• 26 جنوری, 2022

(قسط دوم) (8اکتوبر 2021ء) This week with Huzur

This week with Huzur
8اکتوبر 2021ء
(قسط دوم)

اس ہفتے مجلس خدام الاحمدىہ کىنىڈا کو حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز سے2 آن لائن ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا ۔

طلباء کىنىڈا کى حضرت امىر المومنىن خلىفۃ المسىح الخامس اىّدہ اللہ تعالىٰ کے ساتھ آن لائن دوسرى ملاقات کا بقىہ پىش کىا جارہا ہے۔

 اىک خادم نے عرض کىا کہ حضور! مىں پوسٹ گرىجوىٹ کا طالب علم ہوں۔مىں جاننا چاہتا ہوں کہ کس طرح اىک طالب علم خلافت ،فىملى ،تعلىم اور ذہنى و جسمانى صحت کے حوالے سے اپنى ذمہ دارىوں کو بہتر رنگ مىں ادا کر سکتاہے؟

اس پر حضور انور اىدہ اللہ تعالىٰ نے فرماىا:آپ کا سوال ىہ ہونا چاہىے کہ کس طرح ہم خدا تعالىٰ کى طرف سے عائد کردہ ذمہ دارىوں کو بہتر طرىقے سے ادا کر سکتے ہىں ؟

اس کے بعد فرماىا: اگر آپ خدا تعالىٰ کى طرف سے عائد کردہ ذمہ دارىوں کو بہتر طرىقے سے ادا کر ىں گے تو اس کا آخرى نتىجہ ىہ ہو گا کہ آپ خلافت کى طرف سے عائد ہونے والى ذمہ دارىوں کو بھى ادا کر رہے ہوں گے۔خلىفہ کىا کہتا ہے؟ ىہى کہ آپ اپنے اندر اىک تبدىلى پىدا کرىں۔آپ خدا تعالىٰ سے قُرب پىدا کرىں۔پنجگانہ نماز ادا کرىں۔ قرآن کرىم کى روزانہ تلاوت کرىں۔قرآن مىں موجود خدا تعالىٰ کے احکامات کو ڈھونڈىں اور پھر ان پر عمل کرىں۔ قرآن کرىم مىں کون سے do›s and don›ts ہىں۔ کون سے کام کرنے والے ہىں اور کون سے کام ہىں جن سے بچنا چاہىے۔ىہ ہىں آپ کى ذمہ دارىاں ۔دوسرے آپ کى تعلىم ہے۔جب تک آپ طالب علم ہىں آپ کو محنت کرنا ہو گى۔ اپنے تعلىمى معىار مىں کمال حاصل کرىں۔ اس کے لىے آپ کو خوب محنت کرنا ہو گى۔اىک اچھا روسى طالب علم دن مىں 12 سے 13 گھنٹے پڑھائى کرتا ہے۔کىا آپ بھى اسقدر وقت اپنى پڑھائى مىں گزارتے ہىں؟اگر نہىں ۔تو اس کا مطلب ہے کہ اس مىں ابھى خلا ہے ۔آپ کو ىہ خلا پُرکرنا ہو گا۔وہ طالب علم جو عمدہ کارکردگى دکھاتے ہىں وہ 12 سے 14 گھنٹے پڑھائى کرتے ہىں۔ آپ کو اپنا جائزہ لىنا ہو گا کہ کىا آپ اتنى پڑھائى کرتے ہىں؟اگر نہىں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کا حق ادا نہىں کر رہے۔ پنجگانہ نماز پر آپ کے 2 گھنٹے لگتے ہىں اور اگر آپ نوافل بھى ادا کر رہے ہىں تو مزىد اىک گھنٹہ ىا 45 منٹ ۔پس ىہ تقرىبا 3 گھنٹے بنتے ہىں۔آپ کے جسم کا بھى آپ پر حق ہےاور وہ ىہ کہ آپ کو کم از کم 6 گھنٹے ضرور آرام کرنا چاہىے۔ اس کا مطلب ہے کہ6 جمع3 نماز کے لىے ٹوٹل 9 گھنٹے بنتے ہىں۔اگر آپ 3 گھنٹے نمازىں پڑھ رہے ہىں اور خدا تعالىٰ کے احکامات بھى بجا لا رہے ہىں۔اور اگر آپ 10 گھنٹے ىا 11 گھنٹے پڑھائى کر رہے ہىں تو تب بھى ىہ اىک Non believer کے 14 گھنٹے پڑھائى کے برابر بنتا ہے۔ ىہاں سے آپ 3 گھنٹے بچا لىں گے۔پس 9 گھنٹے جمع10 گھنٹے انىس گھنٹے اور ڈىڑھ گھنٹہ کھانے پىنے کے لىے ۔21 گھنٹےاور 30 منٹ ہو گئے۔اور اىک گھنٹہ کھىل ىا دوسرى کسى تفرىح کے لىے۔اور پھر کچھ وقت اپنى فىملى کے ساتھ گپ شپ کے لىے ۔اىک گھنٹہ کافى ہو گا۔تو ىہ 22 گھنٹے اور 30 منٹ ہو گئے۔پھر اپنے علم کو بڑھانے کے لىے ،جنرل نالج کے لىے اىک گھنٹہ ىا 30 منٹ۔پس اس طرح آپ اپنے وقت کو Manage کر سکتے ہىں۔اگر آپ اپنے وقت کو اس طرح Manage کرىں گے کہ آپ اپنى تعلىم مىں بھى excel کرىں اور خدا تعالىٰ کى طرف سے عائد کردہ فرائض کى بھى انجام دہى کرىں گے تو اس کا نتىجہ ىہ ہو گا کہ آپ خلافت ،مذہب، جماعت اور weekends پر جماعت کے لىے ىعنى خدام الاحمدىہ کے کاموں کے لىے بھى کچھ وقت نکال لىں گے۔ weekends پر اپنى فىملى کے لىےبھى کچھ وقت نکالىں۔پس پانچ Working days کے لىے اور weekends کے لىے الگ الگ پلان بنائىں۔ اس طرح سےآپ اپنے وقت کو بھى بہتر Manage کر سکتے ہىں اور انصاف کر سکتے ہىں۔

اىک خادم نے سوال کىا کہ حضور! کىا اپنے کسى قرىبى عزىز و رشتہ دار کو رقم دىنا صدقہ کہلا سکتا ہے؟

اس پر حضور انور نے فرماىا: اگر آپ کوئى رقم صدقہ کى نىت سے بھجوا رہے ہىں تو وہ صدقہ ہو گااور اگر آپ کى ىہ نىت ہے کہ وہ رقم جوآپ اپنے کسى عزىز ىا دوست کو بھجوا رہے ہىں ىہ صدقہ نہىں بلکہ گفٹ ہے تو وہ گفٹ ہو گا۔ ’’انما الاعمال باالنىات‘‘ عملوں کا دارومدار نىتوں پر ہے۔ اىک دفعہ اىک شخص رسول کرىم ﷺ کى خدمت اقدس مىں گوشت لاىا۔اور رسول کرىم ﷺ نے درىافت فرماىا کہ آپ ىہ کہاں سے لائے ہو؟ اس نے جواب دىا کہ کسى نے اسے بطور صدقہ بھىجا ہے جبکہ صدقہ رسول کرىم ﷺ اور آپ کى فىملى کے لىے حلال نہىں ہے۔اس پر رسول کرىم ﷺ نے فرماىا:ىہ تمہارے لىے تو صدقہ ہے لىکن جب آپ اسے مىرے پاس لائے ہىں تو آپ مجھے صدقہ نہىں دے رہے بلکہ اسے مىرے کھانے کے لىے بطور گفٹ لائے ہو۔ اس لحاظ سے مىرے لىے تو ىہ گفٹ ہو گا اور مىں اسے کھا سکتا ہوں تو ىہ سب آپ کى نىت پر موقوف ہے۔آپ کو فراخ دل ہونا چاہىے ۔آپ اپنے عزىز و اقارب کو صدقہ کىوں دے رہے ہو؟ اگر آپ ان کو کچھ دىنا چاہتے ہىں تو بطور گفٹ دے سکتے ہو۔

اىک خادم نے سوال کىا کہ حضور!ہم خدام عہد کرتے ہىں کہ دىن کو دنىا پر مقدم رکھىں گے ۔لىکن جب ہم جماعت کا کام کرتے ہىں تو بعض دفعہ اىسا لمحہ بھى آتا ہے جب جماعت اور سکول کے کام کو بىلنس رکھنا مشکل ہو جاتا ہےتو اىسى صورت مىں جماعت ىا سکول مىں سے کس کا انتخاب کرنا چاہىے؟

اس پر حضور انور نے فرماىا:جب تک آپ طالب علم ہىں تب تک اپنا زىادہ تروقت تعلىم کو دىں اور weekends جماعت کو دىں۔ اپنى تعلىم مکمل کرنے کے بعد موجودہ صورت حال کے مقابل آپ جماعت کے لىے زىادہ نفع منداور سود مند ہوں گے ۔اپنے علم کو بڑھائىں۔ تعلىم مىں کمال حاصل کرىں کىونکہ تکمىلِ تعلىم کے بعد آپ جما عت کے زىادہ کام کر سکتے ہىں۔ فى الحال تعلىم کے ساتھ پورا انصاف کرىں اور اس کے بعد اگر ہفتے کے نارمل دنوں مىں سے کچھ وقت بچ جائے تو جماعتى کام کر سکتےہىں۔ورنہ کم از کم اپنے weekends جماعتى کاموں کے لىے دىں۔اس کا ہر گز ىہ مطلب نہىں کہ تعلىم حاصل کرنے کے نام پر اِدھر اُدھرگپ شپ مىں ، انٹرنىٹ پر فضول چىزىں دىکھنے مىں، پو رنو گرافى مىں اپنا وقت ضائع کرتے پھرىں۔ اس لىے کہ مىں کاموں بہت مصروف ہوں ۔اس sense مىں آپ کى مصروفىت مراد نہىں ہے۔آپ کو اىماندارى سے اپنا جائزہ لىنا ہو گا کہ کىا ىہ تعلىم کى غرض سے ہے؟ اگر ہے تو ٹھىک اور پھر دوسرى ترجىح جماعت ہو گى۔ اس کے ساتھ ساتھ دىن کو دنىا پر مقدم رکھنے کا ىہ بھى مطلب ہے کہ اگر کوئى شخص آپ کو پنج وقتہ نماز پڑھنے سے منع کرے تو آپ کہو کہ نہىں۔ مىں ىہ نہىں کر سکتا۔ مىں نمازىں نہىں چھوڑ سکتا۔ ىونىورسٹى مىں پڑھتے ہوئے دىن کو دنىا پر مقدم رکھنے سے ىہ بھى مراد ہے کہ جب بھى نماز کا وقت آئے تو خواہ ظہر کا وقت ہوىا عصر کا۔ نماز ادا کرىں اور اس کے بعددوبارہ اپنى سٹڈى شروع کردىں۔ تو اس وقت کے لحاظ سے اس کا ىہ مطلب ہےکہ آپ پر جو خدا تعالىٰ کا حق ہےوہ ادا کرىں اور خدا تعالىٰ فرماتا ہے کہ تم پنجگانہ نماز اپنےوقت پر ادا کرو اور اگر ممکن ہو تو با جماعت نماز اد کرو۔ لىکن چونکہ ىونىورسٹى مىں آپ با جماعت نماز ادا نہىں کر سکتے سوائے اس کے کہ آپ چار ،پانچ طالب علم ہوں تو پھر آپ با جماعت نماز ادا کر سکتے ہىں۔ جب نماز کا وقت آئے تو اپنے پروفىسر سے پہلے اجازت لے لىں کہ ىہ مىرى نماز کا وقت ہے اگر آپ مجھے دس منٹ اجازت دىں تو مىں نماز ادا کر لوں ۔اور پھر اپنى ظہر اور عصر کى نمازىں اد اکرىں اور واپس آکر اپنى سٹڈى کو دوبارہ شروع کرىں۔فى الحال اس کا مطلب ىہ ہے کہ جب کبھى نماز کا وقت ہو تو نماز ادا کرو اورپھردوبارہ اپنى پڑھائى جارى رکھو۔لىکن جہاں تک دوسرے جماعتى کاموں کا تعلق ہے توان کاموں کے لىے اپنے weekends دىں۔ اپنى تعلىم پر زىادہ زور دىں۔جہاں کہىں خدا تعالىٰ کے حقوق کى بات ہو تو وہاں کوئى سمجھوتہ نہىں ۔

حضور انور! مىرا سوال ىہ ہے کہ کس طرح ہم اپنے چھوٹى عمر کے خدام کوہائى سکول کى تعلىم کے بعد کام مىں جانے کى بجائے post-secondary Education کے لىے convince کر سکتے ہىں؟

اس پر حضور انور اىدہ اللہ نے فرماىا:مىں اور مجھ سے پہلے خلفاء بھى طالب علموں کو ىہ بتاتے رہے ہىں کہ سىکنڈرى سکول کى تعلىم کے بعد ان کو اپنى تعلىم چھوڑنى نہىں چاہىے بلکہ اپنى تعلىم کو جارى رکھنا چاہىے۔اور کم از کم ان کو گرىجوىٹ ہونا چاہىے ۔اسى لىےحضرت خلىفۃالمسىح الثالث ؒ نے طالب علموں کو گولڈ مىڈل دىنے کے پروگرامز بھى شروع کىےتھے اور آپ کى ىہ خواہش تھى کہ ہمارے پاس کم از کم 100 نوبل پرائز وِنر اور اىک ہزار کے قرىب ٹاپ سائنسدان ہونے چاہىےجو کہ ابھى تک ہمارے پاس نہىں ہىں۔ خدام الاحمدىہ مىں امور طلباء کا شعبہ اور جماعت مىں سىکرٹرى تعلىم کا شعبہ اسى لىے بناىا گىا ہے تا کہ وہ طلباء کو encourage کرىں کہ سىکنڈرى سکول کى تعلىم کے بعد طالب علم ىونىورسٹى مىں جائىں اور اپنى تعلىم کو جارى رکھىں ۔اور اگر وہ سمجھتے ہىں کہ وہ رىسرچ ىا دوسرے سائنس مضامىن ىا کسى پروفىشنل فىلڈ مثلاَ انجىنئرنگ اور مىڈىسن مىں نہىں جا سکتے تو پھربھى انہىں چاہىے کہ وہ مقابلے کے امتحان مىں بىٹھىں اور سول سروس مىں جائىں۔اس طرح گورنمنٹ مىں ہمارے پاس اىک بڑى تعداد سرکارى ملازمىن کى ہو جائے گى۔ہر اىک فىلڈ مىں احمدى ہونا چاہىے۔ اس کے لىے ضرورى ہے کہ ہم ان کو encourage کرىں۔اسى لىے امور طلباء کا شعبہ بناىا گىا تھا تا کہ وہ طالب علموں کو encourage کرىں۔ىہ والدىن کا بھى کام ہے۔اگر والدىن پڑھے لکھے ہوں گے تو وہ اپنے بچوں کو کہىں گے کہ سىکنڈرى سکول کى تعلىم کے بعد اپنى تعلىم جارى رکھىں۔اىک احمدى طالب علم کو کم از کم گرىجوىٹ ہونا چاہىےاور اس کے بعد وہ مختلف فىلڈ منتخب کر سکتا ہےتو ىہ آپ کى ڈىوٹى ہے۔آپ جوان آدمى ہىں ان کو encourage کرسکتے ہىں۔

(ترجمہ و کمپوزنگ: ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

اسلامی اصطلاحات کا بر محل استعمال

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 نومبر 2021