• 25 مئی, 2020

ہم آج کل دن کیسے گزارتے ہیں

مکرمہ کوثر ضیاء لکھتی ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے مرحلے سے بخیر و خوبی نکلے ہی تھے کہ لاک ڈاؤن کے دائرہ میں آگئے۔کیا کیا خواب دیکھے تھے اور کیا کیا منصوبے بنائے تھے کہ سروس سے سبکدوش ہونے کے بعد کیسے زندگی گزاریں گے۔گھر کو کتنا وقت دیں گے۔لاک ڈاؤن تو گویا ہمارے خوابوں کو تعبیر دینے آ گیا ۔مومن تو ویسے بھی کبھی بند گلی میں کھڑا نہیں رہ سکتا۔

ویسے تواحباب جماعت احمدیہ کو نماز تہجد کی توفیق ملتی رہتی ہے لیکن جب فراغت کا احساس ہو تو شب بیداری کا کچھ اور ہی مزا ہے۔نماز فجر باجماعت اور قرآن کریم بغیر کسی جلدی کے، سیر حاصل تلاوت کے بعد صبح کی سیر کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ سیر اور واک تو ذرا کم ہوئی لیکن دن کو مصروف گزارنے کے مزید بہترین طور اپنائے۔ترجمۃ القرآن کو وقت دینا شروع کیا ۔اس ہفتہ کے دوران کشتی نوح،توضیح مرام، اور فتح اسلام پڑھی۔جس کتاب کا جتنا حصہ پڑھا ہوتا پھر اتنا وقت ضرور ملتا کہ ہم دونوں میاں بیوی اس پر ایک اچھی ڈسکشن کرتے ۔حضرت مسیح موعودؑ کی عظیم الشان تحریرات میں سے ایمان کی حرارت کشید کرتے ہیں۔ایم ٹی اے کی نشریات زندگی بخش آسمانی مائدہ ہے جو روح کو معطر کرنے کے لئے بہت کافی ہے۔دنیا داروں کے لئے یہ لاک ڈاؤن ڈیپریشن کا موجب بن رہا ہے۔لیکن احباب جماعت جن کے اوپر خلافت کی بابرکت چھتری کا سایہ ہو اور جمعہ کے خطبہ کے ذریعہ تمام افراد جماعت اپنے تمام ہم و غم کو بھول جاتے ہیں تو کیسی پریشانی، امام وقت کے ساتھ جڑ کر تو روح تک سکون میں آ جاتی ہے۔

لاک ڈاؤن میں سب سے بڑی بات یہ ہوئی کہ گھر کے افراد نے ایک دوسرے کو کوالٹی ٹائم دینا شروع کیا ۔اس سے پہلے فرصت ہی نہیں ہوتی تھی۔ ایک دوسرے سے چھوٹی چھوٹی بات شیئر کرنا،ایک دوسرے کی ضرورتوں کا خیال رکھنا، محبتوں کے نئے در وا کر گیا اور یہ بہت ضروری تھا۔پھر کہاں کا ڈیپریشن اور کہاں کی مایوسی۔ اس دوران دن کا کچھ حصہ عزیز و اقارب اور دوست احباب کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ بھی ہے اور سب سے بڑھ کر ایک اور بات بھی ہوئی کہ مشکل کے اس وقت میں جماعت اور غیرازجماعت احباب کی مشکلات کو دور کرنے کی بھی غیر معمولی توفیق ملی ۔ الحمد للہ علی ذالک

خداتعالیٰ تمام انسانیت کو ہر قسم کے دکھوں ،بیماریوں اور پریشانیوں سے نجات دے۔آمین

مکرمہ مائدہ خالد لکھتی ہیں۔

اب چونکہ ہم رمضان کے بابرکت ماہ میں داخل ہو چکے ہیں اس لئے میں اب برکت والے یہ خاص دن کچھ اس طرح گزار رہی ہوں ۔

رمضان میں دن کا آغاز نماز تہجد سے ہو تا ہے۔اس کے بعد سحری اور پھر باجماعت نماز فجر کی ادائیگی ہوتی ہے۔تلاوت قرآن کریم کے بعد چھت پر ایک گھنٹہ واک کری ہوں اور اس دوران چھت پر گملوں میں لگے پودوں کو پانی بھی دیتی ہوں اور نانا ابو سے سیکھ کر جو ان کی نگرانی میں میں نے پودے لگائے ان کو اگتا دیکھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔پھر کچھ گھنٹوں کی نیند لینے کے بعد آج کل کی چھٹیوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے 10 بجے مرکز سے online تفسیر کی کلاس لیتی ہوں اور اب تجوید کی کلاس کے شروع ہونے کا انتظار ہے۔onlineکلاس لینے کے بعد ماما کے ساتھ گھر کے کاموں میں مدد کرتی ہوں ۔پھر ظہر کی نماز پڑھتی ہوں جبکہ جمعہ والے دن گھر میں سب باجماعت جمعہ پڑھتے ہیں ۔نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد قرآن کریم ترجمہ کے ساتھ پڑھتی ہوں اور سورتیں بھی یاد کر رہی ہوں ۔میں اللہ کے فضل سے تحریک وقف نو میں بھی شامل ہوں اس لئے کچھ دیر وقف نو کا نصاب یاد کرنے کے ساتھ ساتھ کلام حضرت مسیح موعود ؑ بھی پڑھتی ہوں۔پھر پیارے آقا کا خطبہ جمعہ سننے کے علاوہ MTA اردو کے سب پروگرام باقاعدگی سے دیکھتی ہوں ۔پیارے حضور انور کی وقف نو بچوں کے ساتھ کلاسز،انتخاب سخن،راہ ہدیٰ اور دیگر پروگرام دیکھتی ہوں۔نماز عصر کے بعد کچھ دیر تلاوت قرآن پاک کرتی ہوں ۔ اس کے بعد چھوٹے بھائی کے ساتھ کبھی کبھی بیڈ منٹن یا کرکٹ کا میچ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ماما کے ساتھ افطار ی بنانے میں مدد کرتی ہوں۔ روزہ افطار کرنے کے بعد باجماعت نماز مغرب ہوتی ہے نماز کے بعد ابو سے گپ شپ کرتے کرتے نماز عشاء کا ٹائم ہو جاتا ہے۔ پھر باجماعت نماز عشاء ہوتی ہے اور پھر کبھی کبھی خالہ یا ماموں کے ساتھ video callپر بات کرتی ہوں یوں سارا دن گزار کر 10بجے سو جاتی ہوں۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 12۔مئی2020ء