا ہوا۔

اللہ تعالیٰ کے ان گنت نشان اور ان گنت واقعات کا ا حا طہ ممکن نہیں۔ دعا ہے کہ ہمیں بھی اپنے پیاروں کی اتباع میں توکل کی حقیقی روح پر قائم رہنے کی توفیق ملے۔ آمین اللّٰھم آمین۔

(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

وطن سے محبت، ایمان کا حصّہ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جون 2022