• 3 اگست, 2020

آنحضرت ﷺ سے محبت

اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ:۔

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ
ترجمہ: اے محمد مصطفٰے ﷺ: تم لوگوں سے کہہ دو:اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو اس صورت میں وہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور باربار رحم کرنے والا ہے۔

(اٰل عمران:32)

ہمارے پیارے آقا محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تمام جہانوں کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے رحمت ہے اب دنیا میں امن اورسکون صرف آپ کے دامن سے وابستہ ہو کر ہی حاصل ہو سکتا ہے ارشاد خداوندی ہے:۔ ’’وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔‘‘
اور ہم نے تجھے تمام جہانوں اور زمانوں کےلئےرحمت بنا کر بھیجا ہے۔

(الانبیاء:108)

ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کس طریق سے کر سکتے ہیں؟

انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کی ہر بات کو مانتا ہے ہر امر میں اس کی اطاعت کرتا ہے اگر ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کریں جو وجۂ تخلیق کائنات ہیں تو ہم اس ہستی کی محبت اور اطاعت کا دم بھرنے والے ہوں گےجس نےہمیں اور اس ساری کائنات کو تخلیق کیا ہے پروردگارِ حقیقی کا ارشاد ہے مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَد اَطَاعَ اللّٰہَ۔ یعنی جو رسول کی اطاعت کرے تو سمجھو کہ اُس نے اللّہ کی اطاعت کی۔

(النساء:81)

ایک دفعہ ایک بدوی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا ’’قیامت کب ہو گی؟‘‘ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے؟‘‘ بدوی نے جواب دیا ’’صرف اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت‘‘ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ’’تو تجھے اس کا ساتھ نصیب ہو گا جس سے تجھے محبت ہے‘‘

(بخاری کتاب الادب باب علامۃ الحبّ فی اللہ)

اسی طرح حضرت انس ؓسے مروی ہے کہ ‘‘آنحضرت ﷺنے فرمایا۔ 3 باتیں ایسی ہیں جس میں وہ ہوں وہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس کو محسوس کرے گا ۔اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول باقی تمام چیزوں سے اُسے محبوب ہو دوسرے یہ کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے محبت کرے اور تیسرے یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے کفر سے نکل آنے کے بعد پھر کفر میں لوٹ جانے کو اتنا ناپسند کرے جتنا کہ وہ آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند کرتا ہو۔

(بخاری کتاب الایمان باب حلاوۃالایمان)

اگر ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں تو اس کا طریق بھی خدا تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا فرمایا۔

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا
ترجمہ: یقینًا اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔

(الاحزاب:57)

اس زمانہ کے موعود امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار یہ اعلان کیا ہے کہ انہیں جو یہ عظیم منصب عطا ہوا ہے وہ اپنے آقا محمد مصطفٰے ﷺ سے بے پناہ محبت اور عشق کی بدولت عطا ہوا ہے آپؑ نے اپنی جماعت کو بھی یہ تعلیم دی کہ آنحضرت ﷺ سے بہت پیار کرو آپ پر ہمیشہ درود اور سلام بھیجتے رہو۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہوگئے۔ اس رات خواب میں دیکھا کہ فرشتے آبِ زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔ اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد ﷺ کی طرف بھیجی تھیں۔‘‘

(براہینِ احمدیہ، روحانی خزائن جلد1 صفحہ576)

اسی طرح آپؑ کو الہام ہوا جس کے معنے یہ تھے کہ ملاءاعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں یعنی ارادہ الہی احیاء دین کےلئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاءاعلی پر ایک شخص مُحیی کی تعین ظاہر نہیں ہوئی اس لئے وہ اختلاف میں ہے اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مُحیی کی تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارے سے اس نے کہا کہ هٰذا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولَ اللّٰهِ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہؐ سے محبت رکھتا ہے۔

حضرت مرزا بشیر احمدؓحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے بیٹے تھے وہ لکھتے ہیں کہ

’’میں آسمانی آقا کو حاضروناظر جان کر کہتا ہوں کہ میرے دیکھنے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر بلکہ محض نام لینے پر ہی حضرت مسیح موعودؑ کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھلّی نہ آ گئی ہو آپ کے دل ودماغ بلکہ سارے جسم کا رُواں رُواں اپنے آقا حضرت سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے معمور تھا‘‘۔

(سیرت طیّبہ صفحہ26)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سارا کلام اردو،عربی اور فارسی آنحضرت ﷺ کی محبت اور عشق سے بھرا ہوا ہے آپ نے فرمایا:۔

جان و دلم فدائے جمالِ محمد است
خاکم نثار کوچۂ آلِ محمد است

یعنی میری جان و دل آنحضرت ﷺ کے حسن پر فدا ہیں اور میری تو خاک بھی آپ کی آل کے کوچہ پر نثار ہے۔
نیز فرمایا:۔

بعد از خدا بعشقِ محمد مخمَّرَم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

آنحضرت ﷺ پر جو غیر مسلموں کی طرف سے اعتراضات کئے جاتےاور ناروا زبان استعمال کی جاتی اس پر آپ بہت تکلیف اور دکھ محسوس کرتے اس کا اندازہ آپ کے اس ارشاد سے ہوتا ہے ۔آپ فرماتے ہیں۔

’’اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلّت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو وَاللّٰہ ثُمَّ وَ اللّٰہ میں رنج نہ ہوتا ۔اور اس قدر کبھی دل نہ دُکھتا جو ان گالیوں اور اس توہین سے جو ہمارے رسول کریم سے کی گئی دُکھا‘‘

(آئینہ کمالات اسلام،روحانی خزائن جلد5 صفحہ 52)

کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں
وحشیوں میں دیں کا پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار
پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اِک معجزہ
معنئ رازِ نبوت ہے اسی سے آشکار

(طاہرہ زرتشت۔ ناروے)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ