والد صاحب اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔
پلّے نہیں بن دے رزق پنچھی تے درویش
جنہاں تقویٰ رب دا اونہاں رزق ہمیش
آپ لدھیانہ میں پیدا ہوئے، ان کی تاریخ پیدائش 1909ء یا 1910ء ہے، چھوٹے سے گھر میں تھوڑی سی آمدنی والے والدین کے گھر آنکھ کھولی۔میرے دادا جان کا نام مکرم نور محمد دادی جان مکرمہ فاطمہ بی بی تھیں، دونوں خدا کے فضل سے احمدی تھے،دونوں ہی ہمدرد اورخدا ترس، دل کے بہت حلیم انسان تھے دادی جان ا عصاب کی بہت مضبوط خاتون تھیں، ہماری اپنی ہی فیملی کافی بڑی تھی اُدھر ہمارے دادا جان اگر رشتہ داروں میں کوئی یتیم اور غریب دیکھتے اُسے گھر لے آتے اور اس طرح ہمارے گھر میں ہر وقت بہت سارے افراد کا کُنبہ بنا رہتا۔ضرورت مندوں کا ہمیشہ خیال رکھتے، ہمارا گھر بالکل قبرستان کے قریب تھا، دادی جان اُن کی تدفین پر آنے والے غمزدہ لوگوں کا خیال رکھتیں ، اُنہیں کبھی لسی اور ستو بنا کر پیش کرتیں، راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر غریب گھروں میں جاتیں اُن کی ضرورتوں کا خیال کرتیں۔ایک دفعہ دادی جان اباجان کو لدھیانہ ا سٹیشن پر لے گئیں اورگود میں اُٹھاکر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا دیدار کروایا ، اباجان کہتے ہیں مجھے اُس وقت اَپنی والدہ کی آنکھوں کے آنسو کبھی نہیں بھولے،اس طرح ابا جان نے پہلی بار حضرت خلیفۃ المسیح ثانیؓ کادیدار کیا۔ جب لندن کی مسجد کے لئے چندہ کی تحریک ہوئی تو میری دادی جان نے اپنے کانوں کی بالیاں اُتار کر چندہ میں دے دیں،اباجان کہتے ہیں کہ آج جب میں اِس مسجد کو دیکھتا ہوں تو فخر محسوس کرتا ہوں کہ میری ماں بھی اِس نیکی میں شامل ہے۔اباجان نے اپنے والدین کی بہت سی اچھی باتیں اپنی زندگی میں اپنائیں ۔اللہ تعالیٰ سب کے درجات بلند کرے۔
ابا جان کہتے ہیں ہماری بد نصیبی یہاں سے شروع ہو گئی جب کہ میں تقریباً دس سال کا تھا کہ ہماری والدہ جو کہ ایک وقت میں بہت بڑے کُنبہ کو سنبھالتی تھیں، دُنیا سے ہمیں چھوڑ کر رُخصت ہو گئیں، اور اس طرح ہمارے گھر کا شیرازہ بکھر گیا،گھر کا تمام کنٹرول اور بندوبست ماں ہی کے ہاتھ میں تھا۔
احمدیت کیسے ہمارے گھر میں آئی یہ میں کچھ ٹھیک سے تو نہیں بتا سکتا،اِتنا جانتا ہوں والد صا حب حضرت منشی احمد جان کے مریدوں میں سے تھے،دعویٰ سے قبل ہی منشی احمد جان کی وفات ہو گئی،لیکن آپ کی وصیت پر ہی آپ کے مریدوں نے بیعت کی جن میں ہمارے والد صاحب بھی تھے،یہ سب اباجان کی ہوش سے پہلے کی باتیں ہیں، گھر میں دادا جی اور میرے تایا جی احمدی تھے ، تایا جی کی شادی بھی غیر از جماعت میں ہوئی تھی ، دادی جان کی وفات کے بعد گھر میں کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں تھا،اور یوں اباجان نے اپنی جوشیلی طبیعت ہونے کی وجہ سے جلسے جلوسوں میں جا نا شروع کر دیا، وہاں ہر قسم کے لوگ ملے،اُن دنوںکشمیر موومنٹ چلی ہوئی تھی، اباجان بھی احرار جماعت میں شامل ہوگئے جو اسلام کے نام پرجہاد کرنے والوں کی جماعت تھی،حکومت نے گرفتاریاں کی تو اباجان نے بھی اپنے آپ کواسلام کے نام پے پیش کردیاتین ماہ کی قید ہو گئی، اباجان اور ساتھی جیل میں تھے اور سب مولوی اُنہیں چھوڑ کر گھر چلے گئے، کچھ عرصہ بعد رہائی کی کوشش ہوئی اباجان کے ساتھیوں نے بھی زور لگا یا کہ ہم جیل سے باہر آ جائیں مگر ابا جان نہیں مانے،اس طرح اُنہوں نے تین ماہ جیل میں سلاخوں کے پیچھے گزارے، اباجان کہتے ہیں میں نوعمرتھا جسمانی طور پر بھی کافی صحت مند تھا، رمضان کے پورے روزے رکھے عید بھی جیل میں ہی گزاری، مگر جیل کی شدید مشقت اور بےحد ناقص غذا سے میری صحت پر بہت بُرا اثر ہوا،جیل سے رہائی پا کر احرار کا جھنڈ ا لہراتے ہوئے باہر نکلے،اور خوشی خوشی گھر آیامگر میرے آنے کی گھر میں کسی کو کوئی خوشی نہ ہوئی۔ جیل کی سختی نے تو پہلے ہی میری طبیعت کے جوشیلے پن اور سختی کو نرمی میں بدل دیا تھاگھروا لوں کے سلوک نے اور دل برداشتہ کر دیا،منچلا تو تھا ہی،دل میں بے چینی پیدا ہوئی گھر کے ساتھ ایک امام باڑہ تھا اُس میں چلا گیا،وہاں ایک بزرگ نماز پڑھنے آتے تھے میرے پاس آئے اور کہا اب تم نے سارے مزے چکھ لئے ہیں اِن شیطانوں کے ٹولوں کو چھوڑ دو اور میری بات مانو،اور مرزا صا حب کو مان لو،میں نے کہا آپ تو مانتے نہیں میں کیسے مان لوں؟پھر اُنہوں نے اپنی خواب سُنائی،فرمایا تہجد کے بعد میری آنکھ لگ گئی دیکھتا ہوں کہ نبیوں کے مختلف تخت لگے ہیں،میں پوچھتا ہوں یہ کن لوگوں کے تخت ہیں مجھے جواب ملا یہ سب نبیوں کے تخت ہیں،آگے بڑھتا ہوں توایک سب سے بڑا اور عا لیشان تخت مجھے دکھایا گیا میں نے پو چھا یہ کس کا تخت ہے ،جواب ملا حضرت رسول کریمﷺکا تخت ہے، تخت کے نیچے حضرت مرزا صاحب تشریف فرما ہیں، میں نے سلام کیا اور اُن سے پو چھا کہ آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں،آپ نے فرمایا کیا آپ نہیں جانتے ؟کہ اس زمانہ میں رسول کریمﷺ کے تخت کی نگرانی کرنے پر میری ڈیوٹی لگی ہے،اُس کے بعد میری کمر سے کرتا اُٹھا یامیری کمر پرہاتھ پھیراجس سے میری آنکھ کھل گئی،کہتے ہیں اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب سچے ہیں تم مان لو،میں نے اُن کی باتیں غور سے سنیں، کچھ عرصہ کے بعد جلسہ سالانہ بھی آ رہا تھا میرے بڑے بھائی غلام نبی نے مجھے تیار کر لیا،وہ تو پہلے ہی احمدی تھے مجھے اپنے ساتھ قادیان جانے کے لئے تیار کر لیاایک تو اُن بزرگ کی خواب کا بھی اثر تھا، احمدیت گھر میں پہلے ہی والدین کی وجہ سے موجود تھی، میں اپنے بھائی کے ساتھ قادیان گیا، جانے سے پہلے باقی تمام رشتہ داروں نے بہت روکا کہ مت جاؤ،میری بھٹکی روح کو جائے بنا بھلا اب کہاں چین تھا؟ اور میں قادیان گیا۔
میں نے تو بہت بڑے بڑے عرس اور میلے دیکھے ہوئے تھے یہاں کی تو دنیا ہی اور تھی حضرت مسیح موعود کے مزار پر گیا تو وہاں کا نظارہ دیکھ کر حیران ہوا لوگ آتے ہیں خاموشی سے دعا کی اور چلے گئے،کوئی پھول نہیں چڑ ھاتا یہ سب میرے لئے حیران کن باتیں تھیں،جلسہ سالانہ پر بیعتوں کا وقت آیا تو میری دنیا بدل چکی تھی اور میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔گھرآیا تو والد صاحب کا حو صلہ بہت بلند ہوا لیکن باقی تمام رشتہ داروں نے شدید مخالفت کی محلہ والوں نے بھی بائیکاٹ شروع کر دیئے، دکانوں پر بورڈ لگا دیئے کہ مرزائیوں کو سودا نہیں دیا جائے گا،میرے وہ تمام دوست جو جیل میں میرے ساتھی تھے اوروہ مولوی جن کے میں پیچھے لگا ہوا تھا سب سکتہ میں آگئے۔اُن سب سے بھی زیادہ میرے وہ تایا جن کی بیٹی کے ساتھ میری شادی طے تھی،حیران پریشان تھے کہ اب کیا ہو گا،آخر شادی کا وقت آگیا کھا نے بن گئے، میں دُلہا بن گیا،نکاح کے وقت میرے ہونے والے سسر میرے پاس آئے اور پگڑی میرے پاؤں میں رکھ دی کہ صرف نکاح کے وقت کہہ دو میں احمدی نہیں ہوں اُس کے بعد جو جی میں آئے کرو،مگر میرے لئے اب میرا ایمان زندگی اور موت کا سوال تھا۔ میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور تقویٰ کی راہ پر چلنے کا عہد کرلیا، شادی کیا،دنیا کی ہر چیز قربان کر سکتا تھا، میرے انکار پر سارے شہر میں دھوم مچ گئی،مخالفت کا بھی زور شروع ہو گیا اور ساتھ احمدیت کی تبلیغ کا سامان بھی بنا،چونکہ میری جان کو خطرہ بھی تھاجماعت کے دوستوں نے مل کر مجھے باؤ رحمت اللہ کے بیٹے غلام ربیّ کے گھر بھجوادیا۔
اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایااور میں زندگی کے پہلے اور مشکل مرحلہ میں کامیاب ہوا،اباجان کہتے ہیں،میری نئی زندگی کا دور شروع ہو چکا تھا،جماعت میں میری شادی کی فکر شروع ہو گئی۔
غالباً یہ 1933۔1934ء کی بات ہے کہ شیخ مبارک احمد مبلغ بن کر لدھیانہ میں آئے، اُن کے آنے سے مناظروں کا سلسلہ شروع ہوا،مرکز ہمارا گھر بنا ہمارے گھر کی چھت پرمناظرے ہوتے رہے کوئی غیر از جماعت مولوی تاب نا لا سکا،بہت جلدی شیخ صاحب کا تبادلہ مشرقی افریقہ ہو گیا،اُن کی جگہ مولانا احمد خان نسیم تشریف لائے،مناظروں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا، مولانا احمد خان نسیم اباجان کے بارہ میں بھی سب جان چکے تھے،اُنہوں نے اباجان کی شادی کی تجویز قادیان میں حضرت میاں فضل محمد ہر سیاں والےؓ کی صاحبزادی حلیمہ بیگم سے پیش کی، میں قادیان گیا اباجان کہتے ہیں کہ میرے ساتھ بڑے بھائی اور تایا گئے،لڑکی والوں نے میرا انٹرویو لیا مگر میں اُن کے ہر انٹرویو میں فیل ہوا، پڑھے لکھے خاندان کی لڑکی جو خود بھی کم از کم مجھ سے زیادہ علم رکھتی ہو، میرے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا ،سوائے احمدیت اورجوش جذبہ کے،لڑکی والے میری کسی بات سے مطمئن نہیں ہوئے، وہ لوگ حیران تھے یہ کیسا بے فکرا لڑکا ہے نہ کوئی کام ہے اور نہ ہی کوئی پڑھائی ، میں تو گھر آنے کے لئے تیار ہو گیا تھا مگر وہ سب بہت نیک لوگ تھے دعائیں بھی اُنہوں نے خود ہی کر لیں اگلے دن فارم میرے سامنے رکھا کہ یہاں دستخط کر دو، مجھے بتایا گیا کہ رات مولانا احمد خان نسیم کو حضرت رسول کریم ﷺ کی زیارت ہوئی ہے،جس وجہ سے رشتہ کو بابرکت سمجھا گیا،رشتہ طے ہونے پر میرا نکاح بروز جمعہ۔1934ء میں جلسہ سالانہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے پڑھایا،شادی 1935ء میں مجلس شوریٰ کے دنوں میں ہوئی، ابا جان کہتے ہیں مجھ جیسے انسان کے لئے یہ بہت بڑی سعادت تھی،کہ ایک صحابی کی بیٹی کے ساتھ میری شادی ہوئی، آپ نے جو برکات وفیوض حضور اقدسؑ سے پائے اُن میں سے مجھے بھی ہمیشہ حصہ ملا۔
شادی سے پہلے بے لگام سی زندگی تھی نہ گھر سے کوئی تربیت کی اُمید تھی،نہ باہر سے کوئی خیر کی توقع ایک خودرو پودے کی طرح بڑھ رہے تھے،پھر اللہ تعالیٰ نے میرا ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق پیدا کیا کہ میری تربیت کے خود بخودپہلو نکلتے رہے۔دہلی کا ایک واقعہ سُناتے ہیں میں فارغ تھا دل میں سوچا کہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کے مزار پر جاتا ہوں،ڈھونڈتاہوا تقریباً تین میل کا سفر پیدل چل کر مزار پر پہنچا،مزار پر بیٹھے مجاور نے مجھے مجبور کیا کہ پھول یا نظرانہ چڑھاؤں،میرا انکار اُس کو اچھا نہ لگا، مجاور نے مجھے کافی بُرا بھلا بھی کہا،مگر میں کیا کرتا میری جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں تھا، دعا کے بعدمیں واپس پیدل گھر گیا،جب گھر پہنچا تو پاؤں میں چھالے پڑ گئے بخار ہو گیا،تھکان اور بخار کی وجہ سے بےہوشی کی نیند سو گیا،نیند میں آواز آئی۔جب تم بادشاہ بنو گے تو خاندانِ مسیح موعودؑکو نہ بھولنا۔ میں حیرت سے اُٹھاکہ کہاں میری یہ حالت اور کہاں بادشاہ ہونے کی خوشخبریاںمل رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے میری اِس خواب کو بڑی شان سے پورا کیا،خدا تعالیٰ نے مجھے حضرت مسیح موعودؑ کے لنگر خانہ میں پوری دنیا پر پھیلے خاندان مسیح موعودؑ کی خدمت کی توفیق دی۔ابا جان بتاتے ہیں کہ جب میں ممبئی میں تھا توجماعت کی مجلس عاملہ کے الیکشن ہوئے تو میرا نام سیکرٹری تبلیغ کے لئے پیش ہوا ، کثرت سے مجھے ووٹ ملے، مکرم قاضی عبدالرشید نے مجھے مبارکباد دی ،کہتے ہیں کہ میں نے اپنی مجبوری بتائی کہ کسی علم والے کو یہ عہدہ دیں، قاضی صا حب نے یہ بات جماعت کے سامنے رکھی اور دوبارہ الیکشن کروائے اور پھر میرانام کثرت رائے سے منظور ہوا ،اِس پر قاضی صا حب فرمانے لگے ، لکھائی پڑھائی کا کام میں کر دیا کروں گا اس طرح ممبئی میں سیکرٹری تبلیغ کا کام کرنے کی توفیق ملی۔ممبئی کاہی ایک واقعہ سُناتے ہیںکہ ہمارے ایک مبلغ مولوی محمددین کی شہادت ایک بحری جہاز کے ڈوبنے سے ہوئی تھی،امیر جماعت مکرم قاضی عبد الرشید بہت پریشا ن تھے کہ کسی طرح پورے حالات کا علم ہو،مکرم قاضی نے مجھے کہا کوئی حادثہ میں بچ جانے والا شخص لے کر آؤں،جو آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکے۔اس جہاز پر مسافروں کو سوار کروانے والا لال دہی نامی ہندو ایجنٹ تھا،کہتے ہیں میں اُس کی دکان پر گیا اور ایک بچ کر آنے والے ہندو کو قاضی صاحب کے پاس لایا،جس نے جہاز کو ڈوبنے اور مکرم مولوی صاحب کے حالات سُنائے،مولوی صاحب کا حلیہ بتا یا ، کہ کیسے ایمرجنسی ہوئی اور لوگوں نے چھلانگیں لگائیں اور مولوی صاحب نے بھی چھلانگ لگائی۔سارے حالات سننے کے بعد قاضی صاحب نے اپنی پگڑی اُس ہندو کو تحفہ میں دی۔
جب میں کچھ نہیں تھا تو واقعی کچھ نہیں تھا مگر اب جب اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور بر کتوں کی بارش ہونے لگی تو میں اِن رحمتوں اور برکتوں میں بھیگتا ہی چلا گیا، فیروز پور کا ہی ایک واقعہ بتاتے ہیں، کہ میرے ساتھ ایک یعقوب نامی شخص کام کرتا تھا دہریہ خیالات کا تھا،اللہ تعالیٰ کی ذات سے منکر تھا،اُس کی شوخیاں حد سے بڑھنے لگیں ایک دن طنز سے کہا دیکھو کتنی گرمی ہے ،تم اپنے خدا سے کہو کہ بارش برسادے،میں نے اُسے بہت سمجھایا کہ ہم دُعا کر سکتے ہیں مگر حکم نہیں دے سکتے تم میری جان چھوڑو ،باہر دیکھو کسانوں کی فصلیں پڑی ہیں اگر بارش ہو ہی جاتی ہے تو اُن کا کتنا نقصان ہے،وہ میری باتوں کو نہیں سمجھ پارہا تھابلکہ مجھے بُرا بھلا کہہ رہا تھا، کہتے ہیں کہ میں نے دل میں دُعا تو شروع کردی ، اُس ر ات بادل آئے مگر برسے بِنا چلے گئے مجھے یقین تھا کہ آج جاتے ہی دوبارہ مجھے طعنہ دیا جائے گا وہی ہوا۔ جاتے ہی مجھے وہی شخص ملا اور بار بار اُس کا اصرار کہ تمہارا خدا ،گرجا تو بہت مگر برسا نہیں ،اُس نے میرا وہا ں بیٹھنا مشکل کر دیا ،دن کے گیارہ بجے تھے میں اُٹھ کر باہر چلا گیا شدید گرمی تھی ،میں نے آسمان کی طرف مُنہ اُٹھالیااللہ تعالیٰ کو اس کی غیرت کا واسطہ دے کر التجا کی اے خدا وہ دہریہ تیری ذات کا منکر ہے اور مجھے طعنہ پر طعنہ دیئے جا رہا ہے،تو اس کا مُنہ بند کر۔میری عاجزی کو ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ نہ جانے کہاں سے آسمان پر بادل آئے اور میرے چہرے پر بارش کے قطرے گرنے لگے۔ پھر میں نے اللہ سے التجا کی کہ وہ اس بارش سے تو نہیں مانے گا۔اباجان کہتے ہیں کہ پھر کیا تھا اِتنی زور دار بارش ہوئی اور زوردار ہوا کے جھکڑ چلے ،دہریہ اُس وقت برآمدہ میں بیٹھا تھا اور بارش اور ہوا کا زور اُس کے مُنہ پر جا کر لگ رہے تھے،جس پر وہ بے اختیار بول اُٹھا،میں مان گیا کہ تمہارا خدازندہ خدا ہے،ساتھ ہی اُس نے کہا یہ خدا ،صرف مرزا صاحب کے ماننے والوں کا ہی ہو سکتا ہے ، میں اُس کی کسی بات کا جواب نہ دے سکا میں تو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھا اور اُس کی حمد کے گیت گا رہا تھا۔
پاکستان بن جانے کے بعد لاہور آئے ،کچھ عرصہ کے بعد فیصل آباد(لائل پور) شفٹ ہو گئے غربت کا دور تھا مسجد کے سامنے اللہ نے گھر دے دیا اور دکان بھی جو اباجان کے نام ہوئی مسجد کے دروازے کے سامنے ہی تھی، احمدیت قبول کرنے کے بعد میرے اباجان کی زندگی تین چیزوں کے گرد زیادہ گھومتی رہی، مسجد ،جماعت اور خدمت خلق، اِن کاموں کو کرنے کے لئے ہمیشہ دیانت داری اور تقویٰ سے کام لیا، دین کو دنیا پر مقدم رکھا، جب بھی جماعت کا کوئی کام ہو اُس کومقدم رکھا، یہی وجہ ہے، جب 1950ء میں فرقان فورس اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی مرکز سے رضا کاربھجوانے کی تحریک ہوئی مکرم عبدالرحمٰن (گڈیاں والے) کا نام تجویز ہوا وہ اپنی مجبوری کی وجہ سے نہیں جاسکتے تھے اُن کی جگہ اباجان کا نام پیش ہو ا گو کہ ابا جان کی اپنی مجبوری تھی کہ اُن دنوں میرے بھائی کی پیدائش متوقع تھی ہم بھی ابھی سب چھوٹے ہی تھے، اباجان نے اُمی کی اجازت سے سب کو اللہ کے سپرد کیا اور دین کی راہ میں نکل گئے۔
جماعت نے ہمارا بہت خیال رکھا خاص طور پر جب میرے بھائی کی پیدائش کا وقت تھا تو اُس وقت وہاں کے مبلغ مولوی محمد اسمعیل دیال گڑھی تھے، اُنہوں نے اور اُن کی بیگم خالہ جی نے ہم بچوں اور اُمی کی بہت مدد کی اللہ تعالیٰ اُن کو ہمیشہ اُس نیکی کی جزا دے،آمین، اُس کے بعد اباجان کشمیر میں تین ماہ رہے۔ یہ بھی اُن ہی دنوں کی ہی بات ہے کہ پاکستان میں شدید سیلاب آیا ہوا تھا،سیلاب نے بہت بڑی تباہی مچائی جماعت کو ربوہ کے بارہ میں بہت فکر تھی مکرم شیخ محمد احمدمظہر امیر نے اباجان اور ملک بشیر اور مکرم شیخ عبدالقادر کو ربوہ کی خیریت دریافت کرنے کے لئے بجھوایا۔ساتھ تحفۃً دودھ کے ڈبے لے کر گئے،اباجان کہتے ہیں کے پہلے تو تھوڑا سفر بس پر کیا باقی گہرے پانیوں میں سے گزرتے سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھتے ہوئے ربوہ پہنچے جو خدا کے فضل سے با لکل محفوظ مقام پر تھا،ربوہ والوں نے سب کی بہت خدمت کی ۔
اباجان کا اللہ تعالیٰ پر توکل کا ایک واقعہ لکھتی ہوں۔ یہ بھی اِنہی دنوں کی بات ہے جب جامعہ احمدیہ احمد نگر میں تھا،مکرم حکیم خورشید احمد جامعہ احمدیہ میں کام کرتے تھے، انہوں نے اباجان کو بارہ کتابیں جلد بنانے کو دیں، اباجان کی دکان فیصل آباد میں مسجد کے سامنے تھی ،اباجان بیان کرتے ہیں کہ جب کتابیں تیار ہو گئیں تو میں ربوہ جانے کے لئے بس میں سوار ہوا کتابیں ساری بس کی چھت پر رکھ دیں، جب میں احمد نگر پہنچا اور کتابیں دیکھیں تو وہاں صرف دو کتابیں تھیں باقی ساری راستہ میں نہ جانے کہاں گر گئیں، کہتے ہیں کہ کتابوں کے گُم ہونے کا مجھے بہت سخت صدمہ ہوا،اب میں نے دل میں سوچ لیا کہ پوری کوشش کروں گا، کہ اِن جامعہ احمدیہ کی کتابوں کو ڈھونڈ نکالوں ،اللہ کانام لے کر دُعائیں کرتا ہو سائیکل پر نکل گیا، جو بھی راستہ میں ملتا اُس سے یہی سوال کرتا کہ بھائی آپ کو کوئی یہاں سے کتاب تو نہیں ملی؟رجوعہ کے قریب مزدور سڑک بنا رہے تھے اُن کو پوچھا وہ بولے یہ کتاب ہمیں ملی ہے اور دوسری ہم نے اِس گاؤں کے جوائی کو دے دی ہے ،ایک کتاب لے کر دوسری کے لئے گاؤں کے جوائی کے گھر گیا وہ تو نہ ملا اُس کی بوڑھی ماں مل گئی، اُس نے میری پوری بات سُنی اور مجھے گرم گرم دودھ پینے کو دیا، تھکا ہوا تھا دودھ پی کر میری جان میں جان آئی، اس کا بیٹا بھی گھر آ گیا مجھے دیکھتے ہی بولا کتابیں ڈھو نڈ رہے ہو اُس نے مجھے تسلی دی اور دوسرے گاؤں کے سکول کا پتہ بتایا میں سکول کے ہیڈ ماسڑ کے پاس گیا، ہیڈ ماسڑ بہت نیک اور شریف آدمی تھے انہوں نے سب سکول کے بچوں سے رابطہ کیا اورکتابیں ملنی شروع ہو گیئں۔رات تک ساری کتابیں مل گئیں، اُنہوں نے رات بھر مجھے اپنا مہمان بھی بنایا، اگلے دن میں ہیڈ ماسٹر اور باقی سب کا شکریہ ادا کیا اوراحمد نگر پہنچ کر جب ساری کتابیں اُن کو دیں تو کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ سب کیسے معجزہ ہوا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جو پیار کا سلوک میرے ساتھ کیا میرا دل اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہی رہا۔
اباجان فیصل آباد سے ربوہ دفاتر کی کتابیں جلد بنا کر دیا کرتے تھے، ایک روز ایک صاحب نے مفتی محمد صادقؓ کی ذاتی ڈائری جن پر بہت سے لوگوں کے دعا کی غرض سے نام لکھے ہوئے تھے، اباجان کو دی کہ اِس کو بھی ٹھیک کر دیں، اباجان اُسے ٹھیک کر کے لائے اور نوٹ بُک واپس کردی، مفتی صاحب نے اپنے آدمی کو واپس بھجوایا کہ کتنے پیسے میں بنوائی ہے، اباجان نے کہا کوئی پیسے نہیں بس میرا بھی نام اِن خوش قسمت لوگوں میں لکھ لیں، اباجان نے بتایا کہ مجھے علم نہیں کہ میرا نام اُنہوں نے لکھا کہ نہیں ،لیکن ابا جان نے خواب میں دیکھا کہ مفتی صاحب ؓ خواب میں آئے ہیں ،اور ڈائری کے ورق پلٹ رہے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ میں نے آپ کانام انگریزی میں لکھ دیا ہے، اُس کے بعد اباجان ربوہ آئے اور اچانک مفتی صاحبؓ کو آتے دیکھا اور اپنی خواب بیان کی جس پر مفتی صاحبؓ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے اور پھر فرمایا کہ آپ کو پتہ ہے کہ آپ نے خواب میں کس کو دیکھا ہے۔ ’محمد‘ اور ’صادق‘ کو یہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا یہ ہو کر رہے گا۔
اباجان کی خواب اور مفتی صاحبؓ کی تعبیر کا وقت یوں آگیا کہ کچھ ہی دنوں کے بعد اباجان کے افریقہ نیروبی جانے کے سامان پیدا ہو گئے وہاں بھی دین کی خدمت کرنے کا بہت موقع ملا۔
سولہ سال کے بعد اباجان ۔1969ء میں لندن چلے گئے۔ یہاں آکر بھی زندگی کا مقصد دین کی خدمت ہی رہا ۔ باوجود اِس کے کہ اباجان کی بہت معمولی تعلیم تھی ،مگر جو بھی اُن کو صحبت نصیب ہوئی وہ غیر معمولی تھی، احمدیت کی تعلیم نے اُن کے دل دماغ کو جِلا بخشی، انگریزی میں لکھے گئے نام کی تعبیر کا وقت ایسے شروع ہوا کہ لندن میں اخبار احمدیہ جب سے شروع ہوا اور تقریباً الفضل انٹر نیشنل کی ٹیم کے ساتھ جب تک ہمت رہی کہ گھر سے باہر جا سکیں کام کیا اور بے شمار مرتبہ نام انگریزی میں لکھا گیا، اباجان کی خواب کا اِس رنگ میں پورا ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ابا جان سر جھکا کر چلنے والے فقیرانہ مزاج کے مالک انسان تھے۔ ہر روز مسجدفضل جاتے کوئی بھی چھو ٹا یا بڑا کام ہوتا خوشی سے کرتے مسجد کی صفائی کا خاص خیال رکھتے ، کچن کی ٹیم کے ساتھ ہمیشہ کام کیا پُرانے لندن کے رہنے والے سب اباجان کو بھائی جی کے نام سے ہی جانتے ہیں،اُن کے ہاتھ کے پکوڑے سب کو بہت پسند تھے جمعہ کی نماز کے بعدلوگو ں کو چائے اور پکوڑوں کی کشش کچن کی طرف لے آتی اباجان خود بھی اور اکثر اُمی جان سے مختلف کھانے بنوا کر اپنی ٹیم کو کھلا تے کڑی کامجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کبھی امی کو فون کرتی اور پوچھتی کیا کر رہی تھیں تو جواب ہوتا تمہارے ابا کی فرمائش پر کڑی بنارہی ہوں مسجد لےکر جانی ہے، کتابوں کی جلد بنانے کے ماہر تھے ۔ اپنے بہت سے عزیزوں دوستوں کے قرآن مجید کی جلد بندی کرتے تو بہت خو ش ہوتے کہ قرآن مجید کی خدمت کی توفیق پا رہا ہوں۔ جلد بندی پر لوگ خوش ہوتے اور دُعا ئیں دیتے اور پیسے بنوائی کے کبھی نہ لیتے، اپنی مُہر بنائی ہوئی تھی، جو ہر جلد بنانے کے بعد لگاتے طالب دُعا، اُن کی پسندیدہ دُعا دینا اور لینا جزاکم اللہ تھی،ہمیشہ اللہ سے جزا مانگتے، ،۔تبلیغ کے معاملہ میں اُن کی تعلیم کبھی روک نہیں بنی بے شمارزبانی درثمین کلام محمود کے شعر یاد تھے جو موقع کی مناسبت سے سُناتے ،وقفِ زندگی نہیں تھے مگر اپنے طور پراپنی زندگی اُنہوں نے جب سے بیعت کی دین کے کاموں کیلئے وقف کر چھوڑی تھی، سوشل ورک یعنی لوگوں کی مدداپنی کمائی کا زیادہ حصہ غریبوں میں ہی تقسیم کرنا تھا کسی کا دُکھ نہیں دیکھ سکتے تھے یہاں تک کے شاپنگ کر کے آتے تو ضرورت مندوں کی تلاش میں رہتے ۔ جلسہ پر یا فیملی میں کوئی وزٹ پر آتا تو اباجان کی دلی خواہش ہوتی کہ میں اس کو سارے لندن کی سیر کروا دوں ، سیر پر جانے سے پہلے اپنے کوٹ کی جیبیں اچھی طرح سے کھانے والی چیزوں سے بھرلیتے۔

بات ہو رہی تھی بزرگوں کی صحبت کی وزیر خارجہ چوہدری حضرت محمد ظفراللہ خان ؓ سے پہلی ملاقات فیصل آباد میں ہوئی، اُس کے بعد جب ابا جان نیروبی میں تھے توچوہدری صاحب کا وہاں آنا ہوا، ابا جان نے اپنی خواب سُنائی کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی ٹانگیں دبا رہا ہوں آپ نے فرمایا ہم دونوں کے لئے خواب اچھی ہے مگر میری ٹانگوںکو ہاتھ نہ لگانا۔ اللہ کی تقدیر نے ہم دونوں کو لندن میں اکھٹا کر دیا،میرے خواب کی تعبیر ظاہر ہونے لگی، بہت مرتبہ اُنہوں نے اپنی محبت اور شفقت سے نوازا ۔مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے اُن کی خدمت کی توفیق دی، اکثر اُن کے ساتھ ملاقات رہتی ،لیکن ایک دن ایسا بھی آیا جو میری زندگی کا یاد گاردن بن گیا، فرمانے لگے مجھے پتہ ہے کہ تم میرے ساتھ بہت محبت کرتے ہو، آج تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں،اور اس محبت کا اظہار اُنہوں نے ایسے کیا کہ جب آخری مرتبہ وہ لندن سے جانے لگے، مجھے اپنا استعمال شُدہ سوٹ دیا۔ خدا کرے کہ اباجان اور چوہدری صاحب کی یہ محبتیں وہاں اللہ تعالیٰ کے پاس بھی قائم دائم ہوں۔آ مین
لنگر خانہ کی بادشاہت کی چند یادیں
لندن میں حضور کی موجودگی کی وجہ سے انٹرنیشنل جلسہ شروع ہوا تو اسلام آباد کا لنگر ایک ماہ پہلے شروع ہوتا وہاں مختلف ٹیمیں کام کے سلسلہ میں آنی شروع ہو جاتیں، کچن کے ساتھ سٹور کی چابی بھی اباجان کے پاس ہی ہوتی تھی اِس لئے ایک ماہ پہلے جاتے اور ایک ماہ بعد واپس آتے، اباجان بتاتے ہیں ایک دن حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کچن میں تشریف لائے، میں نظر نہ آیا تو حضور نے پوچھا حسن صاحب کہاں ہیں، میں حضور کے پیچھے کھڑا تھا، مجھے آگے کیا گیا، حضور نے مجھے دیکھا اور بڑے پیار سے فرمایا آپ تو یہاں کے ’’مُڈ ہیں مُڈ‘‘ ایک اور واقعہ سناتے ہیں کہ حضور انور سیر سے تشریف لا رہے تھے، کہ میرا سامنا ہو گیا،میں نے بے تکلفی سے پوچھ لیا حضور آپ چنے کھانا پسند کریں گے، حضور نے شفقت سے فرمایا ہاں ہاں لائیں، بلکہ ساتھ چلنے والے احباب کے لئے بھی فرمایا ان کو بھی دیں ،کہتے ہیں کہ اگلے دن میں اپنے کاموں میں مصروف تھا کہ حضور آگئے اور پوچھا چنے والے کدھر ہیں، مبارک ساقی مرحوم نے توجہ میری طرف مبذول کروائی ،حضور نے فرمایا کیا آپ کے پاس چنے ہیں؟میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا جتنے چنے تھے، حضور کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔ ابا جان ہمیشہ اپنی جیب میں بادام یا چنے رکھتے تھے۔ کچن کا ہی ایک چھوٹا سا لطیفہ لکھ دیتی ہوں ،اباجان کہتے ہیں ایک نوجوان آیا کہ میں کوئی کام کرنا چاہتا ہوں، میں نے اُس کو کہا کہ یہ لو سبز مرچیں دھو کر لاؤ، تھوڑی دیر کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں سنک میں برتن دھونے والے صابن کی جھاگ سے سنک بھرا ہوا ہے اور ایک ایک مرچ کو صابن سے مل مل کر دھو رہا ہے، مجھے اُس کی اس قدر صفائی پسند طبیعت پر بہت ہنسی آئی۔ لندن اسلام آباد کا جلسہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا زمانہ اور میرے اباجان کا اُن دنوں میں اسلام آباد کچن میں کام کرنا ہماری زندگیوں کا سنہری دور تھا۔ اُمی اباجان کوجماعت کی طرف سے وہاں ٹینٹ میں رہنے کی سہولت تھی،جلسہ کے دنوں میں ایک قسم کاوہ ہمارا گھر بن جاتا تھا، جلسہ میں دوپہر کا وقفہ اور شام کو جلسہ کے بعد اُمی جان کے پاس دُنیا جہان سے آئے ہوئے مہمانوں کا ہجوم اور اباجان کا ہر بندے کی خدمت کرکے خوش ہونا ،خدمت وہ صرف گھر والوں کی ہی نہیں کرتے تھے بلکہ اُن کی خدمت کا دائرہ بہت وسیع تھا کہ اُن کو مزا ہی ان باتوںمیں آتا تھا۔ خود نہیں کھاتے تھے بلکہ اپنا کھانا گھر لے کر جاتے یا وہاں بھی اپنے ہاتھ سے پکاتے اور گھر والوں کھلاتے۔
میری اُمی بھی جلسہ پر سب کے لئے بے شمار کھانے پینے کی چیزیں لے کر آتی تھیں۔ابا جان کی ساری زندگی ہمیشہ رشتہ داروں ہمسایوں غرض جہاں جہاں تک اُن کی پہنچ تھی ،کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا کہ وہ کسی کے کام نہ آسکیں۔اُمی اباجان دونوں اپنے فلیٹ میں اکیلے رہتے تھے ہم سب اُن کے پاس اکثر جاتے تھے ،جب بھی گئے بچوں کو ہمیشہ پُرانے زندگی کے واقعات سُناتے اور نصیحتیں کرتے،جب بھی ہم اُن کے گھر سے آتے تو کبھی خالی ہاتھ نہیں آنے دیتے جو بھی گھر میں ہوتا ہمارے ہاتھ میں ضرور پکڑاتے۔ہم سب کے ساتھ ہی وہ بہت پیار کرتے تھے مگرخالد اور اُس کے بیوی بچے کیونکہ کافی عرصہ ساتھ رہے اور بعد میں بھی اُن کی خدمت میں پیش پیش رہے، تو قدرتی بات ہے پھر ایک ہی بیٹا جو اپنے ماں باپ کا بے حد خدمت گزار بھی ہو،سو اُمی اباجان کے دل میں بھی اُس کے لئے بہت جگہ تھی،اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں خالد کو دونوں جہان میں اپنے ماں باپ کی خدمت کا اجر ملے،آمین، اُمی کی وفات کے بعد اباجان خالد کے گھر آگئے تھے ،شوگر نے بھی کافی کمزور کردیا تھا، آخر میں دل کی بھی تکلیف ہو گئی۔ ڈیڑھ دو ماہ ہسپتال میں رہے، بہت ہمت سے بیماریوں کا مقابلہ کیا، بیماری میں بھی دُعاؤں پر زور رہا اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ درود شریف کاورد کرتے رہے،وہی شخص جو بچپن میں احرار کا جھنڈا اُٹھائے جیلوں میں گھوم رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نیک دیندار اللہ تعالیٰ پر توکل اور تقویٰ کی زندگی گزارنے کی توفیق دی۔ سچے خواب اور اللہ تعالیٰ کی اباجان سے باتیں، حضرت محمد رسول کریم ﷺ کے عاشق صادق، حضرت مسیح موعودؓ کے جانثار خلافت کے پرستار دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے غریبوں کے ہمدرد اَپنے تمام رشتہ داروں سے پیار کرنے والے ہمارے بہت ہی مہربان پیارے اباجان، 5فروری 2003ء کو ہمیں چھوڑ کر اپنے بخشش کرنے والے رحمان رحیم اللہ کے پاس چلے گئے،میں اپنے پیارے اباجان اور اپنی پیاری اُمی کے لئے احباب جماعت سے اِن کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے دُعا کی درخواست کرتی ہوں،دونوں بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اُن پر ہزاروں ہزار رحمتیں اور بر کتیں نازل ہوں۔ آمین
(صفیہ بشیر سامی اہلیہ بشیرالدین سامی۔لندن)