• 20 ستمبر, 2020

میرے بچپن کے دن

بچپن میں ہمیشہ امتحانات کا خوف دامنگیر رہتا تھا۔ ہر سال دسمبر ٹیسٹ کے امتحانات شروع ہوتے ہی یہ خوف امڈ آتا تھا مگر اس خوشی کے احساس کی وجہ سے کہ دسمبر کے آخر میں ہم نے دس دنوں کے لئے گھومنے جانا ہے، خوف کا اثر زائل ہوجاتا تھا۔

نتائج سے بے پرواہ ہو کر بس امتحانات میں سے گزرجاتے تھے کہ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ دسمبر میں سب سے بڑا ایونٹ 27، 28 اور 29 دسمبر کو ربوہ میں جلسہ سالانہ کا انعقاد ہوتا تھا۔ ہم خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ اس میں شرکت کی توفیق پاتے رہتے تھے۔ جس کی یاد کی چنگاری اب بھی دل کے نہاں خانوں میں سلگتی رہتی ہے۔

آخری پیپر والے دن امی جان کو ’’اچھے پیپر ہونے کا‘‘ دل و جان سے یقین دلاتے تھے اور اس کے بعد شام کو امی جان کے ساتھ مل کر گھر کے سٹور میں رکھی مشہورِ زمانہ ’’پیٹی‘‘ کھولتے اور اس میں رکھے بستر بند نکالتے۔ہماری فیملی چونکہ بڑی تھی سو اسی حساب سے بستر بند کا انتظام ہوتا تھا۔ چک لالہ ریلوے اسٹیشن سے دس منٹ کے فاصلے پر ہمارا گھر تھا چنانچہ ٹرین سے ہی ہر سال ہم اس مبارک سفر کا آغاز کرتے۔ اس سفر میں برکتوں اور روحانی مائدہ سے بھر پور جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے کے بعد سرگودھا میں اپنے گاؤں سیلانوالی جاتے جہاں دادا جان، دادی جان، تایا جی اور چچا جان جیسے پیارے وجود ہمارے منتظر ہوتے۔ امی ابو پہلے سے ہی خط لکھ کر انہیں عرض کردیتے تھے کہ ہم نے گوشت نہیں کھانا بلکہ سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی کھانی ہے۔

اور پھر آخری دن ہم سلانوالی شہر میں ابو جان کے چار عدد غیر احمدی عزیزوں کے گھر اُن سے ملنے جاتے اور وہیں سے واپسی کے لئے رختِ سفر باندھتے تو وہاں سے نتائج کی فکر سر پر سوار ہو جاتی۔

ابوجان جو کہ ہمیشہ سے ریل کے سفر کے زبردست حامی تھے ہمیں بہت انجوائے کرواتے۔ راستے کے لئے ڈرائی فروٹ اہتمام سے لے کر آتے جبکہ امی جان راستے کے لئے روٹی اور پکوڑے تیار کرتیں ۔ اور ہم بہن بھائی راستے میں بیت بازی کرتے اورپین کاپی وغیرہ لے کر جاتے اور راستے میں مختلف گیمز کھیلتے۔ چائے تو اکثر اوقات ابو جان کے سفر کے دوران بننے والے نئے دوست ہم سب کو پلاتے ۔ ماضی کے جھروکوں سے جھانکتی ہوئی یہ تاریخ بھی بہت دلچسپ ہے۔

ابو جان دعوت الی اللہ کا کوئی موقع ہاتھ جانے نہیں دیتے تھے جس کی وجہ سے وہ اپنے محلے میں، آفس میں، دوست احباب میں، غیر از جماعت رشتہ داروں میں اور جماعت میں بھی بے حد سوشل، کارکن اور active رہے ہیں۔

پنڈی سے ربوہ کا سفر تقریباً سات آٹھ گھنٹوں پر مشتمل ہوتا تھا ۔ اس دوران ابو جان ساتھ سفر کرنے والے اجنبی مسافروں سے دعا سلام کرتے اور قدر مشترک باتوں کے ذریعہ سے اجنبیت کا احساس ختم کردیتے تھے۔ اسی طرح ملکی حالات ، معاشرتی حالات، اپنی اور ان کی دلچسپیوں اور مشاغل کا ذکر کر کےان سے بے تکلفی کا ماحول بنا لیتے اور پھر بات چیت کا یہ سلسلہ دعوت الی للہ کا روپ دھار لیتا اور ساتھ ساتھ ان کی مہمان نوازی بھی کرتے جاتے۔ آخر میں ایڈریس کے تبادلے بھی ہوتے اور پھر وہ بصد اصرار اسٹیشن سے چائے پلاتے تھے۔

راستے میں مختلف اسٹیشن سے احمدی فیملیز ٹرین پر سوار ہوتی رہتیں۔ نماز باجماعت کا اہتمام بھی جاری رہتا۔

یوں ایک دلچسپ اور طویل سفر بغیر تھکاوٹ کے اختتام پذیرائی ہوتا اور ہم مسیح الزماں علیہ الصلوٰۃ و السلام کے در پر پہنچ جاتے۔ اسٹیشن پر خدام موجود ہو تے جو نہایت با وقار طریقے سے میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے ہمیں منزلِ مقصود پر پہنچاتے ۔ اور ہم بھی اپنا سامان رکھتےہی ڈیوٹی روم کی طرف دوڑ لگا دیتے کہ ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں۔

آخری جلسہ سالانہ جو ربوہ میں منعقد ہوا وہ 1982ء کا تھا ۔ مجھے یاد ہے وہ منظر جب جلسہ سالانہ کے آخری دن سٹیج پر سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی نظم ’’دو گھڑی صبر سے کام لو ساتھیوں‘‘ پڑھی گئی تو ہر احمدی مردوں زن کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ اس کا اظہار زبان سے کر رہے تھے اور کچھ خاموش رہ کر زیرِلب دعاؤں سے۔ اس نظم نے سب کو وقت سے پہلے آنے والے وقت کی خبر دے دی تھی۔

غالباً 1983ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اسلام آباد تشریف لائے تھے تو ہمیں شرفِ ملاقات حاصل ہوا تھا جس کی یاد نے ذہن ودل کو اپنے طلسم میں جکڑا ہوا ہے۔

معزز قارئین ! یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب ہم اس روحانی لذت کا حقیقی لطف لیا کرتے تھے۔ ہمارے ملک میں جلسہ سالانہ منعقد ہوتا تھا ۔خلیفہ وقت ہمارے ملک میں ہمارے درمیان رہائش پذیرتھے ۔ ہمارے اور ہمارے محبوب آقا کے کچھ غم مشترکہ ہیں جس کی عکاسی درج ذیل اشعار سے ہوتی ہے:

میری ایسی بھی ہے ایک روداد ِغم
دل کے پردے پہ ہے خون سے جو رقم
دل میں وہ بھی ہے ایک گوشہ ٔ محترم
وقف ہے جو غمِ دوستاں کے لئے
یاد آئی جب ان کی گھٹا کی طرح
ذکر ان کا چلا نمی ہوا کی طرح
بجلیاں دل پہ کڑکیں بلا کی طرح
رت بنی خوب آہ و فغاں کے لئے
حبس کیسا ہے میرے وطن میں جہاں
پابہ زنجیر ہیں ساری آزادیاں
ہے فقط اک رستہ جو آزاد ہے
یورشِ سیلِ اشک رواں کے لئے

(ایم خالد، راولپنڈی پاکستان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 11 اگست 2020ء