• 1 اکتوبر, 2020

تعارف سورۃ یونس (دسویں سورۃ)

(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 110 آیات ہیں)
ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن ملک غلام فرید صاحب

وقت اور مقام نزول

یہ سورۃ مکہ میں، مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی یعنی آنحضرت ﷺ کے یہاں قیام کے آخری چار سے پانچ سالوں میں۔ بعض مفسرین نے اس سورۃ کی بعض آیات کو مدنی قرار دیا ہے مگر ان کی رائے تاریخی شواہد کی روشنی میں نہیں ہے۔ انہوں نے یہ تجزیہ محض آیات کے مضامین سے نکالا ہے۔ اس سورۃ کا نام اس کی آیت نمبر 99 سے اخذ کیا گیا ہے۔

مضامین کا خلاصہ

قرآن کریم کےمتن پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف اس کی آیات کا باہمی ربط ہے بلکہ ہر سورۃ کا اپنی سابقہ اور بعد میں آنے والی سورۃ سے بھی نہایت مربوط تعلق پایا جاتا ہے۔ مزید براں قرآنی سورتوں کے بعض گروپس کے بعض دوسرے گروپس سے بھی گہرے تعلق ہیں۔ یوں پورے قرآن میں ایک شاندار ربط پایا جاتا ہے۔ اس کی مختلف سورتیں کئی طرح سے ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ان کی ترتیب اور تنظیم (منظم ہونے) کو دیکھا جائے تو اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ قرآن زبان دانی کے حوالہ سے ایک عظیم معجزہ ہے۔

سورۃ یونس اپنی سابقہ سورۃ سے تین طرح سے مربوط ہے۔ پہلے تو یہ اپنی سابقہ سورۃ کا ہی تسلسل ہے۔ جس کے آخر پر دو مضامین پر روشنی ڈالی گئی ہے (الف) قرآن کریم کا نزول اور اس کا انکار (9:127)، (ب) خدا کے رسول کا مبعوث ہونا اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے فوائد (9:128)۔ یہی مضمون اس سورۃ میں تسلسل سے بیان ہوا ہے۔ یہ کتاب (قرآن کریم) کی اہمیت بیان کرتی ہے (2:10) اور رسول (آنحضرت ﷺ) کا ذکر کرتی ہے (3:10)

دوسرے یہ سورۃ اپنی سابقہ سورۃ کے مضمون کو مکمل کرتی ہے۔ اس سورۃ میں (جو الگ سے ایک سورۃ نہ ہے بلکہ سابقہ سورۃ کا ہی حصہ ہے) اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا تھا کہ اسلام کی فتح اور غلبہ کا وقت آن پہنچا ہے اور اسلام کی شان و شوکت کے بارے میں خدائی وعدے پورے ہو کررہیں گے۔ اس لئے مومنوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ اپنے دلوں کو پاک کریں تاکہ ان کی توبہ قبول ہو۔ جیساکہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خدشہ پیدا ہوگا کہ کہیں ان کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے ان کی توبہ قبول نہ ہو، اسی سورۃ میں اس خدشہ کو دور کیاگیا ہے اور اس امر پر زور دیا گیاہےکہ خدا کا رحم ہر چیز پر محیط ہے اور سب چیزوں کا احاطہ کئے ہوا ہے اگرچہ اس کے حصول کے لئے سچی توبہ کی ضرورت ہے۔ تیسرے قرآن کریم کی ابتدائی سورتیں یعنی دوسری سے لے کر نویں تک (جو اصل میں سات ہیں کیونکہ نویں سورۃ کوئی الگ سورۃ نہ ہےبلکہ آٹھویں سورۃ کا ہی حصہ ہے اور اس کو الگ سے شمار اس کی اہمیت کی وجہ سے کیا گیا ہے) ایک ہی مضمون کو بیان کرتی ہیں جبکہ اس سورۃ سے سورتوں کا ایک نیا گروپ شروع ہوتا ہے جو اٹھارویں سورۃ تک چلتا ہے۔

یہ دوسرا گروپ ایک منفرد اور الگ مضمون کو بیان کرتا ہے گو اس کے مضامین پہلے گروپ کے مضامین سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ پہلے گروپ میں اسلام کی حقانیت کے دلائل آنحضرت ﷺ اور آپ کے کام سے دئے گئے ہیں اور اسلام کو قبول کرنے کی اپیل، اس کے اصولوں کی برتری کی بناء پر، اس کی تعلیمات کی فضیلت کی بنیاد پر اور روحانی علم کی وسعت کی بنا پر جو یہ حق کے طالبوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور غیرمعمولی مؤثرہونے کے باعث کی گئی ہے۔

دوسرے گروپ میں جو دسویں سے اٹھارویں سورۃ پر مشتمل ہے، نبوت کی ضرورت، مذہب کی اہمیت، آنحضرت ﷺ کی بعثت کے مقصد پر زور دیا گیا ہے اور خاص طور پر نبوت کے معیار اور خصوصیات کو پرکھا گیاہے، سابقہ انبیاء کے دعاوی اور تاریخ کے حوالہ سے استدلال کرکے انسانی عقل کے مطابق پرکھا گیاہے۔

یوں دونوں گروپس کے مضامین باہم ملتے جلتے اور آپس میں مربوط ہیں، صرف ایک فرق ہے کہ پہلے گروپ میں پیشگوئیوں کا بیان ہے جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت کی گئی تھیں یا گزشتہ انبیاء کے ذریعہ کی گئی تھیں اور اپنے وقت پر پوری ہوئیں، یوں آنحضرت ﷺ کی سچائی کے لئے ایک گواہ کے طور پر موجود ہیں جبکہ دوسرے گروپ میں اسلام کی سچائی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اس کے اپنے معیاروں پر اور نبوت کے اصولوں پر اسے پرکھا گیاہے۔

(وقار احمد بھٹی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 11 جون 2020ء