• 12 اگست, 2020

مجھ سے ناراض ترے صدقے میری جان نہ ہو

(نظم جو برمقام کوہ ڈلہوزی کہی گئی تھی)

دل یہ کہتا ہے اس در پہ رما دے دھونی
نفس کہتا ہے کہ اٹھ مفت میں ہلکان نہ ہو
زندگی ہیچ ہے انسان کی دنیا میں اگر
سینہ میں قلب نہ ہو قلب میں ایمان نہ ہو
میرے مذہب میں اسلام کا دعویٰ باطل
جب تلک سینہ میں ایمان سے غلیان نہ ہو
آدمی وادیٔ ظلمت میں بھٹکتا مر جائے
رہنمائی کا اگر عرش سے سامان نہ ہو
چھوڑ کر راہ خدا راہِ بُتاں پر مت جا
عقل دی ہے اللہ نے تجھے نادان نہ ہو
رحم کر ظلم نہ ڈھا آہِ غرےباں سے ڈر
کام وہ کر کہ جسے کر کے پشیمان نہ ہو
ہاتھ گر کام میں ہو دل میں ربِّ ارباب
کوئی مشکل نہیں دنیا میں کہ آسان نہ ہو
سر میں ہو جوشِ جنوں دل میں عشق محبوب
خوف دوزخ نہ ہو پھر خواہشِ رضوان نہ ہو
اب تو خواہش ہے کہ وہاں جا کے لگائیں ڈیرا
دیکھنے کو بھی جہاں صورتِ انسان نہ ہو
دل میں اک آگ ہے اور سینہ مرا غم سے تپاں
وائے قسمت اگر اس درد کا درمان نہ ہو
ہوں گنہگار ولے ہوں تو ترا ہی بندہ
مجھ سے ناراض ترے صدقے میری جان نہ ہو

(اخبار الحکم قادیان 28 ستمبر 1920ئ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 11 جولائی 2020ء