• 9 جولائی, 2020

نعتِ رسولِ مقبولﷺ

آسماں سے حبیب اُترا ہے
اُس کے گھر کے قریب اُترا ہے

مُردہ روحوں کو زندگی دینے
لے کے نُسخہ عجیب اُترا ہے

عرش نے دی صدائے صلِّ علٰی
جب خُدا کا نقیب اُترا ہے

ہے فرشتوں کو حُکم بھیجو درود
دیکھو ایسا نجیب اُترا ہے

لے کے کشکول آئے شاہ وگدا
وہ جو بیکس غریب اُترا ہے

ایک اِک لفظ ہے خُدا کا کلام
کیسا یکتا خطیب اُترا ہے

جو دُعا کی وہی قبول ہوئی
ایسا مضطر مجیب اُترا ہے

کون لے گا تِرا حساب وہاں
جب یہاں پر حسیب اُترا ہے

ماند سب پڑ گئے ستارے جب
پھر وہ ماہِ مُنیب اُترا ہے

لفظ لفظ اُس کا دِل پہ جادو کرے
مُنفرد وہ ادیب اُترا ہے

تھام لیتا ہے جو بھی ہاتھ اُس کا
پار وہ خوش نصیب اُترا ہے

عِشق میں اُس کے میں جو قُرباں ہوں
کیوں پریشاں رقیب اُترا ہے

ہاتھ تُو بھی بڑھا کے نبض دِکھا
تیرا طارق طبیب اُترا ہے

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 12 جون 2020ء