• 3 جولائی, 2020

قرآن کریم کی تعلیمات کو ترک کرنے کی وجہ سے تباہی

حضرت مصلح موعودؓ فرماتےہیں۔
’’یہ تباہی جو عملی اور اعتقادی لحاظ سے مسلمانوں پر آئی اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا اور اس پر عمل کرنا ترک کردیا۔ اگر وہ قرآن کریم پر عمل کرتے تو جس طرح صحابہؓ ساری دنیا پر غالب آگئے تھے اسی طرح وہ بھی غالب آجاتے اور کفر اور شیطنیت کا نشان تک دنیا سے مٹ جاتا۔ میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو بھی بارہا توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں میں قرآن کریم کے درس کا باقاعدہ انتظام کریں۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک جماعتوں نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی حالانکہ قرآن کریم اپنے اندر اتنی برکات رکھتا ہے کہ قیامت کے دن رسول کریم ﷺ خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوکر کہیں گے کہ اے میرے خدا! مجھے اپنی قوم کے افراد پر انتہائی افسوس ہے کہ میں نے تیرا محبت بھرا پیغام ان تک پہنچایا مگر بجائے اس کے کہ وہ تیرے پیغام کو سُن کر شادی مرگ ہوجاتے، بجائے اس کے کہ وہ اسے سن کر ممنون ہوتے، بجائے اس کے کہ اسے سن کر ان کے جسم کا ہر ذرّہ اور ان کے دل کی ہر تار کانپنے لگ جاتی، بجائے اس کے کہ وہ اس مژدۂ جانفزا کو سن کر عقیدت اور اخلاص سے اپنے سر جھکادیتے اِتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُراٰنَ مَھْجُوْرًا انہوں نے تیرے پیغام کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور کہا کہ جاؤ ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ بیشک اندھی دنیا خدا تعالیٰ کے پیغام کے ساتھ یہی سلوک کرتی چلی آئی ہے مگر وہ دنیا جو یہ جانتی نہیں کہ خدا تعالیٰ کیا ہے اور اس کا رسول کتنی بڑی شان رکھتا ہے وہ جو کچھ کرتی ہے اسے کرنے دو۔ میں اس مومن سے پوچھتا ہوں جو کہتا ہے کہ خدا ہے، جو جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی کیا عظمت ہے، جو سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا بندے کو مخاطب کرنا خواہ وہ بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ ایک عظیم الشان انعام ہے کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے کلام کو سُنتا اور پھر اس کا جواب نہیں دیتا اور اس پر عمل کرنے لئے اس کے دل میں کوئی ولولہ پیدا نہیں ہوتا۔ حالانکہ بسم اللہ کی ب سے لے کر والنّاس کے س تک قرآن کریم کا ایک ایک کلمہ، اس کا ایک ایک لفظ اور اس کا ایک ایک حرف خدا تعالیٰ کی طرف سے بندے کے لئے سلام کا پیغام لے کر آیا ہے اور اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہے کہ اگر اب بھی مسلمان خدا تعالیٰ کے پیغام کے جواب کے لئے تیار ہوجائیں اور اس کی اطاعت کے لئے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیں تو یقینًا اُن کی دنیا بدل سکتی ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 6صفحہ 484۔485)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 11 جون 2020ء