• 3 اگست, 2020

حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کا مقصد

1891ء میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑنے مسیح ناصری کی وفات کا اعلان فرمایا اور یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اُمّت مسلمہ کے لئے آنحضور ﷺ کی خوشخبری کے عین مطابق ’’مسیح اور مہدی‘‘ مامور فرمایا ہے۔

پورے ہندوستان میں مخالفت کا ایک طوفان اُٹھا۔ 200 جیدعلماء کے دستخطوں سے ان کی تکفیر کا فتویٰ جاری کردیا گیا جس پر مولوی نذیر حسین دہلوی کے بھی دستخط تھے… جن کو ہندوستان میں شیخ الکل فی الکل کے خطاب سے یاد کیا جاتا تھا۔

ملاؤں کے غم و غصے کی بنیادی وجہ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکے ہیں اور وہ خود خدا تعالیٰ کی طرف سے ’’مسیح‘‘ ہو کر مبعوث ہوئے ہیں…

حضرت مرزا صاحبؑ نے اپنی ماموریت کے دعوے سے ہندوستان کے ہر مذہبی طبقے کو ناراض کیا۔ عیسائیوں کو بتایا کہ جن کی تم پوجا کرتے ہو وہ دوسروں کو کیا زندہ کرتے ہوں گے وہ ’’یسوع مسیح‘‘ تو خود ایک عاجز انسان تھے اور دیگر انسانوں کی طرح فوت ہو چکے ہیں۔

شیعہ علماء اور عوام اس وجہ سے سخت ناراض ہوئے کہ انہوں نے فرمایا کہ ’’امام غائب‘‘ کا عقیدہ محض ایک بڑا جھوٹ ہے۔

ہندو پنڈت اور عوام بھی آپؑ کے دشمن ہوگئے کہ انہوں نے نیوگ اور آواگون اور ذرات اور روحوں کے انادی ہونے کا عقیدہ سختی سے رد کیا ۔

سکھ مذہب کے ماننے والوں کو یوں ناراض کردیا کہ انہوں نے یہ اعلان فرمایا کہ حضرت بابا گرو نانک درحقیقت ایک مسلمان ولی اللہ تھے۔

حضرت مرزا صاحبؑ نے ہندوستان کے پیروں فقیروں اور سینکڑوں سالوں سے لوگوں کے مالوں پر پلنے والے، گدی نشین خاندانوں کو یوں ناراض کیا کہ ان کی پردہ دری کردی کہ یہ لوگ محض قبروں اور بوسیدہ ہڈیوں کے مجاور ہیں اور خدائی تعلق اور نشانوں سے یکسر بے بہرہ اور محروم ہیں اور ان کو خدائی نشان دکھانے پر بار بار چیلنج کیا۔

پھر ان کے اس دعوے سے کہ وہ خدا تعالیٰ سے اسی طرح وحی پاتے ہیں جس طرح حضرت نوحؑ اور ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ اور اسحاقؑ اور موسیٰؑ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام خدا تعالیٰ سے وحی پاتے تھے….اس بات نے تمام مذاہب کے ماننے والے علماء اور عوام کو شدید غصہ دلایا۔

الغرض کسی طبقے اور مذہب کے ماننے والوں کو ’’دوست‘‘ نہیں بنایا اور عام طور پر سب کو ناراض کیا۔ ؂

اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے، بدل دے، جو میں کہتا ہوں
کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے

کیا یہ طریقہ ہے دنیاداروں اور دنیا پرستوں کا؟ اور عوام میں ہردلعزیز بننے کا؟ دنیاپرست اور دنیا کے کیڑے انسانوں کی تو بڑی پہچان ہی یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ہاں میں ہاں ملا کر ہر کسی کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں!

آپؑ نے شدید دشمنوں اور مخالفین کی تمام تر کوششوں اور ہنگاموں کے بیچ رہ کر، نہایت اطمینان اور سکینت کے ساتھ، اپنی دعوت و تبلیغ کا کام جاری رکھا، تقریباً 25 ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی کتب تحریر فرمائیں، اشتہارات شائع کئے، سینکڑوں خطوط لکھے اور دور دراز علاقوں کے دورے فرمائے۔

ان سب باتوں کے باوجود، لاکھوں افراد نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعتِ توبہ کی اور ایک جماعت کھڑی ہوگئی یعنی ’’جماعت احمدیہ اسلامیہ‘‘۔
آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر متعدد بار اعلان کیا کہ یہ جماعت ساری دنیا میں پھیلے گی اور بڑھے گی اور کوئی اس کی ترقیات کو روک نہیں سکے گا۔ یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جائے گی اور صرف یہی سلسلہ اسلام کہلائے گا۔ آج دنیا کے 214 ممالک میں جماعت احمدیہ اسلامیہ کی شاخیں قائم ہو گئی ہیں !!

جاننے والے جانتے ہیں کہ کس شدت کی مخالفانہ تحریکات چلی ہیں! ان کی زندگی میں.. پھر 1934ء میں ایک بڑی تحریک چلی، عطاء اللہ شاہ بخاری اعلان کرتے تھے کہ وہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے (آج ملتان میں ان کی اپنی قبر ایک عبرت کی جگہ ہے) پھر 1953ء کے اینٹی احمدیہ فسادات ہوئے پھر 1974ء کے واقعات ہیں جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور ذوالفقار علی بھٹو کی عبرتناک ہلاکت ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ پھر ضیاء الحق کی کاوشیں ہیں جو ان کے دور میں جاری رہی ہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ کی غالب تقدیر حرکت میں آئی اور اس کو اپنی خوشامدی ٹولے سمیت فرعون کی موت کی طرح ہلاک کردیا۔ اور آج تو دشمنی اور مخالفت بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے عبرت حاصل کرنے والی آنکھ دی ہو تو بہت سی باتیں دیکھ لے کہ یہ سب کیا ہے؟

(ڈاکٹر محمد علی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ