• 29 ستمبر, 2020

شادیاں کرو اور دین کی خاطر کرو

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نصیحت فرمائی:۔

شادیاں کرو اور دین کی خاطر کرو

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شادیاں کی تھیں اور اسی غرض کے لئے کی تھیں اور یہ اسوہ ہمارے سامنے قائم فرمایا کہ شادیاں کرو اور دین کی خاطر کرو۔

…… حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے ہر اس چیز سے بچنا ہو گا جو دین میں برائی اور بدعت پیدا کرنے والی ہے۔ اس برائی کے علاوہ بھی بہت سی برائیاں ہیں جو شادی بیاہ کے موقعہ پر کی جاتی ہیں اور جن کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں یہ برائیاں جو ہیں اپنی جڑیں گہری کرتی چلی جاتی ہیں اور اس طرح دین میں اور نظام میں ایک بگاڑ پیدا ہو رہا ہوتا ہے۔ اس لئے جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا،اب پھر کہہ رہا ہوں کہ دوسروں کی مثالیں دے کر بچنے کی کوشش نہ کریں، خود بچیں۔ اور اب اگر دوسرے احمدی کو یہ کرتا دیکھیں تو اس کی بھی اطلاع دیں کہ اس نے یہ کیا تھا۔ اطلاع تو دی جا سکتی ہے لیکن یہ بہانہ نہیں کیا جا سکتا کہ فلاں نے کیا تھا اس لئے ہم نے بھی کرنا ہے تاکہ اصلاح کی کوشش ہو سکے، معاشرے کی اصلاح کی جا سکے۔ ناچ ڈانس اور بیہودہ قسم کے گانے جو ہیں ان کے متعلق مَیں نے پہلے بھی واضح طور کہہ دیا ہے کہ اگر اس طرح کی حرکتیں ہوں گی تو بہرحال پکڑ ہو گی۔ لیکن بعض برائیاں ایسی ہیں جو گو کہ برائیاں ہیں لیکن ان میں یہ شرک یا یہ چیزیں تو نہیں پائی جاتیں لیکن لغویات ضرور ہیں اور پھر یہ رسم و رواج جو ہیں یہ بوجھ بنتے چلے جاتے ہیں۔ جو کرنے والے ہیں وہ خود بھی مشکلات میں گرفتار ہو رہے ہوتے ہیں اور بعض جو ان کے قریبی ہیں، دیکھنے والے ہیں، ان کوبھی مشکل میں ڈال رہے ہوتے ہیں ان میں جہیز ہیں، شادی کے اخراجات ہیں، ولیمے کے اخراجات ہیں، طریقے ہیں اور بعض دوسری رسوم ہیں جو بالکل ہی لغویات اور بوجھ ہیں۔ ہمیں تو خوش ہونا چاہئے کہ ہم ایسے دین کو ماننے والے ہیں جو معاشرے کے، قبیلوں کے، خاندان کے رسم و رواج سے جان چھڑانے والا ہے۔ ایسے رسم و رواج جنہوں نے زندگی اجیرن کی ہوئی تھی۔ نہ کہ ہم دوسرے مذاہب والوں کو دیکھتے ہوئے ان لغویات کو اختیار کرنا شروع کر دیں۔

آنحضرت ﷺ کی خوبصورت مثال

…… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا مثال ہمارے سامنے قائم فرمائی۔ آپ کی لاڈلی بیٹی کی شادی ہوئی سب جانتے ہیں پہلے بھی کئی دفعہ سن چکے ہیں، کس طرح سادگی سے ہوئی؟ اگر دینا چاہتے تو بہت کچھ دے سکتے تھے۔ لوگ تو قرض لے کر جہیز بناتے ہیں۔ آپ کے صحابہ تو آپ پر بہت کچھ نچھاور کر سکتے تھے۔ کئی صاحب حیثیت تھے، چیزیں مہیا کر سکتے تھے لیکن سادگی سے ہی آپؐ نے رخصت کیا۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا اور ام المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم حضرت فاطمہ ؓ کو تیار کریں اور ان کو حضرت علی ؓ کے پاس لے جائیں۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنے کمرے کی تیاری کی جس کا نقشہ کھینچا کہ ہم نے کمرے میں مٹی سے لپائی کی پھر دو تکئے تیار کئے جن میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلائے اور انہیں میٹھا پانی پلایا اور ہم نے ایک لکڑی لی جس کو ہم نے کمرے کے ایک طرف لگا دیا تاکہ اس کو کوئی کپڑا لٹکانے اور مشکیزہ لٹکانے کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ پس ہم نے حضرت فاطمہ ؓ کی شادی سے زیادہ اچھی شادی اور کوئی نہیں دیکھی۔

(سنن ابی ماجہ کتاب ا لنکاح باب الولیمہ)

(خطبہ جمعہ فرمودہ 25نومبر 2005ء) (الفضل انٹرنیشنل 16 تا 22دسمبر 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 12 اگست 2020ء