• 21 ستمبر, 2020

اخلاق مسیح کی ایک جھلک

تبرکات

(حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ)

مجھے معلوم ہوا ہے کہ خلافت جوبلی کے موقع پر ادارئہ الحکم بھی الفضل کی طرح ایک خاص نمبر شائع کر رہا ہے اور ایڈیٹر صاحب الحکم نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں بھی اس خاص نمبر کے لئے ایک مضمون لکھوں اور ایڈیٹر صاحب کے علاوہ اس اخبار کے بانی ہمارے مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بھی مجھے ایک خط کے ذریعہ تحریک فرمائی ہے۔ افسوس ہے کہ میں اپنی کتاب سلسلہ احمدیہ کی تصنیف کی مصروفیت کی وجہ سے اس وقت کوئی علیحدہ مضمون نہیں لکھ سکتا مگر ان اصحاب کی خواہش کو ملحوظ رکھتے ہوئے سلسلہ احمدیہ کے مسودہ سے ایک چھوٹا سا حصہ ان کی خدمت میں نقل کر کے بھجوا رہا ہوں تاکہ مجھے اس مبارک تقریب میں شرکت کا ثواب حاصل ہو جاوے۔

جہاں تک اُن اخلاق کا سوال ہے جو دین اور ایمان سے تعلق رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میں دو خلق خاص طور پر نمایاں نظر آتے تھے۔

اول۔ اپنے خدادا مشن پر کامل یقین
دوسرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے نظیر عشق و محبت۔

یہ دو اوصاف آپ کے اندر اس کمال کو پہنچے ہوئے تھے کہ آپ کے ہر قول و فعل اور حرکت و سکون میں ایک پرزور جلوہ نظر آتا تھا۔ بسا اوقات اپنے خداداد مشن اور الہامات کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ مجھے ان کے متعلق ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ دنیا کی کسی چیز کے متعلق زیادہ سے زیادہ علم ہو سکتا ہے۔ اور بعض اوقات ان پیشگوئیوں کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ چونکہ وہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی ہیں اس لئے وہ ضرور پوری ہو کر رہیں گی۔ اگر وہ پوری نہ ہوں تو مجھے مفتری قرار دے کر برسرعام پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا جائے تاکہ میرا وجود دوسروں کے لئے باعثِ عبرت ہو۔ اپنے الہام کے قطعی ہونے کے متعلق اپنی ایک فارسی نظم میں فرماتے ہیں

آں یقینے کہ بود عیسٰی را
بر کلامے کہ شد برو القا
واں یقینِ کلیم بر تورات
واں یقینِ ہائے سیّد السادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

یعنی جو یقین کہ حضرت عیسیٰ کو اس کلام کے متعلق تھا جو ان پر نازل ہوا اور جو یقین کہ حضرت موسیٰ کو تورات کے متعلق تھا۔ اور جو یقین کہ نبیوں کے سردار محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام کے متعلق تھا۔ میں یقین کی رو سے ان میں سے کسی سے کم نہیں ہوںاور جو شخص جھوٹا دعویٰ کرتا ہے وہ لعنتی ہے۔

ایک اور جگہ اپنے منثور کلام میں فرماتے ہیں۔
’’یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں۔ اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے۔ اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے۔ ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خداتعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے۔ اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر‘‘۔

(تجلیات الٰہیہ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 412)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی محبت و عشق کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ؎

جان و دلم فدائے جمالِ محمد است
خاکم نثار کوچہئ آلِ محمد است
دیدم بعین قلب و شنیدم بگوشِ ہوش
در ہر مکاں ندائے جمالِ محمد است

یعنی میرے جان و دل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن خداداد پر قربان ہیں اور میں آپ کے آل و عیال کے کوچہ کی خاک پر نثار ہوں۔ میں نے اپنے دل کی آنکھ سے دیکھا اور ہوش کے کانوں سے سنا ہے کہ ہر کون و مکان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے جمال کی ندا آ رہی ہے۔

پھر فرماتے ہیں۔

بعد از خدا بعشقِ محمدم مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
جانم فدا شود برہِ دین مصطفےٰؐ
ایں است کامِ دل اگر آید میسرم

یعنی خدا سے اتر کر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی شراب میں متوالا ہو رہا ہوں۔ اور اگر یہ بات کفر میں داخل ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔ میرے دل کا واحد مقصد یہ ہے کہ میری جان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے رستے میں قربان ہو جائے۔ خدا کرے مجھے یہ مقصد حاصل ہو جائے۔

پھر فرماتے ہیں۔

وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا
نام اس کا ہے محمدؐ دلبر مرا یہی ہے
اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے
وہ دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ
باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت مسیح موعودؑ کی محبت محض کاغذی یا نمائشی محبت نہ تھی بلکہ آپ کے ہر قول و فعل اور حرکت و سکون میں اس کی ایک زندہ اور زبردست جھلک نظر آتی تھی۔ چنانچہ پنڈت لیکھرام کے حالات میں جس واقعہ کا ذکر اس رسالہ میں اوپر گزر چکا ہے وہ اس محبت کی ایک عام اور دلچسپ مثال ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعودؑ نہایت درجہ وسیع القلب اور ملنسار تھے اور ہر دوست و دشمن کو انتہائی خوش اخلاقی کے ساتھ ملتے تھے۔ جب پنڈت لیکھرام نے آپ کے آقا اور محبوب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سخت بد زبانی سے کام لیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تو آپ نے پنڈت صاحب کا سلام تک قبول نہ کیا اور دوسری طرف منہ پھیر کر خاموش ہو گئے اور جب کسی ساتھی نے دوبارہ توجہ دلائی تو غیرت اور غصہ کے الفاظ میں فرمایا کہ

’’ہمارے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے‘‘۔

بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے مگر اس سے عشق و محبت کے اس اتھاہ سمندر پر بے انتہا روشنی پڑتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپ کے دل میں موجزن تھا۔

اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق یہ روایت بھی چھپ کر شائع ہو چکی ہے کہ ایک دفعہ آپ علیحدگی میں ٹہلتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درباری شاعر حسان بن ثابتؓ کا یہ شعر تلاوت فرما رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ آنکھوں سے آنسو ٹپکتے جا رہے تھے کہ

کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیْ عَلَیْکَ النَّاظِرُ
مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرُ

یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔ پس تیری وفات سے میری آنکھ اندھی ہو گئی ہے۔ سو اب تیرے بعد جس شخص پر چاہے موت آ جاوے مگر مجھے اس کی پروا نہیں۔ کیونکہ مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہو گئی۔

راوی بیان کرتا ہے کہ جب آپ کے مخلص رفیق نے آپ کو اس رقت کی حالت میں دیکھا تو گھبرا کر پوچھا کہ ’’حضرت! یہ کیا معاملہ ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا۔ ’’کچھ نہیں۔ میں اس وقت یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا‘‘۔

(سیرت المہدی)

مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے یہ معنی نہیں تھے کہ آپ دوسرے بزرگوں کی محبت سے خالی تھے بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے آپ کے دل میں دوسرے پاک نفس بزرگوں کی محبت کو بھی ایک خاص جلا دے دی تھی اور آپ کسی بزرگ کی ہتک گوارا نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ اپنے اصحاب کی ایک مجلس میں یہ ذکر فرما رہے تھے کہ نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری ہے اور امام کے پیچھے بھی پڑھنی چاہئے۔ اس پر حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا کہ ‘›حضور! سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی؟›› آپ نے فوراً فرمایا ‘›نہیں نہیں۔ ہم ایسا نہیں کہتے۔ کیونکہ حنفی فرقہ کے کثیرالتعداد بزرگ یہ عقیدہ رکھتے رہے ہیں کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں اور ہم ہرگز یہ خیال نہیں کرتے کہ ان بزرگوں کی نماز نہیں ہوئی››۔

اسی طرح آپ کو غیر مسلم قوموں کے بزرگوں کی عزت کا بھی بہت خیال تھا اور ہر قوم کے تسلیم شدہ مذہبی بزرگوں کو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ بلکہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کے نام کو عزت کے ساتھ دنیا میں قائم کر دیتا ہے تو لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اس کی بزرگی کا خیال بٹھا دیتا ہے اور اس کے سلسلہ کو استقلال اور دوام حاصل ہو جاتا ہے تو ایسا شخص جسے اس قدر قبولیت حاصل ہو جاوے جھوٹا نہیں ہو سکتا اور ہر انسان کا فرض ہے کہ سچوں کی طرح اس کی عزت کرے اور کسی رنگ میں اس کی ہتک کا مرتکب نہ ہو۔ اس معاملہ میں خود اپنے مسلک کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:۔

ما ہمہ پیغمبراں را چاکریم
ہمچو خاک افتادہ بر درے
ہر رسولے کو طریق حق نمود
جان ما قرباں براں حق پرورے

یعنی میں ان تمام رسولوں کا خادم ہوں جو خدا کی طرف سے آتے رہے ہیں اور میرا نفس ان پاک روحوں کے دروازے پر خاک کی طرح پڑا ہے۔ ہر رسول جو خدا کا رستہ دکھانے کے لئے آیا ہے (خواہ وہ کسی زمانہ اور کسی ملک میں آیا ہو) میری جان اس خادم دین پر قربان ہے۔

(محررہ 16دسمبر 1939ء)

(الحکم جوبلی نمبر1939ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 11 اگست 2020ء