• 5 اکتوبر, 2022

ایک سچا معجزہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’بیلجیم سے افریقہ کے ایک دوست جو بڑے عرصے سے وہیں رہ رہے ہیں، بن طیب ابراہیم (Ben Tayab Ibrahim)۔ وہ جلسہ میں شامل ہوئے۔ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے ان کا جماعت سے تعارف ہوا تھا اور پروگراموں میں انہوں نے شرکت کی، یورپین مہمانوں کے لئے علیحدہ مارکی میں کھانے کا انتظام ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ جنرل مارکی میں کھانا کھانے کے لئے جاتے تھے اور عالمی بیعت اور باقی سب خطابات سے بڑے متاثر ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت میں شامل ہو کے جماعت میں داخل ہو گئے۔

بیلجیم سے ایک اور دوست سانی نووہ (Sani Novho) بھی جلسہ میں شامل ہوئے۔ موصوف بیلجیم میں موجودنائیجر کمیونٹی کے ممبر ہیں۔ اس کمیونٹی کا اپنا سینٹر ہے۔ انہوں نے اپنا ایک نمائندہ بھیجا کیونکہ ان کی کمیونٹی کے لوگ احمدیت کی طرف آ رہے ہیں اور احمدیت قبول کر رہے ہیں۔ جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر ان کے بائیس افرادنے بیعت کی تھی۔ برسلز میں موجود ان کے سینٹر میں ممبرز کی تعداد اب کم ہوتی جا رہی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں یہ لوگ شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ کمیونٹی کی جو انتظامیہ ہے اُس نے موصوف کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا تھا کہ وہ یہاں آ کر دیکھیں کہ کس طرح کی جماعت ہے اور کیا وجہ ہے کہ ہمارے لوگ ہمیں چھوڑ کر اُن کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ یہ صاحب جب جلسہ میں شامل ہوئے اور جو ذہن لے کر آئے تھے کہ جماعت کی غلطیاں اور خامیاں تلاش کرنی ہیں تا کہ واپس جا کر لوگوں کو کہہ سکیں کہ تم جس جماعت میں شامل ہوتے ہو، اُن کے فلاں فلاں غلط عقائد ہیں اور ان کے اندر فلاں فلاں خامیاں موجود ہیں۔ موصوف نے جلسہ کی تمام کارروائی سنی، روزانہ شام کو مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی تو اس سے اُن کی کافی تسلی ہوتی اور میرے سے بھی تھوڑی دیر کے لئے ان کی بات ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے پورے جلسہ میں کوئی بھی غیر اسلامی بات نظر نہیں آئی۔ اور پھر کہتے ہیں کہ آپ کے خطابات کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔ مَیں جلسہ میں شامل ہو کر بہت خوش ہوں۔ آپ کا جلسہ ایک غیر معمولی ایونٹ (event) ہے اور مَیں تمام کارکنان اور خدمت کرنے والوں کے اخلاص اور محبت سے بہت متأثر ہوں۔ تاجکستان جماعت کے صدر عزّت اَمان کو اس سال جلسہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔ یہ شاید پہلے بھی آچکے ہیں۔ بہرحال کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے بارے میں مَیں عرض کرتا ہوں کہ جو دیکھا ہے وہ الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی طرح الفاظ میں جلسہ سالانہ کی تصویر کَشی کی جا سکتی ہے تو صرف یہ ہی الفاظ میرے ذہن میں آتے ہیں کہ ’’ایک سچا معجزہ‘‘ دوسرا کوئی لفظ یا الفاظ میرے ذہن میں نہیں آتے۔ جلسہ میں شامل احباب کے دل خلیفہ وقت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عشق سے پُر ہیں اور یہی محبت اُنہیں دن رات جماعت کی خدمت میں لگائے رکھتی ہے۔ جلسہ سالانہ کے ان چند دنوں میں مجھے جلسے کے انتظامات میں کوئی بھی سقم نظر نہیں آیا۔ تمام انتظامات کا معیار نہایت اعلیٰ تھا۔ پھر کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ ہزاروں لوگ جلسہ سالانہ دیکھ کر اور اس میں بیان کی جانے والی باتیں سن کر اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے والے بن گئے ہوں گے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہوا ہو۔

تاتارستان کی ایک احمدی خاتون کو جلسہ میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ کہتی ہیں جلسہ سالانہ میں شمولیت پر میرا دل جذباتِ شکر سے معمور ہے۔ جلسے میں شمولیت کی توفیق پانے پر میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات کا شکر ادا کرتی ہوں۔ اُس کے بعد خلیفہ وقت کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ نیز اُن تمام لوگوں کی شکر گزار ہوں جنہیں جلسہ سالانہ کے انتظامات میں دن رات اَنتھک محنت کرنے کی توفیق ملی۔ میری ذات پر اس بات نے گہرا اثر چھوڑا ہے کہ کس طرح ساری دنیا سے آئے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے محبت اور مہمان نوازی کے جذبات سے سرشار، مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ ملتے ہیں۔ مجھے جلسہ میں پہلی بار شامل ہونے کا موقع ملا۔ تا ہم اس سے قبل اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے پر جلسہ کی کارروائی سے مستفیض ہوتی رہی ہوں۔ جلسہ کے ماحول میں پہنچنے کے بعد بڑی شدت سے مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ میں ایک روحانی دنیا میں آ گئی ہوں جو محبت اور امن اور بھلائی والی دنیا ہے۔ کہتی ہیں بہت گہرائی کے ساتھ مَیں یہ محسوس کر رہی تھی کہ اپنی ایک بڑی اور متحد فیملی میں ہوں جہاں خدائے واحد و یگانہ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نیز آپ کے عاشقِ صادق حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام سے محبت دلوں پر راج کرتی ہے۔ جہاں افرادِ جماعت آپس میں محبت و شفقت اور عزت کے جذبات ایک دوسرے کے لئے رکھتے ہیں۔ مَیں بڑی ہی خوش قسمت ہوں کہ مَیں احمدیہ مسلم جماعت سے تعلق رکھتی ہوں۔ مجھ پر جلسہ سالانہ کا ایسا گہرا اثر ہے کہ مَیں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے سال جلسہ سالانہ پر میں اپنے سارے بچوں اور والدہ کو بھی لے کر آؤں گی، ان شاء اللہ‘‘

(خطبہ جمعہ 6؍ستمبر 2013ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

تاجر اور قاضی

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 اگست 2022