• 25 اکتوبر, 2020

پانچویں صدی کے مجدد حضرت ابوحامد الغزالیؒ

نام ونسب

آپ کا نام محمد، کنیت ابوحامد اور لقب حجة الاسلام تھا۔ عوام الناس میں آپ امام غزالی کے نام سے مشہور ہیں۔ پورا نام محمد بن محمد بن محمد بن احمد الطوسی تھا۔ آپ کے والدماجد کا نام بھی محمد تھا جو روئی کاتا کرتے اور طوس میں اپنی دوکان پر اسے بیچاکرتے تھے۔

بعض علماء کے نزدیک اسی مناسبت سے آپ کو غزالی کہا جاتا تھا۔ لیکن تاج الاسلام ابن خمیس بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ غزالی نے مجھے کہا کہ لوگ مجھے ’غزالی‘‘ یعنی روئی کاتنے والا کہتے ہیں جبکہ میں غزّالی نہیں بلکہ ’’غَزَالِی‘‘ ہوں یعنی طوس کے گاؤں غزالہ کا رہنے والا۔

(سیر اعلام النبلاء جزء 14 صفحہ 278)

امام غزالی کے والد نیک صالح شخص تھے لیکن غریب اور روئی کی کمائی سےجس قدر ملتا اسی کا کھانا کھاتے۔ اور اہل فقہ کی مجالس میں آتے جاتے اور ان کی خدمت کیا کرتے تھے اور جس قدر ممکن ہوتا ان پر بطور احسان خرچ کیا کرتے تھے۔ اور جب ان کا کلام سنتے تو روپڑتے تھے اور خدا تعالیٰ کے حضور تضرع سے دعا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ میرے دونوں بیٹوں کو اپنی جناب سے رزق عطا کر اور ان کو فقیہہ بنا۔ پھر جب بھی امام غزالی کے والد محترم کو وقت میسر آتا وہ واعظوں کی مجالس میں جا تے تو رو رو کر اللہ سے التجا کرتے کہ یا اللہ میرے دونوں بیٹوں کو واعظ بنا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دونوں دعاؤں کو قبول فرمایا۔

ان کے ایک بیٹےابوحامد اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ فقیہہ، اپنے زمانہ کے امام اور اپنے میدان کے شہسوار ہوئے۔ اور دوسرے بیٹے احمد ایسے بہترین واعظ بنے کہ بہری چٹانیں بھی پھٹ پڑتیں اور ان کی مجالس ذکرمیں حاضرین پر کپکپی طاری ہوجایا کرتی۔

(طبقات الشافعیہ للسبکی جزء6صفحہ194)

پیدائش اورابتدائی تعلیم و تربیت

آپ 450ھ میں خراسان کے ضلع طوس کے شہر طاہران میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم نے وفات سے قبل اپنے ایک صوفی دوست کو وصیت کی کہ میں تو تعلیم حاصل نہیں کرسکا لیکن میری خواہش ہے کہ تم میرے بچوں کی تعلیم کا انتظام کرنا۔ چنانچہ امام غزالی نے ابتدائی تعلیم طاہران میں ہی اس صوفی سے حاصل کی۔ بعد میں جب انکے والدمحترم کی جمع پونجی ختم ہوگئی تو صوفی صاحب نے مالی حالات کی تنگی کی وجہ سے ان کی تعلیم سے معذرت کرلی۔ اور مدرسہ میں داخل ہونے کا کہا۔

چنانچہ امام غزالی اپنے بھائی کے ساتھ ایک مدرسہ میں داخل ہوکر تحصیل علم کرنے لگے۔ علامہ سبکی کے نزدیک امام غزالی کی سعادت اور اعلی درجہ کایہی امرسبب بنا۔

(طبقات الشافعیہ للسبکی جزء6 صفحہ194)

امام غزالی نے فقہ کا ایک حصہ اپنے علاقہ میں ہی احمد بن محمد الراذکانی سے پڑھا۔اس کے بعد جرجان میں امام ابو نصر اسماعیلی سے تعلیقات نوٹ کیں پھر طوس واپس آگئے۔

خدائی اشارہ

امام اسعد المیھنی کہتے ہیں کہ میں نے امام غزالی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ واپسی پرراستے میں ہم پر ڈاکوؤں نے حملہ کردیا اور جو کچھ بھی میرے پاس تھاسب لوٹ لیا۔آپ نے ڈاکوؤں کے سردار سے صرف اپنی تعلیقات کی واپسی کا نہایت عاجزی سےمطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا آپ کو کیا فائدہ براہ کرم مجھے یہ واپس کردیں۔ تو سردار نے کہا کہ ان تعلیقات میں کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ان میں میرا علم ہے جس کے لیے میں نے ہجرت کی اور ان کو لکھا۔ اس پر سردار ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ تم کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ یہ علم تم نے سیکھا ہے جبکہ ہم نے اسے تم سے چھین لیا اور تم بغیر علم کے ہوگئے اور پھر اپنے ساتھیوں سے کہہ کر وہ تعلیقات واپس دے دیں۔

امام غزالی کہتے ہیں کہ یہ خدائی اشارہ تھا کہ وہ میری اس بارہ میں رہنمائی کرے پس جب میں واپس طوس آیا تو تین سال میں یہ سب تعلیقات وغیرہ حفظ کرلیں کہ اب کوئی ڈاکو مجھ سے میرا علم نہیں چھین سکتا اور میں بغیر علم کے نہیں رہ سکتا۔

(طبقات الشافعیہ للسبکی جزء6 صفحہ195)

امام الحرمین کی شاگردی

اس کے بعد آپ نیشاپور چلے گئے اور وہاں امام الحرمین ابومعالی عبدالملک جوینی کے حلقۂ درس میں شامل ہوگئے اور انتھک محنت کی یہانتک کہ آپ مذہب اور اصول دین ،علم الخلاف و علم منطق میں ماہر ہوگئے ۔آپ نے حکمت اور فلسفہ پڑھا اور ہر ایک پر عبور حاصل کیا۔ ان علوم کے ماہرین کی باتوں کا فہم حاصل کیا جو ان کے غلط دعووں کو رد کیا۔ اور ان علوم کے متعلق کافی کتب تصنیف کیں۔

امام الحرمین اپنے شاگردوں کی تعریف یوں بیان کیاکرتے تھے کہ ’’غزالی بحر زخار ہے، الکیاخونخوار شیر ہے اور خوافی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء جزء14 صفحہ274)

وزیر نظام الملک کی مجالس

478ھ میں جب امام الحرمین کی وفات ہوگئی تو امام غزالی وزیر نظام الملک کے دربار میں آگئے کیونکہ نظام الملک کی مجالس اہل علم سے بھرپور ہوتی تھیں۔امام غزالی وہاں اس مجلس میں علماء سے مناظرے کیا کرتے اور یوں ان کے اختلافات و تنازعات کو ختم کیا۔آپ کا کلام ان پرغالب ہوا اور ان علماء نے آپ کے علم و فضل کو مانا اور آپ کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا اور وزیرنظام الملک نے آپ کی قابلیت اورعلمی استعداد کے پیش نظر بغداد کے مدرسہ نظامیہ کی تدریس و انتظام 34 برس کی عمر میں آپ کے سپرد کردیا۔

مدرسہ نظامیہ میں درس و تدریس

آپ 484ھ میں بعمر 34سال بغداد تشریف لائے اور مدرسہ نظامیہ میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دینے لگے۔ لوگوں نے آپ کے حسن کلام، کمال فضل، فصاحت لسانی، نکات دقیقہ اور اشارات لطیفہ کو پسند کیا اور آپ سے محبت کرنے لگے۔

آپ ایک عرصہ تک یہ تدریسی خدمات بجالاتے رہےاور علم ،فتاویٰ اور تصانیف کو پھیلاتے رہے۔ اور آپ کی تبحر علمی اور فراست کی وجہ سے بغداد میں کافی اثرو رسوخ ہوگیا یہانتک کہ آپ ایک بڑے رئیس اور بااثر امراء میں شمار ہونے لگے۔ آپ اس وقت کی اسلامی دنیا کے دو بنیادی حکومتی حلقوں خاندان سلجوق اور آل عباس دونوں کے منظور نظر تھے۔

فرقہ باطنیہ کے رد میں کتاب

487ھ میں جب مستظھرباللّٰہ خلیفہ ہوئے توامام غزالی نے بھی ان کی بیعت کی۔ پھر خلیفہ نے فرقہ باطنیہ کے رد میں امام غزالی کو کچھ تصنیف کرنے کا کہا تو امام غزالی نے ایک کتاب ’’المستظھر‘‘ تصنیف فرمائی۔

(الغزالی صفحہ28)

زہد و انقطاع الی اللہ

امام غزالی کا زہد اور انقطاع الی اللہ کا واقعہ بھی منفرد ہے۔ جیساکہ ذکر ہوچکا ہے کہ آپ بااثر لوگوں میں شامل تھے اور صاحب جاہ و حشمت تھے اور آپ کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔ مدرسہ نظامیہ کے تین سو طلباء آپ کے شاگرد تھے۔ علم و فضل کا شاہکار تھے۔لیکن یکدم اس سب جاہ و شہرت سے قطع تعلقی کرکے زہد کو اختیار کرلینا ایک عجیب بات ہے۔ اس کا محرک آپ کی محققانہ فطرت تھی۔آپ نے بغداد میں موجود تمام دینی و مذہبی فرقوں کا مطالعہ کیا ان کے عقائد کو پرکھا،جانچا۔

امام اپنی کتاب المنقذ من الضلال میں اس کا مفصل ذکر کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ متکلمین، اہل فلسفہ، باطنیوں، ظاہری، متعبدین، صوفیاء، زنادقہ وغیرہ سے ملتے اور ان سے ان کے عقائد کے بارہ میں معلومات حاصل کرکے انہیں جانچتے تاکہ حق و باطل اور سنت و بدعت میں تمیز کرسکیں ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ اس کا اثر یہ ہوا کہ عقائد موروثہ کے بندھن ٹوٹ گئے۔ اور آپ نے جانا کہ حقیقی علم تو یہ ہےجس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ رہ جائے۔۔۔

اس مقصد کی خاطر آپ نے علم کلام حاصل کیا اس کے محققین کی کتب کا مطالعہ کیا اس کے متعلق تحقیق کی۔ پھر علم فلسفہ سیکھا۔ باوجود اس کے کہ آپ کو 300 طلباء ہونے کی وجہ سے فرصت کم تھی۔علم فلسفہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے اسے بھی اپنے لیے کافی نہ سمجھا کہ محض عقل تمام مطالب کا احاطہ نہیں کرسکتی اور نہ تمام اسرار سے پردہ اٹھا سکتی ہے۔ پھر باطنیوں کا مطالعہ کیا اس کے بعد تصوف کی طرف متوجہ ہوئے۔ جس پر ان کی کچھ تسلی ہوئے اور انہوں نے زہد و انقطاع الی اللہ کا فیصلہ کیا۔

(المنقذ من الضلال للغزالی جزء1 صفحہ 109 تا130)

زہد و انقطاع الی اللہ

آپ کے اس قصدسفر پر ائمہ اہل عراق آپ کو ملامت کرنے لگے کیونکہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اس ترک و انقطاع کی کوئی دینی وجہ بھی ہوسکتی ہے اس لیے کہ ان کے خیال میں آپ کو دین کا اعلیٰ منصب حاصل تھا اور یہ ان کے نزدیک علم کا انتہائی مقام تھا۔ پھر لوگوں نے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کیں۔ حکام بالا کا اصرار تھا کہ میں یہ سفر ترک کردوں کیونکہ ان کے نزدیک اسلام اور علوم دین کے لیےآپ کی وہاں زیادہ ضرورت تھی۔ اس کے باوجود آپ حج کے لیے ذی قعدہ 488ھ میں روانہ ہوئے اورمدرسہ میں تدریس کے لیے اپنے بھائی کو بطور نائب مقرر کیا۔

(المنقذ من الضلال للغزالی جزء1 صفحہ 175 تا176)

سفر دمشق و بیت المقدس

489ھ میں دمشق گئے جامع دمشق کے غربی منارہ میں اعتکاف کیا۔وہاں آپ جامع اموی میں شیخ نصر مقدسی کی مجالس میں اکثر جایا کرتے تھے۔جامع اموی آپ کی نسبت سے آجکل جامع غزالی کے نام سے مشہور ہے۔

وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد بیت المقدس چلے گئے۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ
’’ایک دن آپ مدرسہ امینیہ گئے وہاں کسی مدرس نے جو آپ کو جانتا نہ تھا،اپنے درس کے دوران کہا کہ امام غزالی اس بارہ میں یہ لکھا ہے ۔آپ نے وہ فقرہ سن لیا اور اس خیال سے کہ یہ بات مجھ میں عجب اورتکبر پیدا نہ کردے وہاں سے کوچ کرگئے۔‘‘

(طبقات الشافعیہ للسبکی جزء6 صفحہ199)

علامہ ابن اثیر کے مطابق اسی سفر کے دوران اپنی معرکة الآراء تصنیف ’’احیاء علوم الدین‘‘ تصنیف فرمائی۔جو دمشق میں بہت مقبول ہوئی۔ آپ نے تصوف میں شیخ علی فارمدی کی بیعت کی۔

مصر میں آمد

بیت المقدس میں کچھ عرصہ مجاورت اختیار کی اور مقام ابراہیم کی زیارت کی۔اس کے بعدامام غزالی اسکندریہ مصر میں کچھ مدت رہے۔محمد بن یحی عبدری بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے 500ھ میں امام غزالی کو اسکندریہ میں دیکھا یہ ایسے ہی تھا جیسے سورج مغرب سے طلوع ہوا ہو انہوں نے بدعات کا خاتمہ کیا۔لیکن چند دن بعد مجھے ان کی کتب کو محض شک کی بنیاد پرجلائے جانے کی خبر پہنچی۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء جزء14 صفحہ274)

امام غزالی نے مراکش میں یوسف بن تاشفین سے ملاقات کا قصد کیا لیکن اس کی وفات کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔ غرض دس برس یونہی بیت گئے۔

خلوت سے جلوت کی طرف

اللہ تعالیٰ نے امام غزالی سے جو عظیم کام لینے تھے اس کے لیے ان کا زاویہ خمول سے نکلنا ضروری تھاپس اس صوفیانہ حال میں ایک مدت گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے امام غزالی کے دل میں ڈالا کہ اب گوشہ نشینی اور خلوت پسندی محض سستی اور راحت طلبی اور تن آسانی کے لیے ہوگی۔ جبکہ زمانہ نبوت سے بُعد کی وجہ سے ہر طرف باطل ہی باطل ہے۔ فلسفہ نے مذہب کی حقیقت پر پردہ ڈال دیا ہے۔ ظاہری احکام پر عمل کرنے والے تو موجود ہیں لیکن ایمان کی حقیقت سے نابلد۔علماء و فضلاء کی یہ حالت تھی کہ نہ نماز پڑھتے، نہ حرام سے بچتے، شراب خوری، اکل مال یتیم اور رشوت خوری ان کا وطیرہ بن چکا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ سلطان وقت نے ان کو تاکیدی حکم بھیجا کہ نیشا پور پہنچو اور وہاں کے معاملات سنبھالو۔

امام غزالی نے چند بزرگان سے مشورہ کے بعد ترک عزلت نشینی کا فیصلہ کیا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ
’’صالحین نے بھی خوابیں دیکھیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدی کے سر پر اس امرمیں خیرورشد کی گواہی دے رہی تھیں۔سب سے بڑھ کر یہ خیال پیدا ہوا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایسے آدمی پیدا کرتا ہے جو اس امت کے دین کو تازہ کرتا ہے۔ ان سب آثار و قرائن سے مجھے بھی اس کی امیدپیدا ہوئی، اللہ تعالیٰ نے میرے لیے نیشا پور کا سفر کردیا اور میں نےاس کار عظیم کا ارادہ کرلیا۔۔۔ پانچویں صدی کے شروع میں ایک ہی مہینہ باقی تھا۔ یہ ذی قعدہ 499ھ کا واقعہ ہے۔ بغداد سے ذی قعدہ 488ھ میں نکلا تھا اس طرح سے میری گوشہ نشینی کی مدت 11 سال ہوتی ہے۔ یہ سب خدائی تقدیر ہے۔‘‘

(المنقذ من الضلال جزء1 صفحہ196-197)

نیشاپورمیں درس و تدریس

ذی قعدہ 499ھ میں امام غزالی نیشاپور روانہ ہوئے اور مدرسہ نظامیہ کی مسند درس کو زینت بخشی اور دوبارہ تدریس کا کام شروع کردیا۔لیکن پہلے کی اور اب کی تدریس میں زمین وآسمان کا فرق تھا۔آپ خود فرماتے ہیں کہ پہلے میں حصول جاہ کے لیے پڑھاتا تھا اب اپنی اورمتعلم کی اصلاح کے لیے پڑھاتا ہوں۔

تصنیفات پر اعتراضات

آپ کی شہرت اور چرچے عالم اسلام میں پھیلے ہوئے تھے اورحکومتی سطح پر اور عوام الناس میں بھی آپ کی قدر و منزلت بھی بہت تھی۔یہ بات حاسدین کو ہضم نہ ہوئی۔ اور انہوں نے آپ کے خلاف مختلف پروپیگنڈے کرنے شروع کردئیے۔اور آپ کی تصنیفات کے مختلف معانی بناکر اس پراعتراضات کی بوچھاڑ کردی اور سلطان وقت کو بھی اکسانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔کسی شخص نے اس پر اپنی دلی تکلیف کا اظہار کیا تو آپ نے اس کا مفصل جواب دیا جو رسالہ فیصل التفرقة بین الاسلام والزندقة کے نام سے موجود ہے:

’’برادر مشفق! حاسدین کا گروہ جو میری بعض تصنیفات پر نکتہ چینی کررہا ہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ تصنیفات قدمائے اسلام اور مشائخ اہل کلام کے خلاف ہیں اور یہ کہ اشعری کے عقیدے سے بال برابر ہٹنا کفر ہے اس پر جو تم کو صدمہ ہوتا ہے اور تمہارا دل جلتا ہے میں اس سے واقف ہوں لیکن عزیز من! تم کو صبر کرنا چاہیے۔ جب رسول اللہﷺ مطاعن سے نہ بچ سکے تو میری کیا ہستی ہے؟‘‘

(فیصل التفرقة بین الاسلام والزندقة صفحہ13 تا15)

تدریس سے معذرت

ملک شاہ کے بیٹے سلطان سنجر سلجوقی کے دور حکومت اور نظام الملک کے بیٹے فخر الملک کے زمانۂ وزارت میں آپ نے مدرسہ نظامیہ کی تدریس سے معذرت کرلی اور طوس واپس آگئے اور وہاں ایک مدرسہ اور خانقاہ کی بنیادڈالی اور تعلیمی و تربیتی خدمات بجالانے لگے۔

500ھ میں جب نظام الملک کے بڑے صاحبزادے احمد وزیر اعظم مقرر ہوئے تو انہوں نے مدرسہ نظامیہ کے لیے آپ کو دوبار دعوت دی۔ اور اس وقت کے عباسی خلیفہ نے بھی اس بارہ میں امام غزالی کو تحریک کی اور تمام ارکان خلافت عباسی نے دستخطوں کے ساتھ ایک عریضہ آپ کی خدمت میں بھجوایا۔ نیز احمد بن نظام الملک نے بھی ایک الگ خط لکھا۔ان تمام خطوط کے جواب میں امام غزالی نے بغداد نہ آنے کے متعدد عذر کیے جن میں سے ایک یہ تھا کہ طوس میں ڈیڑھ سو کے قریب طلباء تحصیل علم میں مشغول ہیں جو بغداد آنے سے قاصر ہیں۔ دوسرے ان کے اہل و عیال کے لیے بغداد آنا مشکل ہوگا۔تیسرے یہ کہ میں نے مقام ابراہیم پرعہد کیا ہے کہ کبھی مناظرہ و مباحثہ نہ کرونگا۔ جبکہ بغداد میں ایسا ممکن نہیں۔ پھر یہ کہ دربار خلافت میں سلام کے لیے حاضر ہونا پڑے گاجومجھے قبول نہیں۔ نیز بغداد میں میری کوئی جائیداد نہیں۔ ان سب باتوں کے پیش نظر آپ نے وہاں جانے سے انکار کردیا۔

(الغزالی صفحہ51-52)

درس حدیث

امام غزالی اطلبوا العلم من المھد الی کھلا کے مصداق تھے۔عمر کے آخری دور میں آپ نے ایک مشہور محدث حافظ عمر بن ابی الحسن الرواسی سے صحیح بخاری و صحیح مسلم پڑھی اور اس کی سند حاصل کی۔ (سیر اعلام النبلاء جزء14 صفحہ265) علامہ ابن عساکر کے نزدیک آپ نے صحیح بخاری ابو اسماعیل حفصی سے پڑھی۔

(الغزالی صفحہ52)

آخری تصنیف اور وفات

انتقال سے ایک سال قبل آپ نے اصول فقہ پر ایک کتاب ’’السمتصفی‘‘ تصنیف کی جو امام صاحب کی آخری معرکة الآراء تصینف تھی۔ امام غزالی 14جمادی الثانی 505ھ کوبعمر 55 سال طاہران میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ آپ کی وفات کے حالات کے بارہ میں علامہ ابن جوزی نے ان کے بھائی احمد غزالی کی روایت نقل کی ہے کہ ’’دو شنبہ کے دن وہ صبح اٹھے، وضو کرکے نماز پڑھی پھر کفن منگوایا اور آنکھوں کو لگا کر کہا ’’سمعا و طاعة للدخول علی الملک‘‘ یہ کہہ کر پاؤں پھیلا دئیے ۔لوگوں نے دیکھا تو روح پرواز کرچکی تھی۔‘‘

(طبقات الشافعیہ للسبکی جزء6 صفحہ201)

آپ کی اولاد میں صرف بیٹیوں کا ذکر ملتا ہے۔

فضائل ومناقب

امام غزالی نے اپنی علمی و عملی خدمات اور ہمہ گیر شخصیت سے عالم اسلام پر گہرا اثر ڈالا۔ان کی تصانیف نے مسلمانوں کو ایک نیا میدان تحقیق فراہم کیا۔آپ کے دور میں مسلمان علمی کمزوریوں کے علاوہ اخلاقی و اصلاحی کمزوریوں کا بھی شکار تھے اور غفلت و جہالت کے بادل ان پر چھاگئے تھے۔ایسے نازک دور میں آپ نے اپنی سحر انگیز خطابت اور اپنی روحانی اثر انگیز شخصیت سے مسلمانوں میں دینی و ایمانی روح پھونک دی۔مادہ پرستی کے اس دور میں آپ نے لوگوں کو دنیا طلبی کی جگہ خدا طلبی کی خواہش پیدا کردی۔علماء جو مختلف اخلاقی گراوٹوں کا شکار تھے ان کو توجہ دلائی اور ان کو صراط مستقیم پر چلایا۔اورآپ نے اپنے علم و عمل سے اس صدی کے لوگوں کو تمام مروجہ علوم سے بہرہ ور کیا۔اور اخلاق کریمہ سے مزین کیا۔

آپ کا ایک کارنامہ تو فلسفہ و باطنیت کے مقابل پر اسلام کا دفاع کیا جبکہ دوسرا کارنامہ زندگی و معاشرت کا اسلامی جائزہ اور اس کی اصلاح و تجدید کی کوشش تھی،آپ کی اس کوشش کا نتیجہ آپ کی تصنیف احیاء علوم الدین ہے۔

آپ نے سلاطین و حکام وقت کے سامنے کلمہ حق کہا۔ان کے دین اسلام کی طرف توجہ دلائی۔علماء کو ان کے فرائض سے آگاہ کیا۔ عوام کو فکری حریت عطا کی۔ اسلام کا غلبہ فلسفہ، باطنیت اور دیگر ادیان باطلہ پر ثابت کر دکھایا۔

تصنیفات

امام غزالی نے20 سال کی عمر سے لےکراپنی وفات سے ایک سال قبل تک تصنیف کا کام فرماتے رہے یوں آپ نےسینکڑوں کتب تصنیف کیں۔ آپ روزانہ قریباً 16 صفحات تحریر فرماتے۔ آپ نے اپنی تصنیفات میں مجتہدانہ انداز میں اصول و عقائد پر گفتگو کی۔ صفات باری تعالیٰ، نبوت، معجزات، امور شریعت، جزا سزا، عالم برزخ، قیامت وغیرہ کے متعلق متکلمانہ انداز میں گفتگو کی۔ اسی طرح اشعری علم کلام کی تجدید کی خدمت انجام دی۔ فلسفہ پر تنقیدکا سہرا آپ کے سر پر ہے۔ آپ کی کتاب ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ سے اہل فلسفہ میں اضطراب پیدا ہوگیا۔ فلسفہ کے علاوہ امام غزالی نے فتنہ باطنیت کے خلاف علمی جہاد کیا۔ کتاب المستظہری کے علاوہ اس موضوع پر فضائح الباطنیہ وغیرہ بھی لکھی۔

آپ کی چند مشہور کتب کے نام یہ ہیں:
المنحول ،المنتحل في علم الجدل ، تهافت الفلاسفة ،ومشكاة الأنوار،المنقذ من الضلال ،الإحياء،كتاب الأَرْبَعِيْنَ، وَكِتَاب القِسطَاس،البَسيطَ وَ الوسيطَ وَ الوجِيْزَ،المُسْتصفَى،الاقتصاد فی الاعتقاد،محک النظر،بدایة الھدایة، فيصل التفرقة بين الإسلام والزندقة وغیرہ

(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 11 جولائی 2020ء