• 21 ستمبر, 2020

حضرت پیر افتخار احمد صاحبؓ

یہ مضمون خاکسار نے اپنے دادا جان مکرم و محترم پیر عبد الرحمٰن صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ (1924-2010ء) کے پرانے کاغذات سے اخذ کیا ہے جو انہوں نے اپنے والدِ محترم حضرت پیر افتخار احمد صاحبؓ کے متعلق لکھا اور ابھی تک جماعتی لٹریچر کا حصہ نہ بن سکا تھا۔ نقل بمطابق اصل ہے۔ بعض وضاحت طلب باتیں بریکٹ لگا کرلکھ دی گئی ہیں ۔ چونکہ یہ مضمون داداجان نے حضرت پیر افتخار صاحبؓ کی وفات (1951ء) کے بعد خلافت ثانیہ میں لکھاتھا اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نوّر اللہ مرقدہ کے ساتھ ایدہ اللہ تعالیٰ مندرج ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین)

پیر صاحب کا تاریخی نام ’’افتخار‘‘ اور پورا نام افتخار احمد تھا۔ آپ بمقام لدھیانہ 14 شعبان 1282ھ بروز سہ شنبہ پیدا ہوئے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ شائع فرمائی تو آپ کے والد صاحب حضرت صوفی احمد جان سے حضورؑ کا تعارف ہوا۔ والد صاحب کی وفات کے بعد پیر صاحب سجادہ نشین مقرر ہوئے۔

جب حضور اقدس ؑنے بیعت کا اعلان فرمایا ، اور آپ کو والد صاحب نے حضور اقدسؑ کی بیعت کے لئے وصیت کی ہوئی تھی اس لئے ، آپ تاریخ بیعت کا انتظار بھی نہ کرتے ہوئے حضور اقدسؑ کی خدمت بابرکت میں بطور نذرانہ پانچ روپے اور ایک جائے نماز لیکر حاضر ہوئے (حضورؑ اس وقت آپ کے مکان کے سامنے، مکان کی بیٹھک میں تشریف رکھتے تھے) اور حضور ؑسے بیعت کی درخواست کی۔ حضورؑ نے آپ کو ارشاد فرمایا کہ ابھی توقف کرو اور پہلے اپنے مریدوں میں تبلیغ کرنے کے لئے کہا۔

باوجود ظاہری بیعت نہ ہونے کے جب آپ نے اپنے مریدوں میں حضورؑ کی بیعت کی تبلیغ شروع کی تو مخالفت کا جوش پھیلنے لگا تا ہم آپ نے پروانہ کی اور آپ نے 9 جولائی 1891ء کو بیعتِ ظاہری بھی فرمالی۔ بیعت کے بعد آپ کی مخالفت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اگرچہ حضور اقدسؑ نے بیعت کے بعد بھی مریدوں کی بیعت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ’’ہماری طرف سے بھی کر لیا کریں‘‘ لیکن آپ نے یہ سلسلہ چھوڑ دیا۔

بیعت کے بعد آپ کے امتحان کا زمانہ شروع ہو گیا۔ آپ کی پرورش بچپن میں بہت ناز و نعمت میں ہوئی تھی۔ محنت مشقت کی عادت نہ تھی۔ پھر بھی آپ نے نہایت خندہ پیشانی سے ان مشکلات کا سامنا کیا۔ ان دنوں آپ کی مالی حالت اتنی گر گئی کہ فاقوں تک نوبت آ پہنچی۔ آپ کے ان مریدوں نے، جنہوں نے حضور اقدسؑ کی بیعت نہیں کی تھی ، آپ کو صراطِ مستقیم سے منحرف کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا اور ان کے شر سے بچایا۔

آپ کے سمجھانے والوں میں میر عباس علی صاحب بھی تھےجن سے آپ کے تعلقات بہت گہرے تھے۔ وہ آپ کو سمجھاتے وقت حضور اقدسؑ کی شان میں نہایت بے ادبی کے الفاظ استعمال کرتے جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوتی۔ آخر آپ نے حضور اقدس ؑکی خدمت میں سب حال لکھ کر پوچھا کہ میں ان حالات میں میر صاحب سے ملا کروں کہ نہ ؟ حضور اقدسؑ نے جواب دیا کہ مت ملیں۔ اس کے بعد آپ نے تا عمر میر صاحب کی شکل نہ دیکھی۔

جس کمرہ میں بیعت اولیٰ ہوئی تھی وہ آپ کے لنگر خانہ کا حصہ تھا۔ بیعت کے بعد یہ جگہ مقدس ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا کہ اس حصہ کو مسجد بنا دیا جاوے اور آپ کو فرمایا کہ اس جگہ کو وقف کر دو۔ آپ نے اس خیال سے کہ باقی وارثوں کو اطلاع دے کر میں اس کام کو سر انجام دوں (کچھ توقف کیا) لیکن اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے جانتا تھا کہ باقی وارث بھی اس چیز کو اپنے لئے خوش قسمتی خیال کریں گے، آپ کو دوبارہ فرمایا کہ اس جگہ کو فوراً مسجد کے لئے وقف کر یں ۔ آپ یہ حکم پا کر فی الفور لنگر خانہ کے صحن میں تشریف لے گئے اور بلند آواز سے اذان دے دی۔ بعد میں باقی وارثوں نے بھی اس فیصلہ پر بڑی خوشی سے مہر تصدیق ثبت کی۔

1892ء میں جب لدھیانہ میں مخالفت اپنی حدود سے تجاوز کرتی نظر آئی اور گھر میں تنگی بھی بہت ہو رہی تھی آپ کی والدہ صاحبہ نے مناسب خیال کیا کہ آپ کو لے کر جموں چلی جاویں۔ اتفاقاً آپ کی بیوی بچوں کو حضرت اماں جان اطال اللہ بقاھا اپنے ساتھ قادیان لے گئی ہوئی تھیں۔ آپ والدہ کے ہمراہ اپنی ہمشیرہ کے پاس جموں چلے گئے لیکن آپ کی ہمشیرہ نے زور دیا کہ آپ لدھیانہ میں ہی رہیں۔ آپ نے ہمشیرہ کا کہا تو مان لیا لیکن آپ کا دل دنیا کی طرف سے سرد ہو چکا تھا۔ اس لئے آپ پر اس چیز کا بہت اثر ہوا۔ آپ جموں سے لدھیانہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ راستے میں آپ نے بہت رو روکر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا ’’دنیا نے تجھے دھکا دیا اب تم میرے مہمان ہو‘‘ جس پر آپ بجائے لدھیانہ جانے کے قادیان چلے گئے۔ آپ کی بیوی آپ کی آمد کی اطلاع پا کر حضور اقدس ؑ کی خدمت میں گئیں اور حضورؑ نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔ چھ ماہ تک مسلسل اپنا مہمان بنا کر رکھا۔ آخر چھ ماہ بعد خود جا کر عرض کی کہ حضور ؑ اجازت دیں ہم اپنا پکائیں کھائیں۔ حضورؑ نے باقی افراد کی اجازت دی لیکن آپ کے متعلق فرمایا کہ آپ کا کھانا ہمارے ساتھ ہی رہے گا اور اس طرح آپ کے سوا باقی گھر والوں کا کھانا گھر میں پکنے لگا۔

قادیان میں آپ نے سرکاری سکول میں ملازمت کر لی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ان دنوں خورد سال تھے۔ حضور اقدس ؑنے فرمایا کہ ’’میاں کو بھی سکول لے جایا کرو‘‘ اور پیر صاحب آپ کو ساتھ سکول لے جاتے۔ ان دنوں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک رویاء میں بشارت دی کہ یہ لڑکا جب بڑا ہو گا تو یہی پسر موعود ہوگا اور یہ کہ تمھیں بھی اس وقت ان سے فائدہ پہنچے گا۔

اندازاً 1898ء میں قریباً پانچ سال رہ کر آپ لدھیانہ تشریف لے گئے اور پھر 1901ء میں حضور اقدس کے بلانے پر قادیان چلے گئے اور پھر واپس نہ گئے۔

8 مارچ 1902ء کو آپ کو چندہ لنگر و مسجد کا حساب دیا گیا جو کہ بعد میں ڈاک کے کام میں تبدیل ہو گیا۔ حضور اقدسؑ کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل اور آپ کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے وقت میں ڈاک کا کام کرتے رہے۔ جنوری 1927ء میں آپ ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔

جب آپ کو چندہ لنگر و مسجد کے کام پر مقرر کیا گیا تو حضرت مولوی عبدالکریمؓ صاحب نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ کو کیا تنخواہ دی جایا کرے۔ آپ نے جواب دیا کہ مجھے دو روپے کافی ہیں۔ حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمتِ بابرکت میں رپورٹ پیش کی تو حضور اقدسؑ نے فرمایا ’’دو روپے تو کم ہیں کہیں کہ تین روپے لے لیا کریں‘‘۔

چونکہ آمدنی قلیل تھی اس لئے گھر میں بہت تنگی رہتی تھی لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت نیک وفادار اور پاک بیوی عطا فرمائی تھی۔ آپ ملازمت کے علاوہ متفرق کام مثلاً دھوپ گھڑی وغیرہ بھی بناتے پھر بھی آمدنی بہت کم ہوتی لیکن آپ کی بیوی کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لاتی اور نہ آپ نے لدھیانہ چھوڑنے کے متعلق کبھی اظہار افسوس کیا۔ بلکہ آپ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کرتیں۔

آپ کو (یعنی پیر صاحب) کو خاندان حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے عشق تھا چونکہ آپ کی طبیعت میں حیا اور حجاب بہت تھا اس لئے جب کبھی آپ کی حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز (یعنی حضرت مصلح الموعودؓ) سے ملاقات ہوتی تو آپ گھر میں بڑے ذوق و شوق سے سناتے اور بار بار ذکر کرتے۔

آپ کی محبت کا اندازہ آپ کی مندرجہ ذیل تحریر سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔ یہ خط آپ نے اپنے ایک عزیز کو لکھا جب کہ وہ آپ کو بار بار ہجرت کے بعد لاہور سے سندھ آنے کے لئے خط لکھ رہا تھا:
’’پیارے برخوردار جب مجھے دنیا میں ہوش آئی اپنے باپ سے محبت کرتا تھا یہاں تک جب بیس برس کا ہوا تو باپ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ پھر مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت ہو گئی یہاں تک کہ حضورؑ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پھر مولوی صاحب خلیفہ اوّلؓ سے محبت ہو گئی یہاں تک کہ حضورؓ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے الفت ہو گئی۔ نہ باپ سے جدا ہوا نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جدا ہوا نہ حضرت مولوی صاحب …۔حضورؓ قادیان میں تھے تو قادیان رہا پھر حضورؓ لاہور آگئے تو اللہ تعالیٰ لاہور لے آیا۔ اب ظاہر ہے میں تو خلیل احمد کے پاس رہتا ہوں مگر دل سے حضورؓ کے پاس ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اگر حضورؓ چنیوٹ گئے تو چنیوٹ، اگر اور کسی طرف کا حضور ؓ ارادہ کریں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ ساتھ لے جائے اور ساتھ رکھے۔ آمین ثم آمین‘‘

حقیقت میں آپ فنا فی اللہ ہو چکے تھے۔ مجھے اپنی تمام زندگی میں ایک واقعہ بھی ایسا یاد نہیں کہ اُس کے متعلق آپ کو فکر ہوئی ہو اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی رہنمائی نہ فرمائی ہو۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی طاقت آپ کی ہر وقت نگرانی کرتی اور آپ کی زندگی کے ہر پہلو میں دخل دے رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت مستجاب الدعوات بنایا تھا۔ اور میں دیکھتا تھا کہ اکثر آپ کو قبولیت کے متعلق بوقت دعا ہی پتا لگ جاتا تھا۔

آپ نے ایک دفعہ مکان بنانے کے لئے حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاھا سے زمین لی۔ اور راج وغیرہ کو پیسے بھی دے دئے۔ اور حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاھا نے اس چیز کا ذکر حضرت اقدس ؑ سے کیا تو حضورؑ نے فرمایا ’’باہر فصیل پر یہ ہمارے مکان جو پڑے ہیں ان میں کون رہے گا‘‘ اور مکان بنوانا بند کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد نہ آپ نے زمین خریدی نہ مکان اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو تا عمر مہمان بنا کر رکھا۔

قادیان سے ہجرت کے وقت آپ وہاں سے نکلنے کے لئے بالکل راضی نہ تھے۔ اسی طرح آپ کے چھوٹے بھائی حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ بھی راضی نہ تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت آپ پر ظاہر فرمائی تو آپ لاہور تشریف لے آئے۔ لاہور آپ رتن باغ میں چند دن اپنے چھوٹے بھائی ،کچھ عرصہ اپنی لڑکی سلیمہ بیگم کے پاس اور اس کے بعد اپنے لڑکے پیر خلیل احمد کے پاس چلے گئے اور پھر آپ ربوہ تشریف لے گئے۔

آپ اپنے بچوں کی تربیت ہمیشہ پیار محبت سے کرتے۔ بچوں کو مار کر کسی چیز کے سمجھانے کے آپ قائل نہ تھے۔ آپ کی تربیت کا طریق تھا کہ آپ نے اگر بچے کو یہ سمجھانا ہو کہ خلیفہ وقت کی اطاعت ضروری ہے تو صرف یہی نہیں فرماتے کہ اطاعت ضروری ہے بلکہ پہلے اس کو آنحضرتﷺ کے صحابہ کرام یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کرام کے واقعات آسان اور دل نشیں پیرایہ میں بیان کرتے اور جب بچے کے دل میں بیان کردہ واقعات کی قدر خوب جم جاتی تو آپ اس سے پوچھتے کہ اگر تم بھی اس وقت ہوتے تو کیا کرتے۔ بچہ فوراً جواب دیتا کہ میں بھی اس طرح کرتا۔ اس پر آپ فرماتے اس چیز کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ اسی طرح حضرت صاحب کے حکموں پر عمل کرو تا کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہو اور کہے کہ اگر میں اس کو اس زمانہ میں پیدا کرتا تو یہ بھی ویسا ہی کرتا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بچے کی تربیت بچپن سے ہی کرنی چاہیے۔ اس ضمن میں مجھے اپنے لڑکے عبد السبحان کا واقعہ یاد آیا کہ اس کو جب بھی کوئی چیز دی جاتی یا لی جاتی تو کہتے کہ اللہ میاں نے دی ہے۔ دسمبر 1950ء میں میرا دوسرا لڑکا عبدالمنان فوت ہو گیا تو عبد السبحان (جس کی عمر چار سال تھی) سے جو بھی پوچھتا کہ کاکا کہاں ہے تو وہ کہتا ’’اللہ میاں نے دیا تھا اللہ میاں نے مانگا ہم نے دے دیا‘‘۔

لدھیانہ چھوڑنے کے بعد آپ کی آمد اگرچہ ہمیشہ قلیل ہی رہی لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت اعلیٰ توکل کا مقام عطا فرمایا تھا اور آپ کے ذاتی اخراجات بہت کم تھے۔ سادہ خوراک سادہ لباس تھا۔ تاہم آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ کسی سے مانگیں گے نہیں بلکہ دوسروں کو دیں گے اور ہمیشہ ہی آپ کی آمدنی آپ کے ذاتی اخراجات سے زیادہ ہی رہی۔ جب آپ ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو باوجودیکہ آپ کی پنشن حسب قواعد کم منظور ہوئی لیکن جب آپ رخصتِ فرلوکاٹ کر دفتر میں حاضر ہوئے تو صدر انجمن احمدیہ نے استثنائی طور پر پنشن زیادہ کر دی اور میں نے کبھی آپ کو یہ کہتے نہیں سنا کہ مجھے فلاں کام کرنا ہے لیکن اس کے لئے پیسے نہیں۔

آپ نماز کے بہت پابند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے 12 برس کی عمر سے شروع کر کے آخر عمر تک آپ کی کوئی نماز بھی قضاء نہ ہونے دی۔ نماز کے وقت مقررہ سے دس پندرہ منٹ پہلے ہی مسجد تشریف لے جانا آپ کی عادت بن چکا تھا۔ آپ مسجد تشریف لے جا کر ایک طرف لیٹے رہتے اور ذکر الہی کرتے رہتے اور نماز کا انتظار کرتے۔ نماز کا وقت ہو جانے پر خواہ کتنا ضروری کام ہوتا آپ فوراً کام چھوڑ کر مسجد تشریف لے جاتے ۔ جوانی میں بھی آپ کو نماز باجماعت کا کتناخیال تھا کہ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے ۔جب آپ کی پہلی شادی ہوئی اور بارات جانے کا وقت ہوا تو نماز کا وقت ہو گیا آپ مسجد تشریف لے گئے اور اس خیال سے کہ کوئی رکاوٹ نہ ہو کسی کوبتلایا نہیں۔ آپ کی غیر حاضری سے بعض رشتہ داروں نے خیال کیا کہ شاید آپ کو یہ رشتہ منظور نہیں کیونکہ رشتہ جہاں ہورہا تھاوہ بہت امیر گھرانہ تھا اور آپ کی طبیعت درویشانہ تھی۔ آخر آپ کو تلاش کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائی تھی۔ حج کے لئے آپ کے والد صاحب آپ کو ہمراہ لے گئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دعائیہ خط میدان عرفات میں پڑھنے کے لئے دیا تھا (یہ حضرت اقدسؑ کی بعثت سے قبل 1885ء کی بات ہے کیونکہ حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ تو بیعت لینے سے قبل ہی وفات پا گئے تھے)۔ آپ سناتے تھے کہ والد صاحب سامنے کھڑے ہو گئے اور باقی خدام پیچھے لائن میں کھڑے ہو گئے اور والد صاحب خط کو بآواز بلند پڑھتے جاتے اور ہم خدام اس کو دہراتے جاتے۔

آپ کی پہلی شادی 1298ھ میں ہوئی۔ آپ کی یہ بیوی بہت نیک، بزرگ اور صاحب الہام رویاء و کشوف تھیں۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو بہت نیک سیرت عطا فرمائی تھی اور بہت وسیع دل کا مالک بنایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بیوی سے آٹھ لڑکے اور پانچ لڑکیاں عطا فرمائیں۔ ایک لڑکی جس کا نام سعیدہ بیگم تھا مہاجرین میں اوّل المولود تھیں۔ آپ کی اس بیوی کی وفات 29دسمبر 1916ء کو بمقام قادیان ہوئی۔

11نومبر 1919ء کو آپ کی دوسری شادی ہوئی۔ یہ بھی بہت نیک اور سیدھی طبیعت کی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے متعلق بشارت دی کہ بڑی نیک ہے اور تیرے برابر درجہ روحانیت دیا گیا ہے۔ اس بیوی سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے دو لڑکے اور دو لڑکیاں عطا فرمائیں۔

تیسری شادی آپ کی 1933ء میں ہوئی۔ اس بیوی سے آپ کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔

٭…٭…٭

(مرسلہ: احمد جان پیر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 11 اگست 2020ء