• منگل 25 فروری 2020   (1 رجب 1441)

راولپنڈی کے دو بزرگان کا ذکر خیر

محترم فضل الرحمٰن خان

محترم فضل الرحمٰن خان امیر ضلع راولپنڈی سے خاکسار کا کوئی ذاتی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی کبھی کوئی ایسی ملاقات ہوئی جس کا تذکرہ کیا جاسکے۔ خاکسار جب 2002 اور 2003 میں وکالت تعلیم ربوہ کے تحت اسلام آباد پاکستان میں زیر تعلیم تھا تو مختلف مواقع پر سرسری سی ملاقات ضرور ہوئی اور اسی طرح بعد ازاں بھی گاہے گاہے ملاقات رہی۔ لیکن یہاں جو ذکر کرنا مقصود ہے وہ دراصل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جو اپنے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ

’’اس وقت میں چند مرحومین کا بھی ذکر کروں گا۔ جن میں سے ایک مکرم محترم فضل الرحمن خان صاحب ہیں جو امیر ضلع راولپنڈی تھے۔ ان کی 29۔اکتوبر 2012ء کو مختصر علالت کے بعد تراسی (83) سال کی عمر میں وفات ہو گئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ ان دنوں میں یہیں تھے۔ جلسے پر آئے تھے۔ اُس کے بعد پھر ان کو میں نے کہا کچھ دیر رُک جائیں۔ بیماری تو ان کی کافی لمبا عرصہ سے چل رہی تھی لیکن ماشاء اللہ ذہن بالکل اَلرٹ (Alert) تھا اور بڑی ہمت سے انہوں نے امارت کی ذمہداریاں سنبھالی ہیں۔۔۔۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ان کو بطور امیر شہر اور ضلع راولپنڈی مقرر فرمایا۔ خلافت اور نظام جماعت سے والہانہ عشق تھا۔ ہر محفل میں آپ کی گفتگو کا محور جماعتی واقعات، صحابہؓ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کے واقعات اور خلفائے احمدیت ہوتے تھے۔ ہمیشہ خلافت کی اطاعت اور خلیفہ وقت سے مضبوط تعلق کی تاکید اپنی اولاد کو کرتے رہے۔ انتہائی دعا گو انسان تھے۔ ۔۔۔

خلافت کے فدائی اور جاں نثار وجود تھے اور اشاروں پر چلنا جانتے تھے۔ اس کو ایک سعادت سمجھتے تھے اور صرف جماعتی کاموں میں نہیں بلکہ میں نے ذاتی معاملات میں بھی دیکھا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 2 نومبر 2012ء)

حضور انور کے آپ کی وفات پر ان کلمات کی عملی شہادت کا یہ واقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ کے آخری دن کا ہے۔ خاکسار اسی سال پاکستان سے برطانیہ آیا تھا اورپہلی دفعہ جلسہ سالانہ برطانیہ میں شامل ہورہا تھا۔ ڈیوٹی جلسہ گاہ کے دفتر میں تھی اور اسی حوالے سے روزانہ ایک رپورٹ افسر صاحب جلسہ گاہ محترم عطاء المجیب راشد سے دستخط کرواکرجمع کروانا ہوتی تھی۔ خاکسار سٹیج کی بائیں جانب رپورٹ پر دستخط کروانے کے لئے روز کی طرح چلا گیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے آخری دن کا خطاب اختتام پذیر ہوا اور اس کے بعد نعرے اور نظمیں۔ طلبہ جامعہ احمدیہ کی نظم کے بعد جب پیارے آقا سٹیج سے چلنا شروع ہوئے تو خاکسار بھی جلسہ کے اس سماء میں محو کھڑا تھا کہ اچانک میرے بائیں طرف ویل چئیر پر بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے نہایت گھبراہٹ میں مجھے بلایا اور کہا کہ مجھے فوراً کھڑا کردو۔ یہ بزرگ بالکل سٹیج کی سیڑھیوں کے سامنے جہاں سے پیارے امام نے تشریف لانا تھا بیٹھے تھے۔ پہلے میں سمجھا کہ شاید صرف ہلکا سا سہارا چاہئے لیکن جب پہلی کوشش میں وہ کھڑے نہ ہوسکے تو مجھے اندازہ ہوا کہ فوراً کھڑے ہونے میں دقت ہورہی ہے اور جلدی اس امر کی ہے کہ پیارے آقا سٹیج سے نیچے نہ آجائیں امیر المؤمنین کے سٹیج کی سیڑھیوں تک پہنچنے سے پہلے عقیدت و محبت و احترام خلافت میں اپنی آنکھیں بچھانے کے لئے کھڑے ہونا چاہ رہے ہیں۔ پھر دوبارہ کوشش کرنے سے اور کچھ زیادہ سہارے سے کھڑے ہوگئے اور جب حضور انور سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے اور جوتے پہننے کے بعد پاس سے گزرے تونہایت بشاشت اور خوشی سے اپنی تکلیف کو بالکل بھولتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ پیش کیا، حضور انورنے بھی اپنی نورانی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ اٹھاتے ہوئے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ فرمایا تو ایسے خوشی کا اظہار، آنکھوں میں آنسو کہ جس کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں یوں کہیں کہ کسی بچے کولمبے عرصہ بعد اپنے ماں باپ کی محبت مل جائے ،گویا دنیا کی ہر خوشی مل جائے اور پھر نہایت عاجزی کے ساتھ اس تھوڑی سی مدد جس کی کوئی حیثیت ہی نہیں پر بہت اظہار تشکر کرتے رہے اور خاکسار ایک تو اپنی پہلے جلسہ سالانہ کی کیفیت سے نکل نہ پایا تھا کہ دوسری طرف محترم فضل الرحمن خان امیر ضلع راولپنڈی کی خلافت سے والہانہ عقیدت کے اس اظہا ر پر حیران تھا ۔یہ ان جیسے بزرگان کے ہمارے لئے عملی نمونے ہیں ،جن میں ہمارے لئے یہ سبق ہے کہ دیکھو ہم تو آخری دم تک اپنی ہر تکلیف اور مشکل کو پس پشت رکھتے ہوئے خلافت احمدیہ کے ادب و احترام میں اپنی آنکھیں بچھاتے اس دنیا سے جارہے ہیں اب اس امانت کی حفاظت کرنا تمہاری ذمہ داری ہے ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرتا چلا جائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو ان اطاعت اور عقیدت کے نمونوں کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرماتا چلاجائے۔ آمین

ایک اور واقعہ جومحترم فضل الرحمن خان امیر ضلع راولپنڈی کی ذات سے تعلق تو نہیں رکھتا لیکن ان کی صحبت میں رہنے والے ڈرائیور کا ہے۔ سال تو مجھے اب یاد نہیں لیکن میرے جامعہ احمدیہ میں زمانہ طالب علمی کا ہے۔پاکستان میں شوریٰ کے دنوں میں خاکسار کی ڈیوٹی تحریک جدید کے گیسٹ ہاؤس ،سرائے فضل عمر میں تھی ۔ اس گیسٹ ہاؤس میں محترم فضل الرحمن خان صاحب امیر ضلع راولپنڈی کی بھی رہائش کا انتظام تھا ۔ آپ کے ساتھ آپ کے ڈرائیور بھی تھے ۔ایک دن وہ واش روم سے آئے تو خاکسار کو ریسپشن پر ایک لفافہ دیا اور کہا کہ یہ مجھے ایک ٹوائیلٹ سے ملا ہے اور اس میں رقم ہے ۔برائے مہربانی اس کو لے لیں اور گن بھی لیں اور جو کوئی بھول گیا ہے اسے پہنچانے کا انتظام بھی کریں ۔کچھ ہی دیر بعد ایک صاحب گھبرائے ہوئے آئے اور خاکسار سے پوچھا کہ چند گھنٹے پہلے میں یہاں آیا تھا اور میرے پاس ایک لفافہ تھا جس میں جماعتی چندے کی رقم تھی وہ کہیں رکھ بیٹھا ہوں اور اب مل نہیں رہی ۔جب انہیں ان کی گمی ہوئی رقم دی گئی تو بہت خوش ہوئے ۔گویا محترم فضل الرحمن خان کے ساتھ رہنے والے بھی اپنے امیر کی متابعت میں ایمانداری پر قائم نظر آئے۔

محترم مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ

دوسرے بزرگ جن کا ذکر کرنا مقصود ہے وہ محترم مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ ہیں ،جن کی وفات مؤرخہ 30 جولائی 2019ء کو طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ ربوہ میں 85 سال کی عمر میں ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ خاکسار کا محترم مجیب الرحمٰن سے تعارف ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے ایک پروگرام کے سلسلہ میں ہوا جس پروگرام کا ذکر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی فرمایا۔ یہ پروگرام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ کے بارے میں تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلی ملاقات اور تعارف کے بعد ہی ایسا ماحول بنایا کہ موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بات ہوسکے ۔ باوجود اس کے کہ محترم مجیب الرحمٰن کا تجربہ، عمر، خدمات اور دینی و دنیاوی علم بہت تھا لیکن دیگر شرکاء پروگرام سے اس طرح بات چیت کرتے کہ ہر کوئی اپنی بات اطمینان اور بغیر کسی جھجک کے کرتا، اگر کسی امر میں ان کی رائے مختلف ہوتی تو اس انداز میں اس کا اظہار کرتے کہ احساس بھی نہ ہو کہ غلطی کی نشاندہی ہورہی ہے۔ ایک دن جب پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں بیٹھے تھے تو اچانک اپنے مخصوص انداز میں اپنے نوٹس کو ایک طرف رکھتے ہوئے بولے کہ ایسے ہی ساری زندگی وکالت پڑھنے میں ضائع کردی کیا ہی اچھا ہوتا کہ براہین احمدیہ ہی اچھی طرح پڑھ لیتا۔ یہ دراصل کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اہمیت و افادیت کا اظہار تھا اور اس انداز میں تھا کہ دنیا کہ تمام علوم ایک طرف اور قرآن و سنت و حدیث کے مضامین کو سمجھنے کے لئے امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو پڑھنا اور خاص کر دفاع اسلام کے لئے ان کتب کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔ جب پروگرام کی ریکارڈنگ کا آغاز ہونے والا تھا تو بڑے شوق سے اپنے بنائے ہوئے نوٹس دکھائے جو بلا مبالغہ بڑی محنت اور جانفشانی سے تیار کئے تھے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی آپ کا ذکر خیر ان الفاظ میں فرمایا تھا:

’’ایم ٹی اے کے مختلف پروگراموں میں ان کو شرکت کا موقع ملا۔ غیروں کے اعتراضوں کے جواب دیے۔ ان کا دینی علم بھی بہت تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیاوی علم بھی بہت تھا اور بولتے بھی بہت اچھا تھے اور اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص ملکہ عطا فرمایا ہوا تھا جس سے انہوں نے خوب خوب فائدہ اٹھایا اور اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا ان کو موقع دیا۔ پھر ایم۔ ٹی۔ اے کے پروگراموں میں مختلف پروگرام شامل ہیں۔ 1974ء کی پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلہ پر تبصرہ، عالمی شہرت یافتہ مؤرخین کے انٹرویوز، براہین احمدیہ کے محاسن وغیرہ شامل ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 9۔اگست 2019ء)

ایک دن جامعہ احمدیہ یوکےکی نئی عمارت جو برطانیہ کے علاقے Haslemere میں واقع ہے، اور یہاں جامعہ 2012 میں منتقل ہوا ، دیکھنے کے لئے آئے۔ آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے ڈاکٹر معاذ صاحب کی فیملی بھی تھی۔ خاکسار نے جامعہ کی عمارت کے مختلف حصے دکھائے اور جب عمارت کے باہر گراؤنڈ کی طرف جانے لگے تو محترم مجیب الرحمٰن، جو ویل چیئر پر تھے، نے کہا کہ میری ویل چیئر یہیں رہنے دیں اور آپ میرے بیٹے اور انکی فیملی کو آگے گراؤنڈز دکھاآئیں۔ ہم چند منٹ میں فٹ بال گراؤنڈ تک ہوکر آئے تو بڑے پیار سے اپنے بچوں اور خاکسار سے کہا کہ آپ ذرا میرے پیچھے کھڑے ہوکر اس طرف درختوں پر نظر ڈالیں ۔ان کے کہنے پر ہم نے ایسا ہی کیا تو کہنے لگے کہ میں تو یہاں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہی نظارہ کرتا رہا کہ یہ سارے درخت ہی ہیں لیکن ان میں بھی رنگوں کی کتنی زیادہ اقسام نظر آرہی ہیں کہ جنہیں گننا ہی مشکل ہے۔ یہاں ہمار ے لئے دو سبق واضح تھے اول یہ کہ وقت کا ضیاع نہیں کرنا اور دوسرا مظاہر فظرت کے ذریعہ ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت کہ قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت۔

کبھی کبھی رابطہ کرتےیا جب بھی جلسہ کے دنوں میں ملاقات ہوتی تو خیریت دریافت کرنے کے بعد کسی نہ کسی علمی بات کا ذکر ضرور کرتے۔ یہ بتاتے کہ آجکل اس موضوع پر غور کررہا ہوں یا کام کررہا ہوں ،اسی طرح اگر کسی حوالے کی تلاش ہوتی تو اس کا بھی ذکر کرتے ۔چند مواقع پر جب خاکسار نے مختلف حوالے ان کو تلاش کرکے بھجوائے تو بہت خوشی کا اظہا ر کیا اور بار بار شکریہ ادا کرتے رہے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ جو کوئی بھی حوالہ خاکسار نے تلاش کرکے بھیجا گفتگو کے دوران اس کی اس قدر تفصیل بتا دیتے کہ عملاً خاکسار تو صرف کتاب ڈھونڈ کر تصویر ہی لینے کا کام کرتا رہا ورنہ حوالہ تو خودمکرم مجیب الرحمٰن نے ہی بتایا ہوتا تھا۔ مطالعہ بہت وسیع تھا اور تمام اہم جماعتی اور غیر جماعتی حوالوں سے گہری آگاہی تھی اور یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ حوالہ خود چل کے ان پاس آتا تھا۔

محترم مجیب الرحمٰن کے بارے میں جیسا کہ حضورانور نے فرمایا تھا ’’بولتے بھی بہت اچھا تھے اور اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص ملکہ عطا فرمایا ہوا تھا جس سے انہوں نے خوب خوب فائدہ اٹھایا‘‘ اس حوالے سے ان کے کہے ہوئے یہ الفاظ ان شخصیت ،وطن سے محبت اور احمدیت کے لئے فدائیت کا اظہار بھی ہیں۔ چنانچہ 23 اکتوبر 2014ء کو ’’پاکستان کے احمدی :توہین ،شناخت اور ظلم و ستم‘‘ کے موضوع پر مکرم مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ کے ساتھ Columbia Law School میں ایک گفتگو کا انعقاد کیا گیا اس گفتگو میں کہے جانے والے آپ کے الفاظ جو گاہے گاہے سوشل میڈیا پر بھی چلتے رہتے ہیں، یہ الفاظ ہر پاکستان سے تعلق رکھنے والے محب وطن احمدی کی دل کی آواز ہیں۔ آئین ِپاکستان میں شامل احمدیوں کے بنیادی حق تلفی کا ذکر کرتے ہوئے مکرم مجیب الرحمٰن صاحب نے کہا تھا :

I come from that mad country, where this madness is going on, but despite that madness, I love my country and I carry my constitution with me. The constitution which takes away my rights, it is still my constitution; I would like to see this constitution amended one day when sanity prevails in my country.

میں اس پاگل ملک سے آیا ہوں جہاں یہ پاگل پن جاری ہے لیکن باوجود اس پاگل پن کے مجھے اپنے وطن سے پیار ہے اور میں اپنے ملک کے آئین کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں ،وہی آئین جو میرے حقوق مجھ سے چھینتا ہے، لیکن پھر بھی یہ میرا آئین ہے ۔ جب ایک دن میرے ملک میں عدل و انصاف قائم ہو میں اس آئین میں تبدیلی دیکھنا چاہوں گا۔

اللہ کرے کہ ہمیں یہ دن ضرور دیکھنے کو ملے ۔آمین یا رب العالمین۔

راولپنڈی کےیہ دومخلص بزرگان جماعت احمدیہ کے دیرینہ خدام میں شمار ہوتے ہیں جن کی خدماتِ دین متعدد برسوں پر محیط ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت فرمائے۔ آمین

(راجہ برہان احمدمربی سلسلہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 10 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ

مقبول ترین