• 8 اگست, 2022

ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کی ممد اور معاون ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وہ رفتہ رفتہ وحشیانہ حالت میں گِر کر رُوحانی پاکیز گی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے۔‘‘

(ایام صلح، روحانی خزائن جلد14 صفحہ332)

  • ’’بیشک اللہ تعالےٰ توبہ کرنے والے کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے۔ اس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالےٰ توبہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے۔ ورنہ نری توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد7 صفحہ148-149 ایڈیشن 1984ء)

  • ’’جو لوگ باطنی اور ظاہری پاکیزگی کے طالب ہیں مَیں اُن کو دوست رکھتا ہوں۔ ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کی ممد اور معاون ہے۔ اگر انسان اِسے ترک کردے اور پاخانہ پھر کر بھی طہارت نہ کرے،تو باطنی پاکیزگی پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ پس یاد رکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مُستلزم ہے۔ اس لیے ہر مُسلمان کے لئے لازم ہے کہ کم ازکم جمعہ کے دن ضرور غسل کرے۔ ہر نماز میں وُضو کرے۔ جماعت کھڑی ہو تو خوشبو لگائے۔ عیدین اور جمعہ میں جو خوشبو لگانے کا حکم ہے وُہ اسی بنا پر قائم ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے غسل کرنے اور صاف کپڑے پہننے اور خوشبو لگانے سے سمیّت (زہر) اور عفونت سے روک ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ قانون مقرر کیا ہے۔ ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھاہے۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ164 ایڈیشن 1988ء)

پچھلا پڑھیں

ہیومینٹی فرسٹ ہالینڈ کے چیئرمین اور IAAAE کے چیئرمین کی ساؤتھ افریقہ میں آمد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جون 2022