• 20 مئی, 2022

حضرت منشی غلام محمدؓ

حضرت منشی غلام محمدؓ
لکھن کلاں ضلع گورداسپور

حضرت منشی غلام محمد صاحب رضی اللہ عنہ ولد محمد نامدار صاحب لکھن کلاں ڈاک خانہ کلانورضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔ مورخہ 29؍مارچ 1902ء کو بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ آپ شعبہ تدریس سے وابستہ تھے چنانچہ قبول احمدیت کے بعد مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے ساتھ منسلک ہوگئے اور پھر ساری زندگی یہیں خدمت سلسلہ میں گزار دی۔ اپنی ابتدائی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے آپ بیان کرتے ہیں:
’’میں 2؍ اپریل 1864ء کو پیدا ہوا۔ جنوری 1888ء کو مڈل ورنیکلر پاس ہوا۔ 16 مئی 1888ء کو دورانگلہ تحصیل گورداسپور میں مدرس ہوا۔ اکتوبر 1888ء کو نورمل سکول جالندھر میں داخل ہوا۔ وہاں ایک سال کی تعلیم کے بعد سالانہ امتحان دے کر کوٹ سنتھو کھرائے میں اوّل مدرس مقرر ہوا۔ وہاں سے تین ماہ بعد تبدیل ہو کر جنڈی حونتہ میں چلا گیا۔ وہاں ایک مولوی فتح محمد نامی نے 1890ء میں باتوں باتوں میں یہ بیان کیا کہ مرزائیوں اور عیسائیوں کی کتابیں نہیں پڑھنی چاہئیں۔ اس کی اس بات سے دل میں بہت تعجب ہوا چونکہ اس کا معتقد تھا۔ اس لئے دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا کر چپ رہا۔ پھر وہاں تبدیل ہوتا ہوا تا شروع 1896ء مستعفی ہو کر مشن سکول کی ملازمت اختیار کر لی۔ اس سکول (میں) پہلے میرے والد صاحب مرحوم مدرس تھے۔ وہ جنوری 1896ء کو فوت ہوئے۔ وہ چالیس سال سرکاری سکولوں میں مدرسی کے بعد ریٹائر ہوئے۔ اور میں (نے) 1888ء کو مشن سکول میں ملازمت کر لی اور میں نے جنوری 1896ء سے مئی 1903ء تک مشن سکول کی ملازمت کی۔ مئی 1903ء کو مشن سکول افسروں نے مجھے سکول کی ملازمت سے الگ کر دیا اس لئے کہ 29؍ مارچ 1902ء کو حضرت مسیح موعود (کے) دست مبارک پر بیعت کر لی۔ یہ خدا کا فضل کہ میرے جیسے نالائق کو الٰہی سلسلہ کا ممبر بنا دیا۔ جب سے میں دارالامان میں کئی نشان دیکھے اور حضور کی زیارت سے فیض یاب ہوتا رہا۔‘‘

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر6 صفحہ171-172)

آپ کے ساتھ آپ کے گاؤں کے ہی رہنے والے ایک اور ساتھی حضرت مولوی سکندر علی صاحبؓ (وفات: 22؍دسمبر 1955ء بہشتی مقبرہ ربوہ) نے بھی بیعت کی جن کی معیت میں آپ نے احمدیت کے متعلق تحقیق کی تھی۔ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے کہ قبول احمدیت کی وجہ سے آپ کو مشن ملازمت سے فارغ کر دیا گیا جس کے کچھ عرصہ بعد 1905ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام میں مدرس مقرر کیے گئے (بدر 12؍جنوری 1906ء صفحہ8 کالم3) اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ حضرت اقدس علیہ السلام کی زندگی میں کئی نشانوں کے پورے ہونے کے خود گواہ ہوئے، آپ نے اپنی روایات میں بیان کیا ہے کہ
’’میں اس نشان کا گواہ ہوں کہ حضرت مسیح موعود ؑ کا گھر طاعون سے پاک رہا۔ بلکہ اگر کوئی طاعون شدہ اس میں داخل ہوا۔ شفا پائی۔

ایک بچے کو پاگل کتے نے کاٹا۔ اس کو کسولی بھیجا گیا وہاں سے واپس آنے کے کئی دن بعد وہ لڑکا پاگل ہو گیا۔ ڈاکٹر کو اطلاع دی گئی تو ڈاکٹر نے کہا اب اس کا کوئی علاج نہیں۔ پر حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کے لئے دعا کی اور وہ اچھا ہو گیا۔ مدرسہ دینیات میں اسے ایک سال دیکھا۔ اس کا بیٹا مدرسہ احمدیہ (میں) آیا ہوا ہے۔ یہ بھی نشان سامنے ہوا۔

جب میں مدرسہ سیکھواں میں تبدیل ہوا تو میں نے حضور کو دعا کے واسطے لکھا آپ نے میری درخواست (کے جواب میں) پر لکھا۔ حکم ماننا سعادت ہے چلے جاؤ۔ بڑا بابرکت ہو گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔‘‘

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر6 صفحہ171-172)

کتاب حقیقۃ الوحی میں ’’سخت زلزلہ والی پیشگوئی مورخہ 28؍فروری 1907ء کے قبل از وقت سُننے کے گواہ‘‘ کے تحت درج اسماء میں ساتویں نمبر پر آپ کا نام ’’غلام محمد مدرس لوئر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان‘‘ درج ہے۔

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ490)

آپ 1928ء میں ہائی سکول قادیان سے ریٹائر ہوئے۔ قادیان میں آپ کی رہائش محلہ دارالفضل میں تھی، تاریخ احمدیت جلد ہشتم میں درج صحابہ قادیان کی فہرست میں آپ کا نام 181 نمبر پر درج ہے۔ آپ نے 31؍دسمبر 1945ء کو وفات پائی اور بوجہ موصی (وصیت نمبر 407) ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے، اخبار الفضل نے خبر وفات دیتے ہوئے لکھا: ’’افسوس منشی غلام محمد صاحب مدرس تعلیم الاسلام ہائی سکول پنشنر محلہ دار الفضل جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے صحابہ میں سے تھے، کل بعمر قریبًا 82 سال وفات پاگئے، اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ آج 11 بجے دن حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کو بہشتی مقبرہ میں دفن کیا گیا۔ احباب مرحوم کی بلندی درجات کے لیے دعا کریں۔‘‘

(الفضل 2؍جنوری 1946ء صفحہ1)

آپ کی اہلیہ حضرت رحمت بی بی صاحبہ بھی صحابیہ کے درجے سے مشرف تھیں، جنہوں نے 3؍جنوری 1937ء کو بعمر 76 سال وفات پائی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد بوجہ موصیہ (وصیت نمبر 409) ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئیں۔

(الفضل 5؍جنوری 1937ء صفحہ1)

آپ کی بیٹی محترمہ سکینہ بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت خلیفہ اول نے شیخ رحیم بخش صاحب راجپال واعظ اسلام کے ساتھ 300 روپے حق مہر پر پڑھایا۔

(بدر 11؍دسمبر 1913ء صفحہ1)

(غلام مصباح بلوچ۔ استاد جامعہ احمدیہ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

مالی کے تیرھویں جلسہ سالانہ کا انعقاد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 12 مئی 2022