• 12 اگست, 2020

ظہور امام مہدی اور ہماری ذمہ داریاں

مجھے میرے ایک قابل قدر دوست نے گزشتہ دنوں ایک ویڈیو بھجوائی۔ گو یہ ویڈیو قریباً ایک سال پُرانی ہے۔ لیکن جو مضمون ا س ویڈیو میں بیان ہوا ہے اور جن امورکی اس میں نشان دہی کی گئی ہے اُن پر آج بھی کوئی دو رائے نہیں۔ وہ امور آج بھی اسی طرح زندہ اور ہرایک کودعوت عام دے رہے ہیں جس طرح ایک سال قبل تھے۔

یہ ویڈیو ’’جشن ظہور امام زمانہ‘‘ کے ایک اجتماع پر بنائی گئی ہے جو شعبان 1440ھ (2019ء) کی ہے اور کری والا براستہ منڈی شاہ جیونہ جھنگ پاکستان میں منعقد ہوا۔ اس کے بانی پیر مراتب علی شاہ تھے۔ اس موقع پر ایک بزرگ اپنے چند ہم نواؤں کے ساتھ ایک پنجابی نظم بلند آواز سے پڑھ رہے ہیں۔ جس کے ابتدائی بول یہ ہیں۔

اومولیٰ مہدی جلد آ
تیرے دیدار دی اے منشاء
تیری اے تک تک کے راہ
اکھیاں تھک گیناں
تیری ہک جھلک ویکھن لئی
ہرمومن بے تاب اے
اومولیٰ مہدی جلد آ
تیرے دیدار دی اے منشاء

اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر مجدد بھیجتا رہا ہے اور چودہویں صدی کے مجدد بارے قرآن و حدیث میں صریحاً علامات موجود ہیں۔ قرآن کریم کے آخری پارہ میں آخری زمانہ کی علامات کھول کھول کر بیان ہوئی ہیں۔اس آخری زمانہ میں اسلام کوغلبہ عطا ہوگا۔ اسلام کا بول بالا ہوگا۔ صلیبی عقائد پاش پاش ہوں گے۔ (مسند احمد بن حنبل)۔ وہ فارسی النسل ہوگا۔ (بخاری، کتاب التفسیر)۔ اُس کے ہاتھوں عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ ظہور پذیر ہوگا۔(ابو داؤد، کتاب المہدی)۔وہ لوگوں کو دین محمدی اور شریعت سکھلائے گا۔ (بحارالانوار،جلد 13، صفحہ 17)۔ اللہ تعالیٰ امام مہدی اور اس کے اصحاب کے ذریعہ بدعتوں کو مٹادے گا۔ (بحار الانوار، جلد 13 ،صفحہ11)۔ امام مہدی کے ذریعہ خلافت علی منہاج النبوہ قائم ہوگی۔ (تجدید احیاء دین، تالیف مولوی مودودی)۔ امام مہدی کی جماعت اس کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے گی۔ (ینابیع المودّہ ،جلد 3،صفحہ 136)۔ علماء وقت اس پر کفر کا فتویٰ لگائیں گے۔(حجج الکرامہ، صفحہ 363) اس کے علاوہ اور بہت سی علامات امام مہدی کی بیان ہوئی ہیں۔

تاہم اس آخری زمانہ کی علامات سورۃ التکویر میں بیان ہوئی ہیں۔ جیسے اونٹنیاں آوارہ چھوڑ دی جائیں گی۔(5)۔ دریاؤں کے پانیوں کو آپس میں ملایا جائے گا۔(7)۔ دنیا ایک گھر کی مانند ہوگی۔( 8)۔ طباعت خانے عام ہوں گے۔(11) ۔ آسمان کی کھال اُتاری جائے گی۔(12) ۔ اور احادیث کے مطابق اسلام کا صرف نام رہ جائے گا۔ قرآن کے الفاظ باقی رہ جائیں گے۔ مسجدیں آباد مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب العلم)۔لوگ ہدایت اور راہنمائی کے لئےعلماء کے پاس جائیں گے تو وہ انہیں بندروں اور سؤروں کی طرح پائیں گے۔ (کنزالعمال ، حدیث 2013)۔ بحار الانوار کے مطابق امانت میں خیانت ہوگی۔ جھوٹ بولنا جائز سمجھیں گے۔ سود کھائیں گے۔ رشوت کا بازارگرم ہوگا۔ خون کرنا عام ہوگا۔نمبردار خائن ہوں گے۔ قوم کا سردار اخلاق کے لحاظ سے ان میں رزیل ترین ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ۔

(جلد13، صفحہ153)

آنحضور ﷺ نے امام مہدی کا ظہور چودھویں صدی میں قرار دیا ہے بلکہ علامہ عبدالغفور نے النجم الثاقب میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان ؓسے روایت ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفٰیﷺ نے فرمایا کہ جب 1240 برس بعد از ہجرت گزرجائیں گےتب اللہ تعالیٰ امام مہدی کو بھیجے گا۔

(جلد2، صفحہ209)

تمام امت مسلمہ حضرت امام مہدی کا انتظام کرتی رہی۔ قصیدے لکھے گئے،مضامین شائع ہوئے۔ مذکورہ بالا علامات کاذکر کر کر کے اس کی آمد کاانتظار کیا گیا مگرجب پندرھویں صدی کا آغاز ہونے والا تھا تو کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ چودھویں صدی کو ختم نہیں ہونے دے گا۔ اس کو کھینچ کر اتنا لمبا کردے گا جب تک امام مہدی کا ظہور نہ ہوجائے۔ہم نے پندرھویں صدی کا آغاز ہوتے بھی دیکھا اور اب40 سال بھی اس میں سے گزر گئے۔ بظاہر امت مسلمہ امام مہدی کی آمد سے انکار کر بیٹھی۔مگر امام مہدی کی آمد کی پیشگوئیاں ادحایث میں بیان ہوئی ہیں اس لئے یہ چیز بھی انہیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتی کہ اگر انکار کردیں تو سید نا حضرت محمد مصطفٰیﷺ کی پیشگوئیوں کا انکار کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے گا ہے بگاہے وہ امام مہدی کے آنے کا انتظار یا اس طرح کی محفلیں منعقد کرتے رہتے ہیں تا یہ مسئلہ زندہ رہے۔ وہ جانتے ہیں کہ امام مہدی حضرت مرزا غلام احمد کی صورت میں ظاہر ہوچکا ہے۔ اس نے تمام علامات موعودہ کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے اور سچوں کی طرح اس کی سچائی اللہ تعالیٰ تمام دنیا میں پھیلا رہا ہے۔ مگر ان کو ماننے کی توفیق نہیں مل رہی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا
اسمعوا صوت السماء جاء المسیح جاء المسیح
نیز بِشنو از زمیں آمد امامِ کامگار

پھر آج کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو کوئی آسمان سے نہیں اُترے گا۔ہمارے سب مخالف جو اب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی اُن میں سے عیسٰی ؑبن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور اُن میں سے بھی کوئی آدمی عیسٰیؑ بن مریم کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گااور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا اُن کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا ۔اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسیٰؑ اب تک آسمان سے نہ اترا ۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بے زار ہو جائیں گے۔اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہو گی کہ عیسیٰ کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بد ظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گےاور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اسکو روک سکے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20، صفحہ 67)

پھر فرماتے ہیں:
‘‘اور صحیح بخاری میں صاف لفظوں میں لکھا گیا ہے کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ سو یہ امر سراسر تقویٰ کے خلاف ہے کہ اللہ اور رسول کے بیان سے سرکش رہیں۔ دیکھو یہی علماء کیسے شوق سے چودھویں صدی کے منتظر تھے اور تمام دل بول اٹھے تھے کہ اسی صدی کے سر پر مہدی اور مسیح پیدا ہوگا۔ بہت سے صلحا اور اولیاء کے کشف اس بات پر قطع کرچکے تھے کہ مہدی اور مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی ہے۔ اب ان کے دلوں کو کیا ہوگیا۔‘‘

(انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11، صفحہ322)

ان حالات میں ہم افراد جماعت احمدیہ خوش نصیب ہیں جن کو آنحضورﷺ کی بیان فرمودہ پیشگوئیوں کے مطابق امام آخرالزمان کو ماننے کی توفیق ملی اور پیارے رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفٰیﷺ کا مبارک سلام حضرت امام مہدی علیہ السلام کو پہنچانے کی توفیق پائی۔ خلافت علیٰ منہاج نبوت کے ہم تابع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ’’اٰمَنُوْا‘‘ کی توفیق دی تو اب ضرورت ’’عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ‘‘ میں بہتری لانے کی ہے۔ آج نہ ماننے والوں کی طرف سے دنیا بھر میں بدیوں اور نالائقیوں کا جو واویلا کیا جارہا ہے۔ آج ہمیں دعاؤں اور اعمال صالحہ سے اس بے راہ روی کے معاشرہ کو اسلامی معاشرہ بنانا ہے۔ تاہم اور دنیا بھی امام مہدی کی آمد کے پھلوں سے استفادہ کرسکیں۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 11 جولائی 2020ء