• 22 ستمبر, 2021

خطبہ مؤرخہ 27 اگست 2021ء بشکل سوال و جواب

خطبہ حضور انور ایدہ اللہ بمورخہ مؤرخہ 27 اگست 2021ء
بشکل سوال و جواب

سوال: حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے جنگِ رے کے تناظر میں کس مشہور مفسّرِقرآن کا ذکر فرمایا؟

جواب: حضرت امام فخر الدّین راضیؒ

سوال: فتوحاتِ قومیس، جُرجان،آذربائیجان،خراسان کس سنِ ہجری میں ہوئیں؟

جواب: 22 ؍ہجری

سوال: امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کے عامل عُتبہ بن فَرقَد کی جانب سے آذربائیجان کے باشندوں اَور وہاں آئندہ آباد ہونے والوں کو دِی گئی اَمان کس چیز سے مشروط تھی نیز کون اِس مجوّزہ شرط کے اِطلاق سے مُستثنیٰ قرار پائے؟

جواب: اپنی طاقت کے مطابق جِزیہ کی ادائیگی؍ بچّے، عورت، بے مال (لمبے بیمار اَور عابد گوشہ نشین) نیز فوجی ڈیوٹی کرنے والے

سوال: حضرت عمر فاروقؓ نے آرمینیا کی مہم کی غرض سے سپہ سالارِ اعلیٰ کن کو مقرّر فرمایا نیز ہراوَل دستوں کی کمان کن کے سپُرد کی؟

جواب: سُراقہ بن مالک بن عَمرو ، عبدالرّحمٰن بن ربیعہ

سوال: حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے آذربائیجان اور آرمینیا کے صلح کے معاہدوں کے تناظر میں ہر جگہ ہونے والے معاہدوں میں مذہبی اَور شریعتی آزادی ہونے کا بیان فرما کر کس الزام کی تردید فرمائی؟

جواب: جو الزام لگایا جاتا ہے کہ مذہب تلوار سے پھیلایا ہے اسلام نے ،کسی کو نہیں کہا گیا کہ زبردستی اسلام لاؤ

سوال: حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے مَرورُوذ کی وجۂ تسمیہ کیا بیان فرمائی؟

جواب: مَرو اُس سفیدپتھر کو کہتے ہیں جِس میں آگ جلائی جاتی ہے نہ وہ سیّاہ ہوتا ہے نہ سرخ اور رُوذ فارسی میں دریا کو کہتے ہیں گویا یہ دریا کا مَرو ہؤا

سوال: بلخ کن کی فتوحات میں شامل ہے؟

جواب: اہلِ کوفہ

سوال: حضرت عمر فاروقؓ نے فتح خراسان کی خبر سُن کر اِرشاد فرمایا! ’’مَیں چاہتا تھا کہ اِن کے خلاف کوئی لشکر نہ بھیجا جاتا اور میری خواہش تھی کہ اُن کے اور ہمارے درمیان آگ کا سمندر حائل ہوتا۔‘‘

حضرت علیؓ بن ابی طالب نے اِس خوشی کی خبر پر پریشانی کی وجہ دریافت کی تو آپؓ نے کیا حکمت بیان فرمائی؟

جواب: ’’ہاں! خوشی کی بات ہے مگر پریشان اِس بات پر ہوں کہ یہ لوگ تین مرتبہ عہد شکنی کریں گے‘‘

سوال: حضرت عمر فاروقؓ نے اَحنف بن قیس کےمَرو کے دونوں شہر وں پر قبضہ اوربلخ کے فتح کرنے کی اطلاع ملنے پر اُنہیں کیا قرار دیا نیز تحریرًاکس امر کی خصوصی تلقین فرمائی؟

جواب: اہلِ مشرق کا سردار؍ دریا کو عبور کرنے سے پرہیز کرو وَرنہ تم نقصان اٹھاؤ گے

سوال: شاہِ ایران یَزدَجرد کےمدد طلب کرنے پر شہنشاہِ چین نے مسلمانوں کے حالات و وَاقعات سننے کے بعد اُسے کیا لکھا؟

جواب: تمہارے قاصد نے جو مسلمانوں کی صفات بیان کی ہیں میرے خیال میں اگر وہ پہاڑ سے بھی ٹکرا جائیں تو اُسے ریزہ ریزہ کر دیں اور اگر مَیں تمہاری مدد کے لیئے آؤں تو جب تک وہ اِن اوصاف پر قائم ہیں ۔۔۔ تو وہ میرا تخت بھی چھین لیں گے اور مَیں اُن کا کچھ بگاڑ نہ سکوں گا

سوال: شاہِ ایران یَزدَجرد کن کے دورِ خلافت میں قتل ہؤا؟

جواب: حضرت عثمان غنیؓ

سوال: مسلمانوں کے متعلّق حضرت عمر فاروقؓ کے اِس خدشہ کے اظہار کہ ’’مجھے اِس وقت امّتِ مسلمہ کی تباہی و بربادی کا صرف تمہی سے اندیشہ ہے۔‘‘ کی بابت حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کیا تصریح فرمائی؟

جواب: ’’(حضرت عمر فاروقؓ نے) فرمایا! مجھے یہ خطرہ نہیں کہ دشمن مسلم اُمّہ کو تباہ کرے گا بلکہ مسلم امّہ کی تباہی کا صرف تمہیں مسلمانوں سے ہی اندیشہ اور خوف ہے اور آج ہم دیکھ رہے کہ یہی بات سچ ثابت ہو رہی ہے مسلمان ہی مسلمان کی گردنیں مار رہا ہے ،اُن کو ختم کر رہا ہے، ایک دوسرے پر حملہ کر رہا ہے، مُلک مُلک پر چڑھائی کر رہے ہیں اور کہنے کو یہ جہاد ہے لیکن مسلمان مسلمان کو قتل کر رہا ہے‘‘

سوال: ساسانی بادشاہوں کے قدیم مرکزی اور مقدس مقام کا کیا نام تھا؟

جواب: اِستَخر

سوال: کنہوں نے فتح اِستَخرکے موقع پر تمام مسلمان فوجوں کو لوٹ مار سے روکا اور چھینی ہوئی چیزوں کی واپسی کا حکم دیا نیز فرمایا!

’’ہمارا معاملہ ہمیشہ بامِ عروج پر رہے گا اور ہم تمام مصائب سے محفوظ رہیں گے جب تک ہم چوری اور خیانت نہ کریں، جب ہم مالِ غنیمت میں خیانت کرنے لگیں گے تو یہ نا پسندیدہ باتیں ہمارے اندر نظر آئیں گیں، یہ برے کام ہماری اکثریت کو لے ڈوبیں گے۔‘‘

جواب: سپہ سالار حضرت عثمان بن العاص

سوال: کس کتاب ِسیرت کے مطابق حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ {حضرت عمرؓ نے ایک لشکر حضرت ساریہ کی سرکردگی میں روانہ فرمایا، ایک دن جبکہ حضرت عمرؓ خطاب کر رہے تھے کہ اچانک اونچی آواز میں کہنے لگے۔

یَا سَارِیَۃَ الْجَبَلَ۔

اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ۔‘‘

جواب: دلائل النبوّۃ

سوال: سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے اِ س الزام کو کہ صحابۂ کرامؓ سے ایسے الہامات ثابت نہیں ہوئے بالکل بے جاء اور غلط قرار دیتے ہوئے احادیثِ صحیحہ کی رُو سے کیا دلیل بطورِ اِستدلال پیش فرمائی ہے؟

جواب: ’’حضرت عمرؓ کا ساریہ کے لشکر کی خطرناک حالت سے بااعلام الٰہی مطلع ہو جانا جس کو بیقہی نے ابن عمرؓ سے روایت کیا ہے اگر الہام نہیں تو اور کیا تھا اور پھر اُن کی آواز کہ

یا ساریۃ الجبل الجبل

مدینہ میں بیٹھے ہوئے منہ سے نکلنا اور وہی آواز قدرتِ غیبی سے ساریہ اور اُس کے لشکر کو دور دراز مسافت سے سنائی دینا اگر خوارق عادت نہیں تو اور کیا چیز ہے‘‘

سوال: فتوحاتِ کِرمان، سجستان اور مُکران کس سنِ ہجری کی ہیں؟

جواب: 23؍ہجری

سوال: طبری نے فتوحاتِ فاروقی کی اخیر حدّ کیا بیان کی ہے؟

جواب: مکران

سوال: مؤرخ بلاذری نے فتوحاتِ فاروقی کی حدّ سندھ کے شہر دِیبل تک لکھی ہے نیز روایت کی ہے کہ دِیبل کے نشیبی حصّہ اور تھانہ تک فوجیں آئیں،اگر یہ صحیح ہے تو علامہ شبلی نعمانی نے اِس سے کیا اِستنباط کیا ہے؟

جواب: حضرت عمرؓ کے عہد میں اسلام کا قدم سندھ و ہند میں بھی آ چکا تھا

سوال: حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے کن کے متعلّق ارشاد فرمایا؟

’’ہمارے پیارے عزیز کا جنازہ ابھی پہنچا نہیں ہے، شائد چند دن لگ جائیں تو جب آئے گا تو اُس کے بعد نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، ان شاء الله! اور وہاں پھر اِس کا ذکر بھی ان شاء الله! ہوگا۔‘‘

جواب: شہید سیّد طالع احمد صاحِب ابن سیّد ہاشم احمد صاحِب

خصوصی سوال: خطبہ کے اختتامی حصّہ میں حضورِ انور ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے نمازِ جمعہ کے بعد کس ترکش انٹرنیٹ ریڈیو کے افتتاح کرنے کااعلان فرمایا؟

جواب: İSLAM AHMEDİYET İN SESİ

(صدائے اسلام احمدیّت)

(قمر احمد ظفر۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

احمدیت ایک شریں نغمہِ اسلام ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 ستمبر 2021