• بدھ 19 فروری 2020   (25 جمادى الآخرة 1441)

حضرت مسیح موعودؑ کا پیدا کردہ عظیم الشان علم الکلام اور ہندوؤں کی جارحانہ تحریک آریہ سماج کی شکست فاش

امت مسلمہ کی شان و شوکت اگرچہ سترھویں صدی میں ہی ماند پڑ چکی تھی۔ مگر دنیا کے مختلف خطوں میں ظاہری رعب و دبدبہ ابھی قائم تھا۔ تاہم کچھ عرصہ کے بعد مسلمانوں کی مذہبی علمی سیاسی اور اقتصادی حالت بگڑتی چلی گئی اور انیسویں صدی کے آغاز میں تو مسلمان مکمل طور پر ادبار و تنزل کا شکار ہوگئے خصوصاً برصغیر پاک و ہند میں تو عیسائیت اور دیگر مذہبی تحریکات کی یلغار ہوئی۔ ہندؤں میں سے آریہ سماجیوں نے اسلام کے خلاف ایک زبردست محاذ کھولا۔ اس دور میں مسلمانوں کی بد حالی کے مرثیے لکھے گئے اور کسی مرد حق کے لئے نگاہیں تو اٹھتی تھیں مگر مایوس لوٹتیں۔ مسلمان سیاسی اعتبار سے زوال کا شکار تو تھے ہی ان کو حکومتی اداروں سے باہر رکھنے کے لئے بہت سی بنیادی تبدیلیاں لائی گئیں۔ کہ مسلمانوں کو انتظامی اور کاروبار مملکت سے مکمل طور پر علیحدہ کر دیا جائے۔

ہندو مؤرخین کی رائے میں آریہ سماج کے قیام کا واحد مقصد ہندوستان سے اسلام کو ملیامیٹ کرنا اور مکمل ہندو راج کا قیام تھا۔چنانچہ لالہ دھنپت رائے بی ایل ٹی لکھتے ہیں۔

’’ہندوستان میں سوائے ہندو راج کے دوسرا راج ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ایک دن آئے گا کہ ہندوستان کے سب مسلمان شدھی آدمی اندولن کی وجہ سے آریہ سماجی ہو جائیں گے۔ یہ بھی ہندو بھائی ہیں۔ آخر صرف ہندو ہی رہ جائیں گے یہ ہمارا آورش (نصب العین) ہے یہ ہماری آشا (تمنا) ہے سوامی جی مہاراج نے آریہ سماج کی بنیاد اس اصول کو لے کر ڈالی تھی‘‘

(اخبار پرکاش لاہور 26۔اپریل1925ء صفحہ11)

’’اجمیر سے چل کر سوامی دیانند چاند پور پہنچے اور مسلمانوں سے زبردست مناظرہ کیا مسلمانوں کی طرف سے مولوی محمد قاسم صاحب اور مولوی عبدالغفور صاحب پیش ہوئے اور ان کی مدد کے لئے بہت سے مولوی جمع تھے لیکن سوامی جی مہاراج کے ساتھ صرف منشی بختاور سنگھ اور منشی اندرمن مراد آبادی تھے۔ سوامی جی نے اعتراضات کی اس قدر بھر مار کی مولوی ان کا کوئی جواب نہ دے سکے اور میدان چھوڑ کر بھاگ گئے جس کا اثر یہ ہوا کہ مولوی نوراللہ صاحب کئی مسلمانوں سمیت آریہ ہوگئے۔ انہی ایام میں ایک ہزار کے قریب اور مسلمان آریہ ہوگئے۔آریہ ویروں نے جگہ جگہ شدھی سبھا قائم کر کے مسلمانوں میں پرچار کرنا شروع کر دیا۔اگرآریہ سماجی دوست اس پوتر کام کو جاری رکھتے تو مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ ویدک دھرم کی شرن میں آجاتا‘‘

(کتاب آریہ سماج اور پرچار کے سادھنا صفحہ12از مہاشہ دیودت)

آریہ سماج اپنے قیام کے دوماہ کے اندر اندر ہندوؤں کے تمام طبقات میں مقبولیت حاصل کر گئی۔چنانچہ دیانند سرسوتی نے ہندوستان کے بہت سے شہروں کا دورہ کیا۔ 1877ء میں پنجاب کے بہت سے شہروں کا دورہ کیا مثلاً ملتان، گورداسپور، راولپنڈی، جہلم، وزیرآباد، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، امرتسر، جالندھر، لدھیانہ اور فیروز پور۔ دیانند جہاں جہاں جاتا تقاریر کرتا جس کے نتیجہ میں وہاں آریہ سماج کا قیام عمل میں آجاتا اور لوگ جوق در جوق آریہ سماج میں شامل ہو جاتے۔ پنجاب میں آریہ سماج کے خوب چرچے شروع ہوگئے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں سے بحث مباحثے اور مناظروں نے زور پکڑا۔تو پنڈت کھڑک سنگھ جو آریہ سماجی تھے ان کا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام سے ایک مباحثہ ہوا جس میں پنڈت صاحب لا جواب ہوگئے اس کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار کے ذریعہ چیلنج دیا جس میں مخاطب تو کھڑک سنگھ تھے مگر روئے سخن تمام مذاہب عالم کے علماء کی طرف ہے۔علاوہ ازیں حضور نے حسب ذیل علماء آریہ سماج کو بھی چیلنج دیا۔

سوامی دیانند صاحب، پنڈت کھڑک سنگھ صاحب، باوا نرائن سنگھ صاحب ،منشی مہون داس صاحب، جناب کنہیا لال صاحب، جناب منشی بختاور سنگھ صاحب ایڈیٹر آریہ درپن جناب بابو ساروایرشاد صاحب، جناب منشی شرم پت صاحب سیکرٹری آریہ سماج قادیان۔ پنڈت کھڑک سنگھ کے نام مضمون میں حضور فرماتے ہیں۔

’’قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے کی بڑی بھاری نشانی یہ ہے کہ اس کی ہدایت سب ہدایتوں سے کامل تر ہے اور اس دنیا کی حالت موجودہ میں جو خرابیاں پڑی ہوئی ہیں قرآن مجید سب کی اصلاح کرنے والا ہے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ قرآن مجید اور کتابوں کی طرح مثل کتھا کی نہیں ہے بلکہ مدلل طور پر ہر ایک امر پر دلیل قائم کرتا ہے۔ اس دوسری نشانی پر…بنام کھڑک سنگھ وغیرہ ہم نے پانچ سو روپیہ کا اشتہار بھی دیا تا کہ کوئی پنڈت وید میں یہ صفت ثابت کر کے دکھلاوے کہ وید نے کن دلائل سے اپنے عقائد کو ثابت کیاہے مگر آج تک کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ دم مار سکے‘‘

(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ42،41)

حضورؑ کی یہ تحریر پنڈت کھڑک سنگھ کی زندگی میں شائع ہوئی اور پھر پنڈت صاحب لاجواب ہو کر عیسائی ہوگئے تھے اور اپنے لیکچرز آریہ سماج کے خلاف دیتے رہے جو بعد میں آریہ سماج کے اصول و تعلیم کے ابطال کے نام سے شائع ہوئے۔

دیانند سرسوتی پر گرفت

آریہ سماج کی دنوں میں شہرت پھیل رہی تھی۔ پنڈت دیانند بانی آریہ سماج خود موجود تھے۔ انہوں نے جو عقائد ستیارتھ پرکاش میں لکھے ان میں ایک عقیدہ مادہ اور روحوں کا ازلی ابدی ہونا بھی تھا جو ویدوں کی بجائے مادہ پرستی کا رہین منت تھا۔پنڈت صاحب نے مادہ کے ساتھ روح کے ازلی ابدی ہونے کو مذہبی رنگ دے دیا۔جب ارواح ازلی ابدی ہیں تو پھر کسی خدا کی ضرورت ہی نہیں اور جب وہ خالق ہی نہیں تو ان کو تناسخ میں کیوں مبتلا رکھا ہے۔

پنڈت جی نے اس اعتراض کو رفع کرنے کے لئے 7 دسمبر1877ء کے ’’وکیل ہندوستان‘‘ میں یہ شائع کرایا۔

’’ارواح موجودہ بے انت ہیں اور اس کثرت سے ہیں کہ پرمیشورکو بھی ان کی تعداد معلوم نہیں۔ اس واسطے ہمیشہ مکتی پاتے رہیں گے اور کبھی ختم نہیں ہوں گے‘‘

دیانند کا یہ اعلان جب حضورؑ کی نظر سے گزرا تو آپ نے خدا تعالیٰ کی عظمت حیّ و قیوم قادر و توانا خدا کی صفات اور معرفت سے اُس کو غلط ثابت کیا۔چنانچہ آپ نے 9 فروری 1878ء تا 9 مارچ 1878ء تک اخبار ’’سفیر ہند‘‘ میں متعدد مضامین لکھ کر باطل عقیدہ کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اس کے ساتھ ہی پانچ صد روپے انعام کا اعلان شائع کر دیا جو اس کا مدلل جواب دے۔ یہ اشتہار سفیر ہند میں 9 فروری 1878ء کے ابتدائی صفحوں پر شائع ہوا۔

‘‘کہ جو صاحب منجملہ توابع سوامی دیانند سرسوتی صاحب سوال ہذا کا جواب دے کر کہ ارواح بے انت ہیں اور پرمیشور کو ان کی تعداد معلوم نہیں تو میں اس کو مبلغ پانچ سوروپیہ انعام دوں گا‘‘

حضورؑ کا یہ اعلان ’’برادر ہند‘‘ جس کے ایڈیٹر پنڈت شونرائن صاحب اگنی ہوتری تھے جولائی 1878ء میں شائع ہوا۔

’’سوامی دیا نند سرسوتی صاحب نے بجواب ہمارے اس بحث کے جو ہم نے روحوں کا بے انت ہونا باطل کر کے ‘‘غلط ہونا مسئلہ تناسخ اور قدامت سلسلہ دنیا’’ ثابت کیا تھا معرفت تین کس آریہ سماج والوں کے یہ پیغام بھیجا ہے کہ اگرچہ ارواح حقیقت میں بے انت نہیں ہیں لیکن تناسخ اس طرح پر ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ جب سب ارواح مکتی پاجاتے ہیں تو پھر بوقت ضرورت مکتی سے باہر نکالی جاتی اب سوامی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے اس جواب میں کچھ شک و شبہ ہو تو بالمواجہ بحث کرنی چاہئے۔چنانچہ اس بارے میں سوامی صاحب کا ایک خط بھی آیا اس خط میں بھی بحث کا شوق ظاہر کرتے ہیں اس واسطے بذریعہ اس اعلان کے عرض کیا جاتا ہے کہ بحث بالمواجہ ہم کو بسروچشم منظور ہے۔کاش سوامیصاحب کسی طرح ہمارے سوالوں کا جواب دیں ڦڦڦڦ‘‘

(المعلن مرزا غلام احمد رئیس قادیان 10جون1878ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ6,7)

اس اعلان پر ایڈیٹر رسالہ ’’برادرہند‘‘ پنڈت شونرائن اگنی ہوتری نے اس رسالہ بابت ماہ جولائی 1878ء میں ایک مفصل تبصرہ کیا جس میں سے ایک مختصر اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

’’مگر اب ہمارے مضمون نگار مرزا غلام احمد صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار جب مرزا صاحب نے مسئلہ مذکور کو اپنی بحث میں باطل ثابت کر دیا تو لاچار سوامی جی (یعنی دیانندسرسوتی۔ناقل) نے مرزا صاحب کو یہ پیغام بھیجا کہ حقیقت میں ارواح بے انت نہیں ہیں لیکن تناسخ صحیح ہے۔خیر کچھ بھی ہو مگر …چند سال ہوئے کانپور میں جب انہوں نے ایک اشتہار اپنا دستخطی مشتہر کیا تھا تو اس میں انہوں نے اول اول اکیس شاستروں کو ایشرکرت (خداکے اپنے تصنیف کئے ہوئے) قرار دیا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ جب انہوں نے ان میں بہت سی خوبیاں دیکھیں تو سب کو چھوڑ چھاڑ صرف چند ویدوں کو ’’ایشرکرت‘‘ بتلانے لگے پھر اس کے بعد جب ویدوں کا ایک حصہ جس کو برہمن کہتے ہیں ان کی نظروں میں صحیح ثابت نہ ہوا تو اب صرف اس کے اس حصہ کو جس کو منتر بھاگ کہتے ہیں الہامی کہتے ہیں اس سے اگرچہ ان کی کسی قدر متلون مزاجی بھی ظاہر ہوتی ہے…اس میں صرف ایک بہت بڑی کسر یہ باقی ہے کہ وہ اول ایک چیز کی نسبت پہلے ہی سے ایک یقین پیدا کر لیتے ہیں پھر جب کبھی حسب اتفاق اس یقین کا بطلان انہیں معلوم ہو جائے تب اس کو چھوڑتے ہیں مگر اس قسم کی تحقیقات سچے محققوں کے اصول تحقیقات کے بالکل کے مخالف ہے‘‘

(برادر ہند جولائی 1878ء بحوالہ حیات احمد جلد اول دوم صفحہ 114 تا 118 ایڈیشن دوم)

پنڈت اگنی ہوتری صاحب کے مذکورہ بالاریمارکس سے صاف نظر آتا ہے کہ پنڈت دیانند سرسوتی صاحب کے اختراع کردہ مذہب کی حالت وہی تھی جسے قرآن مجید نے بیت عنکبوت سے مثال دی ہے۔

غرض سوامی دیانند نے خود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی (مسیح موعودؑ) علیہ السلام کو مباحثہ کی دعوت دی۔ جسے حضرت (مسیح موعودؑ) نے 10 جون کو قبول فرمایا تھا اور سوامی جی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ مباحثہ کا مقام و تاریخ خود ہی معین کر کے اخبار میں اعلان کردیں۔ لیکن سوامی دیانند جنہوں نے از خود دعوت دی تھی خود ہی میدان مباحثہ سے گزیر کر گئے۔ حضور نے براہین میں پنڈت دیانند سرسوتی کے اعتراضات کا جواب دیاہے اور براہین احمدیہ کے اول مخاطب دیانند سرسوتی ہی تھے۔

اس طرح یہ امربڑا واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف کا باعث آریہ سماج کے بانی دیانند کے اسلام اور بانی اسلام قرآن پر اعتراضات کے جواب دینا تھا۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی (مسیح موعودعلیہ السلام) فرماتے ہیں۔

’’باعث تصنیف اس کتاب کے پنڈت دیانند صاحب اور ان کے اتباع ہیں جو اپنی امت کو آریہ سماج کے نام سے مشہور کر رہے ہیں اور بجز اپنے وید کے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ مسیح اور حضرت محمد مصطفی علیہم السلام کی تکذیب کرتے ہیں اور نعوذباللہ توریت، زبور، انجیل اور فرقان مجید کو محض افتراء سمجھتے ہیں اور ان مقدس نبیوں کے حق میں ایسے توہین کے کلمات بولتے ہیں کہ ہم سن نہیں سکتے۔ایک صاحب نے ان میں سے اخبار ’’سفیر ہند‘‘ میں بطلب ثبوت حقانیت فرقان مجید کئی دفعہ ہمارے نام اشتہار بھی جاری کیا ہے اب ہم نے اس کتاب میں ان کا اور ان کے اشتہاروں کا کام تمام کر دیا ہے اور صداقت قرآن و نبوت کو بخوبی ثابت کیا…نام اس کتاب کا ’’البراہین الاحمدیہ علی حقیقت کتاب اللّٰہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ‘‘ رکھا گیا ہے۔ خدا اس کو مبارک کرے اور گمراہوں کو اس کے ذریعہ سے اپنے سیدھے راہ پر چلاوے۔ آمین‘‘

(المشتہر خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب منقول از ضمیمہ اشاعت السنہ نمبر4 جلد دوم صفحہ3 ,4 بابت اپریل 1879ء از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ12)

حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کی بلند پایہ کتاب براہین احمدیہ کی تصنیف کا پس منظر اور چار اغراض و مقاصد کا اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓ ایم۔ اے اپنی کتاب ’’سلسلہ احمدیہ‘‘ میں لکھتے ہیں۔

’’ان ایام میں پنڈت دیانند سرسوتی کی تحریک سے بیدار ہو کر ہندوؤں میں ایک جماعت آریہ سماج کے نام سے قائم ہوئی جس نے نہ صرف ہندوؤں کے لئے ایک نیا مذہبی فلسفہ پیش کیا بلکہ دوسرے مذاہب کے مقابلہ پر بھی ہندو قوم میں ایک جارحانہ روح پیدا کر دی۔ دوسری طرف ہندوستان کے مسیحی پادریوں نے جو دہلی کے غدر کے بعد سے مسلمانوں کے مذہبی جوش و خروش سے کسی قدر مرعوب ہو کر سہمے ہوئے تھے اب پھر سر اٹھانا شروع کیا اور حکومت کے سایہ میں ایک نہایت پر زور مشنری مہم شروع کر دی اور ویسے بھی اس زمانہ میں صلیبی مذہب ساری دنیا میں ایک طوفان عظیم کی طرح جوش مار رہا تھا۔ تیسری طرف یہ زمانہ ہندوستان کی مشہور مذہبی تحریک برہمو سماج کے زور کا زمانہ تھا جس کا جدید مذہبی فلسفہ امن اور آشتی اور صلح کل پالیسی کے لباس میں مذہب کی عمومی روح کے لئے گویا ایک کاٹنے والی تلوار کا حکم رکھتا تھا اور چوتھی طرف اس زمانہ میں ساری دنیا کا یہ حال ہورہا تھا کہ مغربی تہذیب و تمدن کی بظاہر خوشگوار ہوائیں جہاں جہاں سے بھی گزرتی تھیں۔ دہریت اور مادیت کا بیج بوتی جاتی تھیں اور یہ زہر بڑی سرعت کے ساتھ ہر قوم و ملت میں سرایت کرتا جارہا تھا۔ اس چوکور خطرے کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تیز اور دوربین آنکھ نے دیکھا اور آپ کی اکیلی مگر بہادر روح اس مہیب خطرے کے مقابلہ کے لئے بے قرار ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔آپ کی سب سے پہلی تصنیف جو براہین احمدیہ کے نام سے موسوم ہے اور چار جلدوں میں ہے اسی مرکب حملہ کے جواب میں لکھی گئی تھی۔اس کتاب میں خصوصیت سے الہام کی ضرورت اور اس کی حقیقت اسلام کی صداقت اور قرآن کی فضیلت خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم کی وسعت خدا کی خالقیت اور اس کی مالکیت پر نہایت لطیف اور سیرکن بحثیں ہیں اور ساتھ ہی اپنا ملہم ہونا ظاہر کر کے ا پنے بہت سے الہامات درج کئے گئے ہیں جن میں سے بہت سے آئندہ کے متعلق عظیم الشان پیشگوئیوں پر مشتمل ہیں‘‘

(سلسلہ احمدیہ صفحہ 18, 17 از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے)

گویا براہین احمدیہ ہندوؤں اور عیسائیوں کی جارحانہ یلغار کے جواب میں لکھی گئی تھی جس سے اس زمانہ کے مسلمان تنگ و عاجز آچکے تھے۔ اس کے ساتھ آزاد روی اور مغربی تہذیب و تمدن کے نتیجہ میں دین کے بنیادی عقائد پر جدید تعلیمیافتہ افراد کے اعتراضات تھے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ براہین احمدیہ کی تصنیف کے نتیجے میں اس چومکھی حملے کا کامیاب دفاع کیا گیا۔ برہمو سماج کی تحریک جو ایک طوفان کی صورت میں اٹھی اپنی ہر دلعزیزی کے سیلاب میں کھوگئی۔ آریہ سماج کی طوفانی یلغار اپنی بنیادی عقائد کی بحثوں میں اُلجھ کر اپنے وجود کو گم کر بیٹھی۔ مسیحی مشنری جو ہندوستان میں عیسائیت کے غلبے کے دعوے کر رہے تھے اور جن کو حکومتی سرپرستی حاصل تھی اپنے خود ساختہ خدا کو زندہ آسمان پر ثابت نہ کر سکی اور عیسائیت کی تثلیث و کفارہ کی عمارت دھڑام سے زمین پر آگری۔

مسلمانوں میں جو جدید تعلیم کے دلدادہ تھے اور برہمو سماج سے متاثر ہو کر علی گڑھ کی تحریک کی صورت میں جنم لیا تھا۔

مذہبی رواداری کے پردے میں اسلام کے بنیادی عقائد کی تاویل کر رہے تھے۔ جو صرف نام کے مسلمان رہ گئے تھے۔مغربی تہذیب و تمدن کی چمک نے ان کی آنکھوں کوخیرہ کر دیا تھا وہ الحاد و دہریت کی رو میں بہے جارہے تھے۔ حضرت اقدس نے خدا کا حی و قیوم اور قادر و توانا ہونا ثابت کیا وحی و الہام کی حقیقت اور اسلام کی صداقت اور قرآن مجید کی فضیلت ثابت کی۔ ذیل میں اس واضح حقیقت کو غیروں نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اپنے اپنے انداز میں تجزیہ بھی کیا۔ براہین احمدیہ کے دلائل قاطعہ کے ذریعہ مذاہب باطلہ کے حملوں کا ایسے رنگ میں دفاع کیا گیا کہ مسلمان، آریہ سماجیوں کی یلغار اورعیسائی مشنریوں کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ حضرت اقدس کے علم کلام سے ہر مذہب و ملت کے اہل علم حضرات متاثر ہوئے اور برملا اس جدید علم کلام کا اعتراف کیا۔

نشان کی مدت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے1885ء کے شروع میں مختلف مذاہب کے لیڈروں اور پیشواؤں کو اسلام کی تازہ بتازہ برکات اور آیات دیکھنے کی دعوت دی۔ حضورؑ نے یہ اشتہار 20ہزار کی تعداد میں اور انگریزی میں شائع فرمایا جس میں آپؑ نے تحریر فرمایا۔

’’اگر آپ آریہ ہیں اور ایک سال رہ کر کوئی آسمانی نشان مشاہدہ نہ کریں تو دو سو روپیہ کے حساب سے آپ کو ہرجانہ یا جرمانہ ادا کیا جائے گا‘‘

(اشتہارات جلد اول ص103)

اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں۔
ہر چند کہ ہم نے تمام ہندوستان و پنجاب پادری صاحبان و آریہ صاحبان کی خدمت میں اس مضمون کے خط رجسٹری کرا کر بھیجے۔ مگر کوئی صاحب قادیان میں تشریف نہ لائے بلکہ منشی اندر من صاحب کے لئے تو مبلغ چوبیس سو روپیہ نقد لاہور میں بھیجا گیا تو وہ کنارہ کر کے فرید کوٹ چلے گئے۔ ہاں ایک صاحب پنڈت لیکھرام نام پشاوری قادیان میں ضرور آئے تھے اور ان کو بار بار کہا گیا کہ اپنی حیثیت کے موافق جبکہ اس تنخواہ سے دو چند جو پشاور میں نوکری کی حالت میں پاتے تھے۔ ہم سے بحساب ماہوار لینا کر کے ایک سال تک ٹھہرو اور اخیرپہ بھی کہا گیاکہ اگر ایک سال تک منظور نہیں تو چالیس دن تک ہی ٹھہرو تو انہوں نے ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت کو منظور نہیں کیا۔

(مجموعہ اشتہار جلد اول ص103)

پنڈت لیکھرام 19 نومبر 1885ء کو مرزا نظام الدین وغیرہ کی دعوت پر قادیان آیا تھا جہاں اس نے اسلام کے خلاف تمسخر آمیز تقاریر کیں۔ بعد میں اسی لیکھرام نے براہین احمدیہ کے خلاف تکذیب براہین لکھی جس میں بہت سے تمسخر پر مبنی باتیں درج کیں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے ایک رحمت کا نشان مانگا جس کے لئے آپ نے ہوشیار پور میں چلہ کشی کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس نشان رحمت کے طور پر ایک عظیم الشان بیٹے کی بشارت دی جس میں اس کی 52 صفحات کا بھی ذکر تھاجس کا حامل اس موعود لڑکے نے ہونا تھا۔ چنانچہ لیکھرام نے اس پیشگوئی کے مقابل ایک پیشگوئی شائع کی۔ جس کے چند فقرے درج ذیل ہیں۔

‘‘رحمت کا نہیں زحمت کا کہا ہوگا…خدا کہتا ہے میں نے قہر کا نشان دیا ہے رحمت کا نشان تو بتاسرائےتھی اور بس…شاید صاحب ذلت و نخوت ونکبت ہوگا۔…خدا کہتا ہے ہے وہ غلیظ القلب ہوگا اور علوم صور ی و معنوی سے قطعی محروم ہوگا…آپ کی ذریت بہت جلد منقطع ہوجائے گی غایت درجہ تین سال تک شہرت رہے گی‘‘

(کلیات آریہ مسافر حصہ سوم ص496،498)

آخریہ موعود لڑکا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ نے نام سے اپنی عظیم الشان صفات کا حامل 12 جنوری 1889ء کو دنیا میں آیا۔ اس دن حضرت مسیح موعودؑ نے جماعت احمدیہ کے قیام کے لئے شرائط بیعت کا اعلان شائع فرمایا گویا حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد ؓ کی پیدائش اور جماعت احمدیہ کا قیام توام ہیں۔

لیکھرام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقابلہ آخر جاری رہا۔ آخر 6 مارچ 1897ء کو لیکھرام خداتعالیٰ کے قہری نشان کا شکار ہوا اور بظاہر ایک شدھ ہونے والے کے ہاتھوں قتل ہوا۔ جس کا بعد میں باوجود بہت کوشش و بسیار کے نام و نشان نہ مل سکا۔ آریہ سماج والوں نے لیکھرام کے قتل کا سراغ لگانے کے لئے اس زمانہ میں پچاس ہزار روپے کا فنڈ قائم کیا۔ لیکن لیکھرام کے قتل کے نتیجہ میں آریہ سماج کا سارا دم خم دھواں ہو کر رہ گیا اور مقابلہ مذاہب کے میدان میں پسپائی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دفاع اسلام میں آریہ سماجیوں کے مقابلہ اور مناظروں اور اشتہاروں کی کامیابی کو ہر مذہب و ملت کے اہل علم حضرات نے تحسین کی نظر سے دیکھابرملا آپ کے پیدا کردہ علم الکلام کا اعتراف کیا۔

چنانچہ اس مضمون میں چند اہم شخصیات کا اعتراف حقیقت دیا جار ہا ہے۔

ایک برہمو سماجی لیڈر لکھتے ہیں۔ (ہندی سے ترجمہ) ’’راجہ رام موہن رائے کی زبردست شخصیت نے انگلستان اور امریکہ میں برہمو سماج کو یونیٹیرین چرچ کی شکل میں قائم کیا۔ لیکن افسوس ہے کہ بھارت کے مسلمانوں پر قادیانی سمپروائے (فرقہ) کی وجہ سے بڑا پربھاد پڑا اور مسلمانوں میں سے شردعالو جو برہمو سماج کے ٹیموں کی وجہ سے بربھاوت ہوچکے تھے فریٹا فریٹا پیچھے ہٹ گئے‘‘

(’’ہندوتو‘‘ صفحہ 982 مصنفہ رام داس گوڑبحوالہ ’’حیات طیبہ‘‘)

ایک برہموسماجی لیڈر دیو نند ناتھ سہائے لکھتے ہیں۔
(ہندی سے ترجمہ) برہمو سماج کی تحریک ایک زبردست طوفان کی طرح اٹھی اور آناًفاناً نہ صرف ہندوستان بلکہ غیر ممالک میں بھی اس کی شاخیں قائم ہوگئیں بھارت میں نہ صرف ہندواور سکھ ہی اس سے متاثر ہوئے بلکہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ نے بھی اس میں شمولیت اختیار کر لی۔ روزانہ بیسیوں مسلمان برہمو سماج کے ساتھ نہ صرف سہمت تھے بلکہ اس کے باقاعدہ ممبر تھے۔ لیکن ہمیں انہی دنوں مرزا غلام احمد قادیانی نے جو مسلمانوں کے ایک بڑے عالم تھے ہندوؤں اور عیسائیوں کے خلاف کتابیں لکھیں اور ان کو مناظرے کے لئے چیلنج کیا۔

افسوس ہے کہ برہمو سماج کے کسی ودوان نے اس چیلنج کی طرف توجہ نہیں کی جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ مسلمان جو کہ برہمو سماج کی تعلیم سے متاثر تھے نہ صرف پیچھے ہٹ گئے بلکہ باقاعدہ برہمو سماج میں داخل ہونے والے مسلمان بھی آہستہ آہستہ اُسے چھوڑ گئے۔

(رسالہ ’’کومدی‘‘ کلکتہ اگست 1920ء بحوالہ ’’حیات طیبہ‘‘)

آریہ سماج کے نامور پنڈت دیوت صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا۔

آریہ سماج کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کو موقع مل گیا۔اس نے آریہ سماج کے خلاف ’’سفیر ہند‘‘ امرتسر میں مضامین کا ایک لمبا سلسلہ شروع کیا اور اس میں سوامی دیانند جی مہاراج کو بھی چیلنج دیا چونکہ سوامی دیانند جی مہاراج ان دنوں راجستھان کا دورہ کر رہے تھے اس لئے انہوں نے بختاور سنگھ اور منشی اندر من مراد آبادی سے کہا کہ وہ ان کا چیلنج منظور کر لیں۔ لیکن افسوس ہے کہ انہی ایام میں بعض وجوہ کی بناء پر سوامی جی نے اندر من مراد آبادی کو آریہ سماج سے نکال دیا اس لئے مناظرہ نہ ہو سکا۔ مراز غلام احمد قادیانی نے اس در گھٹنا سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور آریوں کے خلاف ایسا زہریلا لٹریچر لکھا کہ جس سے مسلمانوں کے دلوں میں آریہ دھرم کے متعلق نفرت پیدا کردی۔

(آریہ سماج اور پرچار کے سادھنا صفحہ 12بحوالہ ’’حیات طیبہ‘‘)

ایڈیٹر صاحب ’’پیسہ اخبار‘‘ لاہور نے حضرت مسیح موعودؑکے بارے میں لکھا۔

’’مرزا صاحب کی تمام ترکوشش آریہ اور عیسائیوں کی مخالفت میں اور مسلمانوں کی تائید میں صَرف ہوتی ہیں جیسا کہ ان کی مشہور تصنیفات ‘‘براہین احمدیہ‘‘ ’’سرمہ چشمہ آریہ‘‘ اور بعد کے رسائل سے واضح ہے۔ہم اس کے سوائے اور کیا کر سکتے ہیں۔

وما علینا الاالبلاغ (پیسہ اخبار لاہور دو شنبہ 22 فروری 1892ء)

نامور صحافی سید حبیب صاحب ایڈیٹر اخبار ’’سیاست‘‘ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ کی اسلامی خدمات اور آریوں اور عیسائیوں کو شکست فاش دینے کے بارہ میں لکھتے ہیں۔

’’مسلمانوں کو بہکانے کے لئے عیسائیوں نے دین حقہ اسلام اور اس کے بانی صلعم پر بے پناہ حملے شروع کر دئیے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ آخر زمانہ نے تین آدمی ان کے مقابلہ کے لئے پیدا کئے۔ ہندوؤں میں سے سوامی شری دیانند جی مہاراج نے جنم لے کر آریہ دھرم کی بنیاد ڈالی اور عیسائی حملہ آوروں کا مقابلہ شروع کیا۔ مسلمانوں میں سرسید علیہ الرحمۃ نے سپر سنبھالی اور ان کے بعد مرزا غلام احمد صاحب اس میدان میں اترے…مذہبی حملوں کا جواب دینے میں البتہ سر سید کامیاب نہیں ہوئے اس لئے کہ انہوں نے ہر معجزے سے انکار کیا اور ہر مسئلہ کوبزعم خود عقل انسانی کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں بچے ہوئے جو علماء بھی موجود تھے ان میں اور سرسید میں ٹھن گئی۔ کفر کے فتویٰ شائع ہوئے اور بہت غلاظت اچھلی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسیحی پروپیگنڈا زور پکڑ گیا اور علی گڑھ کالج مسلمانوں کی بجائے ایک قسم کے ملحد پیدا کرنے لگا۔ یہ لوگ محض پیدائش کی وجہ سے مسلمان ہوتے تھے ورنہ انہیں اسلام پر کوئی اعتقاد نہ ہوتا تھا…اس وقت کے آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔ اِکّے دُکّے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہوگئے۔ مگر کوئی کامیاب نہ ہوا۔اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا…‘‘

مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دئیے۔ اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لاجواب ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب اپنی کامیابی سے متاثر ہو کر نبوت کا دعویٰ نہ کرتے تو ہم انہیں زمانہ حال میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خادم ماننے…

مسلمان ایک ایسی قوم ہے جو اپنے خدام کی قدر کرتی ہے عیسائیوں اور آریوں کے مقابلہ میں مرزا صاحب کی خدمات کی وجہ سے مسلمانوں نے انہیں سر پر بٹھایا اور دلوں میں جگہ دی۔ مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم اور مولانا ثناء اللہ امرتسری جیسے بزرگ ان کے حامی اور معترف تھے اور انہی کے نام کا ڈنکہ بجاتے تھے۔

غرض مرزا صاحب کی کامیابی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے جب کہ جہالت مسلمانوں پر قابض تھی اور اسلام مسیحی اور آریہ مبلغین کے طعن و تشنیع کا مورد بنا ہوا تھا۔مرزا صاحب نے اس حالت سے فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کی طرف سے سینہ سپر ہو کر اغیار کا مقابلہ کیا۔

(تحریک قادیان صفحہ207 تا 210)

معروف صحافی جناب عبداللہ ملک نے اپنی کتاب ’’پنجاب کی سیاسی تحریکیں‘‘ میں سر سید احمد خان اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے طریق کار کا فرقان بیان کرنے کے بعد لکھا۔

سچ یہ ہے کہ اس دور میں جن لوگوں کو سرسید نے متاثر کیا۔ ساتھ ہی ان کو اپنی تعلیمات سے ایک گونہ آزردہ بھی کیا۔ ان ہی آزردہ دلوں کوبہت حد تک مرزا غلام احمد نے اپنے طور طریقوں سے سمیٹا۔ سرسید نے عقل کی بنیاد پر قرآنی آیات اور مذہبی تعلیمات و عبادات کی جتنی توجیہات اور تاویلات کی تھیں مرزا غلام احمد نے ان کے پرخچے اڑا دئیے۔ سر سید نے رسول خدا کے معجزات کو رؤیا کا فعل بتا کر تاویل کرنے کی کوشش کی لیکن مرزا غلام احمد نے معجزات کو عقلی اور دلائل کی بنیاد پر درست ثابت کیا۔

چنانچہ مرزا غلام احمد اپنی کتاب ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں۔

اور اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے امور صادر ہوتے ہیں…حال کے برہمو اور فلسفی اور نیچری اگر ان معجزات سے انکار کریں تو وہ معذور ہیں وہ اس مرتبہ کو شناخت نہیں کر سکتے جس میں ظلی طور پر الٰہی طاقت انسان کو ملتی ہے۔پس اگر وہ ایسی باتوں پر ہنسیں تو وہ اپنے ہنسنے میں بھی معذور ہیں کیونکہ انہوں نے بجز طفلانہ حالت کے اور کسی درجہ روحانی بلوغ کو طے نہیں کیا اور نہ صرف اپنی حالت ناقص رکھتے ہیں بلکہ اس بات پر خوش ہیں کہ اسی حالت ناقصہ میں مریں بھی۔

(صفحہ 66، 65)

اب مرزا غلام احمد کی ان تعلیمات نے ان کے حق میں فضاپیدا کی اور ان کے علم و فضل زہد و تقویٰ عبادت و ریاضت نے مل کر ان کا ایک حلقہ قائم کر دیا۔ ان کے حلقے کی توسیع میں دوسرا سب سے بڑا عمل ان کا آریہ سماج کے حملوں کا منہ توڑ جواب ہے کیونکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ایک طرف عیسائی پادریوں کی یورش ہو رہی تھی تو دوسری طرف ہندؤں کی ایک تحریک بھی حملہ آور ہورہی تھی کیونکہ ہندوؤں میں بھی ایک خاص قسم کا سیاسی و سماجی عمل جاری تھا۔

(پنجاب کی سیاسی تحریکیں صفحہ249,248)

نامور عالم دین صحافی محقق اورصاحب طرز ادیب جناب مولانا ابوالکلام آزاد ایڈیٹر اخبار ’’وکیل‘‘ امرتسر نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر ’’موت عالم‘‘ کے عنوان سے ایک مبسوط اور طویل اداریہ لکھا جس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے۔

’’…وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان بنا رہا۔ جو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا…دنیا سے اٹھ گیا …ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے تا کہ وہ مہتمم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پائمال بنائے رکھا آئندہ بھی جاری رہے۔ مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدر وعظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے اس لئے وہ ہرگز قلب سے نسیاً منسیا نہیں ہو سکتی…غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گراں بار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچریاد گار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون ہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا۔ اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت سر انجام دی ہے…آخر عمر تک برابر مرزا صاحب آریہ سماج کے چہرے سےانیسویں صدی کے ہندو ریفارمر کا چڑھایا ہوا ملمع اتارنے میں مصروف رہے ان کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعویٰ پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے۔ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ کسی درجہ تک کیوں نہ پہنچ جائے ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جا سکیں……اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابل پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی ان میں مخصوص قابلیت تھی……آئندہ امید نہیں کہ مذہبی دنیامیں اس شان کا شخص پیدا ہو۔جو اعلیٰ خواہش محض اس طرح مذہب کے مطالعہ میں صَرف کردے۔‘‘

(اخبار ’’وکیل‘‘ امرتسر 30 مئی 1908ء)

جناب مرزا حیرت دہلوی صاحب ایڈیٹر اخبار ’’کرزن گزٹ‘‘ دہلی لکھتے ہیں۔

’’مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔ اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اورایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کردی۔ نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا……اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں……اس کا پُرزور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اس نے ہلاکت کی پیشگوئیوں مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہوکر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔‘‘

(اخبار ’’کرزن گزٹ‘‘ دہلی یکم جون 1908ء)

بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ نے لکھا۔

’’مرحوم ایک مانے ہوئے مصنف اور مرزائی فرقہ کے بانی تھے……اپنی زندگی کے آخری دن تک کتابوں کے عاشق رہے اور دنیوی پیشوں سے پرہیز کرتے رہے۔ 1874ء تا 1876ء عیسائیوں، آریوں، برہموں کے خلاف شمشیر قلم خوب چلایا۔ آپ نے 1880ء میں تصنیف کا کام شروع کیا آپ کی پہلی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ اسلام کے ڈیفنس میں تھی جس کے جواب کے لئے آپ نے دس ہزار روپیہ کاانعام رکھا……بے شک مرحوم اسلام کاایک بڑا پہلوان تھا۔‘‘

پروفیسر پریتم سنگھ ایم اے اپنی کتاب ہندو دھرم اور اسلامی تحریکیں میں لکھتے ہیں۔

’’آریہ سماج نے شدھی یعنی ناپاک کرنے کا طریقہ جاری کیا۔ایسا کرنے سے آریہ سماج کا مسلمانوں کے ایک تبلیغی گروہ یعنی قادیانی فرقہ سے تصادم ہوگیا۔آریہ سماج کہتی تھی کہ وید الہامی ہیں اور سب سے پہلا آسمانی صحیفہ ہیں اور مکمل گیا ن ہیں۔ قادیانی کہتے تھے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور حضرت محمد خاتم النبیین ہیں اس کدو کاوش کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی عیسائی مسلمان اب مذہب کی خاطر آریہ سماج میں شامل نہیں ہوتا۔مذہب کی تبدیلی بے معنی سی ہوگئی ہے۔ آریہ سماج کا تعلیمی کام اب تک جاری ہے۔مگر سماج کا تبلیغی کام تقریباً بند ہے آریہ سماج کی تحریک خاطر خواہ ترقی نہ کر سکی۔ پرانے ہندو جو بت پرست اور مقلد تھے وہ ویسے کے ویسے ہی رہے اور کچھ انگریزی پڑھے لکھے لوگ جو سماج میں داخل ہوئے وہ مادیات میں پھنس کر دہریہ ہوگئے۔ ان کی تو وہی حالت ہے۔نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔‘‘

(ہندو دھرم اور اصلاحی تحریکیں صفحہ44,42)

مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب ڈکٹیٹر مجلس احرار اسلام و سابق ممبر لیجسلیٹوکونسل پنجاب حضرت مسیح موعودؑ کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بے جان تھا۔جس میں تبلیغی حس مفقود ہو چکی تھی۔ سوامی دیانند کی مذہب اسلام کے متعلق بدظنی سے مسلمانوں کو تھوڑی دیر کے لئے چوکنا کر دیا۔ مگر حسب معمول جلد خواب گراں طاری ہوگیا مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی۔ ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا۔ ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشرو اشاعت کے لئے بڑھا۔ اگرچہ مرزا غلام احمد صاحب کا دامن فرقہ بندی کے داغ سے پاک نہ ہوا۔ تاہم اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔‘‘

(فتنہ ارتداد اور پولیٹیکل قلابازیاں صفحہ24)

اخبار ’’تیج‘‘ نے جماعت احمدیہ کے قیام کو ہی آریہ سماج کی مخالف قرار دیتے ہوئے لکھا۔

’’ویسے تو آج کل مسلمان بھائیوں کا قریب قریب ہر فرقہ ہندوؤں کا مخالف ہو رہا ہے مگر احمدی مسلمان ہندو جاتی کو بدنام اور تباہ و برباد کرنے کے لئے جو انتھک کوشش کر رہے ہیں اس کی نظیر مسلمانوں کا کوئی دوسرا فرقہ نہیں پیش کر سکتا۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ اس فرقہ کے عالم وجود میں آنے کی غرض و غایت ہی ہندوؤں اور خاص کر آریہ سماجیوں کو تباہ و برباد کرنا تھی۔

(اخبار تیج 23جولائی1927ء)

جناب عبداللہ ملک آریہ سماج کے جارہانہ حملے اور مسلمانوں پر یلغار کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بانی جماعت احمدیہ کی کامیاب مدافعت کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’جب کہ آریہ سماج نے ہندو مت کو دلائل اور جدید رحجانات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی تو اس کے لئے اس نے اسلام اور عیسائیت پر حملے بھی ضروری سمجھے اور مذہبی تحریکوں کی توسیع اور ان میں شدت کرنے کے لئے دوسرے مذاہب اور اس کے پیرو کاروں کو نشانہ بنایا جائے۔چنانچہ آریہ سماج نے اس سلسلے میں مسلمانوں کو بہت حدتک چنا اور اسلامی تعلیمات اور رسول خدا کا مضحکہ اڑایا۔ان تعلیمات نے پنجاب کے ہندو کھتری اور پیشہ ور طبقے کو بہت مطمئن اور متاثر کیا۔کیونکہ اسے مسلمان کا شکار اور زمیندار کو لوٹنے کے لئے ایک مذہبی جواز کی بھی ضرورت تھی جو آریہ سماج کی تعلیمات نے مہیا کی اس کا ردعمل مسلمانوں میں ہونا بھی لازمی تھا۔چنانچہ اس ردعمل نے جو تقاضے مسلمانوں کے اندر پیدا کئے ان کو مذہبی سطح پر مرزا غلام احمد نے آریہ سماج کی تعلیمات پر حملے کر کے پورا کیا۔‘‘

(پنجاب کی سیاسی تحریکات صفحہ 252،253)

مرزا غلام احمد کے اس کارنامے کے متعلق سوانح نگار ڈاکٹر بشارت احمد اپنی کتاب ’’مجدد اعظم‘‘ میں رقم طراز ہیں۔ (اس کے بعد مجدد اعظم جلد اول صفحہ84 ,85 طویل اقتباس دیکھنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ناقل)

’’ان تمام سرگرمیوں نے مرزا غلام احمد کو اپنے متشدد پیروکاروں کا ایک مضبوط اور مؤثر حلقہ پیدا کرنے میں مدد دی۔ چنانچہ آریہ سماج کے خلاف مرزا غلام احمد نے جو تصنیف و تالیف کی۔ جو مناظرے اور مباحثے ترتیب دئیے۔ ان سبھی اقدام نے پڑھے لکھے مسلمانوں کو متاثر کیا اور ان میں اچھی خاصی تعداد میں چھوٹے موٹے سرکاری ملازمین بھی تھے۔ کیونکہ ہندوؤں میں بالعموم آریہ سماج کی تحریک پنجاب میں سرکاری ملازمین اور وکیل اور ڈاکٹروں میں ہی پھل پھول رہی تھیں اور ان سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے مسلمان بھی آریہ سماج کا مقابلہ کرنے کے لئے دلائل اور منطق کے متلاشی تھے۔چنانچہ اس محاذ پر بھی مرزا غلام احمد نے ان مسلمانوں کی تشفی کی۔‘‘

(پنجاب کی سیاسی تحریکیں صفحہ252 تا 254 از عبداللہ ملک طبع اول یکم جنوری 1971ء ناشر نگارشات پبلشرز76 انار کلی لاہور مطبوعہ علمی پرنٹنگ پریس لاہور)

ایک مشہور سکھ لیڈر سردار ارجن سنگھ ایڈیٹر ‘‘رنگین’’ امرتسر رقمطراز ہیں۔

’’اس وقت کے مسلمان عالم یہ سمجھتے تھے کہ مرزا صاحب نے براہین احمدیہ لکھ کر اسلام کی کوئی بڑی خدمت کی ہے۔ چنانچہ گھر گھر براہین احمدیہ کا چرچا تھا اور تمام پڑھے لکھے مسلمان اس کتاب کے مطالعہ کو ضروری سمجھتے تھے کیونکہ مسلمان عالموں کا خیال تھا کہ اس کتاب میں آریہ سماج اور عیسائیوں کے تمام اعتراضوں کو جواب آچکا ہے۔ ہر ایک مسلمان مناظر اس کتاب کو ایک نظردیکھ لینا ضروری خیال کرتا تھا۔ الغرض اس کتاب کی تصنیف کی وجہ سے جہاں مرزا صاحب ایک طرف ہندوستان کے مسلمانوں کی آنکھ کا تارا بن گئے وہاں آپ کو عیسائیوں اور آریوں میں بھی کافی شہرت حاصل ہوگئی۔ اور عیسائیوں اور آریوں نے جواب در جواب کی جانب توجہ کی۔یہاں تک کہ نوبت مقدمہ بازی تک پہنچی اور مباہلوں اور بد دعاؤں پر ختم ہوئی۔

(خلیفہ قادیان صفحہ 4,5)

مولانا ابوالکلام آزاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر شذرہ لکھتے ہیں اور آپ کی تصنیف براہین احمدیہ کی اہمیت اور افادیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

غیر مذاہب کی تردید میں اور اسلام کی حمایت میں جو نادر کتابیں انہوں نے تصنیف کی تھیں ان کے مطالعہ سے جو وجد پیدا ہوا وہ اب تک نہیں اترا ہے۔ان کی کتاب براہین احمدیہ نے غیر مسلموں کو مرعوب کردیا اور اسلامیوں کے دل بڑھا دئیے اور مذہب کی پیاری تصویر کو ان آلائشوں اور گرد و غبار سے صاف کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا جو مجاہیل کی تو ہم پرستیوں اور فطری کمزوریوں نے چڑھا دئیے تھے غرض کہ اس تصنیف نے کم از کم ہندوستان کی حد میں دنیا میں ایک گونج پیدا کر دی اس کی صدائے بازگشت ہمارے کانوں میں اب تک آرہی ہے گو بعض بزرگان اسلام اب براہین احمدیہ کے براہونے کا فیصلہ دے دیں محض اس وجہ سے کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنی نسبت بہت سی پیشگوئیاں کی تھیں اور بطور حفظ ماتقدم اپنے آئندہ دعاؤی کے متعلق بہت کچھ مصالحہ فراہم کر لیا تھا۔لیکن اس کے بہترین فیصلہ کا وقت 1880ء تھا جب کہ وہ کتاب شائع ہوئی۔ مگر اس وقت مسلمان بالاتفاق مرزا صاحب کے حق میں فیصلہ دے چکے تھے۔‘‘

(اخبار ’’وکیل‘‘ 30 مئی 1908ء)


پچھلا پڑھیں

مصروفیات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 01 تا 07 فروری 2020ء

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ