• 20 جولائی, 2024

خلافت خامسہ اور معیت الہی

(نوٹ از ایڈیٹر:- مضمون نگار علامہ ایچ ایم طارق نے اس اہم تاریخی مضمون میں خلافت خامسہ کے قیام اور حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ کے بطور خلیفہ منتخب ہونے کے متعلق روٴیا، کشوف اور خوابوں کا نچوڑ ’’جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و روٴیا اور الٰہی اشارے‘‘ کتاب سے پیش کیا ہے۔ فَجَزَاہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ

یہ کتاب734 صفحات پر مشتمل ہے۔ موصوف نے اس مضمون میں تحریر کیا ہے کہ اتنی کثرت سے خوابیں اور روٴیا اس سے قبل چاروں خلفاء کے حوالہ سے منضبط نہ ہوسکیں۔

چونکہ اس تاریخی کتاب کو مرتب کرنے کی توفیق خاکسار کو بطور نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ کے ملی تھی۔ میں نے بھی اس وقت محسوس کیا تھا کہ 250 سے زائد افراد جماعت کا حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کو بطور خلیفہ منتخب ہوتے خوابوں، روٴیا اور کشوف میں دیکھنا ایک الٰہی تائید و نصرت تھی۔ اَللّٰھُمَّ اَیِّدْ اِمَامَنَا بِرُوْحِ الْقُدُسِ)

قرآن شريف ميں اللہ تعالیٰ نے آغاز سے ہی منصب خلافت عطا کرنے کی ذمہ داری اپنی ذات سے منسوب کر کے واضح فرما ديا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔ فرمايا:

وَاِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً

(البقرہ: 31)

اور (ياد رکھ) جب تيرے ربّ نے فرشتوں سے کہا کہ يقيناً ميں زمين ميں ايک خلیفہ بنانے والا ہوں۔

اور پھر حضرت آدمؑ کو خلافت نبوت عطا فرمائی اوران کو روئے زمين پرصفات الٰہيہ کے اظہار کے ليے خدا کا جانشین اورخلیفۃ اللہ مقرر فرمايا۔

اسی طرح حضرت داؤد نبی اللہ عليہ السلام کومخاطب کرکے فرمايا:

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الۡاَرۡضِ

(ص: 27)

اے داؤد! ىقىناً ہم نے تجھے زمىن مىں خلىفہ بناىا ہے۔

پھر امت محمديہ سے بھي ايسی روحانی خلافت کا وعدہ کرتے ہوئے فرمايا:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِي الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ

(النور: 56)

یعنی اللہ نے تم ميں سے ايمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کيا ہے کہ وہ ان کو زمين ميں خليفہ بنا دے گا۔ جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا ديا تھا۔

يہ الٰہی وعدہ جس طرح اسلام سے پہلے پورا ہوتا رہا اور بنی اسرائيل ميں حضرت موسیٰؑ اور ان کے جانشین حضرت يوشعؑ سے لے کر حضرت عيسیٰؑ تک کو خود اللہ تعالیٰ نے روحانی خلافت سے سرفراز فرمايا۔ اسی طرح رسول اللہﷺ کے بعد بھي يہ وعدہ خلافت راشدہ کے ذريعہ سچا ثابت ہوا۔

چنانچہ رسول کريم ﷺنے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر اپنے بعد حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے خلیفہ ہونے کے بارے رؤيا ميں ديکھا کہ آپ ايک کنويں سے ڈول کے ذريعہ پانی نکال رہے ہيں۔ پھر حضرت ابوبکرؓ آئے اور انہوں نے دو ڈول کچھ کمزوری سے کھینچے پھر حضرت عمرؓ کے آنے پر وہ ڈول بڑا ہوگيا اور انہوں نے ايک باہمت اور بہادر جوانمرد کی طرح بڑے زور سے پانی کھینچ کر دنيا کو سيراب کيا۔

(صحيح بخاری کتاب اصحاب النبیؐ باب مناقب عمر بن الخطابؓ)

پس يہ ايک حقيقت ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جسے چاہے اپنے اس انتخاب کی پیشگی اطلاع بھی فرما ديتا ہے۔ یہی صداقت خلافت علیٰ منہاج النبوة کے اس دوسرے دور میں مسیح و مہدی کے زمانہ ميں بھی بڑی شان سے ظاہر ہوئی۔

حضرت مسيح موعودؑ کی وفات کے بعدآپؑ کی ساری جماعت نے بالاتفاق حضرت مسيح موعودؑ کے پہلے خلیفہ کے طور پر حضرت مولانا نور الدينؓ کے ہاتھ پر بيعت کی۔ حضرت مولانا نور الدينؓ کے خليفہ اوّل ہونے کے بارے ميں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق کئی لوگوں کو پیشگی اطلاع فرمادی تھی۔ ان ميں سے پندرہ کے قريب بشارات اب بھي جماعتی ريکارڈ ميں محفوظ ہيں۔ ممکن ہے کہ ديگرکئی بزرگان نے بھي ایسی رؤيا ديکھی ہوں مگر اپنے ذاتی انکسارياخلافت اولیٰ پرجماعت کا اتفاق ديکھ کر اس کے بيان کرنے کی ضرورت محسوس نہيں کی۔

خلافت ثانيہ کے انتخاب پر چونکہ ايک فتنہ بھي پيدا ہونے والا تھا۔ اس سے مخلص مومنوں کو بچانے اور خليفہ برحق کی نشاندہی کے ليے اللہ تعالیٰ نے ايسی رؤيائے صادقہ کے زيادہ گواہ کھڑے کرديے۔ قریباً تین صد احباب جماعت نے حضرت مرزا بشير الدين محمود احمد صاحبؓ کے خلیفہ ثانی ہونے کی پیشگی اطلاع اللہ تعالیٰ سے پاکرريکارڈ کروائی۔ جس سے پھر ثابت ہوگياکہ خلیفہ خداہي بناتا ہے۔

انتخاب خلافت ثالثہ پر ايک اور فتنہ درپيش تھا۔ اس موقع پر بھی تین سو سے زائد مخلص احمديوں نے بذريعہ خواب حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ کے خلیفہ مقرر ہونے کی اطلاع پا کر اپنی گواہی محفوظ فرمادی۔

خلافت رابعہ کے انتخاب سے پہلے دو سو افراد نے اللہ تعالیٰ سے بذريعہ خواب حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ کے خليفہ ہونے کي پیشگی اطلاع پاکر شائع کروائی۔

خلافت خامسہ کے انتخاب کے وقت باوجود يکہ جماعت کي کثير تعداد حضرت مرزا مسرور احمد صاحب سے ذاتی واقفيت نہيں رکھتی تھی۔ جماعتی ريکارڈ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اڑھائی صد سے زائد احباب و خواتین کو آپ کے خلیفہ بننے کی پیشگی خبر عطا فرما کر ايک بارپھر اپنے خدائی انتخاب پر مہر تصديق ثبت کردي۔

حيرت انگيز بات

گذشتہ دنوں خلافت خامسہ کے بارے ميں رؤيا و کشوف کے تفصیلی مطالعہ کے دوران يہ تجزيہ کرکے خوشگوار حيرت ہوئی کہ اول تو يہ رؤيا ديکھنے والوں کا تعلق عالمگير جماعت احمديہ کے تمام دنيا ميں بسنے والے افراد سے ہے دوسرے جہاں کثير تعداد ميں احمدی ہيں وہاں خوابيں زيادہ آئيں اور جن ممالک ميں تعداد نسبتاً کم تھي وہاں سے بھي خوابوں کی نمائندگی بہرحال ہوئی ہے۔ جس ميں يہ اشارہ بھی تھا کہ اس بابرکت دَور ميں جماعت کی عالمگیر ترقی ميں غيرمعمولی اضافہ ايک الٰہی تقدير تھی۔

چنانچہ جماعتی ريکارڈ کے مطابق ان اڑھائی سو موصولہ خوابوں ميں سے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے 144، ديگر تينوں صوبوں سے صرف 44، ہندوستان سے 8، يورپ سے31، افريقہ سے12، امريکہ سے 9 جبکہ ديگر خوابيں کینیڈا، آسٹريليا، سری لنکا وغيرہ سے بھی تعلق رکھتی ہيں۔ مزيد پُرلطف بات يہ ہے کہ خوابيں ديکھنے والوں ميں مردوں کے علاوہ احمدی خواتين بھی شامل ہيں اور ايک خاص تعداد واقفین زندگی اور مربيان وغيرہ کی بھی ہے۔

ان رؤيا وکشوف کا يہ دلچسپ مطالعہ ميرے ليے ايک پُرسکون قلبی و روحانی واردات کے علاوہ نہايت ايمان افروز تجربہ بھي ثابت ہوا۔ جس کے کچھ پہلو اس وقت احباب کے سامنے رکھنے مقصود ہيں۔

ايک اہم پہلويہ ہے کہ يہ خوابيں دراصل مخلص احمديوں کی متضرعانہ دعاؤں کا جواب تھيں۔ کيونکہ سب سے زيادہ خوابيں حضرت خلیفۃ المسيح الرابعؒ کی وفات 19اپريل 2003ء سے انتخاب خلافت 22اپريل کے دوران بکثرت آئيں جب احباب جماعت نہايت اضطرار سے جماعت اور خلافت کے ليے دعائيں کر رہے تھے۔پھر کچھ خوابوں کا تعلق 1999ء ميں حضرت خلیفۃ المسيح الرابعؒ کی بیماری سے ہے جب احباب جماعت حضورؒ کی صحت کےليے بے چينی سے متضرعانہ دعاؤں ميں مصروف تھے۔

خوابوں کا باہمی اشتراک

ايک اور اہم بات ان خوابوں کے مطالعہ سے يہ سامنے آئی کہ ان کےمضامين ميں گہرا معنوی اشتراک ان کی سچائی پر دليل ہے یعنی ايک ہی مضمون کی خواب مختلف احباب جماعت کو دکھا کر انہيں ايک دوسرے پر گواہ بنا ديا گيا۔ يوں يہ خوابيں سچائی کے جوڑے بناتی ہيں۔ جن سے ان کی بےساختگی کے ساتھ يہ بھی ظاہر ہے کہ ان رؤيا کا سرچشمہ ايک خدا تعالیٰ کي ذات ہے اور يہ حقيقت ان خوابوں کے برحق ہونے پر دليل ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر بيس سال يا اس سے زائد عرصہ قبل کی يہ تمام خوابيں خلافت خامسہ کي سچائی پر گواہ ہيں۔ جن ميں حضور کے دَور خلافت اور اس ميں ترقی کے واضح اشارے ہيں۔ جو اپنے اپنے وقت پر پورا ہوکر اس خلافت کی عظمت اور صداقت ظاہر کرنے والی ہيں۔

’’اب تو ہماری جگہ بیٹھ‘‘

ان خوابوں ميں سے چند ايک دلچسپ اور اہم رؤيابيان کرنے سے پہلے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کی خلافت کے بارے ميں حضرت مسيح موعودؑ کے اس الہام کا ذکر ضروری ہے جو آپ کے دادا حضرت صاحبزادہ مرزا شريف احمدؓ کے بارے ميں ہوا تھا کہ ’’اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہيں۔‘‘

(تذکرہ صفحہ406)

يہ رؤيا ايک رنگ ميں حضرت خلیفۃ المسيح الخامس ايدہ اللہ تعالیٰ کے والد بزرگوار حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے حق ميں بھی پوری ہوئی جيسا کہ حضرت خلیفۃ المسيح الرابعؒ نے ان کی وفات پر فرمايا:
’’يہ امر واقعہ ہے کہ بعض پیشگوئیاں، جيسا کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے زمانے ميں بھی ايسا واقعہ ہوچکا ہے، ايک شخص کے متعلق کی جاتی ہيں ليکن بیٹا مراد ہوتا ہے…

حضرت مسیح موعود عليہ السلام مرزا شريف احمد صاحب کو مخاطب کر کے کشف ميں ديکھتے ہيں کہ
’’اب تو ہماري جگہ بيٹھ اور ہم چلتے ہيں‘‘… يہ الہام حضرت مرزا شريف احمد صاحب کے متعلق پورا نہيں ہوا… اب يہ بات بعینہٖ آپ کی ذات پر پوری ہوئی ہے… آپ کا وجود ايک مبارک وجود تھا جسے حضرت مسيح موعود عليہ السلام کا روحانی بيٹا ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ جو کچھ بھی اپنے بيٹے کے متعلق ديکھا وہ ان کے بيٹے کے متعلق پورا ہوا۔ اب جب کہ ميں نے ان کی جگہ ناظر اعلیٰ اور امير مقامی ان کے صاحبزادے مرزا مسرور احمد صاحب کو بنايا تو ميرا اس الہام کی طرف بھی دھیان پھرا کہ گويا آپ اب يہ کہہ رہے ہيں کہ ميری جگہ بیٹھ…

اب ميں ساری جماعت کو حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے لئے دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور بعد ميں مرزا مسرور احمد صاحب کے متعلق بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحيح جانشین بنائے ’’تو ہماری جگہ بیٹھ جا‘‘ کا مضمون پوری طرح ان پر صادق آئے اور اللہ تعالیٰ ہميشہ خود ان کی حفاظت فرمائے اور ان کی اعانت فرمائے۔‘‘

(الفضل انٹر نيشنل 30؍جنوري 1998ء)

مجھے خوب ياد ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی وفات پر خاکسار نے آپ کی سيرت کے بارے ميں الفضل کے ليے ايک مضمون تحرير کيا جس ميں ان کے زيرسايہ بطور ناظر دعوت الیٰ اللہ آٹھ سالہ رفاقت کی کچھ ياديں اور دلنشین واقعات تحرير تھے۔ مضمون کے آخر ميں حضرت خلیفۃ المسيح الرابعؒ کے مذکورہ بالا ارشاد کی روشنی ميں خاکسار نے يہ دعائيہ جملہ بھی لکھ ديا کہ اب اللہ تعالیٰ آپ کے صاحبزادے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کے حق ميں بھی يہ بات پوری فرمائے جو اب ان کی جگہ بیٹھے ہيں اور آپ کی ’’امارت‘‘ اور ’’عمر‘‘ ميں بھی غيرمعمولی برکت نصيب ہو۔

يہ مضمون الفضل ميں اشاعت سے پہلے برائے ملاحظہ و مشورہ اس وقت کے ناظر اعلیٰ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کی خدمت ميں دفتر ميں حاضر ہوکر پيش کيا۔ جسے آپ اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اگلے روز بعد ملاحظہ واپس فرما ديا۔ آپ نے اس مضمون ميں اور کوئی تبديلی تو نہ فرمائی ليکن وہ فقرہ جس ميں يہ الہام آپ پر چسپاں کيا تھا اپنے طبعی عجز و انکسار کی وجہ سے حذف فرما ديا۔ وہ فقرہ مضمون ميں تو شائع نہ ہوسکا مگر وہ دعا اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دی جو آپ کے ليے ہی مقدر تھی۔

حضرت مسيح موعودؑ کے الہام ميں جو حضرت صاحبزادہ مرزا شريف احمد صاحب کو مخاطب کر کے آپؑ کی مسند خلافت پر بیٹھنے کا جو اشارہ تھا وہ بہرحال حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کی ذات ميں ہی پورا ہوا۔ جيساکہ بعض دیگر خوابوں ميں بھی اس بارے ميں کھلے اشارے تھے۔ خاص طور پر مکرم سيد شريف احمد شاہ صاحب آف شيخ پور ضلع گجرات کی خواب تو بہت ہی واضح ہے کہ ’’حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی بیماری پر حضرت مرزا مسرور احمد کی طرف سے بطور ناظر اعلیٰ (1998ءيا1999ء) اعلان شائع ہوا تھا اس وقت مجھے خواب آيا کہ … حضرت مرزا شريف احمد صاحب نے حضرت مرزا مسرور احمد کو فرمايا کہ ’’آپ يہاں بیٹھیں اور ہم چلتے ہيں۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے ازنظارت اصلاح و ارشاد مرکزيہ زير اہتمام صدسالہ خلافت احمديہ جوبلی کمیٹی صفحہ526)

امريکہ سے ہماری ايک اور احمدی بہن زبيدہ صاحبہ کی خواب کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا جنہوں نے خلافت خامسہ کے انتخاب کی رات حضرت مرزا شريف احمد صاحب کو شيروانی ميں ديکھ کر اپنی بیٹیوں کو پیشگی مطلع کر ديا کہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ ہوں گے۔

’’اِنِّیْ مَعَکَ یَا مَسْرُوْر‘‘

حضرت مسيح موعودؑ کو 19؍دسمبر 1907ء ميں يہ الہام ہوئے:

’’ميں تيرے ساتھ ہوں اور تيرے اہل کے ساتھ ہوں۔ ميں تيرے بوجھ اٹھاؤں گا۔‘‘
’’ميں تيرے ساتھ اور تيرے تمام پياروں کے ساتھ ہوں۔‘‘
’’اِنِّیْ مَعَکَ یَا مَسْرُوْر۔ اے مسرور! ميں تيرے ساتھ ہوں۔‘‘

(تذکرہ صفحہ630)

حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معيت کے يہ وعدے نہ صرف حضور عليہ السلام کی زندگی ميں بلکہ آپؑ کے تمام خلفاء کے زمانہ ميں بھی پورے ہوتے رہے اور حضرت خلیفۃ المسيح الخامس ایدہ اللہ تعالی کے دَور ميں (جن کا نام ہی ’’مسرور‘‘ ہے) تو يہ الہام جس شان سے پورا ہوا اور ہو رہا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی الٰہی معيت کا کچھ ذکر اس جگہ مقصود ہے۔

اگلی صدی کا مجدد خلیفہ

جہاں تک حضرت خلیفۃ المسيح الخامس ايدہ اللہ تعالیٰ کے بارہ ميں ان مبشر رؤيا کی تفصيل کا تعلق ہے اس کا آغاز تو آپ کی پيدائش کے ساتھ ہی ہوگيا تھا۔ جيسا کہ مکرم خاں سعيد اللہ خان صاحب نے تحرير فرمايا:
’’جب حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب پيدا ہوئے ميں کالج ميں پروفيسر تھا اور ہوسٹل ميں وارڈن بھی تھا۔ پروفيسر بشارت الرحمٰن صاحب جو بزرگ تھے کالج آئے۔ ميں ہوسٹل کے باہر کھڑا ہوا تھا مجھے مخاطب ہوکر کہنے لگے سعيد اللہ خان! ميں تو کالج پڑھانے آيا تھا مگر يہاں آکر چھٹی ہو گئی ہے اور ساتھ ہی کہا کہ ميں نے آج رات کو خواب دیکھی کہ آج جو حضرت صاحب کے خاندان ميں بچہ پيدا ہوا ہے وہ اگلی صدی کا مجدد ہے۔ ميں نے يہ بات مرزا خورشيد احمد صاحب کو بتا دی تھی۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ485 تاریخ تحریر 30؍جنوری 2008ء)

مذکورہ بالا مضمون کی طرف اشارہ مکرم مرزا انعام الکبیر صاحب معلم وقف جديد میلبورن کی اس رؤيا ميں بھی تھا کہ ’’حضرت خلیفۃ المسيح الرابع رحمہ ﷲ کي وفات کے بعد پريشانی کے دوران چند لمحوں کے لئے اونگھ کی حالت طاری ہوئی تو ديکھا کہ ميں بھي بيت فضل لندن کے باہر لوگوں کے ساتھ منتظر ہوں۔ عاشقان خلافت انتظار ميں کھڑے ہيں۔ کئی افراد بيت الفضل کی کھڑکيوں کی طرف جھانک کر ديکھ رہے ہيں کہ بيت کے اندر کيا کارروائی ہورہی ہے۔ خاکسار بھي بيت فضل کے سامنے کی طرف ايک کھڑکی سے ديکھ رہا ہے۔ کہ ايک شخص جو کہ سفيد قميص اور پينٹ پہنے ہوئے ہے۔ قميص کے اوپر کئی رنگوں کے گول گول چھاپ۔کپڑے اس قدر ميلے معلوم ہوئے جيساکہ سفر سے آئے ہوں۔ انہوں نے مجھے دو افراد کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ان دونوں کا نام منصب خلافت کے لئے سوچا جارہا ہے۔ جن ميں ايک کا اسم مبارک مرزا مصلح الدين (ہے)… مرزا مصلح الدين صاحب پیٹھ پھیر کر دوسری طرف چہرہ کر کے بیٹھے تھے اس لئے ان کا چہرہ مبارک معلوم نہيں ہوا …اس انجانے شخص نے اشارةً بتايا کہ مرزا مصلح الدين صاحب ہی خلیفہ بنيں گے اس کے معاً بعد آنکھ کھل گئی۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ644)

مکرم کاشف محمود عابد صاحب مربی سلسلہ نےاپنی رؤيا کے حوالے سے بيان کيا کہ ’’خلافت خامسہ کے انتخاب کے وقت خاکسار کی تعنیاتی ’’محمودہ‘‘ ضلع راولپنڈی ميں تھی کہ ايک يا دوروز قبل يہ اشارہ ہوا کہ ’’مرزا مسرور احمد صاحب‘‘ خليفہ بنيں گے۔ اب نظام کی بات ہوگی۔ نظام کی۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ674 تاريخ تحرير 31؍اکتوبر 2005ء)

حضرت خليفۃ المسيح الرابعؒ کا قلم عطا ہونا

چنانچہ مکرم مسعود احمد صاحب بيان کرتے ہيں:
’’13-14؍اگست 1998ء کی درميانی رات 11 بجے خواب ميں ديکھا کہ حضرت خليفۃالمسيح الرابع رحمہ اللہ اور مکرم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ ايک ميز پر دوسرے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہيں۔حضرت خلیفۃ المسيح الرابع (رحمہ اللہ) نے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کو پين نما کوئی چيز دی اور فرمايا۔ ’’اب يہ لکھا کريں گے۔‘‘ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ510)

آنے والے خلیفہ کی روحانی تیاری

کئی خوابوں ميں حضرت خلیفۃ المسيح الخامس ايدہ اللہ کی فرشتوں کے ذريعہ روحانی تیاری کا ذکر ہے۔جس کا عمل حضرت خلیفۃ المسيح الرابعؒ کي پہلی بیماری 1999ء کے زمانے سے ہی شروع ہوگيا تھا۔ جيسا کہ محمد يونس صاحب بيان کرتے ہيں کہ ’’حضرت خلیفۃ المسيح الرابع (رحمہ اللہ) کي پہلی بیماری کے دنوں ميں ايک رات کو خواب ديکھا کہ يکدم روشنی ہوئی ہے اور حضرت خلیفۃ المسيح الرابع (رحمہ اﷲ) نظر آئے ہيں اور فرماتے ہيں کہ آنے والے خلیفہ کو ساٹھ ہزار فرشتے نکھار کر رہے ہيں اور اس دوران اللہ تعالیٰ فرشتوں کو فرماتا ہے کہ مزيد اس کی نکھار کرو۔ پھر بار بار تاکيداً کہتا جاتا ہے کہ مزيد اس کی نکھار کرو۔ اور ساتھ ہی فرماتا ہے حضرت بلالؓ کے خاندان سے ہوگا۔ اور افريقہ کا شہزادہ ہوگا۔ اس دوران يہ سب کچھ ديکھنے ميں آيا۔ کہ شوخ گندمی رنگ کا ہے۔ داڑھی بھی چھوٹی ہے اور بال ريشم کی طرح ہيں۔ عمر تقريباً 50 سال ہے۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ530)

روحانی چاند کا ظہور

ڈاکٹر (ہوميو) محمد رشيد صاحب بيان کرتے ہيں کہ
’’مورخہ 23؍ اپريل 2003ء… کو اعلان ہوا کہ مکرم مرزا مسرور احمد صاحب کو خلیفۃ المسيح الخامس منتخب کر ليا گيا ہے۔ الحمدللہ۔ اس کے بعد خاکسار بستر پر ليٹ گيا اور تھوڑی دير کے لئے آنکھ لگ گئی جيسے اونگھ آجاتی ہے تو درج ذيل الفاظ سنائی ديئے: ’’پنجاہ ہزار چن چڑھِّن‘‘ يعني روشنی ہوگئی۔ جاگنے پر خاکسار يہی الفاظ زبان سے بار بار دہرا رہا تھا۔ اس وقت گھڑی پر تقريباً صبح کے چار بج کر اکاون منٹ کا وقت تھا۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ676)

مکرمہ رضوانہ شفيق صاحبہ اہليہ قاضی شفيق احمد صاحب صدر جماعت احمديہ آسٹريا کی رؤيا بھي اس کی تائید کرتی ہے۔

’’جس روز حضرت خلیفۃ المسيح الرابع رحمہ اللہ کی وفات ہوئی عاجزہ گھر پر MTA سے براہ راست تمام نشريات ديکھ رہی تھي… اچانک تھکن کی وجہ سے لمحہ بھر ٹيک لگا کر بیٹھ گئی مگر سمجھ نہيں آتا کہ نيند کی حالت ہے يا خيال کی حالت ہے مگر ايک دم نور ہی نور آسمان سے اترتا دکھائی ديا جو کہ بہت تيزی سے برق روئی سے زمين کی طرف بڑھتا ہے۔ ديکھتے ہی ديکھتے وہ نور اس جگہ ميں جہاں خلافت کميٹي بيٹھي ہے داخل ہوگيا ہے اسی لمحہ دل ميں يہ خيال بھي پيدا ہو رہا ہے کہ اس بار خليفة المسيح کا نام حروف ابجد کے لفظ ’’م‘‘ سے شروع ہوگا ليکن ديکھتے ہی ديکھتے وہ نور ’’م‘‘ نامی شخص ’’مسرور‘‘ ميں داخل ہوجاتا ہے اور يہ الفاظ دل ميں گونجتے ہيں جو ميرے منہ سے جاری ہوگئے کہ اللہ نے اپنا خليفہ چن ليا ہے اور جس شخص ميں اپنا نور بھرنا تھا بھر ديا۔ ايسے ہي عالم ميں ايک دم جيسے ميری آنکھ کھل گئی ہويا وہ نظارہ ٹوٹ گيا ہو اور وہ کيفيت ختم ہوجاتی ہے۔

سو ميں نے بھی يہ نظارہ اگلے ہی لمحہ MTA پر براہ راست ديکھا۔ جس ميں اعلان ہو رہا تھا کہ حضرت خليفۃالمسيح الخامس مرزا مسرور احمد ہمارے خلیفہ ہوں گے۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ731-732 تاريخ تحرير 30اکتوبر 2005ء)

ناواقف احمديوں کو ’’مسرور‘‘ کی آواز سنائی دينا

خلافت خامسہ کے بارے ميں ان رؤيا مبارکہ کے متعلق ايک اور عجيب توارديہ ہے کہ يہ خوابيں ديکھنے والے اکثر وہ لوگ تھے جو حضرت مرزا مسرور حمد صاحب بلکہ ان کے نام تک سے ناآشنا تھے۔ جيسا کہ موصوفہ رضوانہ شفيق صاحبہ بھی بيان کرتی ہيں کہ ’’خلافت خامسہ سے پہلے عاجزہ نے حضور کا نام کبھی نہيں سنا تھا اور نہ ہی عاجزہ حضور کو جانتی تھی بلکہ يہ حقيقت ہے کہ ميں اور ميرے شوہر دونوں ہی اس نام سے ناواقف تھے اور خلافت کے منصب پر جب اللہ تعالیٰ نے حضور ايدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزيز کو فائز کيا تب ہی ہم دونوں نے يہ نام پہلی بار سنا اور حضور انور کو پہلی بار دیکھا۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ732-731 تاریخ تحریر 30اکتوبر 2005ء)

انتخاب خلافت کے موقع پر کرۂ ارض ميں فرشتوں کا ايسا نزول ہوا اور انہوں نے ’’مسرور مسرور‘‘ کا ايسا شور برپا کيا کہ دنيا کے مختلف کونوں ميں عالم کشف ميں احمدی احباب و خواتين نے اپنے کانوں سے تکرار کے ساتھ بارباريہ نام سنا۔

يہی واردات مکرمہ تسنيم کوثر عبدل صاحبہ بنت شيخ رشيد احمد صاحب کے ساتھ گزری۔ انہوں نے بيان کيا کہ خلافت خامسہ کے انتخاب سے ايک رات پہلے خواب ميں آواز آئی کہ ’’مرزا مسرور احمد۔‘‘

يا د رہے کہ اس خواب سے پہلے ميں نے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کو نہ ديکھا تھا اور نہ کبھی نام سننے کا اتفاق ہوا تھا کيونکہ اس زمانے ميں، ميں England ميں مقيم تھی اور آپ کے نام کا تعارف نہ تھا۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ686)

اس روحانی تجربہ ميں شريک ايک اور خوش نصيب مکرم محمد عبدالوحيد خان صاحب نے بيان کيا کہ
’’حضرت خلیفۃ المسيح الرابع رحمہ اﷲ کی وفات سے اگلے روز خاکسار نے يہ نظارہ ديکھا کہ بيت فضل لندن کے اس راستے سے جہاں سے حضرت خلیفۃ المسيح الرابع (رحمہ اللہ) داخل ہوتے تھے ايک وجود کو باڈی گارڈز کے ہمراہ جمعہ کی نماز کے لئے داخل ہوتے ديکھا اور اسی وقت خاکسار کی آنکھ کھلی اور زبان پر اس وجود کا نام مرزا مسرور احمد جاری تھا… خاکسار نے حضرت مرزا مسرور احمد کو پہلے کبھی نہ ديکھا تھا اور نہ ہی تصوير ديکھی تھی۔ اس خواب ميں حضرت مرزا صاحب کو عينک لگائے ہوئے ديکھا تھا۔ جب خلافت کمیٹی نے آپ کی خلافت کا اعلان فرمايا اور آپ بيعت لينے کے لئے بیٹھے مگر آپ نے عینک نہيں لگائی تھی خاکسار تھوڑا سا پريشان ہوا کہ چہرہ بھی وہی ہے مگر عینک نہيں۔ اس اثناء ميں آپ نے اپنی جيب سے عینک نکالی اور پھر خواب والی تصوير حقيقت بن کر سامنے آگئی اور خاکسار کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اپنے رب کی حمد ميں۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارےصفحہ664 تاریخ تحریر 4؍اپریل 2004ء)

ايسے خوش نصيبوں ميں محترمہ مسز بشریٰ طيبہ يوسف صاحبہ بھی ہيں جنہوں نے بيان کيا:
’’اپنے محسن امام حضرت خلیفۃ المسيح الرابع (رحمہ اﷲ) کی جدائی کے شديد غم و حزن ميں نڈھال تھی اور شب و روز دعا ميں مصروف تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و احسان سے خلافت حقہ کی عظيم برکات سے ہميں نوازے اور خاندان حضرت اقدس مسیح موعود عليہ السلام پر اس کی رحمتیں و برکات نازل ہوں۔ اور تمام جماعت ہائے احمديہ کو ہر قسم کے فتنہ اور شر سے اپنی پناہ ميں رکھے۔ اس حالت ميں نماز اور دعا ميں بہت کمزوری اور ضعف محسوس کرتی۔ کہ بار بار اونگھ آتی اور ميری زبان پر يہ الفاظ جاري ہوجاتے ’’مسرور احمد مسرور احمد‘‘ اور کچھ دير تک دل و دماغ پر یہ احساس چھایا رہا۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ662 تاریخ تحریر 23؍اپریل 2003ء)

مکرم جمال دين صاحب بيان کرتے ہيں:
’’حضرت خلیفۃ المسيح الرابع رحمہ اللہ کی وفات سے اگلے دن ميں تہجد کی نماز ميں رو رو کر دعا مانگ رہا تھا کہ اے خدا! ميری زندگی ميں پہلے دو خلیفہ فوت ہوئے ہيں اور بہت خوف تھا اے خدا! يہ تيری جماعت ہے اب جو بھی خلافت آئے اس ميں کوئی بھی ایسی بات نہ ہو ميں يہ دعا سجدہ ميں مانگ رہا تھا اور ابھی ميں سجدہ سے اٹھا بھی نہ تھا کہ ميرے کان ميں آواز آئی مسرور مسرور مسرور اور پھر ميری زبان سے بڑے زور سے نکلا الحمد للہ اور ميرے جيون ساتھی نے پوچھا۔ کيا بات ہے؟ مجھے بھی بتاؤ تو ميں نے کہا اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو خلیفہ بنے گا اس کا نام مسرور ہوگا پھر انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سن لی اور بعد ميں واقعتاً پيارے آقا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ بن گئے۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ667 تاريخ تحرير 25نومبر 2005ء)

ايک اورخوش قسمت مکرم حکيم يعقوب احمد ناصر صاحب بيان کرتے ہيں:
’’حضرت خلیفۃ المسيح الرابع رحمہ اللہ کی وفات کے اگلے روز صبح نماز تہجد، نماز فجر کے بعد دعائيں کرتا ہوا ليٹ گيا۔ مجھے اونگھ آئی تو ميری زبان سے بے اختيار الفاظ نکلے ’’مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسيح‘‘ اس کے بعد بیٹھ کر اپنے آپ کو جھنجھوڑا کہ انتخاب خلافت سے قبل ايسے خيالات دل يا زبان پر لانا غلط ہيں۔ دعائيں کرتا ہو اپھر ليٹ گيا پھر اونگھ آئی دوبارہ یہی الفاظ بے اختيار ميری زبان سے نکلے: ’’مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسيح‘‘ ميرے دل نے یقین کرليا کہ خد اتعالیٰ ہميں نعمت خلافت سے محروم نہيں رکھے گا۔ بلکہ مرزا مسرور احمد صاحب کو منصب خلافت عطا فرما کر ہميں اس نعمت سے نوازے گا۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ671 تاريخ تحرير 8فروري 2006ء)

ايک اور سعادت مند مکرم خالد احمد سعيد صاحب نے بيان کيا کہ حضرت خلیفۃ المسيح الرابعؒ کی وفات کے بعد خواب ميں بڑے سائز کے ايک بينرپر مرزا مسرور احمد لکھا ہوا کئی مرتبہ ديکھا اور اپنی اہلیہ سے بھي اس کا ذکر کيا۔ وہ بيان کرتے ہيں کہ
’’يہ نظارہ کافی دير تک دیکھتا رہتا ہوں حتٰی کہ آنکھ کھل جاتی ہے …ميں نے اپنی بيگم کو کمرہ سے آواز دی اور کہا کہ مجھے رسالہ انصاراللہ کا وہ شمارہ لاديں جو ’’حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد‘‘ نمبر ہے۔ اتنے ميں اُٹھ کر ٹی وی لاؤنج ميں آجاتا ہوں۔ تھوڑی دير ميں ميری بيگم وہ شمارہ لائيں جس ميں حضرت خلیفۃ المسيح الرابع (رحمہ اللہ) کا خطبہ جمعہ 12؍دسمبر 97ء کا تھا۔ میں نے اُسے غور سے بار بار پڑھا جہاں حضور نے حضرت مسیح موعود عليہ السلام کاوہ کشف سنايا کہ ’’ہم چلتے ہيں اب تو ميري جگہ بیٹھ‘‘ يہ پڑھ کر ميں نے اپنی بيگم اور بچیوں کو اپنا يہ خواب سنايا کہ دو مرتبہ ميں نے آسمان پر ’’مرزا مسرور احمد‘‘ لکھا ہوا ديکھا ہے اور ساتھ ہی خطبہ کا وہ حصہ پڑھ کر سنايا جس ميں واضح طور پر بيان کيا گيا ہے ’’ہم چلتے ہيں تو ميری جگہ آکر بیٹھ جا‘‘ ميری بيگم نے کہا کہ آپ کيا کرتے ہيں انتخاب سے پہلے ايسي باتيں نہ کريں…

دو بجے کے قريب ميں اپنے بيڈ روم ميں تھوڑی دير کے لئے ليٹ گيا تو خواب ميں ديکھا کہ صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کا خلیفہ منتخب ہونے کا اعلان ہو رہا ہے۔ ميں نے ڈرائنگ روم ميں آکر اپنی بيگم سے پوچھا۔ قدسيہ! کيا حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے ہيں۔ اس نے فوراً کہا کہ چپ رہيں ابھي انتخاب نہيں ہوا اور انتخاب سے پہلے کسي کا نام نہيں ليتے۔ دعائيں کرتے ہوئے پھر ميری آنکھ لگ گئی پھر ميں نے خواب ميں اعلان سنا کہ صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوگئے ہيں۔ پھر ميں نے دوبارہ ليٹے ليٹے ہی پوچھا کہ قدسيہ! کيا صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کے خلیفہ منتخب ہونے کا اعلان ہوگيا ہے۔ اس نے پھر مجھے منع کيا کہ آپ کو کيا ہوگيا ہے۔ اب ميں اُٹھ کر بیٹھ گيا اور 15منٹ کے بعد بيت الفضل لندن سے MTA پر اعلان ہو رہا تھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوگئے۔ احباب جماعت کو مبارک ہو۔ قدسيہ نے مجھے فوراً کہا کہ الحمد للہ کہ آپ کا خواب پورا ہوگيا۔ الحمدللہ‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارےصفحہ556تا 558 تاریخ تحریر 31 جولائی 2006ء)

ايک بيس سالہ نوعمر دعا گو لڑکی مکرمہ شکیلہ نصیر صاحبہ بنت مرز انصیر احمد صاحب (جو حضور کے نام سے واقف نہيں تھيں اور نہ انہيں معلوم تھا کہ ناظر اعلیٰ کيا ہوتا ہے) بيان کرتی ہيں کہ
’’21اپريل 2003ء کو خلافت خامسہ کے انتخاب کے لئے تمام جماعت کو نوافل اور دعاؤں کی تحريک کی گئی اسی رات اس عاجزہ نے بھی رات 1:30بجے سے 3:00بجے تک خشوع وخضوع سے نوافل ادا کئے۔ اور خدا تعالیٰ سے جماعت احمديہ اور خلافت کے استحکام اور خلیفہ وقت کے انتخاب کے لئے متضرعانہ اور عاجزانہ دعائيں کيں اور ہر بار اس عاجزہ کے منہ سے یہی دعائيہ کلمات نکلے ’’کہ اے خدا! جو حق ہے وہ اس دل ميں ڈال دے۔ اے خدا! جو حق ہے وہ اس دل ميں ڈال دے۔‘‘ آخر جب 22؍اپريل 2003ء کی صبح سيکرٹری خلافت کميٹی مکرم ومحترم عطاءالمجیب راشدصاحب نے رضائےالٰہی سے منتخب ہونے والے حضرت خلیفۃ المسيح الخامس ايدہ اللہ تعالیٰ کے لئے اعلان شروع کيا۔ تواس اعلان کے دوران اس عاجزہ کے اندر سے ایک زبردست آواز آئی ’’حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب‘‘ يہ آواز اس قدر پر رعب اور بلند تھی کہ لگتا تھا کہ دل ودماغ کے تمام پردے چيرتی ہوئی باہر نکل جائے گی لہٰذا اس الٰہی آواز کو اپنے اندر دبائے رکھنے کے لئے عاجزہ کو اپنا ہاتھ زور سے اپنے منہ پر رکھنا پڑا۔ مگر جونہی یہ الٰہی آواز ختم ہوئی عين اسی لمحے مکرم ومحترم عطاء المجیب راشد صاحب نے اس بابرکت نام ’’حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب‘‘ کا انہی الفاظ ميں بطور خلیفۃ المسيح الخامس اعلان کر ديا۔ اس وقت اس عاجزہ کی خوشی اور جذبات تشکر سے جو کيفيت تھی وہ ناقابل بيان ہے۔ الحمد للّٰہ علی ذالک۔ کرتا ہے پاک دل کو حق دل ميں ڈالتا ہے۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ678۔تاريخ تحرير9؍مئی 2006ء)

خدا کے محبوب بندہ کا انتخاب

پھر انہی بابرکت خوابوں ميں يہ بھی ذکر ہے کہ منتخب ہونے والا خلیفہ دنيا کا سب سے نيک وجود ہوگا۔چنانچہ مکرم عبدالحلیم شاہد صاحب مربی سلسلہ بيان کرتے ہيں کہ ’’19؍اپريل 2003ء کو نماز فجر سے قبل خواب ديکھا کہ ايک ہال نما کمرہ ہے اس ميں کچھ لوگ جمع ہيں۔ اور اس بات کا انتظار کر رہے ہيں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان لوگوں کے نام جمع ہو رہے ہيں۔ جو دنيا ميں سب سے زيادہ نيک ہيں۔ تو ميں چند سيڑھياں چڑھ کر اس ہال کے پاس جاتا ہوں۔ تو اس کے دروازے پر ايک پہريدار کھڑا ہے۔ اس نے مجھے ديکھ کر فوراً دروازہ کھول ديا اور ميں فوراً اندر چلا گيا۔ اور پہرے دار نے دروازہ بند کرديا۔ ہال ميں بالکل اندھيرا تھا۔ بہت سے لوگ زمين پر بیٹھے ہيں ان کے صرف سر نظر آتے ہيں جو اچھل اچھل کر اوپر اٹھتے ہيں اُس لسٹ کو ديکھنے کے لئے جس پر نام لکھے جارہے ہيں۔ مجھے يہ نظارہ ديکھ کر بہت خوف آيا۔ ميں فوراً دروازے کے پاس ہی زمين پر بیٹھ گيا… تو ميں نے ديکھا کہ تھوڑی ہی دير ميں ايک کاغذ بڑے سائز کا اوپر بلند ہوا۔ اس پر اوپر پانچ چھ ناموں کی جگہ خالی ہے اور نيچے بالکل خالی جگہ ہے صرف ايک نام بڑے حروف ميں لکھا ہوا ہے ’’مرزا مسرور احمد‘‘ تو ميں يہ نام ديکھتے ہی کمرے سے باہر آگيا۔ اور پہرے دار نے دروازہ بند کرديا۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ634-635 تاريخ تحرير14؍نومبر 2005ء)

اسی خواب کی تائيد مکرم سيد کلیم الدين احمد صاحب سابق مبلغ انچارج احمديہ مشن دہلی حال قاديان کی اس خواب سے ہوتی ہے کہ منتخب ہونےوالا خلیفہ اللہ کا محبوب ترين بندہ ہوگا۔وہ بيان کرتے ہيں:
’’ميں خداکو حاضر وناظر جان کر يہ الفاظ لکھ رہا ہوں کہ جب حضرت خلیفۃ المسيح الرابع (رحمہ ﷲ) کي اچانک وفات کي اطلاع ملی تو دل کی کیفیت کچھ عجیب ہو گئی۔ ديگر دعاؤں کے ساتھ خصوصاً يہ دعا بھي کرتا رہا کہ اے ميرے اللہ! جو تيرا محبوب ترين اور مقرب بندہ ہے تو اس کو ہمارا امام منتخب فرمادے۔ جب يہ دعا کر رہا تھا تو اس وقت باربار دل ميں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کا نام آتا رہا۔ پھر ميں ڈر کر دعاؤں ميں لگ گيا۔ پھر يہی کہ صاحبزادہ مرزا مسرور احمد ہی خلیفہ ہوں گے۔ اور يہی حالت رہی يہاں تک کہ محترم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب نے يہ اعلان فرمايا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسيح الخامس منتخب ہو گئے ہيں۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ638 تاريخ تحرير30؍اپريل2003ء)

اسی طرح ڈاکٹر مرزا احمد الدين صاحب (ہوميو پیتھ) نے بيان کيا کہ
’’ميرے بيٹے يوسف نديم احمد کي بيوی، لبنیٰ نديم نے خواب ميں ديکھا۔ کوئی اونچی آواز ميں کہہ رہا ہے کہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب۔ ابن اللہ ہيں۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ709-710 تاريخ تحرير 14؍نومبر 2005ء)

ابن اللہ کے معنے اللہ کے بيٹے کے ہيں اور روحانی زبان ميں يہ محاورہ اللہ تعالیٰ کے خاص پياروں کے ليے استعمال کيا جاتا ہے۔

آنے والے خلیفہ کی انکساری

مکرم مقصود احمد صاحب نےبيان کيا کہ
’’حضرت خلیفۃ المسيح الرابع رحمہ اللہ کی وفات والے دن بے چينی اور کرب ميں دعائيں کرتا ہوا سوگيا۔ اس رات خواب ميں ديکھا کہ انتخاب خلافت ہو رہا ہے۔ اور حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا نام خلیفہ کے لئے پيش کيا جاتا ہے۔ جس پر آپ فرماتے ہيں کہ ميں تو اس قابل نہيں کہ مجھ پر يہ بوجھ رکھا جائے۔ اس کے بعد تمام بزرگوں نے ہاتھ کھڑے کر کے آپ کے حق ميں ووٹ ديا اور آپ کو خلیفہ چن ليا۔

اس سے پہلے خاکسار نے نہ تو حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کو ديکھا تھا اور نہ ہی ميری ملاقات آپ سے ہوئی تھی اور نہ ہی ميں آپ کے نام سے واقف تھا۔ اس کے بعد خاکسار کے کرب کي حالت جاتی رہی اور دلی سکون ہوگيا۔ اس کے تین دن بعد انتخاب خلافت ميں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کے انتخاب کا اعلان ہوا تو دل حمد سے بھر گيا۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ648 تاریخ تحریر 24؍اکتوبر 2005ء)

آنے والے خلیفہ کا مقام خدا کی نظر ميں

جہاں تک نئے منتخب خلیفہ کی صفات اور مقام کا تعلق ہے خواب ميں اللہ کے پياروں کو ہونے والے خلیفہ کے گمنام وجود کے بارے ميں يہاں تک بتا ديا گيا تھا کہ اس کی مماثلت آنحضرتﷺ اور آپ کے بعض خلفاء اور حضرت مسیح موعودؑ اور آپؑ کے خلفاء سے بھی پائی جائے گی اور يہ وجودان کی کئی خوبيوں کا حامل ہوگا۔چنانچہ مکرم ناصر احمد صاحب مجوکہ بيان کرتے ہيں کہ
’’حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کے بطور خلیفۃ المسيح انتخاب کے وقت جبکہ MTA پر ابھی ميں نے آپ کو نہيں ديکھا تھا کہ مجھے آنحضور نبي اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کی زيارت نصيب ہوگئی۔ اس زيارت کے بعد ميں نے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کو MTA پر ديکھا اور جونہی آپ نے اپنی آنکھیں اوپر اٹھائيں اور کيمرہ نے Close up ليا تو مجھے بجلی کے کرنٹ کی طرح جھٹکا لگا کہ آپ کی اور آنحضور صلی اللہ عليہ وسلم کی آنکھوں ميں گہری مماثلت تھی (اگرچہ بناوٹ مختلف ہے)۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہی اشارے صفحہ726 تاریخ تحریر 2دسمبر 2004ء)

اس ميں اشارہ تھاکہ حضرت خلیفۃ المسيح الخامس ايدہ اللہ تعالیٰ آنحضرتﷺکی محبت اور پيروی کے باعث آنحضورﷺ کی روحانی بصيرت سے حصہ پانے والے ہیں۔ تبھی خدا کا يہ محبوب بندہ ’’بار امانت‘‘ اٹھانے کے ليے چنا گيا۔
مکرم عبد الحميد خان صاحب نے دوجمالي شان رکھنے والے خلفائے راشدين سے بطور خاص خلافت خامسہ کي بابرکت مماثلت کے بارے ميں انتخاب سے قبل خواب ميں ديکھا کہ ’’جناب مسرور احمد صاحب خليفہ بن گئے ہيں۔ خواب کچھ اس طرح سے تھا کہ ايک ہال ميں ايک اسٹيج لگا ہوا ہے اور اسٹيج پر چند کرسياں رکھي ہوئي ہيں۔ جو خالي ہيں مگر اسٹيج کے اردگرد لوگوں کي چہل قدمي ہورہي ہے۔ خواب ميں اسي اسٹيج کي طرف ديکھ رہا ہوں تھوڑي دير بعد ميرے کانوں ميں ايک بلند آواز سنائي ديتي ہے جس ميں يہ کہا جا رہا ہے ’’کہاں ہيں ابوبکر؟ کہاں ہيں عثمان؟ انہيں جلدي بلاؤ۔ جناب مسرور احمد صاحب تشريف لا چکے ہيں‘‘ مجھے ايسا معلوم ہوتا ہے جيسے ان دونوں خلفاء کو حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کے استقبال کے لئے بلايا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ميري آنکھ کھل گئي۔‘‘ (جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور نماياں ہوگا۔ واللّٰہ اعلم)

حضرت مسیح موعودؑ سے مماثلت

حضرت مسیح موعودؑ سے حضرت خلیفۃ المسيح الخامس ايدہ اللہ کی مشابہت کے بارے ميں مکرم شاہد عثمان صاحب نے اپني يہ رؤيابيان کہ
’’22اپريل 2003ء کو نماز فجر کے بعد بيت احمديہ ميں تھوڑی دير سويا ہوں چونکہ رات کو حفاظت کی ڈيوٹی پر تھا۔ تو خواب ميں ديکھا کہ حضرت مسیح موعود عليہ السلام اپنی عين جوانی کی عمر ميں ہيں اور اسٹیج پر کھڑے ہو کر تقرير کر رہے ہيں اور ميں ان کے سامنے بیٹھا ہوں۔ اور اس کے بعد ميری آنکھ کھل گئی۔ اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الرابع (رحمہ اﷲ) کو دفن نہيں کيا گيا تھا اور نہ ہی نيا انتخاب ہوا تھا۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات، کشوف ورؤيا اور الٰہي اشارے صفحہ701 تاریخ 17؍اپریل 2005ء)

آنے والے خلیفہ کی حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے مماثلت

مکرم ايس فياض اسلم صاحب تامل ناڈوانڈيا نے حضرت خلیفۃ المسيح الخامس ايدہ اللہ تعالیٰ کو حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کی شکل ميں خواب ميں ديکھا۔ وہ بيان کرتے ہيں کہ
’’ميں نے 23اپريل 2003ء کی صبح کو ايک خواب ديکھاکہ ميں فون کرکے مولوی منير احمد صاحب سے خلافت کے انتخاب کا رزلٹ پوچھتا ہوں۔ وہ کہتے ہيں کہ حضرت فضل عمر خلیفہ منتخب ہوئے ہيں۔ ميں نے انہيں پوچھا کہ ميں اب انہيں کيسے مخاطب کروں۔ انہوں نے جواب ديا خلیفۃ المسیح الخامس کہہ کر۔ لفظ خامس کے بارہ ميں بعد ميں ميں نے مولوی صاحب سے دريافت کيا کيونکہ مجھے عربی کا بالکل معمولی علم ہے اور ميری مادری زبان تامل ہے۔ انہوں نے خواب ميں مجھے کہا کہ حضرت فضل عمر خلیفہ منتخب ہوئے ہيں۔ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ گاڑی پر سفر کر رہے ہيں اور ابھي لندن نہيں پہنچے… مگر حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کا انتخاب بطور خلیفۃ المسيح الخامس ہوا ہے۔‘‘

(جماعت احمديہ ميں قيام خلافت کے بارہ ميں الہامات،کشوف ورؤيا اور الٰہي اشارے صفحہ725-726 تاريخ تحرير 23؍اپريل 2003ء)

(علامہ ایچ ایم طارق)

پچھلا پڑھیں

ہیومینٹی فرسٹ ہالینڈ کے چیئرمین اور IAAAE کے چیئرمین کی ساؤتھ افریقہ میں آمد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جون 2022